کوئی اس پر بھی تو بات کرو!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹا گرام، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بہت سی انجوائے کیے جانے والی چیزوں میں سے کم عمری کے بچوں کے آپس کے تعلقات بھی ہیں۔ اکثر میمز اور لطیفے ان کی ایک دوسرے سے توقعات پر بنتے ہیں اور مشہور پیجز پر ایسے لطیفوں پر ہزاروں لوگ ہا ہا، ری ایکٹ کرتے ہیں۔ یعنی کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بھی کم عمری میں لوگ ایسی کیفیات میں مبتلا ہو جاتے ہیں! لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی باتوں کو مانتے ہوئے بھی ہم نہیں مانتے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس طرح کے موضوع پر بات کرنا ایک taboo ہے۔ عام طور پر ہمارے ہاں پائے جانے والے لاجک کے مطابق اگر کوئی مسئلہ موجود ہو تو اس پر بات کرنا بے حیائی ہے جبکہ اس کو نظرانداز کرنا اس مسئلے کو جڑوں سے اکھاڑ دیتا ہے۔ شاید ہمارا یہ من گھڑت لاجک درست نہیں۔ اس حوالے سے میرے کچھ نقاط ہیں جو میں یہاں پیش کرنا چاہوں گی۔

جیسا کہ میں نے اس مضمون کی ابتداء میں کم عمر بچوں کے درمیان جذباتی اور رومانوی تعلقات اور ایک دوسرے سے غیر حقیقی توقعات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کس طرح ہم ان باتوں کو فیس بک کی میمز کی حد تک سمجھتے ہیں، ان پر ہنستے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ بس یہ لطیفے ہی ہیں۔ دوسری طرف ایسے لوگوں کی بھی بھرمار ہے جو ان بچے بچیوں کی ایسی کسی حرکت پر انھیں بدچلن کا سرٹیفیکیٹ سائے کی طرح تھما دیتے ہیں کہ جہاں وہ شخص جاتا جائے یہ ٹائٹل اس کے ساتھ سفر کرتا جائے یوں اس نوجوان لڑکے /لڑکی کی شخصیت تباہ کر دی جاتی ہے۔ ایسوں کی بھی کمی نہیں جو دھمکیوں اور تشدد سے ان نوجوانوں سے نمٹتے ہیں اور ان کی نفسیاتی تباہی کا خوب بندوبست کرتے ہیں۔

نوجوانوں کی زندگی کا یہ رخ نہ تو کوئی لطیفہ ہے کہ اس پر ہنسا جائے، نہ ہی وہ بھٹکے ہوئے نوجوان کسی شدید ٹارچر اور ذہنی اذیت کے اہل ہیں۔ یہ کسی ایک نوجوان کے کردار سے کہیں آگے ایک پیچیدہ نفسیاتی اور سماجی مسئلہ ہے۔ اس کی وضاحت میں ایک مختصر سی کہانی سے کروں گی۔

میرے ساتھ آٹھویں جماعت تک ایک لڑکی پڑھتی تھی۔ وہ تھوڑی الگ طبیعت کی تھی۔ اکلوتی تھی۔ کچھ دنوں میں ہی وہ بہت خوش رہنے لگ گئی، تیار بھی زیادہ ہو کر آنے لگی۔ ایک دن۔ ہماری میڈم نے اس سے ایک فون پکڑ لیا۔ اس دور میں آٹھویں کی کسی لڑکی کے پاس ذاتی موبائل ہونا ایک تشویش ناک بات تھی۔ میڈم نے اس کے فون کی تلاشی لی۔ یہاں تک کہ اس کے ذاتی میسجز پورے ٹیوشن میں سب کو پڑھ کر سنائے۔ مجھے یاد ہے، بہت سی اور لڑکیاں ہنس رہی تھیں اور کچھ اس کو جہنمی اور کمینی لڑکی ہونے کی نگاہ سے دیکھ رہی تھیں۔

وہ لڑکی خود ایسے تھی جیسے ابھی مر جائے گی۔ اتنی زرد، اتنی ڈری ہوئی۔ اگلا پورا ہفتہ وہ ٹیوشن نہیں آئی۔ میری اس سے کوئی خاص دوستی نہیں تھی بس ویسے ہی جب کبھی نظر مل جاتی تو میں مسکرا دیتی اور وہ بھی جواباً مسکرا دیتی اور بس۔ مجھے ہر روز فکر سی ہوتی تھی کہ وہ ٹیوشن کیوں نہیں آتی! پھر ایک ہفتے کے بعد وہ ٹیوشن آئی تو سب بچے اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے اور بار بار اسی کو تاڑ رہے تھے۔ اس کے چہرے سے یوں لگتا تھا جیسے وہ ایک ہفتے میں کسی بڑی بیماری کا نوالہ بن کر اپنی تمام صحت اور رونق کھو بیٹھی ہے۔

وہ اب اور بھی زیادہ زرد تھی اور آنکھوں تلے گہرے حلقے تھے۔ وہ کچھ بھی نہیں بول رہی تھی۔ اس نے پورے لیکن کھلے بازوؤں والا کرتا پہنا ہوا تھا۔ اس کی آستین ذرا اوپر ہوئی تو میں نے اس کے بازو پر کئی کٹس دیکھے جن میں سے کچھ بھورے تھے اور کچھ ابھی تازہ اور سرخ تھے۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میں کوئی فلم دیکھ رہی ہوں اور پھر جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی ایسے واقعات رنگ اور شکل بدل بدل کر رونما ہوتے دکھائی دیے تو معلوم پڑا کہ یہ فلم نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی اور نفسیاتی مسئلہ ہے۔

ہمارے ہاں ایسے موضوعات پر گھروں، سکولوں اور دیگر تربیت کرنے کی محفلوں میں بات نہیں کی جاتی۔ یا تو اس موضوع کو مذاق کے طور پر لیا جاتا ہے یا پھر متعلقہ بچوں کو شدید ذہنی اور بعض اوقات جسمانی اذیت کا شکار بنایا جاتا ہے لیکن بروقت اور پرامن کونسلنگ نہیں کی جاتی۔ بچے فلموں اور ڈراموں کو اپنے ذہن میں بسا کر ایک دوسرے سے حقیقت سے عاق محبتوں کی پینگیں بڑھا لیتے ہیں اور کوئی بھی اس موضوع پر بات نہیں کرتا کہ ایسے بچے کس نفسیاتی اذیت سے گزرتے ہیں۔

کیسے ہمارا معاشرہ ان بچوں پر ٹیگ لگا کر ان کی شخصیت کو مفلوج کر دیتا ہے اور زبردستی ان کی قسمت میں رسوائی اور سیاہی لکھ دیتا ہے۔ سماج کبھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا۔ والدین، دوسرے بڑے اور اساتذہ بچوں کو محبت کے ساتھ ان تعلقات کی پیچیدگیوں سے آگاہ نہیں کرتے صرف تھپڑ اور گالیاں ڈلیور کرنے کے لئے تیار کھڑے ہوتے ہیں۔ کوئی ان بچوں کے ذہنوں میں ابھرنے والے سسپنس کو صحیح سمت دیتے ہوئے دوست بن کر نہیں بتاتا کہ کیسے ہمارے معاشرے میں ایسے تعلقات کی نفی کی جاتی ہے اور کس صورت میں یہ ہمارے معاشرے کے لئے قابل قبول ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں بچوں کو کس طرح اپنے آپ کو اچھی سرگرمیوں میں لگانا چاہیے اور سماجی و نفسیاتی طور پر اتنا مضبوط بننا چاہیے کہ وہ ایسے تعلقات میں آنے اور ان کو نبھانے کے قابل ہو جائیں۔

بچے فلموں اور ڈراموں کو مدنظر رکھ کر ایسے تعلقات میں کود جاتے ہیں ان میں سے کچھ کو تو مخالف صنف میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے جبکہ ایسے نوجوانوں کی بھی تعداد اچھی خاصی ہے جو جذباتی طور پر سٹیبل نہیں ہوتے۔ وہ بالی وڈ کی فلموں اور گانوں کا اپنی ذات پر ایسا اثر لے لیتے ہیں کہ اس مضبوط یقین پر کہ وہ ادھورے ہیں تو جو پہلی نظر میں دکھے وہ ایسا جادو کرے گا کہ ان کا ادھورا پن ختم ہو جائے گا۔ ایسے نوجوان ہمیشہ ہر جگہ ریڈی میڈ مجنوں بن کر پہنچ جاتے ہیں۔

اپنی شخصیت کے ادھورے پن کو کسی اور کے ذریعے پورا کرنے کی کوششوں میں جذباتی طور پر کمزور ہوتے جاتے ہیں اور نفسیاتی مسائل سے گھرے رہتے ہیں۔ ایسے میں ان بچوں پر کریکٹر لیس ہونے کی مہر لگانے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ ان سے پرامن مکالمہ کیا جائے اور ان کی کونسلنگ کی جائے کہ کس طرح اپنے آپ کو اپنے آپ سے بھرنا چاہیے اور کسی تعلق میں اس وجہ سے داخل نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کی ذات نامکمل ہے بلکہ جب آپ جذباتی طور پر مضبوط ہوں اور اچھے فیصلے کرنے کے قابل ہوں تو ہی آپ ایسے تعلق کا سوچ سکتے ہیں۔

میں سوشیالوجی کی طالب علم ہوں اور انسانی نفسیات میں گہری دلچسپی رکھتی ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ ہماری نوجوان نسل بے روزگاری اور ڈپریشن جیسے مسائل سے اگر بری طرح دوچار ہے تو یہ بھی ایک بہت اہم مسئلہ ہے جو کہ کونسلنگ کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ ہماری بہت سا ٹیلنٹ رکھنے والی نوجوان نسل ایسے تعلقات سے پیدا ہونے والے کئی سماجی و نفسیاتی مسائل سے اتنا گھر جاتے ہیں کہ مستقبل تاریک ہوتا جاتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ہر سطح پر ایسے مسائل میں نوجوانوں کی پرامن رہنمائی ان کے حقوق میں سے ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *