EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

لیاقت علی خان کا دورہ ماسکو حقیقت کیوں نہ بن سکا؟

فاروق عادل - مصنف، کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’وہ شاید گلی کہ نکڑ پہ ہی کھڑا تھا۔۔۔‘ اس بیان سے جتنی سادگی اور کسی قدر محبوبانہ ادا جھلکتی ہے، اس کی تفصیل میں اتنی ہی پیچیدگی اور گونا گوں مسائل حائل رہے ہیں۔ یہ کوئی جون 1949 کے اختتام ہفتہ کی بات رہی ہو گی جب ایک نائب قاصد دستک دے کر سعد راشد الخیری کے دفتر میں داخل ہوا۔

سعد کا تعلق علامہ راشد الخیری کے خاندان سے تھا جن کا شمار اردو ادب کی ان ابتدائی بلند قامت شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے برصغیر میں مسلم خواتین کی تعلیم کے لیے تحریک چلائی۔

سعد پاکستان سول سروس کے پہلے بیج سے فارغ ہونے والے افسر تھے اور اب ایران میں سفارتی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ نائب قاصد نے بتایا: ’روسی سفارتخانے سے گاڑی آئی ہے، صاحب!‘

یہ اطلاع سن کر سعد کے ذہن میں کوئی گھنٹی سی بجی، ان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی اور نائب قاصد سے انھوں نے کہا کہ اچھا، بلاؤ انھیں، جلدی کرو لیکن کچھ سوچ کر خود ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور پورچ میں پہنچے جہاں روسی سفارتخانے کے سیکنڈ سیکرٹری مسٹر پیکن لک موجود تھے۔

سعد انھیں لیے دفتر پہنچے، معلوم ہوا کہ سوویت یونین کے ناظم الامور جن کا نام علی ایوو تھا، سفیر پاکستان سے ملاقات کے متمنی ہیں۔ پیکن لک سے سوال ہوا کہ کب؟ انھوں نے بتایا کہ جب سفیر پاکستان وقت عطا کریں۔

سعد راشد الخیری یہ اطلاع لے کر فوراً سفیر پاکستان راجہ غضنفر علی خان کے دفتر پہنچے اور صورتحال سے آگاہ گیا۔ سفیر پاکستان نے دریافت کیا کہ کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ سعد کو اس ملاقات کی وجہ تو معلوم نہ تھی لیکن انھوں نے مشورہ دیا کہ سر مل لیجیے۔

سفیر پاکستان آمادہ ہوئے تو پیکن لک خوشی خوشی واپس چلے گئے۔ ان کی واپسی کے بعد سعد ابھی اُس کام میں دوبارہ مصروف ہوا ہی چاہتے تھے جو مہمان کی آمد کی وجہ سے رک گیا تھا کہ نائب قاصد ایک بار پھر ان کے دفتر میں داخل ہوا اور ایک بار پھر ویسی ہی اطلاع دی کہ صاحب، روسی سفارت کی گاڑی آئی ہے، اس بار آنے والے سوویت ناظم الامور مسٹر علی ایوو تھے۔

ان کی یوں ٹھیک پانچ منٹ میں آمد پاکستانی سفارتکاروں کے لیے خوشگوار حیرت کا باعث بنی، اس پر ہنستے ہوئے کسی نے کہا کہ یہ کم بخت شاید گلی کی نکڑ پر ہی کھڑا تھا، اطلاع ملتے ہی سفارتخانے میں داخل ہو گیا۔

مسٹر علی ایوو نے سفیر پاکستان سے تنہائی میں ملاقات کی لیکن جیسے ہی یہ مہمان روانہ ہوئے، سفیر پاکستان نے با اعتماد افسروں کو اپنے دفتر میں بلا کر خوشخبری سنائی کہ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے جو کہا تھا، وہ ہو گیا ہے۔ یہ خبر سن کر افسران اچھل پڑے، سفیر پاکستان بھی خوش تھے لیکن اپنے منصب کے تقاضے کے پیش نظر وہ اپنی خوشی پر قابو پانے کی کوشش میں مصروف تھے۔

لیاقت علی خان، رعنا لیاقت علی خان
لیاقت علی خان اور رعنا لیاقت علی خان کینیڈا کے وزیراعظم سے ملاقات کرتے ہوئے

یہ واقعہ دراصل ایک اور تاریخی واقعے کا منطقی نتیجہ تھا۔ یہ تین ہفتے پہلے کی بات ہو گی جب وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان، خاتون اول بیگم رعنا لیاقت علی اور سیکرٹری خارجہ اکرام اللہ مصر کے دورے کے اختتام پر تہران پہنچے۔

اس موقع پر سفیر پاکستان راجہ غضنفر علی خان نے وزیر اعظم کے اعزاز میں ایک عشائیے کا اہتمام کیا۔ عشائیے کے موقع پر گپ شپ کے دوران سوویت ناظم الامور مسٹر علی ایوو نے خاتون اول سے درخواست کی کہ آپ کبھی ماسکو بھی تشریف لایے۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے سوویت سفارتکار کی یہ خواہش نہایت سنجیدگی کے ساتھ سنی اور سفارتکارانہ مشاقی سے انھیں جواب دیا: ’ہم دعوت کے بغیر کہیں نہیں جاتے۔‘

سوویت ناظم الامور کی آمد اور وزیراعظم پاکستان اور ان کی اہلیہ کو سوویت یونین کی دعوت دراصل اسی گفتگو کا جواب تھا۔

برصغیر کی نوزائیدہ مسلم ریاست یعنی پاکستان اور دنیا کی ایک بڑی طاقت کے درمیان بریک تھرو ہو چکا تھا۔ پاکستان کے سفارتخانے نے یہ اطلاع ٹیلی گرام سے کراچی بھجوا دی، وزیر اعظم نے جسے بخوشی قبول کر لیا اور بتایا کہ وہ ماسکو کے علاوہ کم از کم دو مسلم ریاستوں میں بھی جانا چاہیں گے۔

پاکستان اور سوویت یونین کے درمیان ابھی تک سفارتی تعلقات قائم نہیں ہوئے تھے، اس لیے کراچی نے دورہ ماسکو کی تمام تر ذمہ داری تہران کے پاکستانی سفارتخانے کے سپرد کر دی اور سعد راشد الخیری کو اس دورے کا رابطہ افسر مقرر کر دیا گیا۔

رابطوں کے طویل سلسلے اور پیغامات و جوابی پیغامات کے بعد طے پایا کہ سوویت یونین کا خصوصی طیارہ تہران آ جائے گا جس پر سوار ہو کر وزیراعظم ماسکو پہنچیں گے۔ اس معاملے پر دونوں ملکوں کے سفارتخانوں کے درمیان چھوٹا سا ایک اختلاف پیدا ہو گیا۔

پاکستانی سفارتخانے کا اس سلسلے میں مؤقف یہ تھا کہ یہ اچھا نہیں لگے گا کہ وزیر اعظم صرف خصوصی جہاز میں بیٹھنے کے لیے تہران آئیں، اس کے بجائے مناسب یہ ہو گا کہ جہاز کراچی بھیج دیا جائے۔ ابھی اس تجویز پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ ایک اور تنازع کھڑا ہو گیا۔

ماسکو سے تجویز موصول ہوئی کہ وزیر اعظم پندرہ اگست کو کراچی سے روانہ ہوں۔ اس سے قبل طے یہ پایا تھا کہ وزیر اعظم کی کراچی سے روانگی 16 اگست کو ہو گی جبکہ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انھیں یہ دعوت 14 اگست کے لیے تھی۔

تاریخ کے تعین کا یہ تنازع کس انجام کو پہنچا، اس کا اندازہ اس مکالمے سے ہوتا ہے جو لیاقت علی خان کے سوانح نگار محمد رضا کاظمی نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ یہ مکالمہ 23 اگست 1950 کو وزیراعظم اور امریکی صحافیوں کے درمیان ایک پریس کانفرنس میں ہوا۔

سوال: کیا ماسکو کے دورے کا دعوت نامہ اب بھی سنجیدگی سے آپ کے زیر غور ہے؟

جواب: میں اس وقت تک کہیں نہیں جا سکتا جب تک وہ لوگ جنھوں نے مجھے مدعو کیا ہے، ایک تاریخ مقرر کر کے مجھے اس سے مطلع نہ کر دیں۔

سوال: کیا وہ اس سلسلے میں آپ کی سہولت کو پیش نظر رکھ رہے ہیں؟

جواب: ان کے پیش نظر ان کی اپنی سہولت ہے۔ ان کا دعوت نامہ آیا پھر کہا گیا کہ 14 اگست کو آ جائیے، ہم نے کہا کہ یہ ہمارا یوم آزادی ہے۔ ہم اس کے بعد کسی بھی دن آ سکتے ہیں لیکن اس کے بعد ان کی طرف سے کوئی جواب ہی نہیں آیا۔

پاکستان اور سوویت یونین کے درمیان رابطے منقطع ہونے سے قبل ایک واقعہ اور بھی رونما ہوا جو زیادہ خوشگوار نہیں تھا۔

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کو کراچی سے ایک فوری نوعیت کا پیغام اس ہدایت کے ساتھ موصول ہوا کہ اسے بلاتاخیر سوویت سفارتخانے پہنچا دیا جائے۔ سوویت سفارتخانے سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے پیغام وصول کرنے میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ کچھ بھی ہو جائے، پیغام تو پہنچانا ہے چنانچہ سعد راشد الخیری گاڑی میں سوویت سفارتخانے پہنچے تو ان کی گاڑی کو بندوق بردار محافظوں نے گھیر کر واپس بھیجنے کی کوشش کی لیکن فرار کے تمام راستے مسدود ہو گئے تو ان کے ہم منصب پیکن لک ان کے خیر مقدم کے لیے باہر آ گئے۔

سعد خیری اپنی کتاب ’آپ بیتی جگ بیتی‘ میں لکھتے ہیں کہ جب وہ سفارتخانے میں داخل ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ وہ تمام افراد سفارتخانے میں موجود تھے جن کے بارے میں کچھ دیر پہلے بتایا جا رہا تھا کہ وہ موجود نہیں ہیں یا علیل ہیں۔

اس واقعے کے بعد وزیراعظم کے دورہ ماسکو کے معاملات تہران میں پاکستانی سفارتخانے سے کراچی منتقل ہو گئے کیونکہ اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہو چکے تھے اور کراچی اور ماسکو میں سفارتخانے بھی کام کرنے لگے تھے۔

اس دوران بہت عرصے تک وزیراعظم کے دورہ ماسکو کے سلسلے میں خاموشی رہی تو سفیر پاکستان راجہ غضنفر علی خان نے سیکرٹری خارجہ اکرام اللہ سے اس سلسلے میں دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ کراچی پہنچنے کے بعد سوویت سفیر نے اس موضوع پر کبھی بات ہی نہیں کی۔

سعد راشد الخیری کے مطابق جنوری 1950 میں امریکی وزیر خارجہ کے ایک انڈر سیکرٹری کراچی پہنچے اور انھوں نے وزیر اعظم پاکستان کو دورہ امریکا کی دعوت دی جسے قبول کر لیا گیا اور یوں وزیراعظم 3 مئی 1950 کو دورہ امریکا پر روانہ ہو گئے۔

سعد راشد الخیری لکھتے ہیں کہ یہ حقیقت اپنی جگہ کہ سوویت سفیر کا طرز عمل اس سلسلے میں کیا رہا ہو گا، خود کراچی میں بھی بعض ایسے طاقتور لوگ موجود تھے جو وزیر اعظم کے دورہ ماسکو کے خلاف تھے۔ سعد راشد الخیری نے اس سلسلے میں وزیر خزانہ غلام محمد، وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان اور سیکرٹری خارجہ اکرام اللہ کے نام لکھے ہیں۔

یہ ہے وہ طویل پس منظر جس میں وزیراعظم پاکستان کو دورہ ماسکو کی دعوت موصول ہوئی اور اس کے بعد یہ معاملہ داخل دفتر ہو گیا۔ اس پس منظر کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ طے شدہ دورہ حقیقت میں کیوں نہ بدل سکا؟ اس موضوع پر مؤرخین اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین گزشتہ ستر برس سے کام کر رہے اور اس سلسلے میں کئی وجوہات اور کئی مفروضے پیش کیے جاتے ہیں۔

لیاقت علی خان
لیاقت علی خان کی دولت مشترکہ کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن ائیرپورٹ پہنچنے کی تصویر

مؤرخ عائشہ جلال نے اپنی کتاب ’پاکستان سٹیٹ آف مارشل رول‘ میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کوشش کی ہے جس سے سعد راشد الخیری کی اس اطلاع کی تصدیق ہوتی ہے کہ کراچی میں امریکہ حمایت کرنے والی ایک مضبوط لابی موجود تھی جس کی قیادت وزیر خزانہ غلام محمد کر رہے تھے، جو بعد میں گورنر جنرل بنے۔

عائشہ جلال کے مطابق وہ سوویت یونین پر کھلی تنقید کیا کرتے تھے۔ وہ وزیراعظم کو دباؤ میں لانے کی پوزیشن میں بھی تھے جس کی وجہ سے وہ انھیں دورہ ماسکو سے پیچھے ہٹانے میں کامیاب ہو گئے۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ وزیر خزانہ نے وزیر اعظم کو یہ دھمکی بھی دی کہ حکومت کرو یا پھر جاؤ۔

انھوں نے ایسا کیوں کیا؟ عائشہ جلال کے مطابق غلام محمد روز اول سے امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات کے پرچارک تھے اور وہ کمیونزم کو ایک لعنت خیال کرتے تھے۔

پاکستانی خارجہ پالیسی پر ایک مقبول کتاب ’پاکستانز فارن پالیسی این ہسٹوریکل انالیسز‘ کے مصنفین ایس ایم بروک اور لارنس زائرنگ لکھتے ہیں کہ انڈیا کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے دورہ امریکا کی خبر کراچی اور ماسکو میں بے انتہا تشویش کے ساتھ سنی گئی۔

ان دونوں مقامات پر تشویش کی وجوہات مختلف تھیں۔ کراچی کی تشویش یہ تھی کہ انڈیا کے وزیراعظم کو دورہ امریکہ کی دعوت مل گئی اور پاکستان کو نظر انداز کر دیا گیا جب کہ ماسکو کی تشویش یہ تھی کہ انڈیا کی امریکہ سے قربت خطے میں مسائل پیدا کر دے گی چنانچہ سوویت قیادت اس سلسلے میں بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہو گی۔

ایک اور مصنف اختر بلوچ نے اس سلسلے میں ایک غیر معمولی انکشاف کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ کراچی میں برطانوی ہائی کمشنر لارڈ گریفٹی سمتھ نے پاکستانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کو دھمکی دی تھی کہ وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان اگر ماسکو گئے تو پاکستان برطانیہ اور امریکا کی حمایت سے محروم ہو جائے گا۔

اس انداز فکر کی تائید ایک ممتاز اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کی اس خبر سے بھی ہوتی ہے جس میں وزیر اعظم پاکستان کے دورہ ماسکو کی خبر شہ سرخی میں شائع ہوئی۔ خبر میں بتایا گیا کہ لیاقت علی خان دولت مشترکہ سے تعلق رکھنے والے وہ پہلے عالمی رہنما ہوں گے جو ماسکو جائیں گے۔ اخبار نے اس دورے کو انڈین وزیراعظم کے دورہ واشنگٹن کا ردعمل بھی قرار دیا۔

پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان نے اپنی یاداشتیں ’تحدیث نعمت‘ کے عنوان سے لکھی ہیں جن میں وزیر اعظم کے دورہ ماسکو کے بارے میں انھوں نے کوئی ذکر نہیں کیا البتہ جمشید مارکر جیسے ممتاز پاکستانی سفارتکار دعویٰ کرتے ہیں کہ سوویت یونین کی طرف سے کسی تحریری دعوت نامے کا کوئی وجود ہی نہیں۔

پاکستانی خارجہ پالیسی پر ابتدائی کتابوں میں سے ایک ’پاکستانز فارن پالیسی‘ کے مصنف مشتاق احمد لکھتے ہیں کہ وزیراعظم کا ماسکو نہ جانا ایک بھیانک غلطی تھی کیونکہ اس دورے کے ذریعے پاکستان کو نہ صرف ایک متوازن خارجہ پالیسی پر کاربند ہونے کا موقع ملتا بلکہ عالمی قوتوں کی طرف پذیرائی اور حمایت بھی ملتی۔

وہ لکھتے ہیں کہ نظریے کے اختلاف کے باوجود پاکستان کا قیام سوویت یونین کے نکتہ نظر سے بہت اہم تھا۔ ان کے خیال میں لیاقت علی خان کے ماسکو نہ جانے کی ایک وجہ پاکستان کے مذہبی طبقے کا خوف بھی ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •