تاریخ کے فرقے اور ہمارا اثاثہ (پہلا حصہ)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں کئی بین الاقوامی میڈیا چینلز خلافت عثمانیہ کے دوران آرمینیائی باشندوں کے کے قتل کے واقعہ کو انتہائی حساس تاریخی مسئلہ قرار دیتے رہے۔ ترکی میں سوئی ہوئی بھڑیں اس وقت جاگیں جب امریکی صدر بائیڈن نے اس واقعہ کو نسل کشی قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق جب کوئی ریاست باقاعدہ حکمت عملی کے تحت کسی مخصوص طبقے کو اس کی نسل، شکل یا مذہب کی بنیاد پہ قتل کرنا شروع کردے، نسل کشی ہے۔ 1915 میں خلافت عثمانیہ کے دوران 1.5 ملین لوگوں کا قتل عام ہوا، ترکی اسے تسلیم کرتا ہے لیکن اس کا مطالبہ ہے کہ ترکوں کا بھی خون بہا ہے جسے تسلیم کیا جانا چاہیے، ترکی کی حکومت کے مطابق 1912 سے 1922 کے دوران 3 ملین لوگوں کا خون بہا جس میں 3 سے 6 لاکھ ترکش کرد اور آرمینیائی لقمہ اجل بنے۔

زیادہ تر مؤرخین اس معاملے میں ترکی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور آرمینیائیوں کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن چند ایک مؤرخین ایسے بھی ہیں جو تاریخ کے کسی اور فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مؤرخ جسٹن میکارتھی سمجھتے ہیں کہ آرمینیاؤں نے بھی ترکوں کا قتل عام کیا اور ترکوں کی طرف سے جو ظلم ہوا ہے اس کی سزا اپریل 1919 میں کئی ایک لوگوں کو دی گئی جس میں ایک صوبے کا گورنر محمد کمال بھی شامل تھا جسے انقرہ میں پھانسی دی گئی۔ آپ پوچھتے ہیں کہ کیا آرمینیاؤں کی طرف سے بھی کسی کو کوئی سزا ہوئی، اسی رائے سے مؤرخ نارمن سٹون بھی اتفاق کرتے ہیں۔ ترکی میں اس معاملے کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں 2005 میں ایک قانون نافذ کیا گیا جس کے مطابق اس مسئلہ پر بات ترک پن کے خلاف سمجھی جائے گی۔

اس مذکورہ بالا واقعہ کو بنیاد بنا کر آئیے اس سادہ مگر انتہائی اہم بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیسے تاریخ کو سفید اور سیاہ میں بانٹنے سے تاریخ واضح نہیں ہوتی بلکہ ہمارے سامنے اس کے کئی نئے رخ سامنے آتے ہیں جسے اس کالم کی حد تک ”فرقے“ سمجھ لیتے ہیں۔ یہ فرقے دیوبندی، بریلوی یا اہلحدیث وغیرہ کی طرح ایک دوسرے پر دروازے تو بند نہیں کرتے لیکن تاریخ کے فرقوں کی یہ بات اہم ہے کہ اگر کوئی اپنا بیانیہ لے کر غالب یا پنپ رہا ہوتا ہے یا اسے سامنے لایا جا رہا ہوتا ہے تو دوسرا اتنی اہمیت کا حامل قرار نہیں پاتا۔

جی کڑا کر آئیے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تاریخ کے ہر پہلو کو، ہر رخ کو، ہر فرقے کو پنپنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمیں زیادہ سے زیادہ جاننے کو موقع ملے۔ کچھ عرصہ قبل لاہور میں سن 1919 میں جلیانوالہ باغ میں قتل عام کے حوالے سے کانفرنس منعقد ہوئی، جس کے مہمان خصوصی اس ملک کے ایک نامور لکھاری تھے، ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا جلیانوالہ واقعہ کے ساتھ سن 1930 میں قصہ خوانی میں ہوئی خون ریزی کا ذکر ہونا چاہیے یا نہیں؟

تو مہمان خاص جواب گول کر کے فرمانے لگے کہ ہمیں تاریخ کی کشتی میں بیٹھ کر سفر کرنا چاہیے اور یہ امید رکھنی چاہیے کہ یہ کشتی ہمیں خود بہ خود کسی کنارے لے جائے گی اور ہاں یہ چھوٹے چھوٹے واقعات تاریخ بھلا دیا کرتی ہے۔ اس جواب سے لگا کہ جناب تاریخ کے کسی ایسے فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جو آنکھیں بند کر کے آگے بڑھنے کی تلقین کرتا ہے۔ پھر خیال آیا کہ ہو سکتا ہے کہ دسمبر میں لمز میں بنگلہ دیش قیام کے حوالے سے کانفرنس بھی انہی لوگوں نے منسوخ کرائی ہو، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کو تاریخ کے کسی ایک فرقے سے اعتقاد اور دوسرے سے نفرت ہے۔

آئیے یورپ چلیں وہاں ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام کو ہولوکاسٹ کہا جاتا ہے۔ لگتا ہے ان کو بھی تاریخ کے کسی ایک رخ سے بے پناہ لگاؤ ہے اس لیے تو ان کی نصابی کتابی کتب میں صرف اس حوالے سے ایک ہی بیانیہ غالب ہے جسے ہم یورپ کی تحریک لبیک کا بیانیہ کہہ سکتے ہیں۔ لیکن وہاں دانشوروں کا ایک طبقہ اس بات کو ماننے سے انکاری ہے جسے مختلف طرح کی صعوبتوں کا سامنا رہا ہے۔ ہولوکاسٹ ڈینائلز نامی اس فرقے کے ممبر اور مشہور صحافی ہیچنز اپنے لیکچر میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں اس شخص کو زیادہ توجہ سے سننا چاہیے جو کلاس میں کھڑے ہو کر یہ پوچھے کہ یہودیوں کی نسل کشی، یہودیوں کی نسل کشی، جو کہ نصاب میں بار بار دہرایا جا رہا ہے سچ بھی ہے؟

ان کے بقول ایسے شخص کو بھرپور توجہ ملنی چاہیے کیونکہ یہ بہت بڑے دل جگرے کی بات ہے کہ کوئی کھڑا ہو کر غالب بیانیہ کو چیلنج کرے، اس شخص سے ہمیں ایک خاص طرح کا انس ہونا چاہیے جو کہ اپنی دلیل کو بنیاد بنا کر ایک نئی بات سامنے لاتا ہے، وہ بات جو کہ ہم سے چھپائی گئی یا جسے کہنے پر پابندی ہو۔ تاریخ تو بڑی بشاشت سے اپنے فرقوں کے بارے میں کہتی ہے کہ آئیے، دیکھئیے، سب کے ہیں رنگ الگ الگ سب کی ہے بو الگ الگ، تو کیوں نہ ہم بھی عقلی استدلال سے ان رازوں سے پردے اٹھائیں۔

فرقوں پہ بات نہ جانے کیوں مملکت ضیا داد کی طرف کھینچ کر لے آتی ہے۔ تو جناب ہمارے ہاں بھی پچھلے سات آٹھ میں یہاں دو نئے تاریخی فرقوں کا ظہور ہوا ہے ؛ ایک فرقہ کی راہنمائی وزیرستان کا ایک نہتا نوجوان کر رہا ہے جو کہ اپنی محنت اور علاقے کے لوگوں کے سہارے دھرتی ماں سے صرف اور صرف جینے کا حق مانگ رہا ہے، دوسرے فرقے کی نمائندگی ایک نوجوان کو سامنے لا کر، اسے ہیرو بنانے کی بھرپور کوشش کر کے، حوالے کی جا رہی ہے جو ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر چکا ہے لیکن بقول نجم سیٹھی صاحب باپوں کی محنت کب اکارت گئی ہے، باپوں کو معلوم ہے کہ ہم بحیثیت قوم کوئی بھی منتجب ٹکڑا اپنی پوٹلی میں رکھنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

یہ تو فرقے ہیں، اثاثے کہاں ہیں؟ ملتے ہیں۔ اگلے کالم میں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *