بہائو: مستنصر حسین تارڑ کے ناول کا ایک جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”سر سوتی جو بڑے پانیوں کی ماں ہے
اور ساتویں ندی ہے
اس کے پانی آتے ہیں،
شاندار اور بلند آواز میں چنگھاڑتے ہوئے ”
”بہاو“

”بہاو“ ، روانی، تسلسل کی علامت ہے یہ نام ہے تارڑ صاحب کے اس ناول کا جس نے انھیں سفر نامہ نگار کی فہرست سے نکال کر ناول نگار کی قطار میں لا کھڑا کیا ہے۔ اگر تارڑ صاحب صرف اس ناول کو ہی تحریر کرتے تو بلاشبہ یہ ناول ان کو ادبی طور پر زندہ رکھنے کے لیے کافی تھا۔ اس ناول میں برصغیر میں ترقی یافتہ تہذیب کے تعلق کو پنجاب اور دریائے سندھ کے کنارے سے جوڑا ہے۔ اس ناول کی بنیاد بہاولپور کے صحراؤں کے سفر میں ایک علاقے میں ملنے والی ٹوٹے برتنوں کی وہ ٹھیکر یاں ہیں جن پر کی گئی خوش نظر نقاشی اور اس علاقے میں بکھرے آثار قدیمہ نے بقول تارڑ صاحب ”مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر یہ کون لوگ تھے؟

جو یہاں کے باسی تھے وہ کیسے تخلیق کار تھے؟ وہ کیسا تمدن، رسوم و رواج رکھتے تھے؟ کس تہذیبی ورثے کے مالک تھے؟ کون سے مذہبی اثرات کے تحت زندگی گزارتے تھے۔ یہ آثار قدیمہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ اس علاقے کے اولین آباد کار تھے آخر کون سے قدرتی و علاقائی عوامل تھے جن کی بناء پر یہ تہذیب فنا ہو گئی یا یہاں سے ہجرت پر مجبور ہوئی۔ ”اور یوں اس ناول نے جنم لیا۔

ناول ”بہاو“ میں اس خطے کے علاقائی ثقافتی، تہذیبی ورثے کو تاریخ کی دھند سے نکال کر قاری کے سامنے اس طرح لایا گیا ہے کہ یوں محسوس ہوتا کہ یہ چلتے پھرتے کردار، اپنی زندگی کو موجود وقت میں گزارتے نظر آتے ہیں۔ زندگی کے حالات و تبدیلی کا تسلسل، واقعات کو بیان کرتا ہوا پوری شدت سے محسوس ہوتا ہے۔ ناول کی بنیادی طور پر تین بنیادی ستون ہیں جن پر کہانی کی بنیاد استوار ہے۔

”زبان، ماحول، کردار،“ اگرچہ دیکھا جائے تو ناول کی مکمل بنیاد ان عناصر پر رکھنا زیادتی ہے مگر ناول کی اثر انگیزی کو یہ تینوں عناصر مل کر مربوط اور اثر انگیز بناتے ہیں۔ اس لیے ان کو بنیاد بنانا کسی حد قابل فہم اور موزوں ہے۔ سب سے پہلے ذکر ہو جائے اس کی زبان کا

”زبان“

ناول کو پڑھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر اس زبان و بیان کو استعمال نہ کیا جاتا تو یہ ناول اپنی اثر انگیزی کو کھو دیتا بقول تارڑ صاحب ”ناول کی زبان کے حوالے سے میں نے بے شمار اساطیری زبانوں کا مشاہدہ و مطالعہ کیا مگر کوئی بھی زبان اس معیار پر پورا نہیں اترتی ہوئی کہ بطور“ زبان ”ناول کے لسانی تقاضوں کو پورا کر سکتی۔“ ایک دن اسی سلسلے میں قدیم تامل شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ احساس ہوا کہ اس زبان میں وہ شدت اور وہ لسانی خوبی بدرجہ اتم موجود ہے جو اس ناول کے ماحول، وقت کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔

اور یہ اس زبان کے طور پر چنی جا سکتی ہے ”سو کچھ اور مقامی زبان کے قدیم لسانی حوالوں اور قدیم الفاظ کی مدد سے اس کو موجود زبان کے قا لب میں ڈھالا گیا اور کیا خوب ڈھالا گیا ہے کہ کہیں پر پڑھتے ہوئے قاری کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ اس علاقے کی زبان نہیں ہے اور یہ اس ناول میں لسانی جدت کا شاہکار بن کر سامنے آئی ہے۔ بہت کم ناول اردو ادب میں لسانی حوالے سے جدت کی مثال رکھتے ہوں گے۔ ناول کی کہانی، ماحول، کردار سے الگ، اس کی زبان ہے جو کہ بذات خود وادی سندھ کی لسانی تاریخ کی مثال بن گئی ہے۔ وادی سندھ کے لسانی ورثے میں خوب صورت اضافہ ہے۔

”ماحول“

اگر یہ کہا جائے کہ اس ناول کا ماحول پڑھتے ہوئے قاری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی مانند سارے منظر پردے پر گزرتے جا رہے ہیں اور وہ خود اس دنیائے وقت میں موجود ہے تو غلط نہ ہوگا۔ جیسے سامنے گھاگھرا بہہ رہا۔ بچے گلیوں سے کھیلتے، دوڑتے گزر رہے ہیں۔ عورتیں پانی بھرتی اور کھیتوں میں کام کرتی نظر آ رہی ہیں۔ جو بات یہاں پر قابل تعریف ہے کہ کہانی کا تسلسل واقعات کو اس روانی سے بیان کرتا ہے کہ توجہ اور دلچسپی کم نہیں ہو پاتی۔

آرین لوگوں کی اس خطے میں آمد، دھاتوں، سواری کے استعمال سے آشنائی، خدائی تعلق کی ابتدا، دریائے سندھو اور گھاگھرا میں پانی کی کمی۔ یہ وہ تمام عوامل واقعات جنہوں نے بجا طور پر اس تہذیب و خطے کو متاثر کیا ہو گا۔ ناول کی تحقیق و تحریر کا حصہ ہیں۔ ماحول میں اس وقت کی ثقافت کو بھی بیان کیا گیا ہے جو کہ سادہ اور منفرد ہیں جیسے شادی کی تقریب، اور قربانی کی رسم، کسی بھی معاشرے میں اس کے معاشی و معاشرتی مسائل، رواج کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور بہاو میں یہ سب اپنی تمام تر پہلووں کے ساتھ کہانی کی بنت کو مکمل کرتے ہیں۔ ان سب کے ساتھ ماحول کو پوری شدت سے محسوس کیا جاسکتا ہے مثلاً وہ رکھوں (جنگل) کے گھپ اندھیرے میں دوڑتے تھے۔ ”

”پکھیرو کے پروں کی سرسراہٹ تھی تالاب کنارے پر“ ۔

پاروشنی جب گندم کوٹتی ہے تو اس کا صوتی تاثر اتنا مضبوط ہے کہ گندم کے کوٹنے کی آواز دھم ہو، دھم ہو، کانوں میں گونجتی محسوس ہوتی ہے۔ ماحول نگاری کے تمام تر پہلووں اور جزئیات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ ”بہاو“ میں موہنجو داڑو کے علاقائی ماحول کو بھی استعمال کیا گیا ہے

”کردار“

اس ناول کے کردار اس کی اساس ہیں۔ تمام تر کردار اپنی اپنی جگہ نگینہ کی مانند مکمل تراش خراش کے بعد کہانی میں جڑے ہیں۔ تارڑ صاحب نے ہر کردار کو اس خوبی سے کہانی میں جگہ دی ہے کہ وہ اپنے حصے کا کام نبھاتے ہیں اور کہانی کی شکل کو وضع کرتے ہیں۔ ”بہاو“ کا ایک کردار جس پر اس ناول کی بنیاد ٹکی ہے وہ کردار ہے ”پاروشنی“ کا ہے۔ تارڑ صاحب نے ”بہاو“ میں زندگی کے تسلسل و بقاء کی دو علامتوں کو استعمال کیا ہے پہلا ”ماء“ ، مایا، پانی، دوسرا ”نساء،“ عورت۔ پانی زندگی کی بقاء تسلسل کی علامت اور عورت نسل انسانی کی تخلیق و تسلسل کی علامت، یہ دونوں علامتیں ”بہاو“ میں ایک دوسرے سے جڑی ہیں۔

”پاروشنی“

پاروشنی جیسا مضبوط اور آزاد کردار اردو ادب اور ناول میں مشکل سے نظر آتا ہے۔ پاروشنی آج سے تقریباً پانچ ہزار سال پہلے کی دراوڑ تہذیب و ثقافت سے تعلق رکھتی ہے اور مکمل طور پر اسی قوم کے نقش و نگار اور شخصی اوصاف رکھتی ہے، مگر آج کی عورت سے زیادہ خود مختار اور اپنے فیصلوں میں آزاد ہے۔ یہ خود مختاری اپنے ساتھی کے انتخاب سے لے کر، اپنی پسند کی زندگی گزارنے تک ہی محدود نہیں ہے۔ بہاو ”کا یہ وہ کردار ہے جو اس کی مرکز اور بنیاد دونوں ہی ہیں اس طرح کا ایک کردار راجہ گدھ کی“ سیمی ”ہے جو اپنے حالات میں اپنی تلاش میں ہے مگر پاروشنی وقت اور تہذیب کے سفر میں ہے۔

کہنے کو ”فیمنزم“ کی تحریک آج کے دور کی پیداوار ہے مگر پاروشنی وادی سندھ میں تحریک نسواں کا استعارہ ہے۔ وہ آزادی حقوق جس کا آج کی عورت خواب دیکھتی ہے اور اس کو پانے کی جدوجہد کرتی ہے پاروشنی آج سے پانچ ہزار سال اس آزادی کی نمائندگی کرتی ہے۔ لیکن اس کی معاشرتی حقوق و مسائل جو رہے ہوں گے وہ اپنی معاشرتی ذمے داری سے غافل نہیں۔ اور ان ذمہ داریوں کو اس خوبی سے نبھاتی ہے کہ معاشرہ اس کے بناء ادھورا ہے۔ اس کی مثال ”بہاو“ کے باقی نسوانی کردار ہیں۔

” گاگری“ ، جو شکاری ہے۔ ”پکلی“ جو کمہارن ہے۔ دونوں صرف اپنی معاشرتی ذمے داری کے ساتھ اپنی گھریلو زندگی کو بخوبی نبھاتی ہیں۔ ”ورچن“ جو گھاگھرا کے کناروں کا آزاد باسی ہے جو اس وقت کے خاندانی نظام کا حصہ تو ہے مگر یہ کہا جائے کہ تمام تر خاندانی ذمے داری نبھانے میں کلی آزاد بھی۔ اگر چاہے تو نبھائے اور اگر کہیں الگ بھی ہو جائے تو خاندانی نظام اس کے بغیر بھی رواں دواں کہ یہ اس وقت میں معاشرے و علاقے کے رواج تھے۔

” سمرو“ جو لوہار ہے اور پاروشنی کا دعویدار بھی۔ ”پورن“ بہاو کا واحد آرین کردار اور آرین تہذیب کا نمائندہ بھی، پورن جو موہنجو دارو کا باسی ہے اسی تہذیب و ثقافت کی اور اس علاقے میں حملہ آور قوم کی عکاسی کرتا ہے اور آرین تہذیب کے تمام تر شخصی نقش و نگار کے ساتھ۔ مامن ما سا ”بہاو“ میں قدرت کے رکھوالے اور اس سے مضبوط رشتہ رکھتے ہوئے سامنے آتا وہ انسان جو قدرتی وسائل اور نظام پر دارو مدار رکھتا وہ اس نظام سے دور نہیں رہ سکتا ہے مامن ماسا کا کردار مکمل طور پر اس سوچ کی علامت ہے۔

باقی کردار بھی ہر طرح سے بہاو کی روانی کے حصے دار ہیں۔ کہانی میں کرداروں کا ربط شروع آخر تک موجود ہے جو اس کی بنت اور تانا بانا اور تجسس برقرار رکھتے ہیں۔ یہ ناول اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ اس ناول کو اس صدی کے دس بہترین ناولوں میں شامل کرنے کی شنید بھی ہے۔ اور بلاشبہ یہ اس کا حقدار بھی ہے۔ ہم اس حوالے سے تارڑ صاحب کے شکرگزار ہیں کہ اگر انھوں نے پاکستان کو شمالی علاقہ جات کے حسن سے روشناس کرایا ہے تو ”بہاو“ کے ذریعے دنیا کو پاکستان کے تہذیبی ثقافتی ورثہ سے آشنائی دی ہے۔

(ابتدائیہ ناول سے مستعار ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شمائلہ اسلم کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *