Zero sum game

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ڈیئر ڈاکٹر سہیل، اپنی تحریروں کے ذریعے شعور اور آگاہی میں اضافے کی کوشش کے لیے آپ کا شکریہ۔ سیکھنا ایک تکلیف دہ پروسس ہے۔ جب ہمیں اپنی لاعلمی کا اعتراف کرنا پڑے اور کوئی ہمیں کچھ سکھائے تو وہ ہمارے لیے کافی مشکل ہوتا ہے۔ یہ تکلیف ایسے کافی لوگ محسوس کر رہے ہیں جو اس نظام کے اندر پلے بڑھے ہیں اور ان کی نظر میں یہ حالات اور بے انصافی زندگی گزارنے کے نارمل طریقے ہیں۔ آپ نے جو اپنے مضمون میں لکھا ہے یہی بات ٹام ٹیلر نے بھی اپنے ایک مضمون میں لکھی تھی کہ سفید فام عیسائی امریکی آدمی اس لیے امریکہ میں نسلی اور صنفی برابری نہیں چاہتے ہیں کیونکہ ان کو اس کے لیے کچھ دینا پڑے گا۔ جو سفید فام افراد پہلے سے غریب اور بدحال ہیں انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کے پاس کون سی پرولیج ہے اس لیے جب ان کو بتایا جائے کہ سفید فام افراد کو معاشرے میں برتری حاصل ہے تو وہ اس خیال کو رد کر دیتے ہیں اور ٹرمپ کی طرح کے دھوکے باز انسان کو اپنا مسیحا تصور کرتے ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے سماجی، معاشرتی اور قانونی ڈھانچے کے اندر صنفی اور مذہبی تعصب موجود ہے۔ ہایارارکی یا درجہ بندی وہ نظام ہے جس میں جس میں ایک گروہ کو مراعات، طاقت اور توجہ دوسرے گروہوں کی حق تلفی سے حاصل ہو۔ یہ نظام اتفاقی نہیں ہے بلکہ سوچ سمجھ کر تخلیق کیا ہوا ہے۔

ہمارا اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا کے تمام انسان برابر ہیں اور سب کو عزت، تحفظ، تعلیم، صحت، نوکری اور وراثت میں برابر حق حاصل ہے۔ دنیا میں انسان جو کچھ بھی چاہتے ہیں ان خواہشات کو دو اقسام میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ قلیل عرصے میں پوری ہو جانے والی خواہشات اور طویل عرصے میں پوری ہونے والی خواہشات۔ میں دنیا میں برابر کے حقوق کو زیرو سم گیم نہیں سمجھتی ہوں۔ خواتین کو برابر کے انسان کی طرح حقوق دینا یا بچوں کو حقوق دینا یا اقلیتوں کو حقوق دینے سے سفید فام امریکی عیسائی آدمی یا پاکستانی مسلمان آدمی کی زندگی پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ میں اس کو ایک کھوکھلا خوف سمجھتی ہوں۔

یہ بات صاف ظاہر ہے کہ صدیوں کے جبر سے کالے ہر میدان میں پسے ہوئے ہیں، خواتین ہر میدان میں پیچھے ہیں اور بچوں کا استحصال جاری ہے۔ دنیا میں 95 فیصد پرتشدد جرائم میں آدمی ملوث ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی میرا اپنا ذاتی خیال نہیں ہے بلکہ یہ حالات اعداد و شمار سے ہمارے سامنے ہیں۔ اقلیتوں اور خواتین کو برابر کے حقوق دینے سے اگلے کچھ مہینوں یا سالوں تک ان آدمیوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا جو اس بات سے شدید تکلیف کا شکار ہوں گے کہ ان کے حصے کی نوکریاں اور ترقیاں خواتین یا اقلیتوں کو مل رہی ہیں۔

جب کملا ہیرس امریکہ کہ نائب صدر بن گئیں تو بھی کافی لوگوں کو اس سے بہت تکلیف پہنچی اور وہ کہنے لگے کہ ہم زیادہ لائق تھے اور ان کو صرف اس لیے نائب صدر بنا دیا گیا کیونکہ وہ ایک کالی خاتون ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اوبامہ ایک لائق صدر تھے اور وہ ٹرمپ کی طرح کوئی حرکتیں کرنے کے لیے آزاد نہیں تھے۔ ان کو ایک عام سفید فام آدمی سے سو گنا زیادہ محنتی اور لائق ہونا تھا۔ بالکل اسی طرح معاشرتی بے انصافی کی وجہ سے خواتین کو برابر کی تنخواہ لینے کے لیے یا ترقی حاصل کرنے کے لیے کئی گنا زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔

ٹرمپ کو سفید فام ہونے کی وجہ سے جب معاشرہ اس کو صدر بنا دیتا ہے تو اس سے تمام ملک اور اس کے تمام باشندوں کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایک لائق خاتون یا ایک لائق احمدی کسی بھی نوکری یا رتبے کے لیے ایک نا اہل سرکاری مسلمان پاکستانی آدمی سے بہتر امیدوار ہیں۔ اگر ان کو صنفی اور مذہبی تعصبات کی بنیاد پر پیچھے رکھا جائے تو ہم اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مارتے ہیں۔ آپ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ایک زنجیر اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے جتنی کہ اس کی سب سے کمزور کڑی۔ بس یہی نقطہ ہے۔ جو معاشرہ اپنے سب سے زیادہ پسے ہوئے طبقے کو مضبوط بنائے گا، وہی دنیا میں ترقی حاصل کرے گا۔ ان معاشروں میں بیماری اور غریبی کم ہوگی اور وقت کے ساتھ سب کو اس کا فائدہ پہنچے گا۔

اس مضمون کے لیے کچھ خیالات ڈاکٹر کارتھک شیوا شنکر کے حالیہ ہارورڈ کے لیکچر سے لیے گئے ہیں جو کہ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے وائس پریزیڈنٹ ہیں۔ وہ بھی ایک نفسیات دان ہیں۔

ایک گروہ پر توجہ دینے سے بقایا گروہوں کا بھی بھلا ہوتا ہے۔ خواتین کے حقوق پر کام کرنے سے سارے معاشرے کا بھلا ہوگا۔ اس کی چند مثالیں میں آپ کو دینا چاہتی ہوں۔ امریکہ میں پہلے بچوں کے لیے یہ قانون بنا کہ ان کو سیٹ بیلٹ پہنائی جائے۔ اس سے جب اچھے نتائج سامنے آئے تو پھر وہ سب کے لیے لازم قرار پایا۔ اس وجہ سے لاکھوں جانیں بچی ہیں۔

پہلے صرف ہوائی جہازوں میں فلائٹ اٹینڈنٹس کے لیے یہ اصول بنایا گیا تھا کہ وہ سگریٹ نوشی سے گریز کریں۔ اس کی دیکھا دیکھی عوامی جگہوں پر اس طرح کے قوانین بن گئے اور 1960 کے بعد سگریٹ نوشی میں پچاس فیصد کمی واقع ہوئی۔ ایک کارٹون حال ہی میں نظر سے گزرا جس میں ایک جہاز کی تصویر ہے جس کے کئی درجے ہیں۔ سب سے نچلے درجے میں سے ایک آدمی باہر سر نکال کر کھانس رہا ہے اور سب سے اوپر والے درجے میں بیٹھے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس نچلے طبقے کے پاس ہیلتھ انشورنس نہیں ہے لیکن ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

آج جبکہ تمام دنیا ایک وبا کے شکنجے میں ہے، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہ انسانوں کے درمیان کسی فرق کو نہیں جانتی۔ جو بھی مسائل ایک انسان کو ہوں وہ تمام معاشرے اور دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔

اس سے پہلے ایک مضمون میں میں نے دنیا کے مختلف ممالک میں کیے جانے والے تجربات کا ذکر کیا تھا۔ جہاں بچوں کی مار پیٹ کو غیر قانونی قرار دیا گیا وہاں پر پر تشدد جرائم میں کمی دیکھی گئی۔

ان تمام حقائق کو رابعہ کی گولڈن گرلز سیریز میں جب سامنے رکھا گیا تو کافی سارے افراد شدید پریشان ہوئے۔ جس گروہ کو معاشرے میں فوقیت حاصل ہو اس کو سماجی نا انصافی کا نہ ہی ادراک ہوتا ہے اور نہ ہی اس کو بدلنے میں اس کو کوئی دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ اپنے تھوڑے سے منافع کے لیے دنیا کا اور مستقبل کا بہت بڑا نقصان کر رہا ہوتا ہے۔ آج جو ہم اپنے گرد مسائل دیکھتے ہیں وہ ان لوگوں کے کاموں کا نتیجہ ہیں جو آج سے سو سال پہلے خود غرض بنے اور اپنے حصے کے مشکل کام اگلی نسلوں پر ٹال گئے۔

میڈیکل کی فیلڈ میں جو تحقیق ہو رہی ہے اس کے لحاظ سے یہ کہہ سکتی ہوں کہ جب بھی اداروں میں ایسے اصول اور قوانین بنائے جاتے ہیں جن میں اقلیتوں، غریبوں، معذور افراد کو مناسب علاج میسر ہو تو نظام سفید فام مریضوں کے لیے بھی بہتر ہوجاتا ہے۔ اس لیے میں یہ مضامین پڑھنے والے افراد کو یہ دعوت دیتی ہوں کہ وہ صدیوں سے اپنے ذہنوں میں بٹھائے ہوئے دقیانوسی خیالات سے آزاد کریں اور تمام معاشرے کو حال اور مستقبل میں بہتر بنانے میں ہاتھ بٹائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *