ملتان کی رسمیں اور ثقافتی رنگ



ایسے گیت جو رسوم و رواج کے مطابق ہوتے ہیں، ان کو رسوم و رواج پر مشتمل گیت یا رواجی گیت کہا جاتا ہے۔ ان گیتوں کی مختلف اقسام ہیں۔ ان میں سے کچھ کا تعارف اور نام شامل کیا گیا ہے۔ شادی بیاہ کے گیتوں میں شادی کی رسم ایک خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ وہ ماں جس نے بچپن میں لوریاں دے دے کے اپنے بچے کو سلایا اور لاڈپیار سے پالا ہوتا ہے شادی کا دن اس کی خواہشات کی تسکین کا دن ہوتا ہے۔ باپ کے لیے ایک روشن اور چمکتے ہوئے دیے کا سنبھلنا ہوتا ہے۔

اور بہنیں جو حسرتیں اور تمنائیں سجائی ہوتی ہیں، ان کے لیے سایہ کا درجہ رکھتا ہے۔ اور بھائیوں کے لیے آج ان کی شان کی بلندی کا دن تصور کیا جاتا ہے۔ غرض شادی کا دن پوری فیملی کے لیے انتہائی مسرت و خوشی کا دن ہوتا ہے۔ سب بہت مسرور اور شاد ہوتے ہیں۔ پہلی چاند کو دولہے کے گھر بین باجے بجتے ہیں اسے چند راز کہا جاتا ہے۔ رات گئے تک ہنسی مذاق چلتا رہتا ہے۔ دولہا کے گھر والے ڈھولک کی تھاپ پر ایک ساتھ مل کر گیت گاتے ہیں۔

شادی کے حوالے سے مختلف گیتوں میں پھل پوائی، گانابدھائی، میندھی بدھائی، میندھی لوائی، سہرا بدھائی، جنج دی روانگی یعنی جب بارات نکلتی ہے اس وقت جو گیت گائے جاتے ہیں۔ کنوار دے گھر پجن یعنی جب دلہن کے گھر بارات پہنچ جاتی ہے اس وقت جو گیت گائے جاتے ہیں، جی آیاں کون آکھن یعنی بارات والوں کو جب لڑکی کے گھر والے خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کا استقبال کرتے ہیں۔ لانواں لاھن، اس خاص رسم کو ایک بزرگ عورت پورا کرتی ہے۔

سات تک گن کر سات لانویں دیے جاتے ہیں۔ اس موقع پر خوب ہنسی مذاق اور ٹھٹھا ہوتا ہے۔ اور جنج دا ولن یعنی جب بارات دلہن کو لے گھر واپس روانہ ہوتی ہے اس وقت گیت گائے جاتے ہیں۔ شادی کے وقت جگراتے کے گیت بھی گائے جاتے ہیں۔ دولہا اور دلہن دونوں کے گھر والے اور رشتے دار شادی کے دن سے پہلے ایک یا دو دن ساری رات جاگتے ہیں اور گیت گاتے ہیں۔ اسے جگراتے کے گیت کہا جاتا ہے۔

بھانویں جانے تے نہ بھانویں نہ جانے
میڈا ڈھول جوانیاں مانے

یعنی دولہا /دلہن کو مخاطب کر کے کہا جاتا ہے کہ آپ ہماری قدر کرو نہ کرو ہمارا یہ پیار اور محبت محسوس کرو نہ کرو ہمارے دل میں آپ کے لیے دعائیں ہیں، آپ ہمیشہ اسی طرح خوش رہیں اور شاد آباد رہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر جھمر /جھومر کے گیت بھی گائے جاتے ہیں۔ اس میں نوجواں لڑکیاں رنگین دوپٹے لے کے دائرہ بنا لیتی ہیں اور گیت گاتی ہیں۔ ڈھولک کی تھاپ پر پاؤں زمین پر مارتی اور تالیاں بجاتی ہیں۔ اس میں کسی خاص مہارت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

ایک سادہ سا ناچ /رقص ہے۔ اس میں جیسے جیسے ڈھولک کی تھاپ میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ان کی رفتار میں بھی بڑھتی ہے اور جوش و جذبہ دیدنی ہوتا ہے۔ شادی میں ایک جذبہ سا شامل ہو جاتا ہے۔ جھمر میں ایک خاص قسم ”چینا“ بھی ہے۔ اس میں ڈھولچی اور جھمر گروپ کے لوگوں کی فریکوئنسی اور اس کو ایک ساتھ لینا اور جوش میں آنا انتہائی خوب منظر بن جاتا ہے۔ اس جھمر میں ڈھولچی پتلی چھڑ سے چھے ڈگے مار کر تال کو باندھتا ہے اور اگر ڈھولچی تھک جائے تو اس کی جگہ دوسرا ڈھولچی لے لیتا ہے۔

اور درمیاں موٹی چھڑ کو اوپر کی طرف اچھالا جاتا ہے اور پکڑا جاتا ہے اور فن کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح پتلی چھڑ اور موٹی چھڑ کی چوٹیں تیز ہوتی جاتی ہیں تو جھمری گروپ کی جھومر میں بھی تیزی دیکھنے میں آتی ہے۔ بازؤں کے ہلارے، پاؤں کے مڑوڑے، اور بولوں کی تیزی سے اس کو جواب دیتے ہیں اور ایڑی مارتے ہیں اور مل کر گاتے ہیں

چینا ایں چھڑیندا یار

سہرے کے گیت الگ ہیں اور مختلف مواقع کے لیے الگ الگ ہوتے ہیں۔ شادی کے جتنے شگن ہیں اتنے ہی سہرے کے گیت ہیں۔ میڈھی، لانواں، ورہی، سوئی، چکی چنگ سب کے الگ الگ سہرے ہیں۔ سہرے کے ان گیتوں میں دراصل دولہا کی تعریف کی جاتی ہے۔ اس کی لمبی عمر کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں۔ اس کی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالہ سے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ان کے سہروں میں دلچسپی اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب سہرا گانے والوں کی عورتوں کے سر تال میں وزن ہو۔ ایسے لگتا ہے جیسے خواہشیں بھاپ بن کر اٖڑ رہی ہیں، پھر یہی بھاپ جب خنکی میں ٹھنڈک پکڑتی ہے تو ہلکی ہلکی پھوار کی شکل میں زمین پر قطرہ قطرہ گرنا شروع ہو گئی ہے۔ رم جھم کی اس جھنکار میں خوب صورت آوازوں کا ابھرنا سہرہ بن جاتا ہے۔

آمد بارات سونے دیاں تاراں ونی نال سنگھاراں
جنج آئی میڈی ویہڑھے ہن لگیاں بہاراں

میل کے گیت بھی ہوتے ہیں۔ ایسے گیت کے مواقع کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں۔ اس میں عمر کا کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا۔ بعض اوقات بچے کی پیدائش پر میل بلائی جاتی ہے اور یہ ثقافتی رنگ بکھرنے لگتا ہے۔ اور لوگ اپنی خوشیوں کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے جب لڑکے کی منگنی کی جاتی ہے تب بھی میل بلائی جاتی ہے۔ میل اصل میں اپنے رشتے داروں اور محلے داروں کا ایک اکٹھ یا اجتماع ہوتا ہے جو اس خوشی کے موقع کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے۔

سب لوگ نئے نئے کپڑے پہن کر اور تحفے تحائف لے کر آتے ہیں۔ کھانا بنتا ہے۔ ڈھولک بجتی ہے اور خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس میں امارت و غربت کا بھی فرق نہیں۔ ہر دو اپنے اپنے انداز میں اپنے وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی رسمیں بجا لاتے ہیں اور گیت گاتے ہیں۔ میل کے گیتوں میں کافیاں، ڈوھرے، ماہیے، ڈھولے، چھلے، اور ٹپے سب ہی آتے ہیں۔

کالا بوچھن کھڑی آں
اتے دلبر شما کھڑی آں
ڈھولا ستاراھوے
جے ڈینہہ ابھرے تاں ڈر کوئی نہیں
میڈا دل گیا دل کھس وے
کوئی آن ڈیوے ہا ڈس وے

اس کے علاوہ بھی عوام کی شاعری میں لولی، ڈھولے، گاغن، بگڑو، چھلہ، ماہیا، سہرے، پیا کے ٹپے، اور ڈوھرے بھی شامل ہیں۔ بگڑو کا گیت قدیم ہے۔ بگڑو، لولی، گانمن ڈورہے کی ہی اقسام ہیں۔ اس میں موضوعاتی تنوع نہیں ہوتا لیکن وزن میں الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہ عموماً عوام میں ایسے لوگوں کے گیت ہیں جن کی باقاعدہ اور رسمی تعلیم نہیں ہوتی۔ اس میں محبوب بگڑو یعنی خوب صورت معشوقہ، گانمن یعنی خوب صورت معشوق اور لولی یعنی پہلوٹی کے بچے کو لوری دینے والی حسینہ ہوتی ہے۔

اس میں ایک دکھڑا پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں گردوپیش کا تذکرہ شامل کر کے ایک خاص ماحول میں ڈھال لیا جاتا ہے۔ عورت اپنے متعلقات یعنی دوپٹے، لباس، مکان اور چھت کا تذکرہ کرے گی اور مرد اپنے متعلقات یعنی کھجور کے درخت، اس کے لوازمات، رہٹ، بیل، اور ہل وغیرہ کا ذکر کرے گا۔ پیا کے ٹپے، ٹپہ حصے، نجرے، اور ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ یہ گیت ٹکڑوں کی شکل میں ہوتا ہے۔ یہ ٹپہ ڈیڑھ مصرعے پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلا مصرعہ آدھا ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کا کوئی خاص مفہوم نہیں ہوتا لیکن اس کا مقصد ایک تو دوسرے مصرعے کو سہارا دینا اور اس کے وزن قافیے میں مدد کرنا ہوتا ہے۔ دوسرا اس دوسرے مصرعے کے ساتھ مل کر اس میں بھی حسن کی ایک پرت شامل ہوتی ہے۔ جیسے

سوہنی چلی اے بزار
مارے اکھ اٹھاوے یار، تیڈا یار اے سنار

یہ ٹپے آمنے سامنے بیٹھ کے مرد اور عورتیں گاتی ہیں۔ ایسا ہوتا ہے ایک ٹپہ ایک گروپ کی طرف سے ہوتا ہے پھر دوسرا ٹپہ دوسرے گروپ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس میں خوش گپیاں کی جاتی ہیں اور شادی بیاہ کے موقع کی مناسبت سے اظہارات شامل ہوتے ہیں۔ اصل مقصود دلہن کے جذبات کو برانگیختہ کرنا اور اس کی من کی آشاؤں کا اس درجے پر لانا کہ اس کے من میں بے چینی اور اضطراب کے ساتھ خوشی کا ایک اتھاہ سمند ر موجزن ہو جائے اور اس کی شادی اس کے لیے یادگار بن جائے۔

ملتانی ثقافت کے اور رنگ بھی ہیں۔ کسی اور وقت میں اس پر مزید بات کو بڑھائیں گے۔ ثقافت ہماری زندگی کو خوشی دیتی ہے۔ یہ رنگ ہمارے من کے رنگوں میں شامل ہو کے ہمارے لیے زندگی کی قدر میں اضافہ کرتے ہیں۔

ماخذ۔

یاسر جواد، عامر حمید، مرتبین، پاکستان کا ثقافتی انسائیکلو پیڈیا، (لاہور، الفیصل ناشران و تاجران کتب، 2012 ) ، ص 198

Facebook Comments HS