آکسیجن کی کہانی (آخری قسط)
دنیا کے تیسرے سب سے بڑے مذہب ہندومت میں ویدوں اور پرانوں کے بعد مہا بھارت آور رامائن نامی دیومالائی داستانوں کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔ 2400 اشعار پر محیط رامائن ہمیں بتاتی ہے کہ ایودھیا کے شہزادہ رام جو انسان کے روپ میں بھگوان کا روپ یعنی اوتار بھی ہیں چودہ سال کے لئے جلاوطن کر دیے گئے ہیں۔ اب وہ اپنی وفا شعار بیوی سیتا اور جان نثار سوتیلے بھائی لکشمن کے ہمراہ جنگلوں کی خاک چھانتے پھر رہے ہیں۔ لنکا کے دس سروں والے عفریت راجہ راون کی بدطینت بہن مینا کشی عرف سرپنکھا کا گزر کہیں پنچ وتی کے جنگلات میں ہوتا ہے جہاں وہ رام جی کی وجاھت دیکھ کر ہزار جان سے ان پر فدا ہوجاتی ہے اور حسینہ بن کر رام کو اپنے دام الفت میں پھنسانے کی کوشش کرتی ہے رام سرپنکھا کے حسین سراپا سے قطعاً متاثر ہوئے بغیر صاف بتا دیتے ہیں کہ ان کے دل، دماغ اور جسم پرسیتا کے جملہ حقوق محفوظ ہیں غضبناک ہو کر سرپنکھا سیتا پر حملہ آور ہوتی ہے لیکن لکشمن کی تلوار بجلی بن کر کڑکتی ہے اور جب اترتی ہے تو سرپنکھا کی ناک ساتھ لے آتی ہے۔ جس مقام پر سرپنکھا کی ناک کاٹی گئی تھی اس کو دنیا مہاراشٹر میں موجود شہر ناشک کے نام سے جانتی ہے۔
ناک کٹنے کا یہی خوف ہے جب 1917 ء میں اسی تاریخی شہر ناشک کے ایک باسی اور بھارتی فلمی صنعت کے بانی دادا صاحب پھالکے اپنی خاموش فلم لنکا ڈاھن یعنی جلتی لنکا میں سیتا کا کردار ادا کرنے کے لئے ایک خاتون اداکارہ ڈھونڈنے نکلے تو علاقے کی تمام ناچنے والیوں اور جسم فروش خواتین تک نے صفا انکار کر دیا حتی کہ خود ان کی بیگم بھی پردۂ سیمیں پر آنے کو تیار نہیں۔ بالآخر پھالکے صاحب کو اس فلم میں رام اور سیتا کا کردار ایک ہی زنانہ قسم کے مرد یعنی سالونکے سے کرانا پڑا۔
24 اپریل 2021 ء کو ناشک کے تاریخی شہر میں بھارت جیسی ابھرتی ہوئی معیشت کی ناک ایک دفعہ پھر کٹ گئی جب ہندوستان کے تیسرے صدر ذاکر حسین کے نام پر بنے سرکاری اسپتال میں اچانک آکسیجن لیک ہونے سے کم از کم دو درجن مریض لقمۂ اجل بن گئے اور پھر پوری دنیا نے موبائل فون پر بنائی گئی ایسی لاتعداد وڈیوز دیکھیں جن میں مرتے ہوئے مریض کے سرہانے رکھے آکسیجن سلنڈر کو کھینچ کر اپنے مریض تک لے جاتے ہوئے لواحقین دست و گریباں نظر آئے۔ آکسیجن کی کمی اور نتیجہ میں ہونے والی اموات سے جن ممالک کی ناک اب تک کٹ چکی ہے ان میں اردن، برازیل، فلپائن اور امریکہ بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر ذاکر حسین دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی تھے جبکہ ان کے بھائی محمود حسین ابتدائی برسوں میں پاکستان کی مختلف وزارتوں پر فائز رہے۔ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی سازشی برطرفی کے بعد انہوں نے احتجاجاً سیاست کو خیر باد کہہ دیا۔ پاکستانی فوج کے مشہور جنرل رحیم الدین ان کے داماد ہیں۔
دنیا میں آکسیجن کہاں سے آتی ہے؟
آکسیجن دنیا میں سب سے زیادہ وافر مقدار میں پایا جانے والا عنصر ہے۔ ہوا، پانی، نمکیات، دھاتیں، الکوحل کون سا مرکب ہے جس میں کم یا زیادہ آکسیجن موجود نہ ہو
ہمارے کرۂ ارض پر 60 فیصد سے زیادہ آکسیجن پیدا کرنے کا کام سمندر میں پائے جانے والے ”پلانکٹون“ کرتے ہیں جو مختلف الاقسام حیاتیاتی اجسام ہیں۔ ان میں الجی، بیکٹیریا، پروٹوزوا اور ننھے ننھے بہتے ہوئے جاندار سبھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خشک زمین پر پائے جانے والے پودوں اور درختوں میں جاری فوٹوسینتھیسز سے مسلسل آکسیجن پیدا ہوتی رہتی ہے۔ ہوا میں تقریباً 21 فیصد آکسیجن موجود ہوتی ہے۔
آکسیجن کی خوش اخلاقی اور مسائل
آکسیجن بہت زیادہ سوشل عنصر ہے۔ نہ اس سے تنہا رہا جاتا ہے اور نہ ہی اس سے دوسرے عناصر کی تنہائی دیکھی جاتی ہے۔ اکیلے لوہے پر سرخ، بھورا زنگ چڑھانا آکسیجن کی ہی کارستانی ہے۔ پانی میں دو ہائیڈروجن نے ایک آکسیجن کو اپنی بانہوں میں مضبوطی سے جکڑا ہوتا ہے۔ یہ سمبندھ توڑنا آسان کام نہیں۔ فضائی ہوا میں ہر چند آکسیجن، نائٹروجن اور دیگر گیسیں مرکب کی شکل میں ہوتی ہیں لیکن انہیں الگ کرنا ایسے ہی ہے جیسے باورچی خانہ میں نمک، شکر، ہلدی، مرچ اور چاٹ مصالحہ کے آمیزے میں سے اجزاء کو الگ کرنا۔

آکسیجن تھراپی کا پہلا ریکارڈڈ کیس
6 مارچ 1885 ء کو علی الصبح نوجوان ڈاکٹر جارج ہولٹزیپل کو لاگن ویل جارجیا کے مضافات میں نمونیا کے شکار ایک سولہ سالہ لڑکے کو دیکھنے جانا پڑا۔ ”مجھے سانس دو!“ لڑکے نے بمشکل کہا۔ اس کا رنگ نیلا پڑا ہوا ہے۔
ہولٹزیپل اپنی گھوڑا گاڑی لے کر نکل گیا۔ کچھ دیر بعد واپسی پر اس کے پاس ربڑ کی کچھ نلکیاں، پوٹاشیم کلوریٹ، مینگنیس ڈائی آکسائیڈ، بڑی سی ٹیسٹ ٹیوب اور سپرٹ لیمپ ہے۔ اس نے گھر کے ملازمین سے ایک بالٹی میں پانی بھر کر لانے کے لئے کہا جسے بیمار لڑکے کے منہ کے قریب رکھ دیا گیا۔ اب اس بالٹی میں ربڑ کی ایک نلکی ڈال کر نلکی کا اگلا سرا درج بالا آتش گیر مادے سے بھری ٹیسٹ ٹیوب میں ڈال کر اس کے نیچے اسپرٹ لیمپ بھڑکائی گئی۔
بالٹی میں پانی کی سطح پر کچھ بلبلے سے نمودار ہوئے جنہیں ایک دوسرا ملازم دستی پنکھے کے ذریعے بیمار لڑکے کی طرف دھکیلتا گیا۔ یہ دنیا کی تاریخ میں آکسیجن کے بطور دوا استعمال کا پہلا دستاویزی واقعہ ہے۔ ہولٹزیپل صبح دس بجے سے رات گئے تک اسی طرح مریض کے کمرے میں موجود رہ کر مسلسل یہ علاج اور اس کی تاثیر کا مشاہدہ کرتا رہا۔ صبح تک لڑکے کی حالت بہت سنبھل گئی۔ یاد رہے کہ انیسویں صدی کے آخر تک شدید نمونیا کا مطلب شرطیہ موت ہوتا تھا۔ آکسیجن کی تاثیر تو سامنے آ گئی لیکن کیا اسے دوا کے طور پر استعمال کرنا ہمیشہ اتنا ہی مشکل، تکلیف دہ اور خطرناک کام ہوگا؟
آکسیجن کی مصنوعی پیداوار، کاپی رائٹ اور اجارہ داریاں
برن برادران نامی دو فرانسیسی نوجوانوں نے 1886 ء میں برن آکسیجن کمپنی کے نام سے انگلستان میں ایک کمپنی قائم کی جس نے لائم لائٹ اور سٹیج پر استعمال ہونے والی لائٹوں کے لئے بیریم آکسائیڈ کو بہت زیادہ درجۂ حرارت پر جلا کر آکسیجن پیدا کر کے بیچنے کا کام شروع کیا۔
اس وقت تک آکسیجن کی مارکیٹ بہت محدود تھی لہذا کمپنی نے فروخت بڑھانے کے لئے نت نئے آئیڈیاز پر کام کرنا شروع کیا۔ دودھ کی زندگی بڑھانے، سکرین اور سرکہ بنانے، وہسکی کو ”میچور“ کرنے، لوہے اور سٹیل کی پیداوار سمیت آکسیجن کے کتنے ہی استعمال تھے جو سامنے آتے گئے۔ آکسیجن سے لبریز پانی کی فروخت میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ شراب نوشی کے خلاف کام کرنے والی سماجی تنظیموں نے اس طرح کے مشروب کو مقبول عام کرنے کے لئے مہم چلائیں۔ بالکل اسی طرح جیسے آج کل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنماء ٹیٹرا پیک دودھ کے حق میں اشتہاری مہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں برن کمپنی نے بھی ”مایہ ناز“ اطباء کے سرٹیفیکٹ کے ساتھ آکسیجن ملا پانی فروخت کیا۔
جلد ہی کمپنی کی توجہ آکسیجن کو پیک کرنے اور صارف تک پہنچانے میں حائل دشواریوں کی طرف مبذول ہو گئی۔ شروع میں ”آکسیجن بیگ“ بنائے گئے لیکن ان میں سے آکسیجن لیک ہوجاتی تھی اور وہ جگہ بھی بہت زیادہ گھیرتے تھے چنانچہ موٹے لوہے کے سلینڈر بنا کر آکسیجن کو ان میں زبردست دباؤ سے بھرنے کی ابتدا ہوئی۔ اس میں دقت یہ پیش آئی کہ سلنڈر کا وزن اور قیمت آکسیجن سے کئی گنا بڑھ جاتا۔ بالآخر سٹیل کے سلنڈر بنائے گئے۔ جس طرح اٹھارہویں صدی کے آخری عشرے میں تین مختلف محققین نے آکسیجن دریافت کی تھی بالکل اسی طرح اٹھارہویں صدی کے آخر میں بہت سے سائنسدان ہوا کو مائع میں بدل کر اس سے آکسیجن کشید کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن اس عمل کا کاپی رائٹ پیٹنٹ 1895 ء میں جرمن سائنسدان، انجینئر اور بزنس مین کارل وان لنڈ کے حصے میں آیا۔

یہ وہی صاحب ہیں جن کا ابتدائی فرج ایجاد کرنے میں بھی اہم کردار تھا۔ ان کی قائم کردہ لنڈ کمپنی دنیا میں آکسیجن سمیت متعدد گیس اور کیمیکل بنانے والی بہت بڑی کمپنی ہے۔ برن آکسیجن کمپنی کے مالکان نے لنڈ کمپنی سے مذاکرات کر کے اپنی کمپنی میں شیئر کے عوض آکسیجن بنانے کی ان کی تکنیک استعمال کرنے کی اجازت لے لی۔ 1906 ء میں برن کمپنی کا نام بدل کر برٹش آکسیجن کمپنی رکھ دیا گیا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران فوجی ٹرک، ٹینک، سمندری اور فضائی جہاز اور میزائل کی بہت بڑے پیمانے پر تیاریوں میں ان دونوں کمپنیوں کے دھات کٹنگ اور ویلڈنگ کے کاروبار کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی حاصل ہوئی۔ دلچسپ اور حیران کن امر یہ ہے کہ ایک جرمن کمپنی اور برطانوی کمپنی دوران جنگ ایک دوسرے سے بہت تعاون کرتی رہیں۔ 1974 ء میں برٹش آکسیجن نے امریکہ میں آکسیجن سے متعلق بہت بڑی کمپنی ائرکو کو خرید لیا۔
جس وقت جرمن کارل وان لنڈ ہوا کو پگھلا کر آکسیجن بنانے کا پیٹنٹ اپنے نام کر رہے تھے اسی دوران فرانسیسی موجد جارجیس کلاڈ بھی اسی طرح تسخیر آکسیجن کے وظیفے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کی اس عظیم ایجاد کو صنعتی اور کاروباری مقاصد میں استعمال کرنے کے لئے 1902 ء میں ائر لیکوئیڈ کے نام سے ایک فرانسیسی کمپنی وجود میں آ گئی۔ برٹش آکسیجن، لنڈ پی ایل سی اور ائر لیکوئیڈ ہی وہ تین کمپنیاں ہیں جو کم و بیش پوری دنیا کے آکسیجن کے کاروبار کو براہ راست یا بالواسطہ کنٹرول کرتی ہیں۔
برٹش آکسیجن کمپنی اور لنڈ کمپنی نے 2006 ء میں انضمام کر کے خود کو عالمی مارکیٹ لیڈر بنا لیا ہے۔ روس اور چین بھی انہی کمپنیوں کے دائرۂ اثر والے ممالک ہیں۔ غریب ممالک میں آکسیجن کی قلت کا حل ان کمپنیوں کے پاس ہے لیکن اس حل کے حصول کے لئے ہمیں غیر سائنسی اور توہماتی سوچ سے پیچھا چھڑانا ہوگا۔ صحت کے بجٹ بڑھانے ہوں گے آزادیٔ افکار اور آزادیٔ اظہار کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ عام افراد اپنے حقوق اور زندگی کے حفاظتی اصول سمجھ کر ان کی پابندی کرسکیں۔

آکسیجن تریاق بھی اور زہر بھی
فطرت نے کسی وجہ سے فضاء میں صرف 21 فیصد آکسیجن رکھی ہے۔ آکسیجن کی ذرا سی زیادہ مقدار آگ لگنے کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے اور اس کا مسلسل استعمال انسانی پھیپھڑوں کو ناقابل علاج نقصان پہنچا سکتا ہے۔ روایتی طور پر صرف تین قسم کے طبی ماہرین یعنی جدید انیستھیسیا، سانس کی بیماریوں اور انتہائی نگہداشت کے ماہرین ہی کو آکسیجن کے مناسب استعمال کی تربیت دی جاتی تھی لیکن 2009 ء سے مختلف قسم کے وائرل وباؤں کے پیش نظر برطانیہ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کو آکسیجن کے محفوظ استعمال کے لازمی کورسز کرائے جاتے ہیں۔
پلس آکسیمیٹر اور پانچواں آثار حیات
انیسویں صدی سے ڈاکٹرز اور طبی عملہ مریض کی ابتدائی جانچ کے لئے نبض، بلڈ پریشر، درجۂ حرارت اور سانس کی رفتار دیکھتے آ رہے ہیں۔ 1974 ء میں جاپانی انجینیئر ٹاکو آؤیاگی نے آکسیجن کی مقناطیسی خوبی کی بنیاد پر پہلا پلس آکسیمیٹر ایجاد کر کے کمال کر دیا جو خون میں موجود ہیموگلوبن کے ساتھ پیوست آکسیجن کی شرح بتاتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ سے یہ ایجاد اب انتہائی ارزاں اور ننھی منی ہو کر گھر گھر پہنچ چکی ہے۔ یہ مریض میں آکسیجن کی کمی شناخت کرنے والا معیاری آلہ ہے اور اب اسے پانچواں وائٹل سائن کہا جاتا ہے۔ آکسیجن تھراپی حاصل کرنے والے ہر مریض کے لئے یہ ایک لازمی مانیٹر ہے۔
رامائن
بندر نما دیوتا ہنومان داستان کے ہیرو رام جی کا وفادار اور جاں باز ساتھی ہے
دس سروں والا راکھشس راجہ راون ہنومان کو سزا دینے کے لئے اس کی دم میں آگ لگا دیتا ہے۔ ہنومان درد سے زور لگا کر اچھلتا ہے تو اس کے گرد بنی زنجیریں ٹوٹ جاتی ہے۔ اس کی اچھل کود سے لنکا کی تمام عمارتیں دم میں لگی اس آگ کی لپیٹ میں آجاتی ہیں اور پورا دیس جل کر ختم ہوجاتا ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا اور اس کے ساتھ آئی آکسیجن کی شدید قلت ایک ایسا بحران ہے جو پوری دنیا کو خاکستر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔



