این اے 249 کا ضمنی الیکشن ایک سوالیہ نشان بن گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی میں این اے 249 کے ضمنی الیکشن نے بہت سارے سوالات کو جنم دیا ہے۔ کوئی بھی ذی شعور انسان اس الیکشن کو صاف اور شفاف قرار نہیں دے سکتا۔ اس الیکشن نے صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کے کردار پر بھی بہت سارے سوالات پیدا کیے ہیں۔

پری پول دھاندلی کا آغاز کالعدم تحریک لبیک کے امیدوار کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت برقرار رکھ کر کیا گیا۔ قومی اسمبلی کی رکنیت کے امیدوار نذیر احمد کا تعلق تحریک لبیک پاکستان نامی ایسی جماعت سے ہے جس پر سرکاری سطح پر پابندی عائد ہو چکی ہے۔ آخر ریاست نے ایک کالعدم جماعت کے ٹکٹ ہولڈر کو الیکشن میں حصہ لینے سے کیوں نہ روکا؟ پابندی کے باوجود بیلٹ پیپر پر کرین کا نشان کیوں موجود تھا؟ اس معاملہ میں ریاست کی رٹ کو نظرانداز کیوں کیا گیا؟ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تحریک لبیک صرف مسلم لیگ نواز کے خلاف مذہب کو استعمال کرنے کے لئے وجود میں لائی گئی تھی۔

29 اپریل کو ہونے والے اس ضمنی الیکشن میں پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے بھی حصہ لیا جو ماضی میں پریس کانفرنس کر کے الطاف حسین کی ہدایات پر قتل و غارت جیسے سنگین جرائم کا اعتراف کر چکے ہیں۔ ان کے اس اعتراف کے باوجود شفاف تحقیقات اور قرار واقعی سزا دینے کی بجائے انہیں ہر الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دینا بھی ریاست کی رٹ پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ یاد رہے کہ مصطفیٰ کمال کئی بار ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات اور فوج کی جانب سے سیاسی ہدایات جاری کرنے کا اعتراف بھی کر چکے ہیں۔

ضمنی الیکشن کی تاریخ پر بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسی کیا مجبوری تھی کہ رمضان کا مہینہ ختم ہونے سے دو ہفتہ قبل انتخابی میدان سجانا ضروری تھا؟ کیا اس معاملہ میں 15، 20 دن کی تاخیر نہیں کی جا سکتی تھی؟ سوشل میڈیا پر تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایسا صرف لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے لئے کیا گیا تاکہ وفاقی حکومت کے سابق رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا کی نا اہلی کے بعد خالی ہونے والی اس نشست پر بھرپور انتخابی عمل کو روکا جا سکے۔

29 اپریل کی شام 5 بجے پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی اور نتائج میں حیران کن تاخیر نے اس الیکشن کو متنازع بنا دیا ہے۔ صرف 21.64 فیصد ٹرن آؤٹ کے باوجود ووٹوں کی گنتی میں 11 گھنٹوں سے زیادہ وقت کیوں لگا؟ کم و بیش 150 پولنگ اسٹیشنز کے بعد اچانک نتائج کیوں روک دیے گئے؟ مسلم لیگ نواز کے امیدوار مفتاح اسماعیل کو ڈی آر او آفس میں داخل ہونے سے کیوں روکا گیا؟ فارم 45 کی فراہمی کیوں تعطل کا شکار ہوئی؟

پولنگ اسٹیشن نمبر 260 اور 261 کے ریٹرننگ افسرز اچانک کیوں غائب ہو گئے؟ گنتی شروع ہوتے ہی مسلم لیگ نواز کے امیدوار کی برتری سامنے آئی جو نتائج کے ساتھ مسلسل بڑھتی چلی گئی اور 190 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج تک جاری رہی مگر پھر نتائج میں تین سے چار گھنٹوں کے تعطل کے بعد حیران کن طور پر کم ہونا شروع ہوئی اور بالآخر مسلم لیگ نواز کی شکست کے اعلان پر جا رکی۔ مسلم لیگ نواز مسلسل نتائج میں تاخیر پر احتجاج کرتی نظر آئی، راہنماؤں کے ساتھ ساتھ کارکنان بھی سراپا احتجاج نظر آئے۔

انتخابی عملہ کے ایک رکن کی جانب سے پیپلز پارٹی پر نتائج تبدیلی کے لئے بھاری رقم کی آفر کا الزام بھی سامنے آیا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کم و بیش ایک سو فارم 45 پر ریٹرننگ افسرز نے کل ووٹوں کی تعداد ہی نہ لکھی۔ چند پولنگ اسٹیشنز پر دوپہر 2 بجے ہی فارم 45 پر دستخط کروانے کا بھی انکشاف ہوا۔ پولنگ اسٹیشن نمبر 203 کی منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں ریٹرننگ افسر کو مسلم لیگ نواز کے 84 ووٹ پیپلز پارٹی کے امیدوار کی گنتی میں شامل کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ پیپلز پارٹی کے علاوہ اس الیکشن میں حصہ لینے والی تمام جماعتیں نتائج میں تاخیر پر سوالات اٹھاتی رہیں۔ پیپلز پارٹی کے راہنماؤں کی طرف سے اس وقت بھی جیت کے اعلانات سامنے آتے رہے جب 276 میں سے 190 پولنگ اسٹیشنز تک مسلسل مسلم لیگ نواز کی برتری میں اضافہ ہوتا گیا۔ سب سے بڑا سوال جس پر کئی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ ایک دن میں ایک حلقہ کا ضمنی الیکشن، اتنا کم ٹرن آؤٹ اور اس کے باوجود نتائج میں اتنی تاخیر؟ آخر کیوں؟

2018 کے عام انتخابات کے دوران بھی یہ حلقہ عوام کی توجہ کا مرکز رہا جب مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کے مقابلہ میں تحریک انصاف کے امیدوار فیصل واوڈا کو صرف 723 ووٹوں سے کامیاب قرار دیا گیا۔ 29 اپریل 2021 کے ضمنی الیکشن میں یہ فرق کم ہو کر 683 پر آ گیا مگر اس دفعہ کامیابی پیپلز پارٹی کے حصہ میں آئی۔ سوشل میڈیا پر جاری بحث میں اکثریت کی جانب سے پیپلز پارٹی کو تحریک انصاف کی جگہ اسٹیبلشمنٹ کا نیا ”بغل بچہ“ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں 40 فیصد ٹرن آؤٹ پر 7 ہزار ووٹ لینے والی پیپلز پارٹی نے ضمنی الیکشن میں صرف 21.64 فیصد ٹرن آؤٹ پر 16 ہزار ووٹ کیسے حاصل کیے؟ غیرجانبدار حلقوں کی اکثریت نے 25 جولائی 2018 کی طرح اس ضمنی الیکشن میں بھی مسلم لیگ نواز کو فاتح قرار دیا ہے اور انتخابی بے ضابطگیوں کی شکایات کا ایک انبار لگ چکا ہے۔

وفاقی حکومت کی بات کی جائے تو چور دروازے سے اقتدار کے لئے سیلیکٹ ہونے والی تحریک انصاف اڑھائی سال بعد بھی عوام کے اعتماد پر پورا نہ اتر سکی بلکہ تمام حکومتی مشینری کے باوجود تحریک انصاف کا امیدوار پانچویں نمبر پر آیا۔ اس ذلت آمیز شکست کے بعد یہ سوال مزید بلند آواز سے پوچھا جانے لگا ہے کہ ایسی جماعت آخر کس طرح 2018 کے عام انتخابات میں کامیاب ہوئی؟

ان حالات میں مسلم لیگ نواز کے تاحیات قائد اور تین بار اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہونے والے میاں محمد نواز شریف کا یہ بیانیہ سچ ثابت ہوتا نظر آ رہا ہے کہ ملکی سیاست پر خلائی مخلوق کا سایہ ہے اور یہ کہ غیر جمہوری عناصر بہرصورت نواز شریف اور ان کی جماعت کو پیچھے دھکیلنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے انہیں تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی بھی قبول ہے جو سینیٹ میں BAP کے ووٹوں سے اپوزیشن لیڈر کی نشست کے بعد اب BAP کے باپ کے تعاون سے این اے 249 میں بھی متنازع کامیابی حاصل کر چکی ہے۔ اس سے قبل پیپلز پارٹی کی طرف سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے فیصلوں سے انحراف اور پھر علیحدگی کے اعلان کو بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تصور کیا جا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عمر اوغلو کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *