بھارت کا پاکستان پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فائل فوٹو
سری نگر — بھارت نے پیر کو الزام لگایا ہے کہ پاکستان کے سرحدی محافظوں نے جموں و کشمیر میں بھارت کی بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں پر ہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ کرکے جنگ بندی کے اُس دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس کی تجدید رواں سال فروری میں دونوں ممالک کی فوجی قیادت نے کی تھی۔

بی ایس ایف کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل ایس پی ایس ساندھو نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہمارے جوانوں کی ایک پارٹی پیر کی صبح جموں و کشمیر کے سانبہ ضلع میں بین الاقوامی سرحد کے رام گڑھ سیکٹر میں معمول کے گشت پر تھی کہ پاکستان کی پنجاب رینجرز نے اس پر بلا اشتعال فائرنگ شروع کردی جس کاہم نے بھرپور جواب دیا۔

البتہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس واقعے میں بی ایس ایف کو کوئی جانی نقصان ہوا یا نہیں۔

بھارت کے الزام پر پاکستان تاحال خاموش

دوسری جانب پاکستان نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بھارتی الزام پر تاحال کوئی ردِ عمل نہیں دیا ہے۔

اگر بھارت کا یہ الزام درست ہے تو یہ دونوں ممالک کے درمیان فروری میں ہونے والے جنگ بندی کے دو طرفہ معاہدے کی تجدید کے اعلان کے بعد پہلی خلاف ورزی ہے۔

فائرنگ کا یہ مبینہ واقعہ جہاں پیش آیا وہ علاقہ متنازع جموں و کشمیر سے گزرنے والی 198 کلومیٹر پاک بھارت سرحد پر واقع ہے۔ سرحد کا یہ حصہ پاکستان میں ‘ورکنگ باؤنڈری’ اور بھارت میں ‘انٹرنیشنل بارڈر’ کہلاتا ہے۔

جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کے واقعے پر صحافی و تجزیہ کار ارون جوشی کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت کے الزام پر پاکستان نے تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا لیکن اسلام آباد کو اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگی کیوں کہ اس طرح کے واقعات کا ان بیک چینل کوششوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے کچھ عرصے سے جاری ہیں۔

ان کے بقول فائرنگ سے ” سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں وہ ڈر لوٹ آئے گا جو 25 فروری کی جنگ بندی کی تجدید کے اعلان سے قبل پایا جاتا تھا۔”

ان کا کہنا تھا کہ ”دونوں ممالک کو پیر کے مبینہ واقعے کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے اور اپنی افواج کو اسے وہیں تک محدود رکھنے کی تاکید کرنی چاہیے۔”

حالیہ جنگ بندی کا پس منظر

پچیس فروری 2021 کو بھارت اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) نے اچانک اور غیر متوقع طور پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ دونوں ملکوں کی افواج باہمی معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے سرحدوں پر جنگ بندی کے معاہدے کی سختی سے عمل کریں گی۔

بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹننٹ جنرل پرم جیت سنگھ سانگھا اور اُن کے پاکستانی ہم منصب میجر جنرل نعمان زکریا کے درمیان 22 فروری کو ہونے والے رابطے کے بعد دونوں ممالک نے جنگ بندی معاہدے پر عمل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

معاہدے میں طے پایا تھا کہ 24 فروری کی درمیانی شب سے دونوں ملکوں کی افواج سرحدوں پر مکمل فائر بندی پر عمل کریں گی۔

اس معاہدے پر لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری یا انٹرنیشنل بارڈر کے دونوں جانب رہنے والے شہریوں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہری برسوں سے جاری سرحدی تناؤ اور مقابل فوجیوں کے مابین آئے دن ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے جانی اور مالی نقصان اٹھانے کے علاوہ طرح طرح کی مشکلات اور مصائب سے دوچار رہے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان نومبر 2003 میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔ اگرچہ معاہدے کی کئی سال تک پاسداری ہوتی رہی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بالخصوص 2010 کے بعد اس کی بار بار خلاف ورزی کی جاتی رہی۔

اس کے علاہ نہ صرف لائن آف کنٹرول بلکہ ‘ورکنگ باؤنڈری’ یا ‘بین الاقوامی سرحد’ پر تعینات افواج اور سرحدی محافظ ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو ہدف بنانے لگے اور ہر بار انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کے لیے ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھیرایا۔

کراس بارڈر فائرنگ کے واقعات میں دونوں ملکوں کی افواج اور سرحدی محافظوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا۔ اس کے علاوہ سب سے زیادہ لائن آف کنٹرول کے قریب واقع علاقے اور ان کے مکین متاثر ہو رہے تھے۔

فائرنگ کے ان واقعات میں دونوں جانب کے سیکڑوں شہریوں کی جانیں گئیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے اور املاک کا بھی نقصان ہوا۔

جنگی بندی کا بین الاقوامی خیر مقدم کیا گیا

دونوں ممالک میں جنگ بندی کے معاہدے کی تجدید کا اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، امریکہ،برطانیہ اور کئی دوسرے ممالک نے خیر مقدم کرتے ہوئے اسے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا تھا۔

اس کے علاوہ کشمیر کے دونوں حصوں کے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں نے بھی فائر بندی کے سمجھوتے کی تجدید کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے بھارت اور پاکستان کے تعلقات کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدام جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم کرنے کے لحاظ سے بھی ایک سنگِ میل ثابت ہو گا۔

اس حوالے سے یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے سفارتی سطح پر کی گئی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت سرحدوں پر تناؤ کم کرنے کے لیے اقدامات پر آمادہ ہوئے تھے۔

اگرچہ اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں کا اصرار ہے کہ اس حالیہ جنگ بندی کے اقدامات میں کسی تیسرے ملک کا کوئی عمل دخل نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1884 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *