مولانا طارق جمیل سے اختلاف کس بات کا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب میں سکول و کالج میں پڑھتا تھا تو جب بھی تبلیغی جماعت نزدیکی مسجد میں آتی تھی تو دو چیزیں خاص طور پر سننے کو ملتی تھیں.

ایک : دنیا کی نہیں دین کی فکر کرو. ایک صحابی کا واقعہ سنایا جاتا تھا کہ انہوں نے دیوار کھڑی کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ دنیا کے ہر کام میں خسارہ ہے. فضائل اعمال ایسی ضعیف احادیث سے بھری پڑی ہے جس میں دنیا اور اس کے مال و اسباب سے نفرت دلائی جاتی ہے. دنیا کی مثال ایک مکھی کے پر کے برابر بھی نہیں اتنی بار سنا تھا کہ مکھی ہی دنیا نظر آتی تھی. یہی سبب ہے کہ جب بھی دنیا میں نام بنانے اور ڈھیر ساری دولت کمانے کا خیال آتا تھا تو دنیا سے نفرت دلانے والا یہ لٹریچر شرمندہ کر دیتا تھا.

دوم : یہ واقعہ تقریباً ہر تبلیغی سناتا تھا کہ مولانا طارق جمیل اصل میں میڈیکل کے طالب علم تھے پھر انہیں لگا یہ سب تو دنیاوی علم ہے پھر آپ دین کے کام میں لگ گئے اور دیکھیں اللہ نے ان کے بیان میں کتنی تاثیر رکھی ہے خدا نے انہیں اپنے دین کی خدمت میں چن لیا ہے. یقین کریں اس وقت لگتا تھا کہ ہم جو میٹرک ایف ایس سی بی ایس سی کر رہے ہیں فضول ہی کر رہے ہیں اصل کام تو مولانا کر رہے ہیں.

کتنے ہی طلباء ہیں جنہوں نے مولانا طارق جمیل کی اتباع میں اپنی تعلیم خیر باد کر دی اور کتنے ہی لوگوں نے کاروبار چھوڑا اور دین کی تبلیغ میں لگ گئے اور آج جب مولانا خود برینڈ بیچ رہے ہیں اور سلیبرٹی بن چکے ہیں تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ اب بھی واہ واہ کرو, ان کی دکان کے ناڑے کو سر پر باندھ لو.

میرے گاؤں میں ایک شخص تھا اسلم. کافی خوشحال تھا تھا. اگر دنیا کو مکھی کے پر کے برابر نہ سمجھتا اور بہتر مینج کرتا تو اس کی اولاد بھی آج سکھی ہوتی. اس نے اپنی جوانی کرکٹ کھیلنے اور زندگی کے لطف لینے میں گزاری, کرکٹ کا گراؤنڈ اس کے دم سے آباد ہوتا تھا. وہ کوئی ایسا برا آدمی نہیں تھا کہ کسی کے ساتھ اس نے کوئی بڑی زیادتی کر دی ہو مگر اسے تبلیغی جماعت کے ذریعے پتا چلا کہ وہ تو گناہ گار ہے لہو لہب میں پڑا ہوا ہے. جس شدت سے اسے احساس گناہ ہوا اسی شدت سے وہ مذہبی بن گیا. مجھے پڑھائی سے اس نے دو چار بار روکا کہ یہ تو سراسر خسارہ ہے اصل محنت دین کی محنت ہے. “خدا سے سب کچھ ہونے کا یقین اور مخلوق سے کچھ بھی نہ ہونے کا یقین ہمارے دلوں میں آ جائے” اس کی محنت اصل محنت ہے. جوں جوں وہ مذہبی ہوتا گیا ویسے ویسے دنیا اس کے ہاتھ سے جاتی گئی کیونکہ اسے تو اس کی پرواہ ہی نہ تھی. پھر غربت میں مرا اور اس کے بچے بھی آج محنت مزدوری سے پیٹ پال رہے ہیں. ایسی کتنی ہی کہانیاں ہیں ہمارے گرد؟ کیا نہیں ہیں؟ اردگرد دیکھ کر بتائیے کیا تقریباً ہر گلی محلے میں ایسی کہانیاں نہیں ہیں؟

مجھے مولانا کے کاروباری یا دنیاوی ہونے پر کوئی اعتراض نہیں. میں تو آج کی دنیا کا سب سے بڑا خیرخواہ بھی entrepreneurs کو سمجھتا ہوں اور اس پر کئی بار لکھا ہے. اور اس بات کا بھی حامی ہوں کہ مسجد کی امامت و خطابت کی کمائی کھانے کے بجائے کوئی کاروبار کرنا چاہیے کوئی روزگار ہونا چاہیے. اعتراض اس منافقت پر ہے کہ آپ کہتے کیا ہیں اور کرتے کیا ہیں؟ کیا وہ دنیا جس کی حیثیت مکھی کے پر کے برابر نہیں اس کے لئے آپ برینڈ بنا رہے ہیں مگر عام آدمی کو اسی دنیا کے مال و اسباب سے نفرت دلا رہے ہیں؟ کیا یہ ظلم نہیں کہ ایک شخص اپنا کاروبار بھی کر رہا ہے مگر ساتھ ساتھ اس احساس گناہ میں بھی پگھلا جا جا رہا ہے کہ یہ تو لاحاصل سرگرمی ہے یہ تو زندگی کا مقصد نہیں اس کے لئے کیوں محنت کی جائے؟ ہمارے معاشرے میں منافقت کا بڑا سبب ہی یہی ہے کہ ہم مانتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں, پورے معاشرے کو منافق بنانے میں کیا ان مذہبی رجحانات کا کردار نہیں ہے؟

کیا مولانا آج ایک بڑے برینڈ کے مالک ہو کر اور فیشن انڈسٹری میں نئے رجحانات متعارف کروانے والے بن کر اپنی تقاریر میں کہا کریں گے کہ مسلمانو کاروبار کرو اپنی دنیاوی حیثیت بہتر بناؤ برینڈز میں انویسٹمنٹ کرو دیکھو بزنس ایڈمنسٹریشن پڑھو اکنامکس پڑھو اس میں بھلائی ہے یہ دنیا بھی حقیقی ہے اس کے لئے بھی بھرپور محنت کرو؟ اگر آپ سمجھتے ہیں ہاں تو پھر میں بھی آپ کے ساتھ ساتھ مولانا کو بزنس انڈسٹری میں خوش آمدید کہتا ہوں وگرنہ اس منافقت پر کم ازکم طنز کرنے کی ہی اجازت دے دیجئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 166 posts and counting.See all posts by zeeshan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *