اسلامبو فوبیا کی وجہ القاعدہ اور داعش ہیں: ظالمو ایسا نہ کرو (دوسری قسط)


یہ کوپن ہیگن ہے۔ ڈنمارک کا دارالحکومت۔ آج ہم بذریعہ ہوائی جہاز یہاں پہنچے ہیں یہ دو ماہ کا لمبا سفر تھا پچھلا سارا سفر زیادہ تر ٹرین کا تھا ہم جس شہر میں ٹھہرتے وہاں کے لوگوں سے ملتے ان کی زندگی کے کئی گوشوں سے واقفیت حاصل کرتے، ان کی خوشحالی اور خوشیاں دیکھتے تو رشک آتا ڈسپلن دیکھتے تو حیرت ہوتی کہیں ٹریفک پولیس نہیں لیکن کوئی بھگدڑ نہیں ہر چیز ایک نپے تلے انداز سے چل رہی ہے۔ نظم و ضبط میں تو وہ مشینی انسان محسوس ہوتے ہیں لیکن جذبات میں ہمارے جیسے انسان ہیں۔ احساسات میں اعلی اور انسانیت میں کمال۔ ہر جگہ ان کی محبتوں اور انسان دوستی کی یادیں سمیٹتے اترتے چڑھتے آگے بڑھتے رہے روم، وینس، میلان، زیورخ، پیرس، برسلز اور ایمسٹرڈیم۔ ایمسٹرڈیم میں گل لالہ کے تا حد نظر نظاروں سے دلوں کو منور کرتے سوئزرلینڈ کے لازوال حسن کا نظارہ کرتے ہوئے آج ہم ڈنمارک پہنچے ہیں۔

ڈنمارک کا جب نام آتا ہے تو شیکسپئر ضرور یاد آتا ہے کیونکہ شیکسپئر کا مشہور ڈرامہ ہیملٹ ڈنمارک کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ جب یہاں شہنشاہ ہیملٹ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اس کا قاتل اور غاصب بھائی اس کی جگہ بادشاہ بن بیٹھا ہے اور مقتول بھائی کی بیوہ سے شادی کر لی ہے جو ان کے عقیدے کے مطابق اس وقت بلاسفیمی تھی اس کے بیٹے پرنس ہیملٹ کو وٹنبرگ یونیورسٹی سے واپس بلایا جاتا ہے اور یہاں سے ڈرامہ ایک نیا رخ اختیار کرتا ہے اور غاصب اور حقدار کی جنگ شروع ہوتی ہے جبکہ ملک میں ہر طرف افراتفری ہے۔

ملک کا نظام گل سڑ چکا ہے حالات انتہائی ابتر ہیں ملک میں خوف کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں یہ بھی ڈر ہے کہ کہیں ناروے کا بادشاہ ڈنمارک پر حملہ نہ کردے۔ ہر طرف تاریکی اور دھند چھائی ہے جب ایک سنتری محل کے سنتری سے کوڈ پوچھتا ہے تو اس کی آواز خوف سے لرز رہی ہے جیسے ایلسینور محل کے چاروں طرف بھوت کا سایہ پڑ چکا ہو لیکن آج یہاں محل سے گزرتے شہر میں گھومتے پھرتے محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کبھی ایسے آلام سے گزرا ہی نہیں تھا اور صدیوں سے یہ شہر خوشیوں کی آماجگاہ بنا رہا ہے۔

ائر پورٹ سے جو ٹیکسی ڈرائیور ہمیں ہوٹل کی طرف لا رہا تھا وہ پاکستانی تھا اس کا نام احسن تھا۔ اس سے ہم نے پوچھا کہ یہاں کھانے پینے کے لئے کوئی پاکستانی ریسٹورنٹ ہے تو اس نے بتایا کہ اس شہر میں چھ سات ہیں لیکن انہوں نے اپنے ان تمام ریستورانوں کے نام انڈین رکھے ہوئے ہیں۔ ہم نے ہوٹل میں اپنا سامان رکھا ڈرائیور کے ساتھ کھانا کھانے چل پڑے۔ تھوڑی دیر بعد اس نے ایک ریسٹورنٹ کے سامنے ہمیں اتار دیا۔ میں باہر کنوپی کے نیچے بیٹھ گیا اور منزہ ریسٹورنٹ کے اندر جائزہ لینے چلی گئی۔ ریسٹورنٹ کا مالک آیا تو اس سے بات چیت میں یہ کھلا کہ ہم مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے خلاف ایک نفرت ہے جس میں سارا قصور ہمارا اپنا ہے۔

ہم نے کھانا کھایا بل ادا کیا اور چل پڑے راستے میں منزہ نے بتایا کہ بے چارے ہوٹل کے مالک نے خود کو انڈین ثابت کرنے کے لئے ریسٹورنٹ کے اندر ایک بت بھی رکھا ہوا ہے۔ یہ امیج ہے ہم مسلمانوں کا یورپ کے اندر کہ ہماری مذہبی شدت پسندی اور دہشتگردی سے یہاں کے لوگ اتنے متنفر ہو چکے ہیں۔

رات کو جب میں سونے لگا تو نیند آنکھوں سے بہت دور جا چکی تھی عجیب و غریب خیالات اور وسوسے دل میں آ رہے تھے لیکن مجھے یہ بات بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یکایک یورپ میں ہمارے خلاف نفرت کیوں پیدا ہو گئی ہے۔ مغربی دنیا کے لوگ تو پر امن اور انسانی دوست لوگ ہیں انہیں مسلمانوں اور ان کے پیغمبر سے اس قدر کیا دشمنی ہو گئی ہے کہ وہ ان کی تضحیک پر اتر آئے ہیں حالانکہ انہیں کسی کے عقیدے قومیت اور رنگ و نسل پر کوئی اعتراض نہیں رہا وہ انسان کا دکھ درد محسوس کرتے ہیں انسان تو انسان کسی جانور کو تکلیف میں دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں اسی نقطے سے جڑے خیالات کا طوفان تھا جس نے مرے ذہن پر یورش کی ہوئی تھی کیونکہ ان لوگوں کی سوچ اور ان کا شعور اپنے فلسفیوں اور سکالرز سے کی تعلیمات سے اس قدر پختہ ہو چکا ہے کہ آپ دلیل اور اپنے کردار سے ان کو متاثر کر سکتے ہیں دہشت گردی سے نہیں جو کچھ میں محسوس کرتا ہوں محمدﷺ کی ذات اور ان کی تعلیمات خود ان کی عظمت کی گواہ ہیں انہیں ہم نام نہاد مسلمانوں کی مدد کی ضرورت نہیں۔

دنیا کے عظیم ناول نگار ٹالسٹائی نے کہا کہ میں دنیا میں کوئی ایک ایسی شخصیت دیکھنا چاہتا تھا جس کا کروڑوں انسانوں کے دلوں پر راج ہو۔ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ تلوار نہیں تھی جس کی وجہ سے اسلام نے دنیا میں جگہ بنائی۔ یہ رسول اکرم ﷺ کی سادگی، بے باکی، وعدے کی پاسداری، دوستوں اور اپنے ماننے والوں کے لئے بے لوث محبت ان کی جرات اور نڈر ہونا اور اپنے مقصد میں خدا پر مکمل بھروسا شا مل تھا۔

Leo Tolstoy

جیمز مچیز نے ”اسلام۔ ایسا مذہب جس کو غلط سمجھا گیا“ میں لکھا ہے۔ کہ ”میں محمد ﷺ کے مذہب کو اپنی حیران کن طاقت کی وجہ سے احترام کی نظر سے دیکھتا ہوں یہ صرف ایک مذہب ہے جو انسانی زندگی کے بدلتے تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔ میں نے اس شاندار انسان کی زندگی کا مطالعہ کیا ہے اور میرا یقین ہے کہ وہ نسل انسانی کا نجات دہندہ کہلوانے کا حقدار ہے۔ اگر انگلینڈ میں کسی مذہب کی عملداری کا کوئی سوچ سکتا ہے تو آئندہ صدی میں وہ صرف اسلام ہو گا۔ میرا عقیدہ ہے کہ اگر اس طرح کا کوئی انسان موجودہ ماڈرن دنیا میں ڈکٹیٹر بن کے آ جائے تو وہ اس دنیا کے مسائل بھی حل کر دے گا اور اس میں امن اور آشتی قائم کر کے دنیا کو انسانوں کے لئے خوشیوں کا گہوارہ بنا دے گا۔

جارج برنارڈ شا نے کہا ہے کہ یورپ کو اب محمد ﷺ کی دانش کا احساس ہونے لگا ہے اور اسلام کے لئے اس میں ایک جذبہ پیدا ہونے لگا ہے قرون وسطی میں یورپی لوگوں نے جو ان کے خلاف جھوٹ اور افترا پھیلایا ہے اس کا قلع قمع ہو جائے گا محمد ﷺ کا جو دین ہے اس کے مطابق جو سسٹم بنے گا وہ امن اور سکون کا ذمہ وار ہو گا اور اس کی تعلیمات اور فلسفے سے جو ہماری مشکلات اور ہمارے روگ ہیں وہ ختم ہو جائیں گے۔

محمد ﷺ کی زندگی انتہائی سادہ تھی ان کی خوراک، پہناوا اور رہائش ساری زندگی سادگی کی مثال رہی ان کی خوراک صرف روٹی کھجور اور پانی پر مشتمل تھی وہ اپنے کپڑوں اور جوتوں کی خود مرمت کرتے اس سے زیادہ قابل احترام اور کیا چیز ہے اور دن رات خدا کے دین کی اشاعت میں مصروف رہے انہیں کسی عہدے کسی سلطنت یا طاقت کی ضرورت نہیں تھی وہ صحیح معنوں میں اعلی کردار کے پیغمبر تھے۔

فلاسفر تھامس کارلائل کہتے ہیں کہ آج تک کسی انسان نے اس طرح کا اعلی مقصد اپنے سامنے نہیں رکھا کیونکہ یہ کسی فوق البشر کا کام ہو سکتا ہے کہ تمام توہمات کو مٹا دیا جائے جو انسان اور اس کے خالق کے درمیان پیدا کر دی گئی ہیں۔ انسان کو خدا کے قریب کر دیا جائے اور خدا کو انسان کے قریب اور بت پرستی کے گھمسان میں الوہیت کا معقول اور مقدس خیال دوبارہ قائم کیا جائے اور آج تک کسی انسان نے اتنے عظیم کام کا بیڑہ نہیں اٹھایا۔

Thomas_Carlyle

ذرائع کی انتہائی کمیابی کے ساتھ اگر کچھ سہارا تھا تو ان کی اپنی ذات تھی اور مٹھی بھر لوگ جو ایک صحرا کے کنارے رہ رہے تھے اور وہ ان کے ساتھ دنیا میں اتنا بڑا انقلاب لے آیا کہ دو صدیوں میں اسلام بحیثیت ایک نظریہ اور ایک سیاسی طاقت کے تمام عالم عرب، ایران، انڈیا، حبشہ، شام، مصر، شمالی افریقہ اور سپین پر چھا گیا اعلی مقصد، ذرائع کی کمیابی اور شاندار نتائج یہ تین چیزیں کسی اعلی دماغ کی کسوٹی اور امتحان ہیں اور محمد ﷺ کے علاوہ انسانی تاریخ میں کون اس کا دعویٰ کرنے کی جرات کر سکتا ہے۔

بڑے بڑے مشاہیر اس دنیا میں آئے جنہوں نے اسلحہ، قانون اور سلطنتیں بنائیں جو ان کی آنکھوں کے سامنے زمین بوس ہو گئیں لیکن محمد ﷺ نے نہ صرف فوجیں بنائیں قانون بنائے سلطنتیں بنائیں اعلیٰ لوگ پیدا کیے ان کے شاہی خاندانوں کا سلسلہ بنایا اور اس وقت تین تہائی انسان اپنے قبیلے میں شامل کیے اور اس کے علاوہ قربان گاہیں، بت خانے توہمات ختم کیے اور ایک نظریہ دیا کہ خدا ایک ہے اور خدا کوئی مادی چیز نہیں ہے۔ کہ خدا کیا ہے اور کیا نہیں ہے وہ بیک وقت فلاسفر تھا، مقرر تھا، اوتار تھا، قانون دان تھا جنگجو تھا، فاتح دلیل تھا، شعوری اعتقادات بنانے والا۔ بیس زمینی سلطنتیں اور ایک روحانی سلطنت قائم کرنے والا وہ صرف محمد ﷺ کی ذات ہے اور دنیا میں کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

فرانسیسی ادیب الفونس لکھتا ہے وہ جب بولتے تو دلوں میں احترام اور محبت کے جذبات پیدا ہوتے اور ان کو قدرت نے بات کا وہ ملکہ عطا کیا تھا کہ ان کی بات علماء اور جہلا کو ایک جیسا متاثر کرتی اور عرب کا سلطان ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے جوتے اور معمولی اونی کپڑے خود مرمت کرتے اونٹنیوں کا دودھ دوہتے گھر میں خود جھاڑو دیتے خود آگ جلاتے، پانی اور کھجوریں ان کی غذا تھی، دودھ اور شہد ان کی تعیش تھا، سفر پر ہوتے تو اپنے خادم کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے۔

جان ڈیون بورٹ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ سربراہ ریاست بھی تھے سربراہ چرچ بھی وہ بیک وقت سیزر اور پوپ تھے لیکن بغیر کسی مفاد اور اعزاز کے پوپ کے اور سیزر بغیر خدام کے، بغیر آرمی کے، باڈی گارڈ، محل اور بغیر کسی مقررہ آمدنی کے، اگر دنیا میں کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ حق سلطانی خدائی حق ہے تو وہ صرف محمد ﷺ کہہ سکتے ہیں۔

ایڈورڈ گین ”رومن ایمپائر کا عروج و زوال“ میں لکھتے ہیں تاریخ نے اس بات کر رد کر دیا ہے کہ انتہا پسند مسلمان تلوار کی نوک پر دنیا کو مفتوح کرتے چلے گئے اور مفتوحین کو زبردستی مسلمان بناتے رہے یہ کلیتا لا یعنی کہانیاں ہیں جنہیں مورخ فضول دہراتے چلے گئے۔

اسی طرح اولیری، لارنس براؤن، مستثرق ایمل، ڈرمارجن، فلورنبڈز اینڈ مارسیل، مشترق ہولن پال، رونلڈ نکلسن، آرنلڈ، ڈاکٹر ولیم ڈرریپر، لارڈ ہیڈ لے اور بے شمار مورخوں، فلاسفروں اور مستشرقین نے جس طرح رسول اکرم ﷺ کی عظمت کی بات کی ہے حیرانی ہوتی ہے۔ مائیکل ہارٹ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ تاریخ میں ایک سو بڑی شخصیات میں اگر کوئی ممتاز ترین شخصیت ہے تو وہ محمد ﷺ کی ہے۔ وہ لکھتا ہے ”دنیا کے موثر ترین افراد کی اس فہرست میں محمد ﷺ دنیا کے واحد مرد ہیں جو دینی و دنیاوی دونوں سطحوں پر بدرجہ اتم کامیاب تھے“ ۔

تو پھر اس ذات سے اتنی نفرت کیوں۔ میرے ذہن میں مختلف خیالات کا خلفشار تھا اچانک انسانوں کا ہجوم میرے ذہن میں ابھرا یہ اپنی حکومتوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جب امریکہ اور برطانیہ نے عراق پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تو کینیڈا، امریکہ اور لندن میں لوگ اس فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ کون سا شہر تھا جہاں انسانوں کا سیلاب امڈ نہ آیا ہو ٹورانٹو، وینکوور سے لندن تک ملین مارچ ہوئے اور ایک ہی مطالبہ تھا۔ For Oil No Blood۔

protest against Iraq war

یہ لوگ کسی عیسائی ملک کے لئے نہیں نکلے تھے مسلمانوں کے لئے اس جذبے سے نکلے کہ جس کا نظارہ چشم فلک نے آج تک نہیں کیا تھا منفی 20 سے منفی 30 درجے میں شدت کی سردی کے باوجود فر اور گرم کپڑوں میں لپیٹے بوڑھے نوجوان اپنے بیوی بچوں کے ساتھ جنگ مخالف تحریک کے لوگ ریٹائرڈ فوجی ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں ہلاک ہونے والوں کے عزیز و اقارب سائنسدان، چرچ کے لیڈر کون سا زندگی کا شعبہ تھا جو اس احتجاج میں شامل تھا۔ ہم جن کو کافر کہتے ہیں ان چھتیس کروڑ ”کافروں“ نے احتجاج کیا کہ عراق کے مسلمانوں کو جنگ کی آگ سے دور رکھا جائے اس وقت جب مسلمان ملکوں کے مومن لمبی تان کر سو رہے تھے۔

آج تک نظارہ نہ کیا ہو۔ کون سا دنیا کا شہر ہو جہاں لوگ ٹڈی دل کی طرح مسلمانوں کے لئے نہ نکلے ہوں ابھی آپ کہتے ہیں وہ لوگ مسلمانوں اور ہمارے پیغمبر کے خلاف ہیں اور ہم مسلمانوں نے اس کا کیا صلہ دیا اسی ملین مارچ کے شہر لندن میں کچھ عرصے بعد مسلمان خود کش حملہ آوروں نے ان لوگوں کو خون میں نہلا دیا یہ 9 / 11 کی طرح کا 7 جولائی ( 7 / 7 ) کا منصوبہ تھا۔ اس میں چار حملہ آور لوٹن میں اکٹھے ہوئے وہاں سے کنگ کراس سٹیشن میں داخل ہو کر مشرق اور مغرب کی طرف جانے والی سرکل لائن اور پکاڈلی لائن کی ٹرینوں میں سوار ہو گئے اور ٹھیک بیس منٹ کے بعد سرکل سکوائر اور ایلڈ گیٹٹ پر دھماکے ہوئے اور چشم زون میں 52 آدمی ہلاک ہو گئے اور پانچ سو سے زیادہ آدمی زخمی ہوئے۔ ان میں جوان، بوڑھے مرد خواتین تھیں اور اس کے علاوہ ایک نام نہاد مجاہد اسلام نے ڈبل ڈیکر پر خود کش حملہ کر کے بس اور انسانوں کے پرخچے اڑا دیے۔ تیرہ آدمی اسی وقت ہلاک ہو گئے اور سو سے زائد لوگ ہسپتالوں میں موت کا انتظار کرنے لگے۔

یہ صلہ تھا جو ہم نے دینا تھا دیا لیکن ان انسان دشمن مجاہدین کا وڈیو بیان وہ شاہکار بیان تھا جو ہم مسلمانوں اور ہمارے پیغمبر کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی ابتدا بنا۔ محمد صدیق خان کہتا ہے : جو کچھ آپ لوگوں نے دیکھا ہے یہ صرف ابتدائیہ ہے اور دن بدن اس میں سختی آئے گی۔ دو خود کش حملہ آوروں کا بیان تھا کہ وہ اللہ کے سپاہی کیوں بنے اس میں انہوں نے القاعدہ کے اسامہ بن لادن، ایمن الزواہری اور الزرتاوی کو آج کے ہیرو قرار دیا ہے۔ ”میں اور میری طرح ہزاروں اور لوگ اپنے عقیدے پر ہر چیز کو قربان کر رہے ہیں ہمارا مذہب اسلام ہے ایک خدا کی اطاعت کرتے ہیں اور نبی آخر ازمان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ شہزاد اور تنویر نے خاص طور پر کہا کہ برطانیہ کے غیر مسلم اس طرح کے خود کش حملوں کے لائق ہیں۔

یہ ہے وہ بیانیہ اور سوچ جس پر ان غاصب اور قاتلوں نے اسلام کے پرامن بیانیے کو رد کر کے دہشتگردی کے بیانئے کی سلطنت کی بنیاد رکھی ہے۔ کون سا ملک ہے جہاں ان نام نہاد لوگوں نے تخریب کاری اور خود کش حملے نہیں کیے اور معصوم لوگوں کا خون نہیں بہایا جب عراق اور شام کے لاکھوں پناہ گزین جنگ کی تباہ کاریوں سے تنگ آ کر پناہ ڈھونڈتے پھرتے تھے مسلمانوں کو کوئی بھی اسلامی ملک پناہ دینے کو تیار نہیں تھا تو یہ جرمنی اور فرانس تھے جنہوں نے ان کو پناہ دی۔

انجیلا مرکل نے یہی کہا تھا کہ ہم نے بحیثیت انسان ان کی تکلیف اور صعوبتوں کو دیکھ کر لاکھوں مسلمانوں کو پناہ دی ہے حالانکہ مدینہ اور مکہ ان کے قریب تھا۔

Angela-Merkel

ابھی کوئی معمہ رہ گیا ہے کہ یورپ میں مسلمانوں اور رسول اکرم ﷺ کے خلاف جو نفرت پائی جاتی ہے وہ اپنوں کی دین ہے جب ان کے اعلی دماغ مورخوں، ادیبوں اور فلسفیوں نے رسول اکرم ﷺ کی شخصیت اور ان کی زندگی کے ہر گوشے پر روشنی ڈال کر آپ کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اور یورپ اور امریکہ اور کینیڈا کے کروڑوں انسانوں نے آپ پر ہونے والے ظلم پر بھر پور احتجاج کر کے آپ سے یکجہتی اور انسان دوستی کا ثبوت دیا یہ ہم نام نہاد مسلمان تھے جنہوں نے ان کو خون میں نہلایا اب اسی یورپ میں نفرت کی بات کیوں ہو رہی ہے لیکن مجھے بات سمجھ نہیں آ رہی تھی خیالات کے ہجوم میں ہی لندن کا ہجوم سامنے آیا۔

ان حالات میں اور جب پورے یورپ اور امریکہ میں خود کش حملے کیے جا رہے ہوں ان کے پر امن ماحول کو آپ دھماکوں سے اڑا رہے ہوں اور ان کے بوڑھے، جوان، خواتین اور بچے اس کا لقمہ اجل بن رہے ہوں تو کیا اپنے عزیزوں کی لاشیں اٹھانے والے ہم پر اور ہمارے پیغمبر پر پھول برسائیں گے وہ رسول جو رحمت العالمین تھے اور آپ اپنی دہشت گردی کو اسی عظیم انسان کی تعلیمات سے جوڑ رہے ہوں کہہ رہے ہوں کہ یہ خود کش حملے ہم خدا کے احکامات اور رسول کے نقش قدم پر چل کر کر رہے ہیں تو پھر بات باقی کیا رہ جاتی ہے۔

مسلمان تو ایک طرف رہے، مسلمانوں کے خلاف نفرت کا سبب ہم خود ہیں اور ہماری یہی سیاہ کاریاں ہیں۔ دہشت گرد جس طرح، شہروں میں عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر بم دھماکے اور خود کش حملے کر رہے ہیں یہ بذات خود ارشاد باری تعالیٰ کے خلاف ہے، رسول اکرم نے تو جنگ کے دوران غیر مسلم بوڑھوں، خواتین اور بچوں کے قتل عام کی سخت ممانعت کی ہے اور یہ امن کے دنوں میں سول آبادی پر تخریب کاری کر کے ان کے بوڑھوں، جوانوں، عورتوں اور بچوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔

اور ہم الٹا ان کے خلاف جلوس نکال کر اپنے مسلمان بھائیوں کی املاک تباہ کر رہے ہیں ان کو جان سے مار رہے ہیں ان کے ناک اور کان کاٹ رہے ہیں ہمیں سوچنا پڑے گا کہ اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں اور ہماری امداد سے چلنے والی دہشت گرد تنظیمیں ہیں اور یہ وہ قاتل اور غاصب ہیں جو اسلام کے پر امن بیانیہ کو رد کر کے دہشتگرد بیانئے کی سلطنت قائم کیے ہوئے ہیں۔ اب جب تک پرنس ہیملٹ کی طرح ہماری صفوں سے کوئی ہیرو اٹھ کراس شیطانیت اور غاصبانہ موقف کو ختم کر کے اسلام کے پر امن موقف کو زندہ نہیں کرتا رواداری بھائی چارہ امن اور آشتی ایک خواب رہے گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “اسلامبو فوبیا کی وجہ القاعدہ اور داعش ہیں: ظالمو ایسا نہ کرو (دوسری قسط)

  • 16/05/2021 at 8:38 شام
    Permalink

    Repected sir
    You don’t mention reason and also not elaborate solution
    Positivity also around if we’ve

Comments are closed.