سندھ میں انسانوں کی نس بندی


صوبہ سندھ میں آوارہ انسانوں کی بہتات کی وجہ سے عزت دار کتوں کی آبادی کو مسائل درپیش ہیں۔ اس پر ستم یہ کہ یہ انسان وقتاً فوقتاً کتا مار مہم کے مطالبے کرتے رہتے ہیں۔ مقام شکر یہ کہ سندھ کے مالکان کتوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لاڑکانہ میں کتوں کے غول نے انسانی بچے کو بھنبھوڑ دیا، کراچی میں ایک باپ اپنی بچی کو پاگل کتوں سے بچاتے ہوئے ریبیز کا شکار ہو کر مر گیا۔ کچھ سرکاری ملازمین کو شرم آئی اور انہوں نے کتا مار مہم شروع کر دی۔ مالکان سندھ کی ایک شہزادی نے مہم کی تصاویر دیکھیں۔ جہنم کی آگ میں وہ غیظ و غضب نہیں ہوتا جو ان کی ٹویٹ میں تھا۔ سرکاری غلاموں نے جان کی امان مانگی اور مہم ختم کر دی۔

حکم نافذ کیا گیا کہ بیچارے کتوں کو مارا نہ جائے بلکہ ان کی نس بندی کر دی جائے۔ انسانوں کے منہ بند کرانے کے لیے بظاہر ایک مناسب فیصلہ لیکن عملی طور پر تقریباً ناممکن کیونکہ کتے انسانوں کی بہتات کی وجہ سے سڑک پر رہنے پر مجبور، کوئی مستقل پتہ نہیں، تو پھر ان کا ٹریک نہیں رکھا جا سکتا۔ مثال کے طور پر کوئی معصوم کتا ایک محلے میں پکڑا جائے، نس بندی ہو، دو دن بعد دوسرے محلے میں بھی دھر لیا جائے۔ پھر نس بندی کی اذیت سے گزرے، نس بندی کرنے والی ٹیم کوٹا پورا ہونے پر چائے کا وقفہ لے، اور اس دوران نئے محلے کے اوریجنل کتے مزے سے عمل تولید میں مشغول رہیں۔

اس لئے استدعا ہے کہ کتوں کے بجاتے انسانوں کی نس بندی کا عمل شروع کیا جائے۔

اس میں آسانی ہی آسانی ہے۔ انسانوں کا ٹریک رکھنا آسان کیونکہ ان کے پاس شناختی کارڈ ہیں، بجلی کے بل ہیں، مستقل پتے ہیں۔ اور آج کل کووڈ کی ویکسینیشن چل رہی ہے۔ اسی کے ساتھ انسانوں کی نس بندی بھی کروا دیں تاکہ ان کا روز روز کا رونا ختم ہو کہ ہمارا بچہ کتے کے کاٹے سے مر گیا، ہمارے بھائی کو ریبیز کی ویکسین نہیں ملی، وغیرہ۔

اچھا ان کے رونے صرف موت کے حوالے سے نہیں ہیں۔ ان کے تو نخرے ہی نہیں ملتے۔ مثال کے طور پر ایک انسان کا کہنا یہ کہ ان کے بچے گلی میں اکیلے نکل نہیں سکتے، شام میں سائیکل نہیں چلا سکتے کیونکہ کتے غول کی صورت میں حملہ آور ہوتے ہیں۔ تو جناب آپ میدانوں اور پارکوں میں کھیلیں۔ عدالت میں جائیں، پارکوں پر قبضہ ختم کروائیں، اور آپ کی تیسری یا چوتھی نسل کو یقیناً پارک کی سہولت میسر ہو جائے گی۔ اور اگر نس بندی کی تجویز پر عمل ہو جائے تو تیسری چوتھی نسل کی نوبت ہی نا آئے۔

کچھ مڈل کلاس بچیوں نے پبلک ٹرانسپورٹ میں مردوں کی ہراسانی سے تنگ آ کر موٹر سائیکل چلانی سیکھ لی تھی۔ کتے نما مردوں کے استبداد کو موٹر سائیکل کی کک کے ساتھ ٹھوکر مار دی تھی، لیکن کتے نما کتوں کے سامنے وہ ہار مان گئیں۔ بات یہ ہے کہ انسان تو صنفی تفریق بہت کرتے ہیں، کتے نہیں کرتے۔ انہیں فرق نہیں پڑتا موٹر سائیکل مرد چلا رہا ہے یا عورت۔ ان کی سرشت میں حملہ کرنا ہے، وہ تو کریں گے۔ ان بچیوں کی غلطی ہے کہ سفری خود مختاری کی کوشش کیوں کی۔ انہیں چاہیے تھا کہ پہلے بینر اٹھا کر موٹر سائیکل چلانے کے حق میں مارچ کرتیں، یا ٹھنڈے کمرے میں منعقد کسی سیمینار میں تقریر کرتیں۔ یہ کیا کہ سچ مچ میں موٹر سائیکل پر ہی کالج یا جاب پر جانا شروع کر دیا۔

چند نامعقولوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگلی جانوروں کا حملہ انسانی نفسیات پر بہت برا اثر ڈالتا ہے۔ پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (PTSD) نامی بیماری کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن یہ سطحی سوچ کے لوگ ہیں جو انسانوں کا سوچتے ہیں۔ اصل اور اونچی سوچ تو سندھ کے مالکان کی ہے جو کتوں کی نفسیاتی صحت کی فکر رکھتے ہیں۔ آپ موٹر سائیکل جیسی پھٹیچر سواری پر کتوں کے غول سے گزریں اور وہ حملہ بھی نہ کریں؟ یہ کہاں کا انصاف ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کو کچلنا اعلیٰ نسل کے کتوں اور فور وہیل ڈرائیو گاڑیوں کا حق بنتا ہے۔

کراچی میں پکڑے گئے ایک ٹارگٹ کلر نے انکشاف کیا کہ اس نے اپنے فن کی مشق کتوں کو مار کر کی تھی۔ کتنی گھناؤنی حرکت ہے۔ مطلب، کتوں کا قتل، انسانوں کا نہیں۔ انسانوں کی تو نس بندی ویسی ہی ہونی ہے۔ اگر ٹارگٹ کلر کتوں کے قتل سے تائب ہو جائے تو اسے آزادی دے کر دوبارہ پرانے کام پر لگانے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

سندھ میں انسانوں کی آبادی کم کر کے صوبے کو کتا فرینڈلی بنانے میں صرف ایک قباحت ہے : مالکان پھر حکمرانی کی تسکین کے لئے غلام کہاں سے لائیں گے؟ تو جناب، کتوں کو ہی غلام بنا لیں۔ کتے کو تو آپ سوکھی روٹی ڈال دیں تو زندگی بھر قدموں میں لوٹے گا۔ ویسے تو سندھ کے انسانوں سے بھی آپ یہی کرواتے رہے ہیں ہیں جنموں سے۔ لیکن یہ انسان ہر پانچ سال پر سوکھی روٹی کے بجائے بریانی کی پلیٹ اور قیمے کے نان مانگنے لگتے ہیں۔ اور کچھ تو ایسے ہیں کہ روٹی، کپڑا، مکان، اور ریبیز کی ویکسین کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ ایسے نا شکروں اور کم ظرفوں سے تو کتے ہی بھلے۔

Facebook Comments HS