EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

پاکستان میں جبری گمشدگی کا معاملہ: ’جس طرح میرا بھائی گھر لوٹا ہے کاش باقیوں کے رشتہ دار بھی ایسے ہی گھر پہنچ جائیں‘

سحر بلوچ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عیدالفطر کے تہوار میں تو ابھی چند دن باقی ہیں لیکن بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سریاب سے تعلق رکھنے والی حسیبہ قمبرانی کی تو مئی 2021 کے ابتدائی ہفتے میں ہی اس وقت عید ہو گئی جب پہلے ان کے جبراً لاپتہ کیے گئے چچازاد بھائی حزب اللہ اور پھر سگے بھائی حسان قمبرانی ایک برس سے زیادہ عرصے کی گمشدگی کے بعد گھر لوٹ آئے۔

ان دونوں کی بازیابی کے لیے انتہائی سرگرمی سے مہم چلانے والی حسیبہ نے سوشل میڈیا پر تصاویر لگا کر ان کی واپسی کی تصدیق کی اور کہا ‘میں اس وقت بتا نہیں سکتی کہ میں کتنی خوش ہوں۔ میں ان سب دوستوں کی شکر گزار ہوں، جنھوں نے ہماری مدد کی’۔

حسیبہ کے بھائی حسان قمبرانی اور ان کے چچازاد بھائی حزب اللہ کو 14 فروری 2020 کو کوئٹہ شہر میں کلی قمبرانی سے جبری طور پر اٹھایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان کے لاپتہ افراد کی واپسی میں تیزی: ’اچھی پیشرفت‘ یا ’سیاسی ضرورت‘

’جس کا میں نے 33 سال انتظار کیا، وہی مجھے نہیں پہچان پا رہا‘

چار لاپتہ بیٹوں کی راہ تکتی جان پری

’قاتلوں کی پیشیاں برسوں چلتی ہیں مگر ہمارے بچوں کو دو پیشیوں بعد مار دیا گیا‘

’میری امی آدھی بیوہ کی طرح زندگی گزار رہی ہیں‘

جبری گمشدگی کے وقت حسان قمبرانی پریسٹن یونیورسٹی اسلام آباد میں زیر تعلیم تھے جبکہ حزب اللہ قمبرانی کوئٹہ میں ڈگری کالج میں بی اے کے طالب علم تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حسیبہ نے کہا کہ ‘میری بس یہ دعا ہے کہ جس طرح میرا بھائی گھر لوٹا ہے اسی طرح باقیوں کے رشتہ دار اور لواحقین بھی گھر پہنچ جائیں’۔

صدف شوہر کی راہ تکتے تکتے دنیا سے چلی گئی

تاہم تمام لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی قسمت حسیبہ جیسی نہیں۔ حسیبہ کے بھائی کی واپسی پر انھیں ملنے والی مبارکبادوں کا سلسلہ ابھی تھما نہیں تھا کہ آٹھ مئی کو یہ خبر سامنے آئی کہ اگست 2018 میں خیبر پختونخوا کے علاقے بالاکوٹ سے لاپتہ ہونے والے صحافی مدثر محمود نارو کی اہلیہ صدف ان کی راہ تکتے تکتے دنیا سے ہی چلی گئی ہیں۔

مدثر اپنی گمشدگی کے وقت اپنی اہلیہ اور بچے کے ہمراہ شمالی علاقہ جیت کی سیر پر گئے ہوئے تھے اور ان کے لاپتہ ہونے کے بعد سے ان کی اہلیہ ان کی بازیابی کے لیے چلائی جانے والی مہم کا اہم حصہ تھیں۔

مدثر نارو کی بازیابی کے لیے سرگرم افراد نے صدف کی وفات کی خبر شیئر کرتے ہوئے ایک بار پھر وزیراعظم عمران خان اور انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری سے اپیل کی ہے کہ مدثر کو فوراً رہا کیا جائے تاکہ وہ اپنی اہلیہ کی آخری رسومات میں شریک ہو سکے اور اپنے اس بچے کی دیکھ بھال کر سکے جو اب ماں اور باپ دونوں کی شفقت سے محروم ہو چکا ہے۔

مدثر نارو کے بھائی مجاہد محمود نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہماری بھابھی پچھلے ڈھائی سال سے پریشان تھیں۔ آپ خود دیکھیں، ان کے شوہر ڈھائی سال سے لاپتہ ہیں اور کچھ پتا نہیں کس حالت میں ہیں، اور کب لوٹیں گے۔ اس دوران ان پر کیا بیتی ہوگی اس کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے’۔

چار سال سے والد کی تلاش مگر خوف ہے کہ مجھے بھی نہ اٹھا کر لے جائیں‘

ضلع خیبر کے علاقے جمرود کے احسان گل آج بھی پُرامید ہیں کہ ان کے بزرگ والد خانِ مولا صحیح سلامت واپس آ جائیں گے۔

66 برس کے خانِ مولا کو 29 جولائی 2016 کو ان کے حجرے سے اٹھایا گیا تھا۔ احسان گُل اپنے والد کی تلاش میں مختلف اداروں سے رجوع کرچکے ہیں لیکن ابھی تک انھیں کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

‘میں چار سال سے اپنے والد کی تلاش میں مصروف ہوں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کو خود نہیں پتا کہ ان چار برسوں میں میرے والد کو کس حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے’۔

احسان کی جانب سے زیادہ معلومات تک رسائی نہ حاصل کرنے کی بنیادی وجہ خوف ہے یعنی جہاں حسیبہ قمبرانی کی اپنے بھائیوں کی بازیابی کے لیے روتے ہوئے درخواست کرتی ویڈیو ہر جگہ دیکھی اور سنی گئی اور زیرِ بحث رہی، وہیں احسان گُل اپنے والد کی بازیابی کے لیے خوف کے مارے کچھ نہیں کر پا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘میں نے ان چار برسوں میں سکیورٹی اہلکاروں سے اور اداروں سے اس ڈر سے بات نہیں کی کہ کہیں مجھے بھی نہ اٹھا کر لے جائیں’۔

پاکستان

Getty Images

حکومتی اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

پاکستان میں جبری طور پر گمشدہ افراد کی بازیابی اور انکوائری کے لیے مارچ 2011 میں بنائے گئے وفاقی کمیشن کے دس برس کے اعداد و شمار رواں سال چار مئی کو جاری کیے گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، کمیشن کو رواں برس 30 اپریل تک جبری گمشدگی کے 7802 کیسز موصول ہوئے تھے، جن میں سے 5206 کیسز نمٹائے جا چکے ہیں اور اس وقت 2337 کیسز زیرِ تفتیش ہیں۔

کمیشن کی طرف سے بتائے گئے اعداد و شمار کے مطابق 325 افراد کا پتا لگا لیا گیا ہے، جن میں سے 312 اپنے گھر پہنچ چکے ہیں جبکہ 13 افراد حراستی مراکز میں غداری، جاسوسی اور دیگر الزامات میں قید ہیں۔

اسی طرح اسلام آباد اور کوئٹہ میں کمیشن نے جبری گمشدگی کے 477 مقدمات سنے جن میں سے 307 مقدمات کی سماعت کوئٹہ اور 173 سماعتیں اسلام آباد میں ہوئیں۔

حقائق اور مفاہمت پر مبنی کمیشن کا مطالبہ

اکثر و بیشتر پاکستان کے مختلف شہروں، خاص طور سے کراچی اور کوئٹہ میں، گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ ان احتجاجی مظاہروں میں زیادہ تر لواحقین کا مطالبہ ان گمشدہ افراد کو عدالتوں میں لانے کا رہا ہے۔

کراچی میں کئی روز تک شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے لواحقین کی بازیابی کے لیے احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے رہے، لیکن کچھ دنوں بعد نمائش کے پاس سے یہ دھرنا بھی ختم کردیا گیا۔ ان لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کے بھائیوں کو شام اور عراق میں مزارات کی حفاظت اور داعش کے خلاف لڑنے کے شبہات پر جبری طور پر اٹھایا گیا ہے۔

اس کے بارے میں حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ کراچی میں دھرنے کی بنیادی وجہ یہ مطالبہ تھا کہ حقائق اور مفاہمت پر مبنی ایک کمیشن بنادیا جائے، جس سے شیعہ افراد پر ہونے والے تمام تر حملوں کی تحقیق اور اس سے متعلق سچ سامنے لایا جائے۔

اسی طرح کا ایک مطالبہ پشتون تحفظ موومنٹ کے بانی منظور پشتین نے بھی تین سال قبل لاہور میں کیے گئے اپنے جلسے میں کیا تھا، جس کے تحت ان کا مطالبہ تھا کہ 9/11 سے اب تک افغانستان کے نزدیک موجود قبائلی علاقوں میں پشتونوں کے خلاف اب تک ہونے والے تمام تر جرائم کا پتا لگایا جائے۔

لیکن جہاں بڑے شہروں سے لوگوں کی جبری گمشدگی سے منسلک خبریں یہاں موجود پریس کلب پر ہونے والے احتجاج کے ذریعے سامنے آتی رہتی ہیں، وہیں خیبر ایجنسی اور پختونخوا کے دیگر علاقوں کے بارے میں زیادہ معلومات سامنے نہیں آتیں اور صحیح معلومات نہ ملنے کی صورت میں معاملات کی تہہ تک نہیں پہنچا جاتا۔

لاپتہ افراد

BBC
لاپتہ افراد کی مدد کے لیے قائم کمیشن کا دعویٰ ہے کہ اب تک 205 افراد کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کی لاشیں ملی ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کی تعداد کئی گنا زیادہ بتاتی ہیں

کیسز ریکارڈ کرنے کا خوف

اگر کمیشن کے اعداد و شمار کو دیکھیں تو ان میں بھی ایسے کیسز کی تعداد زیادہ بنتی ہے جن کو بعد میں ‘ڈسپوزڈ آف’ یعنی نمٹائے جانے والے کیسز کی فہرست میں ڈال دیا جاتا ہے۔ لیکن ان کیسز کو ختم کرنے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں، یہ کہیں بھی واضح نہیں کیا گیا ہے۔

اسی طرح کمیشن کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق، خیبر پختونخوا میں جبری گمشدگی کے کیسز ہر بار کی طرح سرِ فہرست رہے ہیں۔ اپریل 2021 تک صرف پختونخوا سے جبری گمشدگی کے 3032 واقعات درج کیے گئے ہیں جبکہ 1457 کیسز زیرِ تفتیش ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کی 2020 کی رپورٹ ‘سٹیٹ آف ہیومن رائٹس اِن 2020’ کے مطابق دسمبر 2020 تک صرف پختونخوا سے 2942 واقعات درج کیے گئے تھے۔

جبکہ اسی صوبے سے جبری طور پر اٹھائے گئے محقق اور سماجی کارکن ادریس خٹک کی گمشدگی کے بارے میں رپورٹ میں تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ‘گمشدگی کے چھ ماہ بعد جون 2020 میں وزارتِ دفاع نے بتایا کہ ادریس خٹک غداری کے مقدمے میں ان کی تحویل میں ہیں۔’

اسی رپورٹ میں حکومتی کمیشن پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ حکومتی کمیشن کی رپورٹ زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتی۔

’جن لوگوں نے انھیں اٹھا کر بغیر کسی ثبوت کے تحویل میں رکھا، ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟’

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی کونسل ممبر زہرہ یوسف نے کہا کہ ‘جبری طور پر گمشدہ کیے گئے افراد کے کمیشن کی کارکردگی صحیح نہیں رہی ہے۔ اور اس کمیشن کو ختم کرکے جبری گمشدہ افراد کے کیسز کی ذمہ داری ایک آزاد ادارے جیسا کہ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس یا خواتین کے لیے بنائے گئے ادارے کو دے دینی چاہیے۔’

انھوں نے کہا کہ ‘لوگوں کا اعتماد نہیں ہے اس کمیشن میں کیونکہ اس کے سربراہ نیب کے بھی چییرمین ہیں۔ پھر یہ کہہ دینا کہ مقدمہ ختم کردیا گیا ہے کیونکہ گمشدہ شخص واپس گھر پہنچ چکا ہے، یہ بھی صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ پھر ادارے نے کیا تفتیش کی کہ یہ شخص کیوں اٹھایا گیا تھا اور اتنا عرصہ کہاں تھا اور جن لوگوں نے انھیں اٹھا کر بغیر کسی ثبوت کے تحویل میں رکھا، ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟’

دوسری جانب، پیرس پرنپسل کے تحت بنایا گیا نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کا ادارہ ہے پچھلے دو برس سے بند پڑا ہے۔

یہ کمیشن خود مختار اور غیر جانبدار ہےاور جس کا کام پاکستان کی عدالتوں میں جاری انسانی حقوق کے مقدمات پر تحقیق، یا عدالتی ازخود نوٹس کے مقدمات پر نظرثانی کرنا، لواحقین کی طرف سے جمع کروائی گئی پٹیشن کی جانچ پڑتال اور اس کے حوالے سے اپنی سفارشات دینا شامل ہے۔

سنہ 2019 میں اس کمیشن کے چیئرمین کی آسامی کو بھرنے کے لیے اُس سال مارچ میں اشتہارات بھی دیے گئے لیکن درخواست جمع کرانے کی تاریخ بغیر کسی پیشرفت کے اپریل میں ختم ہو گئی۔

لیکن ان دو برسوں میں نہ صرف اس کمیشن کے چیئرمین کی تقرری نہیں کی جا رہی ہے بلکہ اس بارے میں پاکستان کی حکومت کسی قسم کا جواب دینے سے بھی قاصر رہی ہے۔ اس کے بارے میں زہرہ یوسف نے کہا کہ ‘جس طرح سے حکومت چل رہی ہے نہیں لگتا کہ یہ کمیشن فعال ہوگا۔’

انھوں نے کہا کہ جب تک جبری گمشدگی کو ناجائز قرار دینے والے بِل کی منظوری نہیں ہوتی، تب تک آواز اٹھانا اور تنقید کرتے رہنا چاہیے، اور منظوری کے بعد بھی اس پر کڑی نظر رکھنی ہو گی’۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 20012 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp