اندھی، بہری اور گونگی صحافت!


بحریہ ٹاؤن کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے مقامی افراد کے گاؤں، گوٹھ اور گھر مسمار کرنے کے لئے آئے روز بلڈوزرز اور لاؤ لشکر کے ساتھ غریبوں اور مسکینوں پر یلغار کی جا رہی ہے پر اس برننگ ایشو پر قومی میڈیا کا کردار بہت مشکوک دکھائی دے رہا ہے، چھوٹے چھوٹے مسائل پر چیخنے والے معروف اینکرز حضرات نے بھی چپ سادھ سی لی ہے جو صحافتی اقدار کے بالکل منافی ہے کیوں کہ جرمنی کے ڈکٹیٹر ہٹلر کی جانب سے یہودیوں کے کیے گئے قتل عام یعنی ”ہولو کاسٹ“ کے حقائق پر مغربی میڈیا پر کچھ نشر کرنے یا تحقیق کرنے پر بھلے پابندی ہو پر اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مظلوم فلسطینی عوام کو بیدردی سے مارنے اور ان کے گھروں، رہائشی علاقوں کو بلڈوز کرنے جیسی قہری کارروائیوں کے فوٹیجز ہم بچپن میں بی بی سی، سی این این یا دیگر عالمی ذرائع ابلاغ کی کرٹیسی سے پی ٹی وی کی اسکرین پر ضرور دیکھتے تھے، جبکہ عالمی نیوز چینلز کے نمائندے غزہ پٹی، بیت اللحم اور دیگر فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی ظلم و بربریت کی لائیو رپورٹنگ کرتے بھی نظر آتے تھے، وہیں بوسنیا ہرزیگووینیا اور کشمیر کے مظلوموں پر رقم ہوتی ظلم کی داستانیں بھی عالمی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہوتی تھیں۔

ماضیٔ قریب کے اس دور میں اگرچہ صحافیوں کو آج کل کے بنسبت ان گنت مسائل درپیش ہوتے تھے، اداروں کے پاس جدید ٹیکنالوجی کا فقدان ہوتا تھا، انٹرنیٹ کی تیز ترین سہولت سے محروم رہتے تھے پر اس وقت کے صحافیوں، اینکرز، رپورٹرز میں عوام کی آواز اٹھانے اور ابھارنے کا ایک پروفیشنل جذبہ اور مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر صحافتی آزادی یا اظہار رائے کی آزادی کا علم اونچا رکھنے کا ہنر ہوتا تھا، وہیں اکثر میڈیا اداروں کی پالیسی بھی آزاد ہوتی تھی اسی وجہ سے قلمکاروں کو ببانگ دہل مظلوم و محکوم طبقے کے ساتھ کھڑے رہنے میں کوئی دقت، روک ٹوک یا پریشانی درپیش نہیں ہوتی تھی۔

وقت بدلا پرائیویٹ الیکٹرانک میڈیا کا دور زور و شور سے شروع ہوا تو پاکستان میں بھی 21 ویں صدی کے شروعاتی سالوں میں پرائیویٹ چینلز آن ائر ہوئے اور یوں پرنٹ میڈیا سے پرائیویٹ الیکٹرانک میڈیا کا سفر شروع ہوا، جس کے باعث روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوئے، صحافیوں کی تنخواہوں اور مراعتوں میں اضافہ ہوا تو ساتھ ساتھ اینکرز حضرات کی صورت میں کئی نئے چہرے بھی سامنے آئے، جن کا صحافت سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا تھا اور وہ صحافتی قواعد و ضوابط سے بھی ناواقف تھے۔

اس نئی پیدا شدہ صورتحال کو دیکھتے کئی سینئر ترین پروفیشنل صحافیوں کو کراچی پریس کلب کے لان پر راقم نے خود اپنے کانوں سے یہ کہتے سنا کہ ”یہ پیرا شوٹرز مستقبل میں صحافت کی بدنامی کا باعث ضرور بنیں گے“ ۔ بہرحال نیوز چینلز کی بھرمار ہونے کے بعد صحافت کے تمام شعبوں میں کئی انجان افراد کی بھرتی کر کے خانہ پوری بھی کی گئی، جس کے منفی نتائج اب مختلف اوقات پر سامنے آتے رہتے ہیں۔ قومی زبان کے نیوز چینلز کے مالکان خالص سرمایہ دارانہ ذہنیت رکھنے والے افراد بنے تو انہوں نے نہ صرف پیرا شوٹرز کے ذریعے اپنے ایجنڈے کو صحافتی شیلٹر فراہم کرنے کے جتن شروع کیے پر کئی معروف صحافی/ اینکرز حضرات بھی ”پرائس ٹیگ“ لے کر صف میں کھڑے ہو گئے۔ پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب سب نے دیکھا کہ کیسے ایک چینل کے ٹاک شو کی تیاری کے وقت بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض سے سوالات پوچھنے کے حوالے سے آف دی ریکارڈ کی گئی بات چیت لیک ہوئی اور ایک طرح سے زرد صحافت کا چھپا چہرا سامنے آ گیا۔

نہ صرف یہ پر بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے اکثر میڈیا اداروں کو اشتہارات کی مد میں کروڑوں روپے صرف اس لئے ادا کیے گئے تاکہ مستقبل میں ان کی قہری کارروائیوں کے خلاف کوئی بھی اخبار خبر نہ چھاپے اور کوئی بھی نیوز چینل یا اینکر کچھ نہ بول سکے اور اس پلان کے مطابق کئی نام نہاد صحافتی چیمپیئنز کو نقد رقوم، پلاٹ، گھر یا لگژری گاڑی مبینہ طور پر تحفے میں دے کر ہونٹ سی لئے گئے، اس کے نتیجے میں آج پوری قوم بحریہ ٹاؤن کراچی کی مقامی افراد کے خلاف یلغار پر قومی زبان کے میڈیا اداروں اور بڑے بڑے صحافی حضرات کی صحافت کو اندھی، بہری اور گونگی کے طور پر دیکھ رہی ہے جو ایک مقدس پیشے کے ساتھ زیادتی ہے۔

ایک طرف بحریہ ٹاؤن کراچی کی انتظامیہ سندھ کے صدیوں پرانی تاریخ اور تہذیب کو مسمار کر رہی ہے تو دوسری طرف قدیمی گوٹھوں نور محمد گبول، کمال خان جوکھیو اور دیگر قصبوں کو خالی کرانے کے لئے آئے دن اسرائیلی طرز کی قہری کارروائیاں کر رہی ہے پر قومی میڈیا کے اکثر ادارے اور مشہور و معروف صحافی/اینکرز حضرات آواز اٹھاتے نظر نہیں آتے اور صرف سندھی اخبارات و نیوز چینلز پر بحریہ ٹاؤن کی غیرقانونی یلغار پر آواز اٹھائی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا اس تمام تر صورتحال میں بحریہ ٹاؤن کی بربریت کے خلاف مظلوم و محکوم مقامی افراد کے ساتھ آوازیں بلند کر رہی ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے تہذیبی مقام ”پنہوار و جبل“ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے اور عظیم شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی جن کا سندھی سماج پر مولانا رومی کے جیسا اثر ہے کے تاریخی ”تکیے“ کو بھی مسمار کر دیا ہے پر قومی میڈیا اور اینکرز حضرات نے تہذیب اور تاریخ کی تباہی پر بھی آواز اٹھانے، ایک آدھ پروگرام کرنے یا جائے وقوعہ پر پہنچنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ مقامی افراد کو بے گھر کرنے اور ان کے آبا و اجداد کے مدفن مسمار کرنے جیسی غیرانسانی کارروائیاں بھی کر رہی ہے۔

میرے خیال میں اگر یہی صورتحال رہی اور بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کو آج آگے بڑھنے سے نہ روکا گیا تو کل ملک ریاض موہن جو دڑو کے آثار کی جگہ بحریہ ٹاؤن لاڑکانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کرے گا اور ہڑپہ، ٹیکسلا کے آثار قدیمہ بھی بحریہ ٹاؤن کی زد میں آ سکتے ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کراچی کی بربریت اور غیرقانونی کارروائیوں پر سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کا کردار بھی مجرمانہ نظر آ رہا ہے، جس کے باعث سندھ کے عوام اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے پر بہرحال کم از کم قومی میڈیا کو اس معاملے پر قومی کردار ادا کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS