آن دی ریکارڈ بولنے کا حوصلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ربع صدی صدی سے پولیٹیکل سائنس اور کم و بیش ایک عشرے سے بین الاقوامی تعلقات کا طالب علم ہوں۔ پولٹیکل سائنس ریاست کے چار بنیادی عناصر، آبادی، علاقہ، اقتدار اعلیٰ اور حکومت کی نشاندہی کرتا ہے۔ نظریہ دراصل حکومت کرنے کا لائحہ عمل ہوتا ہے۔ یہ ریاست کا جز نہیں، اور اگر حکومت چلانے کا لائحہ عمل کسی ریاست کا نظریہ ہوتا ہے تو پھر ہر ریاست نظریاتی ریاست ہے۔ کیونکہ حکومت عوام کے ساتھ جو برتاؤ کرنا چاہتی ہے، وہی اس ریاست کا نظریہ ہوتا ہے، کتابی خطابی اور نصابی طور پر ریاست کچھ بھی کہتی رہے۔ البتہ حکومت کی کئی ایک اقسام ہیں۔

پولٹیکل سائنس میں ریاستی عناصر کا ذکر ہے تو بین الاقوامی تعلقات کے مضمون میں ریاست کاری اور اس کے ساتھ منسوب ریاستی مفادات کی بات ہوتی ہے۔ پاکستان میں ریاستی سرپرستی میں پڑھائے جانے والے ایک مضمون میں قوم کو باور کرایا جاتا ہے کہ کچھ ممالک ہمارے پکے دوست اور کچھ پکے دشمن ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم حال کے مسائل کی حل اور مستقبل کے مواقع سے فوائد حاصل کرنے کی بجائے ماضی کی تلخیوں، ناکامیوں اور اچھے برے تجربات کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں۔

ہم اپنی ہر ناکامی اور کوتاہی کو دشمن بلکہ دنیا کی سازش کا نام دیتے ہیں۔ جبکہ سازش اس کے خلاف ہوتی ہے جس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ درویزہ گیری کوئی کمال نہیں۔ اگرچہ ہمارے ہاں امداد کی وصولی ہنر کر زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ پولیٹیکل سائنس کے عملی اسباق اور بین الاقوامی تعلقات کی تلاطم خیزی تو مسلسل رد و قبول کا ایک مستقل سلسلہ ہے، کسی دوسرے ملک کی عشق مرنے یا اس کی نفرت میں جلنے کا نام نہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوست ہوتے ہیں نہ پکے دشمن۔

بلکہ ممالک کے درمیان تو دوست اور دشمن کی کیٹیگری ہی نہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں ممالک کی تین اقسام ہوتی ہیں۔ پہلی وہ جن سے آپ کے مفادات مثبت انداز میں وابستہ ہوں، دوسری وہ جو آپ کے مفادات پر منفی انداز میں اثر ڈالتے ہوں اور تیسری قسم وہ ممالک ہیں جن کا آپ کے مفادات کے ساتھ براہ راست کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ شاملاتی چرا گاہ کی طرح ہوتے ہیں جو آپ کی جاندار، قومی مفادات پر مبنی اور بروقت سفارتکاری کی وجہ سے اکثر و بیشتر آپ کے ہمنوا اور ہمرکاب ہوتے ہیں، یا کم از کم آپ کے خلاف نہیں ہوتے۔

ابتداء سے پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات اور سفارتکاری عمومی اور ذاتی فوائد، جز وقتی کامیابیوں اور شاندار مواقع کے ضیاع کی کہانی ہے، جو آج بھی دوسری جنگ عظیم کی طرز پر جانبداری اور نظریاتی کوتاہیوں پر استوار ہے۔

اپنے بہترین جغرافیائی محل وقوع، نسلی ہما ہمی، ثقافتی اور تاریخی ورثے کی زرخیزی کو دانشمندانہ سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کی بجائے، انگریز کی باقیات پر مشتمل سول اور عسکری بیوروکریسی نے پاکستان کو فارورڈ پالیسی کی غیر مختتم ایجنڈے کی خاطر کشمیر میں الجھا کر، اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے مستقل ڈراوے کا شکار بنایا، تاکہ ہم ایک امن افروز ماحول میں اپنے زور بازو اور عقل و خرد پر عمل پیرا نہ ہو بلکہ امدادی پیکیجز کا کاسہ لیس بن کر ان کے بین الاقوامی سامراجی منصوبوں اور مفادات کے لئے استعمال ہو کر ایک طفیلی سیارچہ بنے۔

میٹھے، گہرے اور بلند و بالا دوست سے پہلے ہم بشیر ساربان کی شکل میں اپنے خود دار اونٹ کے گلے میں ”تھینک یو امریکہ“ کی برخوردارانہ تختی لٹکا کر اسے وہائٹ ہاؤس کے زرخیز لانوں میں چرا چکے ہیں۔ گندم کے جس دانے نے آدم کو جنت سے نکالا تھا اسی گندم کی ’میکسی پاک‘ قسم نے ہماری جنت میں سیٹو اور سینٹو کی وہ خاردار جھاڑیاں اگائیں جن کے کانٹے چنتے چنتے ہمارے ستر سے زیادہ سال اور ستر ہزار سے زیادہ جانیں ضائع ہوئیں۔

روس کے خلاف ’جہاد‘ میں پشاور کے سینما گھروں میں دھماکے ہوتے تھے تاکہ تماشبین سینما جانے کی بجائے مسجدوں میں جاکر ڈالر اور تیل کی زبان بولنے والے مولوی کے پاس بیٹھ کر افغانستان بھیجے جاسکے اور ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ میں مسجدوں مدرسوں اور امام بارگاہوں کو بموں سے اڑا کر مولوی کے گرد بیٹھے ہوئے مقتدیوں کو تتر بتر کر کے مسجد سے نکالے جائیں تاکہ امریکہ کے خلاف افغانستان جانے کی بجائے کوئی اور روزگار ڈھونڈھ لیں۔ اس دوران صرف تبلیغی جماعت کے مراکز محفوظ رہے کیونکہ وہاں کی دنیا بیزار نصاب سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔

ہمارے ’بین الاقومی کردار‘ کے اس مختصر جائزہ سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی، صنعتی، معاشرتی، علمی، تعلیمی، عقلی اور شعوری ترقی کی بجائے روز اول سے ہمیں بین الاقوامی معاملات، منصوبوں اور مفادات میں کودنے کا شوق تھا۔ وقتی اور ذاتی مفادات کی خاطر ہم چرچل کی تزویراتی منصوبہ بندی کے جھالے میں مکڑی کی طرح پھنسے ہوئے سمجھتے ہیں کہ یہ جھالا ہم نے شکار کھیلنے کے لئے پھیلایا ہے، لیکن ہماری اپنی پوری زندگی اسی جھالے میں جکڑی ہوئی گزر رہی ہے۔ ورنہ سوچیں، ہندوستان سے ہم الگ ہوئے ہندوستان کہاں پہنچا؟ بنگالی ہم سے الگ ہوئے ہم کہاں پر ہیں؟ خرابی کہیں اور نہیں ہم میں ہیں۔

دوسری جنگ عظیم میں برطانوی محافظ خانہ جل جانے کے بعد ہمارے بندوبستی دستاویزات بعد از انتقال امریکہ منتقل کیے گئے، جہاں سے ہم اپنی ملکیت اور اجارہ ثابت کرنے کے لئے فرد، جمع بندیاں، کتھونیاں اور فصلانہ گاہے بگاہے وصول کرنے جاتے ہیں۔ لیکن اب لگتا ہے وصولی کی بجائے کٹوتی کے دن آئے ہیں۔ امریکہ کو فی الحال ایران میں دلچسپی ہے نہ افغانستان میں۔ افغانستان کو ایک بار پھر منجدھار بنا کر ہمارے لئے چھوڑا جا رہا ہے۔

جس سی پیک کو گیم چینجر بنا کر تزویراتی ماہرین نے بیچنے کی کوشش کی تھی وہی ہمارے لئے حلقۂ صد کام نہنگ بنتا جا رہا ہے۔ سی پیک کے ایک سرے پر ہم اور دوسرے سرے پر وہی چائینیز ڈریگن ہے جس کو گھیرنے اور مارنے کے لئے علاقائی اور بین الاقوامی بڑے بڑے ممالک نئے اتحاد بنا کر ہمارے ارد گرد کواڈ (QUAD) اور بیکا (BECA) کے تزویراتی جال بچھا رہے ہیں۔

جس بدترین کارکردگی کا مظاہرہ حکومت نام کی بندوبست نے تحریک لبیک کی افراتفری پھیلانے کے احتجاج کے دوران کیا وہ بالکل وہی تھا جو یہ بندوبست ڈھائی سالوں سے قومی زندگی کے ہر شعبے میں کرتی آئی ہے۔ لیکن اب بات ملکی بے چینی سے نکل کر بین الاقوامی بے چینی اور عدم اعتماد تک پہنچنے والی ہے، جس کی تازہ ترین مثال یورپی یونین کا پاکستان مخالف فیصلہ ہے۔ ملکی تاریخ یہ پہلی وزارت خارجہ ہے جو بین الاقوامی خارجہ امور پر توجہ دینے کی بجائے اندرون ملک مخالفین سے تقریر بازی میں تتر بٹیر کر رہی ہے۔

خداوندان مملکت سے درخواست ہے کہ جو عمل تہتر سال تک سیاست اور سیاستدانوں کے ساتھ روا رکھا گیا اس کے نتیجے میں ڈزرائیلی، جارج واشنگٹن یا گولڈا میئر پیدا نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس صورت حال میں سیاسی مدبرین تو کیا موجودہ درجے کے سیاستدان پیدا ہونا بھی کسی معجزے سے کم نہیں۔ اس نتیجے پر آپ کو ابھی تک پہنچ جانا چاہیے تھا کہ جمہوریت کا عسکری پنیریوں کی قلم کاری سے تاریخی طور پر کوئی رشتہ نہیں۔ بھٹو ہوں یا نواز شریف، جب بھی لانچ ہوئے، تھوڑے دنوں بعد عسکری ہدایات کی بجائے آئینی قواعد کے تحت زندہ رہنا چاہتے رہیں، بیشک اس کوشش میں ان کی جان چلی جائے یا مال و منال۔

خزانے میں وزیر خزانہ کے علاوہ قرض خواہوں کے بہی کھاتے بچے ہیں۔ مغربی سرحد محاذ جنگ بنتی جا رہی ہے جبکہ مشرقی سرحد کا تو نام ہی محاذ تھا۔ کورونا وبا گھر گھر نشان زد کر رہی ہے۔ قوم ترقی کی بین الاقوامی اشاروں میں پسماندگی کے ساتھ ساتھ، گروہی، عقلی اور شعوری پسماندگی کا بھی شکار ہے۔ آپ اسے درسگاہوں میں مطالعہ خاص پڑھائیں یا گھروں میں ارطغرل برانڈ آئیوڈین کھلائیں، ان کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ وہ زندگی کو تماشا، موت کو پروپیگنڈا، سچ کو سازش اور غداری، مذہب کو تشدد، سیاست کو جھوٹ، کتاب کو دماغ خراب کرنے کا آلہ اور حکومت کو مزاحیہ ڈراما سمجھتی ہے۔

جھوٹ سن سن کر اب وہ سچ سننا ہی نہیں چاہتی۔ وقت کم ہے۔ پہیہ دوبارہ ایجاد نہیں کیا جاسکتا۔ جو پہلے سے موجود ہے اس کے لئے کوئی ڈھانچہ بنا دیں تاکہ سفر معکوس، وقت کے دھارے کے ساتھ ہم قدم ہو جائے۔ یہ تخصص کا دور ہے۔ آپ اپنے کام پر توجہ دیں، سیاستدانوں کو ان کے کام کرنے جو گے کردے۔ تاکہ آپ کو آف دی ریکارڈ بولنے کی بجائے آن دی ریکارڈ بولنے کا حوصلہ ملے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 54 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *