آپ کو اگر سکرین شاٹ پسند نہیں تو سکرین شاٹس بنانے کا سامان مت بھیجیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


انٹرنیٹ تک میری رسائی 2004 / 5 میں جا کر ہوئی۔ آج کل کی نوجوان نسل جن کے ہاتھوں میں تیز ترین انٹرنیٹ کنکشنز و ٹچ فون ہیں، وہ اس دور کی ہماری مشکلات جس دور میں ہمیں انٹرنیٹ کو کارڈ سے ایکٹو کرنا پڑتا تھا، اور سوچ سمجھ کے استعمال کرنا پڑتا تھا کہ اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کہ بار بار کارڈ نہ لے سکنے کی تکلیف کو کیسے سمجھ سکتے ہیں۔ اس سے بھی پیچھے چلے جائیں جب انٹرنیٹ نہیں کسی کسی گھر میں لینڈ لائن فون ہوتا تھا۔ اور پورے محلے کی کالز اسی پہ آتی تھیں۔ یہ سارا دور یاد کروانے کے پیچھے بہت سی وجوہات ہیں۔ آج سوشل میڈیا پہ جس کے ہاتھ میں موبائل فون ہے اور ڈیٹا پیکج ہے۔ وہ اپنے آپ میں خود کو ایک ایسا عالم سمجھتا ہے کہ جس کے کہے سے کسی کو اگر اختلاف ہے۔ تو اس کے لیے دو سیکنڈ میں ایک گالی سکرین پہ جگمگانے لگے گی۔

سوشل میڈیا استعمال کرنے کا حق ہر ایک کو ہے۔ اپنی بات کہنے کا حق بھی سب انسانوں کا برابر ہے۔ مگر غلط کو غلط کہنے میں محنت زیادہ لگتی ہے۔ اور اگر کوئی آپ کے سفید کوے کو سفید نہیں کہہ رہا تو اس کی کردار کشی یا بدتہذیبی واجب نہیں ہے۔

کسی بھی دور کی ایجاد کو استعمال کرنا تو ہم سیکھ لیتے ہیں۔ مگر اس ایجاد کے ساتھ ہم معاشرے کی بنیادی اخلاقیات کو داؤ پہ ضرور لگا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پہ جب لینڈ لائن فون ہوتے تھے تو رانگ نمبرز کی وجہ سے کئی گھرانوں کی بچیوں پہ مشکلات ٹوٹیں۔ میں خود اس کا شکار ہوئی۔ مجھے آج تک یہ نہیں پتہ کہ میرے گھر کال کرنے والا وہ لڑکا کون تھا اسے کیسے میرے نام، سکول اور باہر آنے جانے کا پتہ چلتا تھا۔ مگر میں اس کال سے اتنی خوفزدہ ہوئی کہ لاہور چھوڑ کے گاؤں چلی گئی۔ یہ میری زندگی کا سب سے برا اور سب سے اذیت ناک فیصلہ ثابت ہوا۔ اس کے کارن میری اگلی زندگی بھی مشکلات کا شکار رہی۔ سوال یہ ہے کہ میں نے ان کالز کی وجہ سے جو خوف برداشت کیا۔ اس کا ذمہ دار کون ہوا۔

آگے چلتے ہیں موبائل فون و انٹرنیٹ آ گیا۔ موبائل فون پہ اے ایس ایل کے میسجز ملنا تو معمول کی بات تھی۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ ایک تو مجھے معلوم نہیں ہوتا تھا کہ یہ کیا بلا ہے۔ دوسرا میسج رپلائی کرنے کے لیے بیلنس بھی نہیں ہوتا تھا۔ ایک بار میں نے جواباً پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے تو آگے سے جو جواب آیا تب مجھے سمجھ لگی کہ یہ بھی رانگ کال جیسی چیز ہے۔ یقیناً اب میں دنیا کی واحد لڑکی تو نہیں جو اس سے گزری۔

کمپیوٹر لیا تو انٹرنیٹ استعمال کرنے کا شوق ہوتا تھا۔ انٹرنیٹ کا سو روپے کا کارڈ لینا بھی مشکل ہوتا تھا۔ اب آپ انٹرنیٹ کھول رہے ہیں۔ آگے الگ ہی دنیا ہے۔ یاہو میل پہ دو چار میسیجز کی چیٹ کے بعد آپ کو میسج ملے کہ فگر تو بتاؤ۔ برا کا سائز کیا ہے۔ سیکس کتنے دن بعد کرتی ہو۔ (میں معذرت خواہ ہوں مگر مجھے یہ کھل کے لکھے بنا سمجھانا نہیں آتا) ۔ اب ایک ایسی لڑکی جسے کنویں سے نکل کے شہر دیکھنا ہے۔ اس کی کیا حالت ہوتی ہو گی۔ یقیناً یہاں بھی میں واحد لڑکی نہیں ہوں گی دنیا میں۔

آہستہ آہستہ سیکھتے سیکھتے کچھ سمجھ آنے لگی۔ بلاک کرنے کی آپشن پتہ لگی۔ انسانی فطرت ہے ہر نیا کام سیکھنے کے بعد اسے خود پہ فخر ہوتا ہے۔ یہ حال میرا ہوتا تھا۔ مجھے کمپیوٹر سے لگاؤ اس حد تک تھا کہ میں اسے کھول کے چھوٹی موٹی خرابیاں تک دور کر لیتی تھی۔ ونڈوز کرنا تو بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا تھا۔ 2009 میں فیس بک پہ آئے۔ یہاں آ کے دنیا بالکل ہی الگ لگی۔ جو دنیا بھر کے ٹوٹکے، ریسیپیز اور کرافٹ میں بیٹھ کے دیکھتی۔

ایک بار ایک لڑکی نے میسج کیا۔ آج کال پہ بات کرتے ہیں۔ میں نے کہا اوکے۔ جب کال آن کی تو لڑکا بات کر رہا۔ میں لٹرلی اتنا پریشان ہوئی کہ فون ہی آف کر دیا۔ کیونکہ کال مسلسل آ رہی تھی۔ میں نے بہن بن کے فگر کی تعریفیں بھی سننے کا دور دیکھا۔ یہ بھی کہ لڑکے لڑکی بن کے کیسے پرسنل ڈیٹیل لیتے ہیں۔ پھر عقل آتے آتے آج یہاں تک پہنچے کہ ان سب چیزوں سے کیسے نبٹنا ہے۔ یقیناً بہت سی لڑکیوں نے سیکھا۔

ایک بار بچپن میں میری کسی غلطی پہ امی کو بہت غصہ آیا تو انہوں نے مجھے دو گالیاں دیں۔ نانا میرے سن رہے تھے۔ امی کو کہنے لگے آج تو یہ لفظ بولا ہے آج کے بعد میں یہ گالی تمہیں بچی کو دیتے نہ سنوں۔ جو تم اسے بول رہی ہو اس کا مطلب وہ نہیں جانتی لیکن تم جانتی ہو۔ نانا ہمارے بہت گالیاں دیتے تھے مگر ان کی گالیوں میں اور ان گالیوں میں جو فیس بک اور میسینجر میں ہمیں ملتی ہیں۔ بہت فرق ہے۔ نانا ابو کی گالی سے کبھی کان اور گال لال نہیں ہوئے۔ کبھی ہیومیلیٹ بھی نہ ہوئے۔ مگر یہاں فیس بک پہ بیٹھے مہان لوگ یہ کام کر جاتے ہیں، کہ دل چاہتا ہے سب بند کر کے بھاگ جاؤ۔

پہلی بار گالیوں سے میرا انباکس تب بھرا جب مشعال کو مارا گیا۔ جذباتی و حساس بندی ہوں جہاں اس کے خلاف کوئی بات دیکھتی۔ غصہ آ جاتا۔ میسینجر کھولتی تو رنڈی، گشتی سے بھرا ہوتا۔ قتل کی دھمکیاں ہوتیں۔ شروع شروع میں بہت رونا آتا تھا۔ یہ سوچ کے کہ یہ لوگ کیسے ایسا کر سکتے ہیں۔ اب سمجھ آ گئی ہے کہ جیسا شعور جیسا نصاب اور جیسی تربیت ان کو ملی ہے۔ اگر ایسا نہ کریں تو کیسا کریں۔

میں نے کوشش کی کہ پچھلے ادوار کو سامنے رکھ کے ایک واضح تصویر بنا سکوں۔ تو کل ملا کے مدعا یہ ہے کہ آج ترقی کر کے ہم اس مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ سوشل میڈیا پہ کسی بھی خاتون کے انباکس آپ پورن بھیج دیں اپنے اعضائے مخصوص کی تصویر بھیج دیں۔ بطور خاتون آپ کا کام ہے چپ چاپ اسے برداشت کریں۔ کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو بقول عقل مند لوگوں کے یہ غلط ہے۔ یہاں آپ معاشرے میں رہنے والے مرد کو یہ تمیز نہیں سکھا رہے کہ وہ عورت سے کیسے پیش آئے۔

ہاں آپ عورت پہ ایک اور بوجھ لاد رہے ہیں کہ وہ بلاک کرے یا اگنور کرے مگر سکرین شاٹ لگا کے مرد کو ذلیل نہ کرے۔ ہم مرضی و بنا مرضی سے سیکس کو ایک ہی پلڑے میں رکھتے ہیں۔ ہمارے درمیان ہی یہ کہنے والے لوگ موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ عورت ریپ بھی انجوائے کرتی ہے۔ یہ جانے سمجھے بغیر کہ ان کو پڑھنے والے پچاس سو لوگوں میں سے کسی دو نے بھی اس کو سچ مان لیا، تو کیا وہ ریپ کو جائز نہیں

سمجھیں گے؟

مرد کو برا بھلا کہنا یا الزام تراشی میرا مقصد ہرگز نہیں مگر کیا مرد کو یہ سمجھنے کی ضرورت نہیں کہ جس کو وہ غیر اخلاقی مواد کسی کنسینٹ کے بنا بھیجتا جا رہا ہے اس کی ذہنی حالت کیا ہو گی۔ معاشرہ مرد کی عزت کا پہرے دار ہے تو وہ عورت کی عزت کیوں چوراہے پہ اتارنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ اگر کوئی آپ کے ساتھ تعلق رکھنے پہ تیار نہیں تو اس کی نہیں آپ کی غیرت کیوں بنتی ہے۔ اس غیرت و مردانگی کا اظہار آپ اسے گالیاں دے کر اس کی کردار کشی کر کے کیوں دیتے ہیں؟

سادہ بات یہ ہے صاحب عالم کہ ہم بلاک کر کر کے تھک گئے ہیں۔ ہم گالیاں سن سن کے پک گئے ہیں۔ آپ کو اس بنیادی بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عورت صرف ہراس ہونے کے لیے نہیں بنی۔ وہ چپ رہنے کے لیے پیدا نہیں ہوئی۔ میں اور میری ساتھی خواتین اگر ان چند مردوں کو بے نقاب کرتی ہیں جن کے چہرے فیس بک کی وال پہ تو بہت خوبصورت ہیں۔ مگر انباکس کے کھاتے میں کالے کرتوت لیے ہوئے ہیں تو آپ غصہ نہ کیجئیے۔ برداشت کیجئیے ویسے ہی جیسے ہم جب سے کنویں سے نکل کے شہر دیکھنے نکلے ہیں تب سے روشنیاں کم اور اندھیرے زیادہ دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے ساتھ مل کر روشنیاں جلائیں اندھیرے مت بڑھائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *