کیا بچے کے آٹیزم سے لڑنا ہے یا اسے قبول کرنا ہے؟
کچھ عرصہ پہلے ایک دوست کے توسط سے مجھے ایک صاحب نے پاکستان سندھ کہ کسی چھوٹے شہر سے فون پر رابطہ کیا جن کی بچی آٹیزم کی حامل تھی۔مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ ان کے شہر میں آٹیزم کے حامل بچوں کے لیے کوئی تعلیمی اور تربیتی سہولیات موجود نہیں تھی۔ بچی کی آٹیزم کی تشخیص کے لیے بھی کراچی جا نا پڑا تھا اور تھراپی یا تعلیمی سہولیات کے مشورے لینے بھی کسی بڑے شہر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
میں ایک پاکستانی نژاد کنیڈین اسپیشل ایجوکیٹر ہوں اور ٹورنٹو کینیڈا میں مقیم ہوں۔ پچھلے دس سالوں سے ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ کے لیے بطور اسپیشل ایجوکیٹر اپنے فرائض انجام دے رہی ہوں۔
میری پیشہ وارانہ ذمہ داریوں میں جسمانی و ذہنی معذوریوں کے حامل بچوں کی تعلیم اور تربیت کو یقینی بنانا شامل ہے۔ تاکہ ان کی بہترین نشوونما ہو سکے اور وہ ایک بھرپور زندگی گزاریں اور معاشرے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔
اسکے علاوہ میں ٹورنٹو میں جنوبی ایشا سے آنے والی مہاجر خواتین، معذور بچے اور ان کے والدین کو اپنی کمیونٹی میں موجود فلاح و بہبود کے اداروں میں کینڈین سپورٹ سسٹم کے متعلق معلومات فراہم کرنے کرتی ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اسپیشل نیڈز بچوں کے والدین کو بچوں کی تعلیم اور تربیت سے متعلق کاوئنسلنگ کی سہولیات بھی مہیا کرتی ہوں۔
آئیے اب تھوڑی سے بات آٹیزم کے بارے میں کرلیتے ہیں یہ تو ہم سب جانتے ہی ہیں کہ آٹیزم دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے بڑھنے والی معذوری ہے۔ اس وقت دنیا میں ہر 270 افراد میں سے ایک کو آٹیزم ہے۔
آٹیزم کوئی بیماری نہیں ہے اور اس ہی لیے اس کے حامل افراد کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ آٹیزم ایک معذوری ہے اور اس کے حامل افراد کو معاشرے میں سہولیات دے کر سہارا دیا جاتا ہے ہے۔ مختلف تھریپیز جیسے کہ speech and occupational therapies، sensory integration therapy بھی ان سہولیات کی ایک شکل ہے۔
مختلف سہولیات ان افراد کی صلاحیتوں کو اجاگر اور مشکلات سے نبٹنے کے لیے سہارا دیتی ہیں۔ آٹیزم کے حامل افراد کے حسی نظام کا کنکشن ان کے دماغ کے ساتھ کسی معمولی دماغ کے مقابلے میں مختلف انداز سے جڑا ہوتا ہیں۔ یعنی کہ ان کے دماغ کو سگنل بھیجنے والی تمام حسوں کا عمل عام دماغ کے مقابلے میں بالکل مختلف ہوتا ہے۔
جیسے کہ سونگھنے، سننے، دیکھنے۔ چکھنے، چھو کر محسوس کرنے کی حسوں کا انفارمیشن موصول کرنا اور اس انفارمیشن کو آگے دماغ کو پہچانے کا عمل ایک عام آدمی کے دماغ کے عمل کے مقابلے میں بالکل مختلف ہوتا ہے۔
اکثر یہ حسیں بہت زیادہ انفارمیشن ایک ساتھ موصول کرنے لگتی ہیں اور کبھی بہت کم یا دھیرے سے۔ اس لیے آٹیزم کے حامل افراد کو حسی نظام میں توازن رکھنے کے لیے بہت ساری سہولیات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
جیسے کہ عام لوگوں میں بھی جب کسی کی نظر کمزور ہوتو اسے چشمہ لگانا پڑتا ہے۔ یا چلنے کے لیے چھڑی یا ویل چیر استعمال کرنی پڑتی ہے۔ اسی طرح تھوڑی سی سہولیات ایک آٹیزم کے حامل فرد کی زندگی کو زیادہ سے زیادہ فعال بنا سکتی ہیں۔
آٹیزم کے حامل افراد میں حسی نظام میں عدم توازن کی وجہ سے ان کے رویے اور سیکھنے اور جذبات کے اظہار کے طریقے مختلف بھی ہوتے ہیں اور ان کو سماجی میل جول، بول چال اور حسی نظام میں مشکلات کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آٹیزم کے حامل بچوں اور بڑوں میں آٹیزم کے اثرات کے ساتھ معمول کے مطابق زندگی گزارنے کی صلاحیت کو تین حصول میں تقسیم کر کے دیکھا جاتا ہے۔
High functioning autism۔ 1 یعنی کے ان افراد میں آٹیزم کے باوجود زندگی کے عام تقاضے پورے کرنے کی صلاحیت کافی زیادہ ہے۔
2۔ moderate autism کے حامل افراد میں عام زندگی کے تقاضے پوری کرنے کی صلاحیت میڈیم ہوتی ہے
3۔ low functioning افراد میں یہ صلاحیت
بہت کم صلاحیت ہوتی ہے۔
درست سپورٹ، تعلیم و تربیت اور تھریپیز کے ذریعے ان تینوں اقسام کے حامل بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ اور ان کی نشوونما کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔
یہ ساری باتیں تقریباً ہر روز ہی میں کسی نہ کسی کو بتا رہی ہوتی ہوں۔ اور اندر کہیں میں سمجھتی ہوں کہ بطور والدین، اساتذہ تھریپسٹ ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم آٹیزم کے حامل بچوں کے سیکھنے کے طریقوں کے بارے میں معلومات کو زیادہ سے زیادہ عام کریں۔ اپنے بچوں کی دنیا کے بارے میں جانیں اور ان کو اپنی دنیا سے روشناس کرائیں۔
اگر پیدائش کے شروع چھ سال میں بچوں کو بالکل درست تشخیص اور سپورٹ مل جائے تو بچوں کے ہماری دنیا سے جڑنے کے چانسز بڑھ سکتے ہیں اور ہم بھی ان کی دنیا کے بارے میں جان کر اس میں داخل ہو سکے ہیں۔
آٹیزم اور اس کے حامل بچوں کی تعلیم و تربیت کے بارے میں اردو میں مفت معلومات فراہم کرنے کے لیے میں نے ایک فیس بک گروپ بنایا ہے۔ تاکہ دور سے ہی سہی کسی طرح اپنوں کی خدمت کر سکوں۔ اس گروپ کا نام ہے
Autism friendly education and community
https://www.facebook.com/groups/289937579392659/?ref=share
اگر آپ آٹیزم کے حامل بچوں کی تعلیم و تربیت کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو یہ گروپ جوائن کر سکتے ہیں۔
آئیے اچھے ماں باپ اور اساتذہ ہونے کا ثبوت دیں اور اپنے بچوں کی پرورش کے لیے آٹیزم کے بارے میں اور اس کے حامل بچوں کی تعلیم و تربیت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں۔


