کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے ملنے والی عالمی رقوم کہاں ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں کووڈ۔ 19 پہلی عالمی وبا ہے جس کی تباہ کاری نے جانی و مالی طور پر ملک کو ہلا دیا ہے، جبکہ برصغیر 1918 میں اسپینش فلو جسے بمبئی فلو بھی کہا جاتا ہے کا خوفناک حملہ بھگت چکا ہے ، اس عالمی وبا کے نتیجے میں انڈیا کی 5 فیصد آبادی یا لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ افراد لقمۂ اجل بنے تھے۔

چین کے صوبے ہوبے کا شہر ووہان دنیا میں سارس کووڈ 19 وائرس کی پہلی مرتبہ نشاندہی ہوئی جہاں 17 نومبر 2019 کو اس وائرس میں مبتلا پہلے مریض کی تشخیص ہوئی۔

20 نومبر 2019 تک یہ تعداد بڑھ کر 60 ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے کووڈ۔ 19 کی اس وبا نے عالمی صورت اختیار کر لی، یہ خوفناک وائرس اب تک 14 کروڑ 83 لاکھ سے زائد افراد کو اپنے ہولناک اثرات سے متاثر کر چکا ہے جبکہ لگ بھگ 32 لاکھ افراد اس سے بیمار ہو کر داعی اجل کو لبیک کہہ چکے ہیں اموات کی تعداد میں روز افزوں اضافہ جاری ہے۔

پاکستان میں اس وائرس سے بیماری اور اموات نے صورتحال کو گزرتے وقت کے ساتھ گمبھیر بنا دیا ہے جس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ 29 فروری 2020 تک کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کی تعداد صرف پانچ ہزار چار سو اکیاسی 5481 تھی جو 30 اپریل 2020 تک دو ماہ میں بڑھ کر دوگنا سے زیادہ یعنی سولہ ہزار آٹھ سو 16800 افراد تک پہنچی تھی ، گویا اس تعداد میں لگ بھگ 8 ہزار افراد ماہانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا تھا جبکہ 30 مارچ 2020 تک 26 اموات کی خبر تھی۔

لیکن، کووڈ 19 کی دوسری کے بعد تیسری حالیہ لہر نے وائرس سے ہونے والے انفیکشن میں ہوشربا اضافہ کیا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 20 اپریل 2021 تک متاثرہ افراد کی تعداد 772000  افراد تک پہنچ چکی تھی یعنی فی ماہ 8500 سے بڑھ کر یہ تعداد 55 ہزار افراد فی ماہ سے تجاوز کر گئی جبکہ اسی تاریخ تک کل اموات کی تعداد 16600 تک پہنچ چکی تھی، ان اعداد و شمار میں مسلسل اور تیز رفتاری سے اضافہ جاری ہے۔

اس خوفناک صورتحال میں تیزی کا اندازہ گزشتہ نو روز میں سامنے آنے والے اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق 29 اپریل 2021 کو یہ تعداد سات لاکھ بہتر ہزار افراد سے بڑھ کر آٹھ لاکھ سولہ ہزار ہے جو 55 ہزار فی ماہ سے بڑھ کر 58 ہزار افراد فی ماہ ہو چکی ہے اور اطلاعات مطابق اس وائرس کے حملے سے اموات کی تعداد سولہ ہزار چھ سو سے بڑھ کر سترہ ہزار سات سو  ہو چکی ہے۔

ان سطور کے لکھنے تک کووڈ۔ 19 کی شروعات سے اب تک پہلی بار ایک روز میں دو سو سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور روز موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق ایک روز میں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔

عالمی وبا پر اس مختصر مگر ہولناک تعرف کی ضرورت اس کی شدت کا احساس دلانے کے لیے ہے۔ ساری دنیا سمیت پاکستان بھی جان چکا ہے کہ اس وبا سے ہونے والے جانی نقصانات کا ازالہ تو ممکن نہیں، لیکن، مالی نقصانات کی بحالی میں بھی کئی دہائیاں لگیں گی۔

یہ اندوہناک صورتحال ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ دنیا کی تمام مہذب اقوام کی طرح پاکستان بھی کووڈ 19 سے زخم خوردہ قوم کے بدحال شعبہ صحت کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ہنگامی بنیادوں پر وسائل کی فراہمی میں کسی پس و پیش سے کام نہ لے اور نہ ہی غیب سے کسی معجزے کا انتظار کرے۔

جیسا کہ بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ ہر مشکل وقت اپنے اندر بہتری کے مواقع رکھتی ہے، کچھ ایسی ہی صورتحال کووڈ 19 کے پاکستان کو متوقع طور پر نشانہ بننے سے پیدا ہوئی۔ ملک جو 2018 کے انتخابات کے بعد سے بد نظامی کے باعث معاشی بد حالی کا شکار ہو کر قرضوں میں ہوشربا اضافے کا سامنا کر رہا تھا، کووڈ 19 سے پیدا ہونے والے منظر نے معاملات مزید ابتر ہو جانے سے پیشتر عالمی مالیاتی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی جس کے نتیجے میں ملک کو اس موذی وبا سے نمٹنے کے لیے خطیر مالی مدد کا سلسلہ جاری ہو گیا۔

پڑھنے والوں کے لیے ذیل میں کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو اب تک ملنے والی امداد میں سے کچھ رپورٹس پر نظر ڈالتے ہیں :

1۔ دی نیوز کی 16 اپریل 2020 کی خبر کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے COVID 19 کے وبائی مرض سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو ”1.386 بلین امریکی ڈالر“ کی فراہمی کی منظوری دے دی۔

2۔ اگلے ہی روز یعنی 17 اپریل 2020 کو امریکہ نے  8  آٹھ ملین ڈالر کووڈ وبا سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو فراہم کیے، تفصیل وائس اف امریکہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

3۔ 19 اپریل 2020 کو برطانیہ نے 076۔ 2 ملین پاونڈ جو امریکی ڈالر میں 38۔ 3 ملین ڈالر بنتے ہیں پاکستان کو کووڈ سے نمٹنے کے لیے دیے، تفصیل 19 اپریل روزنامہ ڈان میں دیکھی جا سکتی ہے۔

4۔ ایک سو تریپن ملین یورو  جو ڈالرز میں 5۔ 223 ملین ڈالر بنتے ہیں کووڈ کے سدباب کے لیے پاکستان کو دیے، تفصیل 19 اپریل کے روزنامہ پاکستان ٹو ڈے میں موجود ہے۔

5۔ مئی 19، 2020 تین سو ملین ڈالر ملین ڈالر ایشین ڈیویلپمنٹ بینک نے کووڈ سے فوری نمٹنے کے لیے دیے۔ تفصیل اے ڈی بی کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

6۔ اس کے علاوہ 8 دسمبر 2020 کو ورلڈ بنک نے پاکستان کو تین سو ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا، تفصیل ورلڈ بینک ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ دیگر ذرائع جن میں چین، سعودی عرب وغیرہ سے ملنے والی امداد شامل ہے ، علیحدہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے ملنے والی اس خطیر رقم جو لگ بھگ دو بلیین ڈالر سے زائد بنتی ہے کہاں استعمال کی گئی، کیونکہ، انتہائی نگہداشت کے مریضوں کے لیے ہسپتالوں میں بستر ضرورت مطابق نہیں ہیں، متاثرہ مریضوں کے لیے آکسیجن سلنڈرز کی فراہمی دشواریوں کا شکار ہے، وینٹی لیٹرز کی عدم دستیابی سنگین صورت اختیار کر رہی ہے اور سب سے بڑھ کر خطرناک صورتحال ویکسین کی خریداری کے بجائے امداد پر بھروسا جاری ہے اور اگر ویکسین کی خریداری کے بارے میں قدم اٹھایا بھی گیا ہے تو رقم موجود ہونے کے باوجود بہت دیر سے اور ضرورت کے مقابلے میں قطعی ناکافی۔

حکومت کی جانب سے جاری چرب زبانی اور نتائج ندارد دیکھتے ہوئے چند ماہ پہلے چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اس وقت کے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل (ر) افضل کو عدالت میں طلب کر کے کووڈ 19 مریضوں کے لیے ملنے والی امداد کے بارے میں اور فی مریض خرچ کے بارے میں استفسار کیا جس کے جواب میں جنرل موصوف نے پچیس لاکھ روپے فی مریض خرچ کے بارے میں بتایا جسے سن کر تمام عدالت میں خاموشی چھا گئی تھی ، لیکن اس جواب کے سننے کے باوجود کوئی تفصیل عدالت، پارلیمنٹ یا عوام کے سامنے نہیں آئی، نہ ہی کوئی پوچھ گچھ کی گئی۔

یہ چند سطور صرف کووڈ 19 سے متعلق فوری خطرات کے بارے میں اور مختصراً بتاتی ہیں کہ حکومت کے زیرانتظام شعبہ صحت کی ملک بھر میں حالت زار، ضرورت مطابق بجٹ میں ناکافی رقم کا مختص کیا جانا ہے جبکہ اس کے درست استعمال کے بارے میں مسائل کا احاطہ تو شاید ایک ضخیم کتاب بھی نہ کر سکے ، البتہ تھوڑے کہے کو کافی سمجھا جائے تو معاملات اس حد تک ضرور سمجھ میں آتے ہیں کہ حکومت خود مالیاتی معاملات کو شفاف رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی نہ ہی خود کو کسی کے آگے جوابدہ سمجھتی ہے۔

دوسرے یہ کہ ہماری نامناسب ترجیحات میں شعبۂ صحت بری طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے جس کے نتائج خصوصاً موجودہ وبائی صورتحال میں ایسی بھیانک شکل اختیار کر سکتے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔

حکومت کے ہنگامی بنیادوں پر اٹھائے گئے نیم دلانہ اقدامات جن میں شروع سے لاک ڈاؤن سے متعلق لیت و لعل اور امدادی رقوم سے متعلق اعداد و شمار کے بارے میں اعتماد میں نہ لینا صرف اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں بلکہ اسی روش پر قائم رہنا ملک کو اجتماعی خودکشی کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہو گا، عوام ان تمام رقومات کے بارے میں مکمل معلومات تک رسائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *