مریخ، منگل کا منحوس دن اور مارشل لا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نجوم کا تو علم نہیں، مگر تاریخ اور لسانیات کے حوالے سے چند گزارشات درج ذیل ہیں۔

مریخ کا رنگ زمین سے مشاہدہ کرنے پر شوخ نارنجی اور سرخ نظر آتا ہے۔ سرخ رنگ جذبات کو بھڑکانے والا رنگ ہے جس کی جنگ (اور شادی بیاہ) کے موقع پر ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے پرانے زمانے میں جنگ کے موقع پر سرخ لباس پہنتے تھے، یہاں تک کہ جن معاشروں، مثلاً اسلام، میں مرد کے لیے سرخ لباس ممنوع تھا وہ بھی جنگ کے موقع پر کم از کم سرخ رنگ کی پگڑی باندھتے تھے۔ آج بھی شادی کے موقع پر دلہن کے لئے کم از کم ایک جوڑا سرخ رنگ کا ضرور رکھا جاتا ہے۔ جنگ، جذبات، اور سرخ رنگ کے اسی تعلق نے شاید مریخ کو جنگ کا دیوتا بنانے میں کردار ادا کیا ہو۔

مریخ کو ہندی میں منگل کہتے ہیں اور اسے جنگ کا دیوتا سمجھا جاتا ہے۔ پرانے زمانے میں چونکہ مہینوں اور دنوں کے نام دیوی دیوتاؤں کے نام پر رکھے جاتے تھے، سو ہفتے کا ایک دن مریخ کے نام سے بھی موسوم ہوا اور اسے سنسکرت اور ہندی میں ”منگل وار“ کہا جانے لگا جو اردو میں مختصراً منگل کہلاتا ہے۔

منگل کو انگریزی میں ”ٹیوز ڈے“ یعنی ”ٹیو“ کا دن کہا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ٹیو رومن اور یونانی دیو مالا میں مریخ کا مترادف اور جنگ کا دیوتا ہے۔

(Tiw ’s day » Tiwesdaey » Tuesdsy)

ہندو کلچر میں شادی کے موقع پر سرخ جوڑا زیب تن کیے (وہی جذبات اور مریخ کا رنگ) آگ کے گرد سات پھیرے لیے جاتے ہیں اور اس موقع پر جو منتر پڑھا جاتا ہے اس میں بھی ”منگلم بھگوان وشنو“ کے الفاظ آتے ہیں۔

ہمارے کلاسیکی شعراء نے بھی محبوب کے سرخ جوڑا پہن کر نکلنے کو عاشقوں سے جنگ کی تیاری پر محمول کیا ہے۔

زیبا تھا دم جنگ پری وش اسے کہنا
معشوق بنی سرخ لباس اس نے جو پہنا۔ میر انیس
رحمان بابا کا ایک پشتو شعر:
ارغوانی جامے یے واغستے رحمانہ
بیا یے جوڑ کڑہ ستا دہ قتل اسبابونہ
ترجمہ:

محبوب نے ارغوانی (مریخ کا رنگ) رنگ کے کپڑے پہن لئے ہیں۔ لگتا ہے کہ پھر تمہارے قتل کی تیاری کر کے نکلا ہے۔

مریخ زمین سے دیکھنے پر ایک سرخ دہکتے ہوئے ”انگارے“ کی طرح بھی نظر آتا ہے۔ پشتو میں انگار آگ کو کہتے ہیں۔ سندھی زبان میں مریخ دیوتا سے منسوب منگل کا دن ”انگارو“ کہلاتا ہے۔ (پشتو اور سندھی بھی سنسکرت اور ہندی کی طرح انڈو یورپین زبانیں ہیں ) کہیں اس نام کی وجہ بھی یہی آگ اور سرخ رنگ کا تعلق تو نہیں؟

کچھ معاشروں میں منگل کے دن کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ اس دن کچھ مخصوص کام، مثلاً کپڑے دھونا وغیرہ، نہیں کیے جاتے، اور اس سیارے کے زیر اثر پیدا ہونے والوں کو منحوس سمجھا جاتا ہے۔

سن 1958 میں اس وقت کے صدر مملکت سکندر مرزا نے آئین کو معطل کر کے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا یہ واقعہ سات اکتوبر کو منگل کے دن پیش آیا۔ اس کے ٹھیک دو ہفتے بعد جنرل ایوب خان نے ستائیس اکتوبر کو عنان اقتدار سنبھالی جو کہ بدھ کا دن تھا، جنرل ایوب چودہ مئی انیس سو سات کو منگل کے دن ہی پیدا ہوئے تھے۔

اس سے پہلے سن 1951 میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان سولہ اکتوبر کو منگل کے دن ہی قتل ہوئے تھے۔

جنرل پرویز مشرف نے انیس سو ننانوے میں بارہ اکتوبر کو اقتدار پر قبضہ کیا۔ کیلنڈر دیکھ کر تسلی کر کیجئے، کہیں یہ بھی منگل کا دن تو نہیں تھا؟

ضیاء الحق نے، جو بارہ اگست انیس سو چوبیس کو جالندھر میں ”منگل“ کے دن پیدا ہوئے تھے، ایک فوجی آپریشن (فیئر پلے ) کے نتیجے میں پانچ جولائی سن انیس سو ستتر کو اقتدار سنبھالا۔

کیلنڈر کہتا ہے کہ اس تاریخ کو بھی منگل کا ہی دن تھا۔

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ہماری دیواروں پر لگے کیلنڈر میں آج بھی پانچ جولائی منگل کا منحوس دن پھنسا ہوا ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *