ایمرجنسی مریضوں کے لئے مفت علاج معالجہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں مفت علاج معالجے کا عوام کو ایسا سبز باغ دکھایا جا رہا ہے جو ہمیشہ سبز باغ ہی رہا۔ عوام نہ تو کبھی سرکاری ہسپتالوں سے مطمئن ہوئے اور نہ ہی ہیلتھ کارڈ یا انصاف کارڈ ان کے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔ عوام شکایت کرنے میں حق بجانب ہیں اور ہسپتال والوں کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ اس طرح حکومت کی اگر میں ترجمانی کروں تو کہوں گا کہ حکومت مفت علاج معالجے کا معاشی بوجھ برداشت ہی نہیں کر سکتی۔ تو مسئلے کا حل کیا ہے؟ اس کے لئے تفصیل میں جائزہ لینا ہو گا۔

دنیا میں اس وقت صرف انتیس ممالک عوام کو مفت علاج معالجے کی سہولت مہیا کر رہے ہیں۔ امریکہ جیسی سپر پاور ان میں شامل نہیں۔ معاشی اعتبار سے مضبوط ممالک ہی یہ بوجھ برداشت کر سکتے ہیں اور پاکستان کا شمار تو فی الحال کسی گنتی میں نہیں۔ اگر چہ ہمارے حکمرانوں نے شروع سے ہی یہ نعرہ لگا رکھا ہے حقیقت میں جس کی ہماری معیشت اجازت نہیں دیتی۔ لوگ ہسپتالوں میں خوار ہوتے رہتے ہیں۔ کوئی سہولت ملتی ہے نہ ہی کوئی پرسان حال ہوتا ہے حتی کہ مفت میں کنسلٹینسی بھی نہیں ملتی۔ صاحب حیثیت لوگ نجی ہسپتالوں کی لوٹ مار کا شکار ہوتے ہیں ( الا ماشا اللہ کچھ اچھے بھی ہیں ) اور غریب یا تو خیراتی اداروں کا رخ کرتے ہیں یا سسکتے رہتے ہیں یا پھر ڈھیروں نجی قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔

مفت علاج معالجے کا مطلب ہے مریض ہسپتال پہنچے اور شفایاب ہونے تک اس کو کچھ بھی جیب سے خرچ نہ کرنا پڑے۔ تمام لیبارٹری اور ریڈیالوجی کی سہولیات مفت ہوں، ماہر ڈاکٹروں کا معائنہ مفت ہو، دوائیاں تمام تر مفت ہوں اور اگر مریض کو داخلہ کی ضرورت ہو تو بلا چوں و چراں اسے داخل کیا جائے یا ایمرجنسی نہیں ہے تو تاریخ داخلہ دے دی جائے، اسی طرح آپریشن سے متعلقہ ادویات اور ہسپتال کی دیگر سہولیات سب مفت ہوں۔ یہ ہوتا ہے مفت علاج۔

ہمارے ہاں تو مریض آپریشن ٹیبل پر ہوتا ہے اور لواحقین کیمسٹ شاپ کے چکر لگاتے ہلکان ہو جاتے ہیں۔ خود ہی اندازہ لگائیے کیا حکومت کی کمزور معاشی صورت حال ہر شہری کے لئے مفت علاج معالجے کی سہولت برداشت کر سکتی ہے؟ یہ سہولت تو ہم سے معاشی طور پر مضبوط ممالک بھی اپنے عوام کو نہیں مہیا کر سکتے جبکہ ان کی آبادی بھی کم ہے تو ہم بائیس کروڑ عوام کو کیسے مفت علاج معالجے کی سہولت دے سکتے ہیں؟ اس لئے مفت علاج معالجہ کی بجائے مفت ایمرجنسی علاج معالجے کا پرچار کریں اور اہتمام بھی کریں۔

ہمارے ہاں تو یہ عالم ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں بھی مفت طبی سہولت میسر نہیں آتی۔ ابھی تو لواحقین حادثے کے صدمے سے باہر نہیں نکل پاتے کہ ادویات و لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے ان کی دوڑیں لگ جاتی ہیں۔ بعض اوقات ضروری دوائی نہیں ملتی اور پورا شہر چھاننا پڑتا ہے۔ بہت سوں کی مالی حالت اتنا خرچ برداشت نہیں کر سکتی اور وہ قرض لے کر اس ابتلا کے دور سے گزرتے ہیں اور یوں حادثاتی صدمے کے ساتھ قرض کے بوجھ تلے بھی دب جاتے ہیں۔

اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ہمارے حکمران اپنی تشہیر سے دستبردار ہوں اور پورے اخلاص اور درد دل کے ساتھ عوام کے لئے محدود میسر وسائل کے اندر رہتے ہوئے کچھ بہتری لائیں۔ سب سے پہلے مفت طبی سہولت کا نعرہ ترک کر دیں۔ عوام کو نیا نعرہ دیں ”مفت طبی حادثاتی سہولت“ اس کے تحت ملک بھر میں ہر لیول کے ہسپتال میں ایمرجنسی مریضوں کے لئے ہر وقت ہمہ اقسام سہولیات و ماہر عملہ میسر ہونا چاہیے اور یہ تمام سہولت مفت ملنی چاہیے۔ مریض کی بہتری اپنی جگہ اس سے لواحقین کو ذہنی تسکین بھی ملے گی اور مشکل گھڑی میں اچھی سہولت میسر آنے پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے ساتھ حکومت کے بھی ممنون ہوں گے۔

دوسرا اہم کام یہ ہے کہ جب تک ہماری معیشت اجازت نہیں دیتی ادھوری ادویات دینے سے بہتر ہے کہ ہسپتال کے تمام شعبہ جات میں سوائے ایمرجنسی کے ادویات کی فراہمی بند کر دیں البتہ لیبارٹری کے تمام تر ٹیسٹ اور شعبہ ریڈیالوجی کی تمام انویسٹیگیشنز بشمول سی ٹی سکین و ایم آر آئی میسر ہونی چاہئیں تا کہ مرض کی تشخیص ہو سکے۔ عموماً مہنگے ٹیسٹ اور ایم آر آئی وغیرہ یا تو مریض پرائیویٹ طور پر کرواتے ہیں یا مالی حیثیت نہ ہونے کے سبب نہیں کرواتے اور تشخیص نہیں ہو پاتی۔ مزید براں ہر ریفرڈ مریض کی سپیشلسٹ ڈاکٹر تک یقینی رسائی ہونی چاہیے۔ اس کے لئے مزید بجٹ کی ضرورت نہیں صرف فعال انتظامیہ کی ضرورت ہے۔

اگر مفت حادثاتی علاج معالجے والی پالیسی اختیار نہیں کی جاتی اور مکمل طور پر مفت علاج معالجے کے جھوٹے نعرے پر بضد رہتے ہیں تو مریضوں کے حالات دگرگوں رہیں گے اور آدھا تیتر آدھا بٹیر والا اذیت ناک معاملہ جاری رہے گا، دکھی مریض سسکتے رہیں گے، ہسپتالوں میں شکایات کے انبار لگے رہیں گے، سر پھٹول ہوتی رہے گی۔

میں وضاحت کر دوں کہ مفت حادثاتی علاج معالجے سے میری مراد صرف ٹریفک ایکسیڈنٹ ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی ایمرجنسی ہے جیسے دل کا دورہ، پیٹ کا شدید درد جو بہت سے سرجیکل کیسز میں ہوتا ہے، مرگی کا دورہ، کسی بھی وجہ سے بے ہوشی، فالج کا حملہ، دوائی یا کسی چیز کا ری ایکشن، جل جانے والے مریض وغیرہ وغیرہ۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments