ثمینہ کیوں چیختی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے لگتا ہے کہ گزشتہ مضمون میں میں نے قرآن کی اس آیت کا حوالہ دے کر جس میں سرکش ( بدزبان، کج بحث، تنک مزاج ) بیوی کو سمجھانے، بستر علیحدہ کیے جانے کے باوجود چیخنے سے باز نہ آنے پر کو پیٹے جانے تک کا حکم ہے، اپنے تئیں خود کو فیمینسٹ خیال کرنے والی خواتین کو اپنے درپے کر لیا ہے۔

ایک بزعم خود قرآن شناس خاتون نے فرما یا کہ قرآن میں ان بیویوں کو پیٹنے کا حکم ہے جو شوہر کی عدم موجودگی میں بے راہرو ہوتی ہیں حالانکہ ایسی بدکار عورتوں کے لیے یکسر دوسری آیت ہے جس میں انہیں پیٹنے کا بالکل حکم نہیں بلکہ سمجھانے اور تادم مرگ گھر میں بند کیے جانے کا حکم ہے۔

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی مجھ پر ارسال کی گئی مکمل پھٹکار یوں ہے :
آپ اسلام میں سے اپنی مرضی کی باتیں ہی دیکھنے کے کیوں عادی ہیں؟
آپ نے تین دفعہ عقد کیا اور دوسری کو تیسری بیوی کے بارے میں بتایا ہی نہیں، وجہ چاہے کچھ بھی ہو۔

اسلام دوسری اور تیسری شادی کی تب تک اجازت نہیں دیتا جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہ کیے جائیں اور انصاف کیسے ہو گا جب چھوٹی بیوی کی بڑی کے بارے میں علم ہے اور بڑی کو چھوٹی کا پتہ ہی نہیں۔

کیا اتنے برسوں تک کسی کو لاعلم رکھنا دھوکا نہیں؟ کیا اسلام اس انصاف کے زمرے میں رکھے گا؟

آپ نے ثمینہ کی زبان کی مثال دی، یہ نہیں لکھا کہ کیا ایسا کہہ دیا کہ ثمینہ کی زبان نہیں رک رہی؟ کچھ تو زک پہنچائی ہو گی نا۔

کیا زبان چپ کروانے کے لئے ہاتھ کے استعمال کو آپ مردانگی سمجھتے ہیں؟
آپ جیسے مردوں سے ہڈیاں تڑوانے سے بہتر ہے کہ عورت روکھی سوکھی کھا لے اور اکیلی گزارہ کر لے۔
خدا کا خوف کریں، پاکستانی مرد پہلے ہی بہت ہتھ چھٹ ہے، اوپر سے آپ روس میں بیٹھ کر سبق پڑھا رہے ہیں۔
گریبان میں جھانک کر دیکھ لیجیے پہلے کہ کیا اسلام کے مطابق آپ نے زندگی گزاری ہے؟

یا صرف عورتوں کی خبر لینے کا پروگرام بنایا ہے؟ ویسے مسوجنی کے بارے میں تھوڑا اور پڑھ لیں تو بہتر ہو گا۔

عرض یہ ہے کہ جس بارے میں بات کی جائے گی اگر قرآن کا حوالہ دیا جانا مقصود ہوگا تو متعلقہ آیت کا حوالہ ہی دیا جائے گا۔ اس میں میری پسند کا کیا لینا دینا؟ عورت کی بدزبانی کے ضمن میں نہ تو رجم سے متعلق آیت کا حوالہ دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی شرک و منافقت سے متعلقہ آیات کا۔

دوسرے انہوں نے میری ذاتی زندگی کو نشانہ تنقید بنایا ہے جو انہیں حق نہیں پہنچتا لیکن خیر چونکہ میں اپنے پردے آپ کھولتا ہوں اس لیے ان سے گلہ کیا کرنا محض اتنا کہنا کافی ہوگا کہ قرآن کی کسی بھی سورہ میں نہ تو مرد سے تقاضا کیا گیا ہے کہ وہ دوسری تیسری چوتھی خاتون سے منکوح ہونے سے پیشتر کسی بھی بیوی سے اجازت لے اور نہ ہی حکم دیا گیا ہے کہ اگلا نکاح بیوی کے علم میں لا کے کرے البتہ اخلاقی حوالے سے ایسا کیا جانا صائب ہوگا مگر شرعی فرض نہیں ہے۔

انہوں نے خاص طور پر کہا کہ آپ جیسے مرد سے ہڈیاں تڑوانے سے بہتر ہے کہ۔ ۔ ۔ تو محترمہ میں امن پسند شخص ہوں، میں کسی کی ہڈیاں کیا توڑوں گا شاید اپنی ہی تڑوا بیٹھوں۔

پوچھا کہ ثمینہ کیوں چیختی ہے؟ واضح کر دوں کہ میری کسی بھی اہلیہ کا نام ثمینہ نہیں ہے یہ فرضی نام تھا۔ میری سابقہ بیویوں کے نام میمونہ اور شولپان ہیں اور موجودہ کے نینا اور نازیہ۔ ثمینہ کیوں چیختی ہے؟ یہ سوال ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر میمونہ مرزا کا بھی ہے۔ تو آئیے دیکھتے ہیں کہ ثمینہ کیوں چیختی ہے؟ یاد رہے یہ رائے میری عارضی subjective رائے ہوگی اور اس میں میں ذاتی تجربے سے اخذ کروں گا۔ میمونہ چیختی تھی اور نازیہ چیختی ہے۔ نینا 27 برس میں کبھی نہیں چیخی، شولپان سے ربط ہی کم رہا۔

میں عام زندگی میں ابتدا سے سست الوجود، امن پسند اور قانع انسان رہا ہوں۔ یہ باتیں ہونے والی سبھی بیویوں پر بیاہ سے پہلے آشکار رہیں اور وہ ان سے مطمئن۔ دوسرے یہ کہ میں جائز آمدنی کے علاوہ ادھر ادھر سے کچھ نہ بنانے کے حق میں رہا۔ بیاہ سے پہلے محبت کے دوران لوگ ایک دوسرے سے نالاں ہوں تو محبت تمام اور مستقبل کا رشتہ قطع ہو جاتا ہے۔ چنانچہ شروع شروع میں سب ٹھیک رہا پھر چونکہ بیوی تعلیم سے اغماض برتنے لگی تھی اور میں تنخواہ کے علاوہ کمانے کے کچھ بھی اور جتن کرنے سے گریزاں رہا۔

میں اپنی ساری تنخواہ بیوی کے ہاتھ پہ دھر دیتا مگر آمدن و اخراجات میں تفاوت تھا چنانچہ ثمینہ نے کبھی کبھار چیخنا شروع کر دیا۔ بچہ پیدا ہو گیا۔ اخراجات بڑھنے لگے، بیاہتا طالب علم بیوی کی پڑھائی چھوٹ گئی۔ معاشی مشکلات سے بیوی کا پارا چڑھنے لگا۔ میں نے اپنے بارے میں، اپنے خیالات کے بارے میں، اپنی بائیں بازو کی سیاست کی سرگرمی کے بارے میں کوئی بات ہونے والی بیوی سے نہیں چھپائی، شادی سے پہلے آشکار کیا سب کچھ لگی لپٹی رکھے بنا۔

میں ایران کے محکمہ صحت سے منسلک ہو گیا۔ بچی پیدا ہو گئی۔ ایرانی ملاکریسی سے جھگڑا مول لے کر ملازمت کو خیر باد کہہ کے ملک لوٹ آئے۔ اہلیہ سسرالی قصبہ علی پور میں میرے پریکٹس کرنے سے رضامند نہ ہوئی تو ایک بالکل انجان قصبہ کوٹ ادو میں پریکٹس شروع کر دی۔ میں کھل کر بائیں بازو کی سیاست کرنے لگا جو اصل میں کمیونسٹ پارٹی کی سیاست تھی۔ شہر کے قدامت پرست لوگ مخالف ہو گئے، پریکٹس ٹھپ ہو گئی۔ ہم مریدکے منتقل ہو گئے۔

صنعتی علاقہ ہونے کی وجہ سے میں کمیونسٹ پارٹی کے حوالے سے مزدوروں کی سیاست میں زیادہ فعال ہو گیا۔ پریکٹس پہلے اچھی اور پھر خراب ہونے لگی۔ میں نہ مریض کی مرضی سے ڈرپس لگا کے کماتا نہ ان کی مرضی سے بلاوجہ ایکسرے کرتا اور نہ ہی ضرورت کے بغیر اپنڈکس اور سیزیرین آپریشن کرنے کو درست سمجھتا۔ یہ ذمہ داریاں نیم ڈاکٹر بیوی نے میری سرپرستی میں اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ ہمارے اختلافات بڑھنے لگے۔ میں کہتا کہ جو جائز ملتا ہے اس پر اکتفا کیا جائے مگر اسے بے تحاشا زیور بھی چاہئیں تھے، کار اور گھر بھی۔

یوں وہ چیختی رہی اور پھر مسلسل طلاق کا تقاضا کرنے لگی۔ میں اکتا کر کے روس چلا گیا اور پھر کہانی تمام ہو گئی البتہ میمونہ آج بھی میری دوست اور معاون ہے۔ اب چیخنے کا جواز ہی باقی نہیں رہا یعنی میاں بیوی ہونے کا جس میں دو محبوب افراد اپنی اپنی شناخت کھو بیٹھتے ہیں ویسے ہی جیسے پانی بن جانے کے بعد آکسیجن اور ہائیڈروجن یوں بیاہ کا بندھن ان دونوں لطیف اجزاء میں سے گزرتی بجلی کا سا کام کرتا ہے۔

مجھے عورتوں کی خبر لینے کی قطعی ضرورت نہیں کیونکہ عورتوں کی جانب سے میری مسلسل خبر لی جاتی ہے اور زبانی طور پر میں ان کی خبر کی خبر لیتا رہتا ہوں۔ میسوجنی عورت سے نفرت کا نام ہے اور میں عورتوں سے ہرگز متنفر نہیں ہوں بلکہ انہیں برابر کا انسان خیال کرتا ہوں۔ میں نے فیمینزم سے متعلق بہت زیادہ لٹریچر پڑھا ہوا ہے، مزید کی اس لیے ضرورت محسوس نہیں کرتا کیونکہ میں عورتوں کی حقوق کی لڑائی کو درست خیال کرتا ہوں لیکن مردوں کو نشانہ بنائے رکھنے میں توازن کا خواہاں ہوں۔

نازیہ یوں چیختی ہے کہ وہ بارہ برس میرا نینا کے ساتھ رہنا برضا برداشت کرتی رہی۔ ایک دو تین بچے جو اس کی اپنی خواہش کے مطابق ہوئے کو لیے لیے سب کام کرتی رہی۔ جب نینا پر یہ عقدہ کھل گیا اور اس نے مجھے دھتکار دیا محض اس لیے کہ بچوں کے ساتھ رہوں تو میرے ساتھ رہنے سے نازیہ کو بارہ سال کی رنجش یاد آنے لگی۔ نینا کی اچھائیوں کو یاد کرنے اور ان کا ذکر کرنے سے میں باز نہیں آ سکتا باوجود اس کے کہ نینا نے مجھے مشورہ دیا کہ نازیہ کے سامنے اس کی تعریف نہ کی جائے۔

مجھے چھوٹے بچوں کے ساتھ رہنے کی عادت نہیں اور بچوں اور نازیہ کو باپ اور شوہر کے ساتھ رہنے کی عادت نہیں رہی۔ وہ بچوں کی شرارت پر میرا انہیں ڈانٹنا برداشت نہیں کر پاتی اور مجھے برداشت نہیں کہ وہ بچوں کے ساتھ ظالم ماں کا سا برتاو کرے اور مسلسل سب و شتم کرے اور پیٹے۔

اس کو خواہش تھی اور ہے کہ اس کا شوہر فعال، گھر کے تمام کام کرنے میں معاون اور اس کے آگے پیچھے پھرنے والا ہوتا۔ میں اس عمر تک پہلے لاڈلا بیٹا پھر میمونہ اور نینا کی جانب سے اپنی ناز برداریاں کرانے کا عادی۔ وہ چاہتی ہے کہ میں ستر برس کی عمر میں بھی کمانے کے جتن کروں جبکہ میں جانتا ہوں کہ اس عمر میں ماسوائے پاکستان میں میڈیکل پریکٹس کرنے کے جو کورونا کے سبب ممکن نہیں اور کوئی راستہ نہیں کیونکہ ماسکو میں تو اس عمر میں چوکیداری ہی مل سکتی ہے۔ یوں ثمینہ چیختی ہے۔ ہاتھ اٹھانے کے بارے میں تو نازیہ کہہ چکی تھی کہ اس سے بہتر ہے طلاق دے دینا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments