عمران خان کیوں گھبرا رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خوش بختی اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھا سکتی ہے مگر امور سلطنت چلانے کے لئے فقط صلاحیت ہی درکار ہوتی ہے۔

”وزیراعظم عمران خان اسمبلیاں توڑ دیں گے“ اس جملے کی بازگشت ایک بار پھر سنائی دینا شروع ہو گئی ہے۔ چند دن پہلے ہی وزیراعظم نے اپنے ڈھائی سالہ مدت اقتدار کو عہد آفریں قرار دیا تھا اور پھر کچھ ہی دن بعد اسد عمر کے ذریعے اسمبلیاں توڑنے کی خواہش نے یکایک بہار کے موسم میں خزاں جیسا تاثر پیدا کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اس ارادے کا اظہار پہلی بار نہیں ہے۔ اس پر مزید بات کرنے سے پہلے خوشاب میں ہوئے ضمنی انتخاب اور الیکشن کمیشن کی عمدہ منصوبہ بندی کی تعریف کرنا بہت ضروری ہے۔ کراچی کے این اے 249 سے کئی گنا وسیع رقبہ پر پھیلے خوشاب کے حلقہ پی پی 84 میں انتظامات کی عمدگی بیان کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ کراچی کے حلقہ این اے 249 کے برعکس پہلی بار جیتنے والے اور ہارنے والے دونوں مطمئن نظر آئے۔

اسمبلیاں توڑنے کی بات کی جائے تو گزشتہ سال کے آغاز میں بھی ایسی ہی افواہیں سنائی دی تھیں اور پھر گزشتہ مارچ میں عمران خان کے استعفیٰ دینے کی بات بھی سامنے آئی جس کا ذکر میں نے اپنے کالم ”کپتان کا استعفیٰ۔ افواہوں کے درمیان چھپی حقیقت“ میں تفصیل سے کیا تھا۔ ایک باخبر دوست کے مطابق واقعہ کچھ یوں تھا کہ عمران خان لاک ڈاؤن کے حامی نہیں تھے اور جب ایک بڑے انتظامی افسر نے انھیں بتایا کہ لاک ڈاؤن کی سمری بھجوانے کا پیغام پنڈی سے آیا ہے تو وزیراعظم نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر سب معاملات ’انہوں‘ نے ہی چلانے ہیں تو پھر میں استعفیٰ دے دیتا ہوں ”۔ اس بار بھی یہ افواہیں تیس اینکرز کے ساتھ ’سات گھنٹے والی طویل ملاقات‘ کے بعد منظرعام پر آئی ہیں جس میں مبینہ طور پر یہ کہا گیا کہ اگر کوئی ڈیلیور نہیں کرتا اور اپنے وزن سے گرتا ہے تو اسے ہم پر نہ ڈالیں۔ یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔

اسمبلی ٹوٹنے کی بات کو اس بار افواہ نہیں کہا جا سکتا۔ پہلے اہم وفاقی وزیر اسد عمر کے حوالے سے خبر سامنے آئی کہ وزیراعظم اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں اور پھر پاور بروکرز کے قریب سمجھے جانے والے کچھ میڈیا اینکرز نے بھی ”ٹھوس“ اطلاعات کی بنیاد پر یہی دہرایا۔ دوسری جانب دو آرڈیننسز کے ذریعے یک طرفہ طور پر من پسند انتخابی اصلاحات نافذ کرنے کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔ اپوزیشن کی رضامندی کے بغیر حکومتی جلدبازی صورتحال مزید کشیدہ کرنے کا سبب بنے گی۔ تحریک انصاف جتنی پھرتیاں انتخابی اصلاحات کے لئے دکھا رہی ہے کاش نظام انصاف میں اصلاحات کے لئے بھی ایسے ہی پرعزم ہوتی تو نہ صرف اپنے نام کا بھرم رکھتی بلکہ عام آدمی بھی مستفید ہوتا۔ دوسری جانب خارجی سطح پر بھی معاملات خاصے گمبھیر نظر آ رہے ہیں۔

یورپی یونین میں ہمارے خلاف قرارداد منظور ہونا اس حکومت کی بہت بڑی سفارتی ناکامی کہلائے گی۔ جون میں ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستان کے حوالے سے پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ ریاستی اقدامات اس ضمن میں قابل تعریف ہیں مگر یورپی یونین کی حالیہ قرارداد کے بعد صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے یہ حکومت کے لئے بہت اہم ہو گا۔ دوسری جانب ہماری دفاعی قوتوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد کی صورتحال ان کے لئے اہمیت کی حامل ہے۔

چند دن پہلے افغان صدر اشرف غنی کا مغربی میڈیا میں ایک مضمون چھپا ہے جس میں وہ افغان طالبان کے کردار سے متعلق پاکستان کو اچھے اور برے دونوں حوالوں سے تنبیہ کرتے نظر آئے۔ انخلاء کے بعد افغانستان میں امن کے حوالے سے افغان طالبان کا رویہ کیا ہو گا اس حوالے سے سب گومگو کی کیفیت کا شکار ہیں۔ سعودی عرب اور چین کے حوالے سے موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کا رویہ اپنے پیشرو ٹرمپ سے یکسر مختلف ہے۔ ہماری دفاعی قوتیں بھارت کے ساتھ ازسرنو تعلقات قائم کرنا چاہ رہے ہیں جبکہ عمران خان انڈیا کے حوالے سے کچھ فیصلے کرنے سے بھی ہچکچا رہے ہیں۔ حال ہی میں بھارت سے چینی درآمد کے معاملے پر انھیں خاصی ہزیمت اٹھانا پڑی۔ بات طویل ہو جائے گی واپس اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔

اندرونی حالات کی بات کی جائے تو آدھی مدت گزرنے کے بعد حکومت کی پذیرائی بڑھنی چاہیے تھی مگر اپنے اقدامات سے حکومت آہستہ آہستہ ڈھلوان راستے سے پسپائی کی جانب جا رہی ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ گزشتہ انتخابات میں عمران خان کو ایک نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا جو چشم زدن میں تمام مسائل حل کر سکتا ہے۔ سابقہ حکومتوں کو چور اور لٹیرے قرار دے کر یہ امید بندھائی گئی تھی کہ مغل بادشاہ بابر کی طرح نہ صرف وہ خود مشکلات کا دریا تیر کر پار کریں گے بلکہ عوام کو بھی اس ریگزار سے نجات دلائیں گے۔

اسی لئے خلق خدا نے بھی انھیں مسیحا سمجھ لیا تھا مگر توقعات کے برعکس تعمیری کام کی بجائے عمران خان نے ”این آر او نہیں دوں گا“ اور ”کسی کو نہیں چھوڑوں گا“ کی گردان سے احتساب نما انتقام کا ایسا سلسلہ شروع کیا جس سے ہر شعبہ رجعت قہقری کا شکار ہو چکا ہے۔ مزید براں حالیہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی پے در[پے شکست سے یہ تاثر مضبوط ہو چکا ہے کہ ’چوروں اور لٹیروں‘ والا بیانیہ اپنا اثر کھو چکا ہے۔ گمان کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اسمبلیاں توڑنے سے فائدہ کی بجائے نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کی بات کی جائے تو وہاں بھی حکومت کو گھر بھیجنے کے حوالے سے یکسوئی نظر نہیں آ رہی۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں (مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی) حکومت کے خاتمے پر متفق ہیں مگر طریقۂ کار پر اختلافات رکھتی ہیں۔ حکومت خاتمے کی تین طریقے ہیں اور تین ہی فریق ہیں۔

نمبر 1 عمران خان خود اسمبلیاں توڑ دیں، نمبر 2 عمران خان کسی بھی آئینی فورم سے نا اہل ہو جائیں اور نمبر 3 اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لے آئے۔

خارجی معاملات کے سبب فریق اول ہماری اسٹیبلشمنٹ فوری اسمبلی کی تحلیل نہیں چاہتی، پیپلز پارٹی بھی یہی چاہتی ہے کہ عدم اعتماد سے اس حکومت کو گھر بھیجا جائے اور بقیہ مدت کے لئے ایک عارضی حکومت قائم کی جائے مگر مسلم لیگ نون اس طریقہ کی حامی نہیں۔ مسلم لیگ نون کی حکمت عملی پر غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ پہلے دو طریقوں سے حکومتی رخصتی چاہتے ہیں۔ گو کہ عدم اعتماد بھی ایک جمہوری طریقہ ہے مگر جب تک کوئی حکومتی اتحادی جماعت یا تحریک انصاف کا کوئی بڑا دھڑا علی الاعلان حکومت سے اپنی راہیں جدا نہ کرے وہ اس طریقۂ بے دخلی پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ ان کی جدوجہد کا محور پاور بروکرز کی سیاست میں مداخلت ختم کرنا ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کوئی بھی عدم اعتماد پاور بروکرز کی حمایت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔

گزشتہ چند سالوں میں اداروں کی سیاسی مداخلت کے حوالے سے بھی بہت نکتہ چینی ہو رہی ہے۔ اداروں کو سمجھنا چاہیے کہ یہ تاثر ان کی ساکھ مجروح کر رہا ہے، جلد یا بدیر انھیں اپنے آئینی کردار تک ہی محدود ہونا پڑے گا۔ بہتر ہے تمام فریقین اس حوالے سے مکالمہ کریں مگر افسوس کسی جانب سے بھی کوئی پیشرفت نظر نہیں آ رہی۔ بقول عرفان صدیقی صاحب

ایک سناٹا مسلسل ڈس رہا ہے شہر کو
ایسا لگتا ہے کہ کوئی حادثہ ہونے کو ہے

عمران خان اسمبلیاں توڑیں یا مدت پوری کریں مگر حالات ان کے لئے موافق نظر نہیں آتے۔ چند ماہ پہلے بھی لکھا تھا کہ وقت ان کے ہاتھ سے سرک رہا ہے اس لیے ہر وقت ہاتھ میں تسبیح گھمانے پر ہی زور نہ رکھیں بلکہ کارکردگی پر بھی توجہ دیں۔ عوام کو سہولیات دیتے تو آج گھبراہٹ میں اسمبلیاں توڑنے کی بات نہ کرتے۔ اس سے پہلے کہ مزید وقت گزر جائے انھیں اپنی توجہ عوام مسائل حل کرنے پر رکھنی چاہیے ورنہ عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے۔ بقول شاعر

رہنماؤں کو نہیں خود بھی پتا رستے کا
راہ رو پیکر حیرت ہے خدا خیر کرے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *