صحافت اور انسانی حقوق کے سالار قافلہ آئی اے رحمان کی یاد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اتوار 2 مئی کو پاکستانی صحافت کی عظیم ہستی، مارکسی دانشور، انسانی حقوق کی جدوجہد کی علامت، پاک انڈیا دوستی، مذہبی اور جنگی جنون کے خاتمہ، امن کی بحالی اور جمہوریت کی بالادستی کے روح رواں جناب آئی اے رحمان کا آن لائن ریفرنس ہو رہا تھا، جو محبتوں سے بھرپور، انتہائی باعمل اور متحرک زندگی کی 90 اننگز کھیل کر سوموار 12 اپریل کو اپنے لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر کوچ گئے۔ اس تقریب کا اہتمام عوامی ورکرز پارٹی برطانیہ نے کیا تھا اور اس میں آئی اے رحمان کے بہت سے دیرینہ ساتھی گفتگو کے لیے مدعو تھے۔

ان میں بزرگ سوشلسٹ راہنما عابد حسن منٹو، صحافتی برادری کی شان محترم حسین نقی، عوامی ورکرز پارٹی کے جنرل سیکرٹری و سابق وائس چیرمین پاکستان بار کونسل اختر حسین، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری و نامور شاعر حارث خلیق، قائداعظم یونیوسٹی کے استاد اور سابق صدر عوامی ورکرز پارٹی پنجاب ڈاکٹر عاصم سجاد اختر، اسلام آباد کی انقلابی اور ماہر تعلیم و حقوق نسواں ڈاکٹر فرزانہ باری، کراچی سے بزرگ ٹریڈ یونین راہنما اور مرزا ابراہیم کے دیرینہ ساتھی منظور احمد رضی بھی تھے جبکہ جونیئر ساتھیوں کی نمائندگی عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کی جنرل سیکرٹری محترمہ عابدہ چودھری ایڈووکیٹ، اسلام آباد سے کالم نویس اور حقوق نسواں کی علم بردار محترمہ صنوبر نادر، مانچسٹر سے نامور ادیب، صحافی اور عوامی ورکرز پارٹی نارتھ برطانیہ کے صدر محبوب الہی بٹ اور بریڈ فورڈ سے لالہ محمد یونس بھی شامل تھے۔ راقم اور آکسفورڈ سے ترقی پسند شاعرہ نزہت عباس نے نظامت کے فرائض ادا کیے۔

تقریب کے آغاز میں آئی اے رحمان صاحب اور ان کے پاکستان انڈیا فورم برائے امن اور جمہوریت کے سرگرم ساتھی اور عوامی ورکرز پارٹی کے راہنما چوہدری طارق جاوید کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے کیا گیا۔

مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 1930 میں متحدہ ہندوستان کی ریاست ہریانہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہونے والے ابن عبدالرحمان، جنہیں عرف عام میں آئی اے رحمان کے نام سے جانا جاتا ہے اور ہم انہیں پیار سے رحمان صاحب کہتے ہیں، نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز علی گڑھ یونیورسٹی میں ترقی پسند طلبا تحریک سے شروع کیا تھا۔ ان کے والد ایک وکیل تھے۔ اپنی جوانی کی ابتدا میں ہی انہوں نے وطن کا بٹوارہ دیکھا اور نئے بننے والے ملک پاکستان نقل مکانی کی۔

تحریک آزادی میں پھیلنے والے مذہبی منافرت اور قتل و غارت میں ان کے خاندان کے بہت سے افراد شہید ہو گئے تھے، شاید وہ علی گڑھ میں ہونے کی وجہ سے بچ گئے۔ ان کے خاندان نے پاکستان آ کر ملتان کے قریب شجاع آباد میں پڑاؤ ڈالا، لیکن وہ جلد ہی لاہور منتقل ہو گئے اور اپنی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔ جب انہیں ملک میں آزادی نام کی کوئی چیز نظر نہ آئی تو انہوں نے ملک میں سماجی تبدیلی اور بلا لحاظ رنگ، نسل، مذہب اور فرقہ کے انصاف اور برابری پر مبنی سماج کی تشکیل کے لیے سیاست میں باقاعدہ حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔

اس وقت تک امریکی سامراج کی ہمارے ملک پر گرفت مضبوط ہو چکی تھی اور ملکی سطح پر بیوروکریسی، جاگیر داروں اور پاکستان کے قیام کی مخالفت کرنے والے ملاؤں کی ایک مضبوط تکون بن چکی تھی۔ سامراجی گرفت اور افسر شاہی کی سائے میں پلنے والی جاگیرداروں، قبائلی سرداروں اور اشرفیہ کی حکومت آزادی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کی بجائے وسائل پر قابض ہو گئی تو انہوں نے حزب مخالف کی سیاست کو کچلنے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے 1953 میں سماجی تبدیلی کی علم بردار کمیونسٹ پارٹی اور اس سے ملحقہ تنظیموں، جن میں انجمن ترقی پسند مصنفین بھی شامل تھی، پر پابندی عائد کر دی اور ان کے راہنماؤں کو پابند سلاسل کر دیا۔

آئی اے رحمان

آئی اے رحمان نے جب پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایس سی فزکس کے ڈگری حاصل کی تو پہلے انہوں نے سول سروس میں جانے کا سوچا اور اس کے لیے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا۔ شاید ان کی خوش قسمتی کہ اس وقت کوٹہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تقرری نہ ہو سکی یا پھر وہ سول سروس میں جانے سے بال بال بچ گئے۔ اس وقت تک ملکی ترقی پسند تحریک کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگنے کے باعث بکھر چکی تھی، اس لیے انہوں نے ملک میں طبقاتی بنیادوں پر جاری ظلم، جبر اور استحصال کے خلاف جدوجہد کے لیے اپنی راہیں نئے سرے سے متعین کیں۔

انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے ملک میں امن، آزادی، مساوات، رواداری اور سماجی انصاف کے لیے عوامی شعور اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا اور فیض احمد فیض صاحب کی زیر قیادت چھپنے والے روزنامہ پاکستان ٹائمز میں باقاعدہ ملازمت کر لی۔ سب سے پہلے انہیں فلمی صفحے کا انچارج بنایا گیا، جہاں ان کی بہترین کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انہیں اخبار کا سب ایڈیٹر بنا دیا گیا۔ بعد ازاں وہ پاکستان ٹائمز کے چیف ایڈیٹر بھی رہے۔

جب 1970 میں صحافت سے تعلق رکھنے والوں کو ویج ایوارڈ میں شامل کرنے کے لیے پی ایف یو جے نے 12 روزہ ہڑتال کی تو آئی اے رحمان نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔ ملکی روایت کے مطابق ان پر سزا تو واجب ہو گئی اور انہیں پاکستان ٹائمز کے ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ انہوں نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر روزنامہ آواز نکالا اور وہ اس کے چیف ایڈیٹر تھے، لیکن جب انہوں نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کی مخالفت میں اپنے قلم کا استعمال کیا تو روزنامہ آواز کو بند کر دیا گیا۔

رحمان صاحب نے ملک میں ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں ہمیشہ سرگرمی سے حصہ لیا۔ وہ پاکستان یونین آف جرنلسٹس کے بانیوں میں سے تھے اور ایک مرتبہ تو انہوں نے اس کے صدر کا الیکشن بھی لڑا۔ اس کے باوجود کہ وہ اس وقت پی ایف یو جے کا صدارتی الیکشن نہ جیت پائے، لیکن انہوں نے اس کو ملک میں ڈکٹیٹرشپ کے خلاف ہتھیار بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار جاری رکھا۔

انہوں نے سیاسی، صحافتی، پاک انڈیا امن و سلامتی اور انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن کے طور پر 68 برس تک انتہائی سنجیدہ اور دبنگ انداز میں اپنا کردار ادا کیا۔ ملک میں دفاعی اداروں کی جانب سے بار بار ملک کو فتح کرنے کی روش، ملکی آئین اور شہری آزادیوں کی معطلی اور انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر انہوں نے دیگر ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ مل کر 1987 میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی بنیاد رکھی، اور دو دہائیوں تک اس کے ڈائریکٹر اور پھر جنرل سیکرٹری منتخب ہو کر اپنے فرائض ادا کرتے رہے۔ وہ اپنی آخری سانس تک کمیشن کے اعزازی ترجمان کے فرائض ادا کرتے رہے۔

آئی ارے رحمان نے پاکستان میں پسے ہوئے طبقات، مزدور انجمنوں، کسان کارکنوں، صحافیوں، خواتین کے حقوق کے علمبرداروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کی تین نسلوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے اپنے قلم سے، اپنی آواز سے اور اپنے وجود سے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کی بلکہ انہیں عملی جدوجہد کی ترغیب دی اور راہنمائی کی۔ انہوں نے پچاس کی دہائی کے آغاز میں جس صحافتی سفر کا آغاز کیا تھا، 90 برس کی عمر میں بھی اسے جاری رکھا اور اپنے انتقال سے چار روز قبل ڈان اخبار کی لیے اپنا آخری مضمون لکھا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی تنخواہ پر گزارہ کیا اور کرائے کے گھر میں رہ کر اپنی عمل سے بھرپور زندگی سے پاکستان کی صحافی برادری اور آنے والی نسلوں کو بخوبی سکھا دیا کہ قلم کی حرمت کیا ہوتی ہے اور اسے محفوظ کیسے بنایا جاتا ہے۔

آئی اے رحمان نے ملک پر مسلط ہونے والے چار مارشل لاؤں کی نہ صرف مذمت کی بلکہ نتائج کی پرواہ کیے بغیر ڈٹ کر مخالفت بھی کی۔ اس کی پاداش میں انہیں ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے، دھمکیاں بھی ملتی رہیں، پابندیاں بھی لگیں، اور پابند سلاسل بھی کیا گیا، لیکن وہ اپنے ضمیر کے آواز پر ڈٹے رہے اور انہوں نے اپنے نظریات، اپنے وطن اور اس میں بسنے والے مظلوم و محکوم عوام کے آئینی، سیاسی، سماجی اور جمہوری حقوق کا کبھی سودا نہیں کیا۔

ملک میں انسانی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد اور اس میں چھوٹی چھوٹی کامیابیاں آئی اے رحمان کو ایسے ہی توانائی بخشتی اور ان کے چہرے پر چمک لاتی تھیں، جیسے ایک سپورٹس مین کو میچ میں کامیابی۔ اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والی بانڈڈ لیبر ہو یا فیکٹری کے نا مساعد حالات میں کام کرنے والے مزدور، عدالتوں سے چھوٹی چھوٹی رعایت دلوا کر وہ ایسے ہی سکون اور فخر محسوس کرتے تھے جیسے سادہ لو عوام ورلڈ کپ جیت کر کرتی ہے۔

پاکستان میں توہین مذہب اور توہین رسالت کے قوانین کی آڑ میں غریب عوام بالخصوص مذہبی اقلیتوں کے لیے ملک میں زمین تنگ کر دی گئی ہے اور جھوٹے مقدمات بنا کر وطن عزیز کے پسے ہوئے طبقات کا معاشی، سیاسی اور سماجی استحصال کرنے کی خوف ناک روش چل پڑی ہے۔ ہمارے ملک کے سیکورٹی ادارے، اور عدالتی نظام اپنی ہی ریاست کے پیدا کردہ مذہبی انتہا پسند گروپوں کے آگے بے بس نظر آتے ہیں۔ یہ ایک ایسا نازک معاملہ ہے کہ ملک کا باشعور طبقہ بھی اس پر بات کرنے سے گھبراتا ہے اور ایسا کرنے پر اپنی زندگی کے لیے خطرہ محسوس کرتا ہے۔

اس سب کے باوجود بھی ملک میں کچھ مضبوط آوازیں سننے کو ملتی ہیں اور اس سماجی جبر کے خلاف اٹھنے والی پہلی اور بلند آوازوں میں آئی اے رحمان نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ایسے جھوٹے مقدمات کا شکار ہونے والے افراد کی مدد کرنے کا ان کا عزم اس وقت بھی متزلزل نہ ہوا، جب 2014 میں ان کے بھتیجے راشد رحمان کو ملتان میں توہین مذہب کے ایک جھوٹے مقدمے میں یونیورسٹی پروفیسر جنید حفیظ کے مقدمے کی پیروی کرنے پر مذہبی انتہا پسندوں نے گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔ بلا شعبہ آئی اے رحمان کو پاکستان میں انسانی حقوق کے باپ کا درجہ حاصل تھا۔

آئی اے رحمان نے اپنی زندگی میں تین کتابیں بھی لکھیں، جن میں جناح بطور پارلیمینٹیرین کے وہ کو ایڈیٹر تھے، جبکہ آرٹ اور کرافٹ، اور پاکستان محاصرے میں ان کے مضامین کا مجموعہ تھیں۔ پاکستان اور جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کو سراہتے ہوئے انہیں متعدد بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا، جن میں 2003 میں نیورمبرگ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایوارڈ اور 2004 میں رامون ماگسٹسے ایوارڈ اور کئی دوسرے ایوارڈز شامل تھے۔

آئی اے رحمان پاکستان، انڈیا کے درمیان 73 برس سے جاری کشمکش اور جنگی جنون کے سخت مخالف تھے۔ وہ دونوں ممالک کے درمیان نفرت کی آگ کو ختم کر کے باہمی احترام اور مساویانہ بنیادوں پر پر امن تعلقات کے قیام اور ملکی وسائل کو آتشیں اسلحہ کے انبار لگانے کی بجائے عوام کی فلاح وبحبود پر خرچ کرنے کے حامی تھے۔ اپنی اسی سوچ کو عملی جامہ پہنانے اور دونوں ممالک کی عوام کو قریب لانے کے لیے انہوں نے دونوں ممالک کے امن دوست، جمہوریت پسند، انسانی حقوق کے علم بردار روشن خیال سیاسی اور سماجی کارکنوں کو ملا کر 24۔

25 فروری 1995 کو نیو دھلی میں ایک بڑا عوامی کنونشن منعقد کر کے پاکستان انڈیا پیپلز فورم برائے امن اور جمہوریت کی بنیاد رکھی۔ اس کنونشن میں دونوں ممالک کے سینکڑوں مندوبین نے شرکت کی، جنہوں نے انہیں اس کا چیرمین منتخب کیا۔ عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دینے کے لیے وہ ہر سال دونوں ممالک کے سیکڑوں شہریوں کے وفود دوسرے ملک لے کر جاتے تھے تا کہ عوام اپنے ممالک کی اشرفیہ اور حکمران طبقات کو مجبور کریں کہ وہ جنگی جنون کو ہوا دینا بند کریں۔ پر امن اور نارمل انسانوں کی طرح زندگی بسر کرنا سیکھیں اور اپنے ممالک کی وسائل ملکی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں۔

آئی اے رحمان نے پاکستان میں طبقاتی ظلم، جبر اور استحصال سے پاک معاشرے کے جو خواب اپنے عہد جوانی میں میں دیکھا تھا، اپنی آخری سانس تک اس کی تعبیر کے لیے کوشاں رہے۔ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی اپنے پرانے دوستوں کو بڑے فخر سے کہتے تھے کہ وہ آج بھی ایک پکے اور سچے مارکس وادی ہیں۔

تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے عابد حسن منٹو نے دنیا بھر میں ترقی پسند سیاست میں بڑھتے ہوئے بحران اور بدلتے ہوئی دنیا میں تحریک کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بحث کو اوپن کرنے اور اس پر ویبینارز اور سیمینارز منعقد کرنے کی ضرورت کا احساس دلایا۔

مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ان کا انقلابی سفر جاری رکھیں گے اور ہمارے پیارے رحمان صاحب انسانی عظمت کی سربلندی اور سماجی تبدیلی کی تحریکوں کی صورت میں ہمیشہ ہمارے درمیان رہیں گے اور قلم کو سماجی تبدیلی کی جدوجہد میں ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے میں ہماری راہنمائی کرتے رہیں گے۔ امرتا پریتم جی نے کیا خوب کہا تھا۔

اج آکھاں وارث شاہ نوں، کتھوں قبراں و چوں بول
تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرویز فتح (لیڈز-برطانیہ)

پرویز فتح برطانیہ کے شہر لیذز میں مقیم ہیں اور برٹش ایروسپیس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ وہ برطانیہ میں ساوتھ ایشین ممالک کے ترقی پسندوں کی تنظیم ساوتھ ایشین پیپلز فورم کورڈینیٹر ہیں اور برطابیہ میں اینٹی ریسزم اور سوشل جسٹس کے لئے سرگرم ہیں۔

pervez-fateh has 14 posts and counting.See all posts by pervez-fateh

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *