دانشِ فرنگ اور ہمارا ستر سالہ سنیاسی ماہر مغرب
کسی نے سوشل میڈیا پر لکھا ”ہمارے پاس شاعر مشرق تھا۔ اب ہمارے پاس ماہر مغرب بھی آ گیا“ ۔ اس شوشے کی وجہ بنا ہمارے وزیراعظم صاحب کا وہ بیان کہ جس میں انہوں نے فرمایا کہ مغرب کو ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ اور وہ 20 سال مغرب میں رہے ہیں اور انہیں بہت زیادہ جانتے ہیں۔ وزیراعظم کے یہ الفاظ ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب پاکستان میں مذہبی ہنگامہ سازوں نے فرانسیسی سفیر کو نکالنے کے مطالبے کو بنیاد بنا کر اچانک پرتشدد ہنگامے شروع کر دیے اور لاہور میں ایک پرتشدد دھرنا دیے رکھا تھا۔
کالعدم قرار دی جانے والی مذہبی جماعت ٹی ایل پی کا موقف تھا کہ چونکہ فرانسیسی حکومت توہین مذہب کی مرتکب ہوئی ہے اسی لئے پاکستان بطور اسلامی ملک فرانس سے فی الفور اپنے سفارتی تعلقات ختم کرے اور اس کے سفیر کو ملک سے نکال باہر کرے۔ ہنگامہ کرنے والی جماعت، پاکستان کے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ سیاسی پارٹی ہے اور 2018 کے الیکشن میں 559 حلقوں میں اس کے امیدواروں نے تقریباً 22 لاکھ ووٹ حاصل کیے اور اپنے حاصل شدہ ووٹوں کے اعتبار سے (اب کالعدم) ٹی ایل پی پاکستان کی چھٹی بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری۔
اگر اتنا بڑا ووٹ بنک رکھنے والی جماعت ایسے پرتشدد مظاہرے کرے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی کہ ان کے خطرناک موقف کو پاکستان کے عوام کی ایک بڑی تعداد سپورٹ کرتی ہے اور یہ مطالبات ایک پوری منصوبہ بندی سے پیش کیے گئے ہیں جن کا نظر بظاہر مقصد تو حکومت کو ٹف ٹائم دینا ہے مگر اصل مقصد شاید پاکستان میں جمہوری اداروں پر کاری ضرب لگانا ہے۔ مگر ان تمام سنگین حقائق کو پس پشت ڈال کر وزیراعظم نے قوم سے کیے گئے اپنے خطاب میں صرف اس بات پر زور دیا کہ وہ مغرب کو بہت زیادہ جانتے ہیں۔ اور وہ جانتے ہیں کہ مغرب کے ساتھ کس طرح معاملات طے کیے جانے ہیں۔ ہو سکتا ہے وزیراعظم کے یہ الفاظ کچھ خاص حلقوں کے لئے ایک خاص متن رکھتے ہوں۔ مگر عوام الناس کے لئے یہ الفاظ ایک بے وقت کی راگنی سے زیادہ کچھ نہیں۔
ضرورت اس امر کی کہ آخر یہ دیکھا جانا چاہیے کہ وزیراعظم کس بنیاد پر یہ بات کرتے ہیں اور ”میں میں“ کی تکرار اور All Knowing Attitude کے ساتھ ماہر مغرب ہونے کے دعوے کی حقیقت کیا ہے اور وہ کون سے 20 سال ہیں جو وزیراعظم نے مغرب میں گزارے اور انہوں نے ان بیس سالوں میں ایسے کون سے عالمی یا علاقائی امور سر انجام دیے کہ جو مغرب پر انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔
اگر وزیراعظم کی زندگی پر تحقیق کی جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم جب مغرب کی بات کرتے ہیں تو وہ شاید برطانیہ کی بات کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ کرکٹ کھیلنے کے سلسلے میں وہ ”ان 20 سالوں“ میں وہاں رہائش پذیر رہے ہیں۔ عمومی طور پر مغرب سے مراد یورپ لیا جاتا ہے۔ اور یورپ میں رہنے والا کوئی بھی عام پاکستانی یہ سمجھ سکتا ہے کہ یورپ اور برطانیہ میں کیا فرق ہے اور فیصلہ سازی کے ضمن میں برطانیہ کا یورپ پر کتنا اثر و رسوخ ہے۔ اور برطانیہ سمیت پورے یورپ میں کرکٹ با لحاظ سپورٹس کون سے نمبر آتا ہے۔ ان تمام حقیقتوں کے باوجود پھر بھی یہ تحقیق ہونی چاہیے کہ وزیراعظم کے دعوے کی بنیاد کتنی مستحکم ہے اور تاریخی شہادتیں اسے کتنی تقویت فراہم کرتی ہیں۔
اگر وزیر اعظم صاحب کے ”ان 20 سالوں“ کو تھوڑا مزید بڑھا کر 1970 سے 1997 تک دیکھا جائے تو برطانیہ میں ایڈورڈ ہیتھ، ہیرالڈ ولسن، جیمز کالگن، میڈم مارگریٹ تھیچر اور جان میجر وزراء اعظم رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں 20 سال کنزرویٹو اور 8 سال لیبر پارٹی برسر اقتدار رہی ہے۔ کافی دنوں کی مسلسل تحقیق کے بعد راقم الحروف کو کوئی ایسا سراغ نہیں ملا کہ ان وزراء اعظم سے خان صاحب کی کبھی کسی حوالے سے کوئی ملاقات ہوئی ہو یا برطانوی سیاسی نظام یا پاکستان کے ساتھ ان ادوار میں برطانوی تعلقات کے حوالے سے عمران خان کا کوئی کردار رہا ہو۔ ہو سکتا ہے کرکٹ کے حوالے سے دیے جانے والے ظہرانوں، عصرانوں یا عشائیوں میں خان صاحب بحیثیت سلیبرٹی ملکہ برطانیہ یا وزراء اعظم سے ملے ہوں مگر ایسی ملاقاتیں کسی بھی لحاظ سے سیاسی یا دو طرفہ تعلقات کی نوعیت کو تبدیل کرنے بارے نہیں ہوتیں۔
اگر وزیر اعظم صاحب کے ”ان 20 سالوں“ کو تھوڑا مزید بڑھا کر 1970 سے 1997 تک کو پاکستان کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ ادوار بھٹو کی حکومت، ضیائی آمریت اور آموں کے پھٹنے کے نتیجے میں پیدا ہوئی نوزائیدہ جمہوریت کے حوالے سے مشہور رہے ہیں۔ 70 کی دہائی میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی، آئین کا نفاذ اور جمہوری اداروں کی ترقی کے حوالے سے اقدامات کیے گئے اور کہیں سے ایسی شہادت نہیں ملی کہ خان صاحب اس دہائی میں پاکستان کے مغرب کے ساتھ تعلقات میں کوئی کردار ادا کرتے نظر آئے ہوں۔
یہی سلسلہ 80 کی دہائی کا بھی ہے جب اس ملک کو زور شور سے ضیائی اسلام کی طرف دھکیلا جا رہا تھا۔ ہاں البتہ اس عرصہ میں پاکستان کی مفاد پرست مقتدرہ کے خان صاحب محبوب ضرور بن گئے تھے۔ آمر ضیا انہیں کوئی عہدہ دینے کا متمنی تھا۔ مگر اس کے باوجود انہیں ایسا کوئی کام نہیں کہا گیا تھا کہ جو اس بات کی تصدیق کرے کہ وہ مغرب کے ساتھ مل کر ضیائی آمریت کے لئے کچھ کرتے رہے ہوں۔
ان تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا کہ وزیراعظم کا ”مغرب کو مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا“ والا دعویٰ ناصرف بے بنیاد بلکہ کافی حد تک مضحکہ خیز ہے۔ وزیراعظم کی برطانیہ میں گزری زندگی ایک سلیبرٹی کی زندگی تھی۔ نائیٹ لائف، کلبنگ، معاشقے، پارٹیز، اور شاہانہ طرز زندگی کی خبروں سے ”انکے 20 سال“ بھرے پڑے ہیں۔ اور ایسی رنگین زندگی ایک سلیبرٹی کو زیب نہیں دیتی ہے مگر قوم کی رہنمائی کی مہار اگر ہاتھ میں ہو تو ایسے دعوے خوفناک ہوتے ہیں۔
وزیراعظم صاحب مغرب کے ایک اچھوتے ماہر ہیں۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کی عمارت پر ٹی ایل پی کی طرح یلغار کر کے اسے نقصان پہنچانے کے بعد انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ پی ٹی وی کو بی بی سی کی طرز پر آزاد ادارہ بنائیں گے۔ مگر کچھ عرصے بعد ایک غیر ملکی دورے میں انہوں نے مغرب کی ثقافتی یلغار روکنے کے لئے ترکی، ملائشیا اور پاکستان کا ایک مشترکہ اسلامی ٹی وی چینل بنانے کے مصمم ارادے کا اظہار کیا تھا۔ وزیراعظم اس ملک میں مغرب کی طرز کا انداز حکمرانی چاہتے ہیں مگر ریپ کے کیسز کی بنیادی وجہ وہ مغربی بے راہ روی کو سمجھتے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم کی طرح وہ وزیراعظم ہاؤس کے ایک چھوٹے پورشن (یہ دعویٰ ان کے حلف کے فوراً بعد آیا تھا کہ وزیراعظم اپنے سیکرٹری کے لئے مختص نسبتاً چھوٹے پورشن میں رہائش پذیر ہیں۔ مگر واقفان حال تحریر کر چکے ہیں کہ کچھ عرصے بعد وہ وزیراعظم ہاؤس ہی شفٹ ہو گئے تھے ) میں رہائش کو ترجیح دیتے ہیں مگر اختیارات محمد بن سلمان والے چاہتے ہیں۔
موجودہ گورنر پنجاب جب نواز شریف کے ساتھ تھے تو پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت انہیں سرور انڈا کے نام سے پکار کر طنز کیا کرتی تھی۔ مگر پی ٹی آئی کی لانڈری میں دھلنے کے بعد وہ دوبارہ سے چوہدری محمد سرور ہو گئے۔ انہوں نے تحریک انصاف کو بھی وہی سودا بیچا جو اس سے پہلے وہ نواز شریف کو بیچ چکے تھے کہ وہ مغرب کو بہت زیادہ جانتے ہیں اور مغرب کے ساتھ پاکستان کے بہترین تجارتی تعلقات بنوا سکتے ہیں۔ مگر وہ بھی اپنے دعوے کے بر عکس کوئی بھی عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
پاکستان کے عوام کا سوال بنتا ہے کہ آخر ان سب ماہرین مغرب نے پچھلے تین سالوں میں پاکستان کے مغرب کے ساتھ تجارتی تعلقات کو استحکام دینے کے لئے آخر کیا کردار ادا کیا ہے۔ اگر وزیر اعظم مغرب کو جانتے ہیں تو پاکستان کے مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے انہوں نے کیا اقدامات کیے ہیں۔ اگر یہ سب حقیقی ماہرین مغرب ہیں تو یہ جان جاتے کہ ٹی ایل پی کے مطالبات کے جواب میں مغرب کیا رویہ اپنائے گا اور یورپی یونین پاکستان کے خلاف کس قسم کی قراردادیں لائے گی۔ آج کے دن کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اقوام عالم میں اپنی ساکھ کو بہت زیادہ مجروح کر چکا ہے اور ہمارے بلند بانگ ہر قسم کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔





