راجہ میر نواز میر بنام سرکار حاضر ہو!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اپنے دوست راجہ میر نواز میر کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اصلی باپ یعنی بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کریں اس کے بہت سارے فائدے ہوسکتے ہیں اول یہ کہ شمولیت کے ساتھ ہی باپ گلگت بلتستان یونٹ کا صدر بنے گا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ باپ اسلام آباد میں حکومت کے اتحادی جبکہ بلوچستان میں حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کے حکمران جماعت بلوچستان میں باپ کے اتحادی ہیں۔ جبکہ مقتدر حلقوں میں آپ چہیتے تسلیم ہوں گے اور بہت جلد کسی اہم عہدے پر فائز ہوں گے۔

آپ کا پیغام بلوچستان کے وزیر اعلیٰ تک پہنچانے کے لیے ہم چھوٹی چڑیا کے صحافی Bayazidkhan kharoti سے ہم اپیل کریں گے کہ وہ ایک انٹرویو کا اہتمام کریں۔

اب تک کے حالات و واقعات کے بعد ہم مزید برداشت نہیں کر سکتے ہیں کہ آپ کو شدید ترین محنت و مشقت یعنی پارٹی کے دفاع میں پریس کانفرنس، ریلیاں، دھرنے میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض، ہندوستان مردہ ریلی میں خطاب سمیت دیگر خدمات کے بدلے ایک مشیری نہ ملے۔

ہم مقتدر حلقوں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ راجہ میر نواز میر کو ٹکٹ سے محروم رکھا گیا، مخصوص نشستوں میں بھی حیلے بہانوں سے ہمارے دوست کو نظر انداز کیا گیا، کنٹیجنٹ ترجمان، ڈیلی ویجز کوآرڈینیٹرز میں بھی نام شامل نہ ہو سکا۔

اب مزید انتظار مت کرائیں، گلگت بلتستان کونسل کے الیکشن میں راجہ میر نواز میر کو اس کا جائز حصہ دیا جائے ورنہ۔ ورنہ ہمارے دوست پریس کانفرنس پہ گزارا نہیں کرے گا وہ مزاحمت کریں گے چاہیے وہ چند دن یا گھنٹوں کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔

راجہ میر نواز میر بھی ”بوری بند جماعت“ میں شامل ہوسکتے تھے مگر اس نے سمجھا کہ یہ لوگ ریاست کے نظر میں وفادار نہیں۔

راجہ میر نواز بھی کسی کالعدم جماعت کا سرغنہ بن سکتے تھے ( نہ ہوتے ہوئے بھی سزا بھگتتا ہے ) ۔

ہمارے دوست بھی اپنے حلقے میں حکمران جماعت کے امیدوار کے خلاف کھڑے ہو کر اپنے خاندان کے ہونہار فرزند و معروف وکیل اور ہمارے محسن راجہ شکیل احمد کے ساتھ کھڑے ہوسکتے تھے ( سیاسی طور پر ہم راجہ شکیل سے متفق نہیں ہے لیکن ہمارے اوپر اس کے احسانات ہیں جن کی قیمت ہم ہرگز ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں ) مگر میر نواز میر نے اپنی پارٹی کا ساتھ دیس جس حالت میں دیے اس کا ہمیں اندازہ اور احساس بھی ہے۔ ( میرے خیال سے میر نواز نے دیگر غلطیوں کے ساتھ ساتھ یہ بڑی غلطی بھی کر ڈالا ) ۔

اب بھی وقت ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید (غذر کے محرومیوں کا ازالہ) کرنے کے لیے راجہ میر نواز میر کو مشیری یا کسی اور عہدے پر فائز کریں۔

ہم ریاستی اداروں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے آج تک آپ کا ساتھ دیے، کم از کم ان کے خلاف اس طرح کا رویہ نہ اپنائیں۔ ایسے رویے مختلف سوالات کو جنم دیتے ہیں مثلاً

سب کو نوازنا ہے تو ان کا کیا قصور ہے؟
کیا غذر والے حقیقت میں اقلیت میں شمار ہوتے ہیں؟
کیا ریاست میں غذر کو دیوار سے لگانے کی کوئی پالیسی بنی ہوئی ہے؟
کیا یہاں کے جوان صرف سرحدوں کی حفاظت کے علاوہ بھی کسی چیز کے قابل سمجھے جاتے ہیں؟

ہم ریاست کے پالیسی سازوں سے سوالات پوچھتے ہیں ان کے جواب میں ہمیں مطمئن کریں غدار، ایجنٹ کے فتوے ہمیں منظور نہیں۔

ہم دعا کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے، دشمنوں سے محفوظ رہے اور اپنے شہریوں اور زیر انتظام علاقوں میں رہنے والے انسانوں کو برابر سمجھتے ہوئے ان کے حقوق میں خیانت نہ کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عنایت ابدالی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *