فواد چوہدری کا ٹوئٹ، جنرل باجوہ کی مجبوری اور عمران خان کی ڈرائیونگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں مسلم لیگ (ن) کے لیڈر مفتاح اسماعیل کو پہلے تولنے پھر بولنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ کراچی انتخابات میں آصف زرداری نے مسلم لیگ (ن) کو فوج کی اہمیت سے آگاہ کردیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات کا یہ ٹوئٹ مفتاح اسماعیل کے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے کہ الیکشن کمیشن این اے 249 کے حتمی نتیجہ کا اعلان ہونے تک تمام ریکارڈ فوج اور رینجرز کی نگرانی میں محفوظ کرے۔
سوچ سمجھ کر یا تول کر بولنے کا مشورہ تو اس ملک میں بہت سے لوگوں کو دینے کی ضرورت ہے اور شاید فواد چوہدری اور ان کے باس وزیر اعظم عمران خان اس حوالے سے سب سے مضبوط امید وار ہوسکتے ہیں۔ عمران خان اگر سوچ سمجھ کر بولنے اور فیصلے کرنے کے عادی ہوتے تو انہیں بار بار وزیرتبدیل کرنے اور فیصلوں پر پچھتانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ابھی دو روز پہلے ہی دورہ گلگت کے موقع پر وزیر اعظم نے پارٹی ٹکٹوں اور وزارتوں کی تقسیم کے معاملہ پر سنگین غلطیوں کا اعتراف کیا تھا۔ اگرچہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ غلطیاں کیا تھیں اور کون لوگ میرٹ کے بغیر اسمبلیوں کے رکن منتخب کروا لئے گئے اور کن ہنر مندوں کو صرف چرب زبانی کی وجہ سے وزارتیں تقسیم ہوگئیں حالانکہ وہ ان کے اہل نہیں تھے۔ یہی نہیں عمران خان کی تقریریں اور بیانات کچھ ایسے نئے پہلوؤں کو بھی سامنے لاتے ہیں کہ ناطقہ سربگریباں والا معاملہ ہوجاتا ہے۔ زیادہ دیر نہیں ہوئی جب وہ جاپان اور جرمنی کا جغرافیہ اور دشمنی کی تاریخ کا سبق پڑھاچکے ہیں۔ یا اسامہ بن لادن کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ’شہید‘ کے رتبے پر فائز کرچکے ہیں۔ یا آزاد کشمیر کے دورہ کے دوران کشمیریوں کو یقین دلا چکے ہیں کہ ایک بار اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر پاکستان کا حصہ بن جائے پھر پاکستان کی حکومت کشمیر کو خود مختار ہونے کی ’آزادی‘ دے دی گی۔ پیا من بھائے، ہونے کے ناتے وزیر اعظم عمران خان کو شاید سات سیاسی خون معاف ہیں۔ وزیر اطلاعات باخبرر ہیں اب ایسی ہلاکت خیز سیاسی غلطیوں کی حد بھی ختم ہونے کو ہے۔
وزیر اعظم کے ایک بیان یا ایک دلیل کا چرچا تو دو روز قبل اسٹراس بورگ میں یورپئین پارلیمنٹ کے اجلاس میں بھی رہا۔ اس اجلاس میں یورپئین پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت سے منظور کی گئی ایک قرار داد میں پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی صورت حال اور ان کے خلاف توہین مذہب کے ملکی قوانین کے سفاکانہ استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ متعدد مثالوں سے اقلیتی افراد اور صحافیوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس کے دوران پاکستان میں اقلیتوں کی حفاظت کی صورت حال خراب ہوئی ہے۔ اسی لئے پارلیمنٹ نے یورپئین کمیشن کو سفارش کی ہے کہ وہ پاکستان کو جی پلس کے تحت دی گئی تجارتی مراعات پر نظر ثانی کرے اور انہیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا جائے۔ ان مراعات کے تحت پاکستانی مصنوعات کو بہتر شرائط پر یورپ برآمد کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
یورپئین پارلیمنٹ کے اس اجلاس میں پاکستان کے بارے میں تقریریں کرتے ہوئے مقررین نے وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے یورپ سے توہین رسالت پر ویسی ہی پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے جیسی پابندی دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی میں ہولوکوسٹ کے نام سے مشہور یہودیوں کی نسل کشی کے بارے میں گمراہ کن خبریں دینے یا اس تاریخی وقوعہ کا انکار کرنے پر عائد ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ یہودیوں نے یورپ کو باور کروایا ہے کہ ہولوکوسٹ کی منفی خبروں سے انہیں تکلیف ہوتی ہے، اسی لئے یورپ میں اس پر پابندی عائد ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم کے خیال میں پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک یورپ کو یہ بتانے میں ناکام رہےہیں کہ وہ اپنے پیارے رسولﷺ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ اسی لئے وہاں توہین رسالت کے واقعات ہوتے ہیں اور ان کی تشہیر پر پابندی عائد نہیں ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کا کہنا تھا کہ جو شخص نسل کشی کے ایک اندوہناک واقعہ کے بارے میں اتنی غیر ذمہ داری سے گفتگو کرتا ہو، اس پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔
غور و فکر کے بغیر بولنے کی یہ صرف چند مثالیں ہیں ورنہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو وزیر اعظم عمران خان اس معاملہ میں کرکٹ کے فاسٹ باؤلر سے بھی زیادہ شہرت حاصل کرنے کے اہل ہیں۔ اب فواد چوہدری کی وزارت اطلاعات میں واپسی کے معاملہ کو ہی دیکھ لیا جائے تو جاننا مشکل ہوگا کہ وزیر اعظم نے اپریل 2019 میں انہیں وزارت سائینس و ٹیکنالوجی میں بھیجتے وقت درست فیصلہ کیا تھا یا اس وقت کی گئی غلطی کی اب اصلاح کی گئی ہے اور فواد چوہدری کو دوبارہ وزارت اطلاعات کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ عمران خان نے چونکہ اپنی غلطیوں کی تفصیلات فی الوقت صیغہ راز میں ہی رکھی ہیں لہذا یہ کہنا مشکل ہے کہ وزارتیں تبدیل کرتے ہوئے کس کو سزا اور کس کو انعام کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ملک کے لوگوں کو یہ تو معلوم ہوگیا ہے کہ وہ اسد عمر ، شبلی فراز یا فواد چوہدری، کوئی بھی ہو وزارت کے معاملے میں کوئی بھی انکار کرنے کا روادار نہیں۔ آخر جھنڈے والی گاڑی اور مفت میں ملنے والی پذیرائی کو کون چھوڑتا ہے۔ سیاست میں ویسے بھی عزت اسی کو نصیب ہوتی ہے جس کے پاس عہدہ ہو۔
فواد چوہدری البتہ دوبارہ وزیر اطلاعات بن کر جس طرح ٹوئٹر اور ٹی وی بیانات کے ذریعے اپنی وفاداری اور مستعدی کا مظاہرہ کررہے ہیں تو یہ بھی واضح ہورہا ہے کہ عمران خان کو کیسے خدمت گزاروں کی ضرورت ہے۔ فواد چوہدری تو ایک پتھر سے دو شکار کے محاورے کے مطابق ایک عہدے میں دو کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس کا ثبوت مفتاح اسماعیل کا مضحکہ اڑانے والا ان کا ٹوئٹ پیغام ہی ہے۔ فرماتے ہیں: ’مفتاح اسماعیل کہہ رہے ہیں ریکارڈ فوج کی نگرانی میں رکھا جائے۔ زرداری صاحب نے نون لیگ کو فوج یاد کرا دی ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں سوچ کر بولو اور بولنے سے پہلے سو بار تولو۔ اداروں کا احترام ضروری اس لئے بھی ہے کہ اداروں کے بغیر نظام قائم نہیں رہا کرتے۔ اور ملکوں کو اداروں کی ضرورت ہوتی ہے‘۔
یوں تو پاک فوج کے پاس اپنا مؤقف بیان کرنے اور اپنے ادارے کی کارگزاری عوام تک پہنچا نے کے لئے اپنا شعبہ تعلقات عامہ موجود ہے لیکن ایمانداری کی بات ہے جنوری 2020 میں میجر جنرل آصف غفور کی ڈائیریکٹر جنرل آئی ایس پی آر سے رخصتی کے بعد کہاں وہ بات مولوی مدن والی کا معاملہ ہو چکا ہے۔ ان کے بعد فوج کی ترجمانی کا فریضہ سنبھالنے والے میجر جنرل بابر افتخار سلیقے سے مختصر بات کرتے ہیں اور اکثر میڈیا کے ساتھ مکالمہ سے گریز کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی ویسے دھماکہ خیز بیانات جاری نہیں کرتا جو سابقہ ڈی جی کا خاصہ تھا۔ اب یوں لگتا ہے کہ عمران خان کے ساتھ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی فواد چوہدری کی صورت میں ایک مضبوط میڈیا ترجمان میدان میں اتارا ہے کہ ہم سا ہو تو سامنے آئے۔ جو حق نمک بھی ادا کرتا ہے اور زبانی جمع خرچ کی حد تک مخالفین کے چھکے چھڑانے میں کوئی کسر بھی اٹھا نہیں رکھتا۔ اب اس تازہ ٹوئٹ کو ہی دیکھ لیجئے۔ مخاطب تو مفتاح اسماعیل ہیں لیکن لپیٹ میں زرداری بھی آگئے اور نواز شریف تک پیغام بھی پہنچا دیا۔ ایسے نگینے کہاں آسانی سے ملتے ہیں۔
پاک فوج کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ پاکستانی سیاست ا س کے لئے کمبل بن چکی ہے کہ اب وہ تو اسے چھوڑتی ہے لیکن کمبل رخصت لینے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس کھینچا تانی میں فواد چوہدری سمیت شاید حکومت کے کسی بھی رکن کو کماحقہ اندازہ نہیں کہ ان کا اصل ’باس‘ کون ہے۔ انہیں کون سی زبان بولنا ہے اور کون سا پیغام عام کرنا ہے۔ اب یہی دیکھ لیجئے حماد اظہر اچھے بھلے وزیر خزانہ بنے تھے۔ کابینہ میں انہیں ’ولی عہد‘ کا رتبہ بھی حاصل تھا۔ بیٹھے بٹھائے بھارت کے ساتھ تجارت بحال کرنے کا شوشہ چھوڑ کر وزارت سے بھی گئے اور اعتبار کھویا سو الگ۔ اب جنرل صاحب کو خود صحافیوں کو بلا بلا کر پاٹھ پڑھانا پڑتا ہے کہ دیکھئے صاحب اب دشمنی بڑھانے کا نہیں ماضی بھلانے کا وقت ہے۔ اب گھر کی صفائی کرنے اور ہمسایوں سے تعلقات کو جیسے تیسے طے کرنے کا موسم ہے۔ 70سال تک کشمیر پر دعویٰ جتانے اور یکے بعد دیگرے کئی حکومتوں کو اس معاملہ پر بے اعتبار کرنے کے بعد بالآخر فوج کو بھی سمجھ آگیا ہے کہ پرنالہ تو وہیں رہے گا جہاں اسے رکھنے کا فیصلہ ہوچکا۔ چھینٹوں سے بچنا ہے تو خود ہی دامن بچا کر نکلنا پڑے گا۔ جب یہ اعتراف عام ہوگا تو پاک دامنی پر اٹھنے والے سوالوں کے جواب عمران خان کو دینا پڑیں گے۔ شاید اسی لئے فواد چوہدری جیسے گیانی کو وزارت سائنس میں ایجادات و تحقیق کے کام سے نکال کر مخالفین کی ٹانگ دبوچنے کے کام پر لگایا گیا ہے۔
کشمیر سے دست برداری ایک پہلو ہے۔ افغانستان سے امریکہ کے انخلا کے بعد امن اور عبوری حکومت کا قیام دوسرا معاملہ ہے۔ کمبل نے جان چھوڑی ہوتی تو امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور وزیر دفاع لائیڈ آسٹن، جنرل قمر جاوید باجوہ کی جان کو نہ آئے ہوتے۔ عمران خان جانتے اور امریکہ یا طالبان۔ اب معاملہ افغان طالبان سے طے کرنا ہے ، بازو پاک فوج کا مروڑا جارہا ہے۔ تزویراتی گہرائی حاصل کرنے کا شوق کس قدر مہنگا ثابت ہوتا ہے، اس کے حقیقی معنی جنرل باجوہ ہی بتا سکتے ہیں۔ عمران خان تو مزے میں ہیں۔
سینیٹر فیصل جاوید خان نے بتایا ہے کہ اسلام آباد کا دورہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے سیکورٹی پروٹوکول کی دھجیاں بکھیر دیں۔ قانون پسندی کا ایسا مظاہرہ کہ ہر سرخ بتی پر گاڑی روک کر راہگیروں کو بتاتے رہے ، دیکھو وزیر اعظم خود گاڑی چلا رہا ہے۔ اور ٹھیلوں پر سموسوں کی قیمت تک معلوم کی تاکہ رمضان میں عوام کے ساتھ ہاتھ نہ ہوجائے۔ عمران خان کہہ سکتے ہیں کہ سیاست ہو تو ایسی۔ کاش جنرل باجوہ بھی یہی کہہ سکتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1873 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *