سارتر کا وجودی فلسفہ اور مارکسزم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ژاں پال سارتر نے 1940 کی دہائی میں ایک معرکتہ الآرا کتاب لکھی اور اس میں اپنا وجودیت کا فلسفہ پیش کیا۔ وہ کتاب BEING AND NOTHINGNESS کے نام سے چھپی۔ اس کتاب میں سارتر کا انداز تحریر ’کئی اور مغربی فلسفیوں کی طرح‘ مشکل بھی ہے اور گنجلک بھی۔ کچھ مسائل فرانسیسی سے انگریزی میں ترجمے کے بھی ہیں۔ سارتر کی موت سے پہلے کسی شاگرد اور مداح نے ان کی کتاب کی تلخیص شائع کی۔ جب کسی دوست نے سارتر سے کہا کہ آپ کی 500 صفحات کی کتاب کا خلاصہ کسی نے 150 صفحوں میں پیش کیا ہے تو سارتر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر میں وہ کتاب اب لکھتا تو میں بھی اختصار سے کام لیتا۔ عہد جوانی میں جب میں ایک نئے فلسفے کو جنم دے رہا تھا تو میرے لیے اپنے خیالات اور نظریات کو اختصار سے پیش کرنا مشکل تھا۔

میں نے بھی اپنے اس مضمون کے لیے NEIL LEVY کی 2002 میں چھپی 150 صفحات پر مشتمل کتابSARTREسے استفادہ کیا ہے۔

چونکہ وجودیت کے فلسفے کی اصطلاحات پیچیدہ ہیں اس لیے میں نے ان کا مفہوم عام فہم زبان میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ بیسویں صدی کے اس اہم فلسفے سے متعارف ہو سکیں۔ عین ممکن ہے میرے مضمون سے آپ کو اس فلسفے کے بارے میں مزید جاننے کی تحریک ہو۔

وجودیت کے فلسفے کے مطابق ہماری کائنات ایک وجود رکھتی ہے۔ یہ وجود مادی وجود ہے۔

اس مادی وجود میں جب انسان پیدا ہوا تو ایک نئے انداز کے وجود کی تشکیل ہوئی۔ ہم انسانی وجود کو معنوی وجود کہہ سکتے ہیں کیونکہ انسان اپنے شعور اور آگہی سے اپنے وجود کو ایک معنی دے سکتا ہے۔

سارتر نے اپنے وجودی فلسفے کی تشکیل و تعمیر میں جن قدیم اور جدید فلسفیوں کی تخلیقات کا بغور مطالعہ کیا ان میں سے ایک ایڈمنڈ ہسرل EDMUND HUSSERL تھے۔

ہسرل کے فلسفے کا ایک اہم نکتہ ارادہ INTENTIANALITYہے۔ انسان اس وجہ سے انسان ہے کہ وہ پہلے کام کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور پھر اس ارادے پر عمل کرتا ہے۔ اس ارادے اور عمل کا شعور انسان کو نباتات ’جمادات اور حیوانات سے متمیز کرتا ہے۔

سارتر نے اپنے وجودی فلسفے کی بنیاد تین طرح کے تجربات پر رکھی ہے۔
پہلا تجربہ۔ IN ITSELF۔ مادی وجود ہے۔ نباتات اور جمادات قوانین فطرت اور حیوان اپنی جبلت کے تابع ہیں۔

انسان ان تمام چیزوں کو دیکھتا ہے اور ان کے بارے میں ایک تصور قائم کرتا ہے۔ وہ انہیں ایک خاص معنی دیتا ہے۔ وہ معنی ان کے اندر پہلے سے موجود نہیں ہوتے وہ انہیں انسان اس وقت دیتا ہے جب وہ ان چیزوں کا مشاہدہ اور تجربہ کرتا ہے۔

دوسرا تجربہ۔ FOR ITSELF۔ ہے۔ انسان کا وجود نباتات اور جمادات کے مادی وجود سے مختلف ہے کیونکہ اس کا وجود معنوی وجود ہے۔ انسان اپنے شعور اور اپنی آگہی کی وجہ سے اپنی زندگی کو ایک معنی دیتا ہے۔

اس مقام پر سارتر مارٹن ہیڈیگر MARTIN HEIDDEGGER کے خیالات و نظریات سے استفادہ کرتے ہیں۔ ہیڈیگر نے اپنی مشہور کتاب BEING AND TIMEمیں لکھا تھا کہ انسان پیدائش کے لمحے سے موت کے لمحے تک اس دنیا میں جو زندگی گزارتا ہے وہ اگر چاہے تو اسے بامعنی بنا سکتا ہے۔ وہ زندگی کے خالی گلاس کو اپنی پسند کے معنی کے مشروب سے بھر سکتا ہے۔ ہیڈیگر نے اس تصور اور تجربے کو DASIEN۔ BEING IN THE WORLD کا نام دیا۔

ہیڈیگر نے رینے ڈیکارٹ RENE DESCARTES کے دوئی کے فلسفے SUBJECT/ OBJECTکے نظریے کو چیلنج کیا تھا۔ ڈیکارٹ نے مادی دنیا اور انسانی سوچ کی دنیا کو دو خانوں میں بانٹا تھا لیکن ہیڈیگر نے مادی اور انسانی دنیا کو معنی کے پل سے ملا دیا۔ ہیڈیگر نے کہا کہ جب انسان اپنے ارد گرد کے ماحول کا مشاہدہ اور تجربہ کرتا ہے تو وہ اسے بامعنی بنا دیتا ہے اسی لیے انسان کا وجود دنیا کی باقی چیزوں کے وجود سے مختلف ہے۔

سارتر کا موقف تھا کہ انسان انفرادی اور اجتماعی دونوں طریقوں سے زندگی کو بامعنی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ انسانوں نے جو ثقافتیں ’مذاہب اور روایتیں تخلیق کی ہیں وہ سب زندگی کو بامعنی بنانے کی مختلف کوششیں ہیں۔ جب انسان کسی خاندان میں پیدا ہوتا ہے اور کسی ماحول میں پلتا بڑھتا ہے تو وہ اپنے والدین‘ اساتذہ اور بزرگوں سے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو معنی دینا سیکھتا ہے۔ جب وہ جوان ہوتا ہے تو اسے اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنے خاندان اور معاشرے کی روایت پر چلتا رہے یا اپنے لیے نیا راستہ بنائے اور زندگی کو نئے معنی دے۔

تیسرا تجربہ۔ انسانوں کا دوسرے انسانوں کا رشتہ ہے
BEING FOR OTHERS

انسان چونکہ دوسرے انسانوں کے ساتھ زندگی گزارتا ہے اس لیے وہ اس سوچ میں ڈوبا رہتا ہے کہ دوسرے انسان اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور وہ دوسروں کے بارے میں کیا سوچتا ہے۔ اسی لیے جب ایک انسان دوسرے انسان سے ملتا ہے تو اس مخمصے میں گرفتار ہو جاتا ہے کہ دوسرا انسان اسے پسند کرے گا یا ناپسند ’اسے قبول کرے گا یا رد کر دے گا۔

ایک انسان دوسرے انسان کی زندگی پر مثبت اثرات بھی مرتب کر سکتا ہے اور منفی بھی۔ وہ دوسرے انسان کو سکھی بھی کر سکتا ہے اور دکھی بھی۔ وہ اس کی زندگی کو جنت بھی بنا سکتا ہے اور جہنم بھی۔ سارتر نے اپنے ڈرامے NO EXIT میں ایک کردار سے کہلوایا تھا HELL IS OTHER PEOPLE

سارتر نے ہسپانوی فلسفی ہوزے آرٹیگوJOSE ORTEGO کے خیالات و نظریات سے بھی استفادہ کیا جنہوں نے اپنے خیالات اپنے مضمون MAN HAS NO NATURE میں پیش کیے تھے۔

آرٹیگو کی طرح سارتر بھی اپنے وجودی فلسفے کی تفصیل میں کہتے ہیں کہ انسان کی کوئی فطرت نہیں ہے۔ نباتات اور جمادات قوانین فطرت پر اور حیوانات اپنی جبلت پر چلتے ہیں یہی ان کی فطرت ہے لیکن انسان وہ واحد جاندار ہے جسے اختیار ہے کہ وہ اپنے اندر کی حیوانی جبلتوں اور معاشرے کی روایات پر عمل کرے یا انہیں رد کر دے۔ وہ سوچ سمجھ کر اپنی زندگی کے فیصلے کر سکتا ہے اور پھر اپنے فیصلوں کو بدل بھی سکتا ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں سارتر اور مذہبی لوگوں کے موقف میں فرق پیدا ہوتا ہے۔ مذہبی لوگوں کا ایمان ہے کہ کائنات خدا نے بنائی ہے۔ خدا خالق ہے اور کائنات مخلوق۔ خدا نے ایک خاص مقصد کے لیے یہ کائنات تخلیق کی اور اس تخلیق میں انسان بھی شامل ہے۔ مذہبی لوگوں کے لیے

ESSENCE PRECEDES EXISTENCE

جوہر وجود سے پہلے آتا ہے اور مقدم ہے۔ اس لیے انسان کی زندگی کا مقصد خدا کے دیے گئے مقصد کو جاننا اور پھر اس مقصد پر عمل کرنا ہے۔

سارتر چونکہ کسی خدا اور مذہب پر ایمان نہ رکھتے تھے اس لیے ان کا موقف تھا کہ انسان کی زندگی کا اس کی پیدائش سے پہلے کوئی مقصد نہیں۔ انسان جو چاہے اپنی زندگی کو مقصد دے۔ اس لیے وجود جوہر سے زیادہ مقدم ہے

EXISTENCE PRECEDES ESSENCE
اسی لیے سارتر اپنے لیکچر EXISTENTIALISM IS A HUMANISM میں فرماتے ہیں

THERE IS AT LEAST ONE BEING ڈبلیو ایچ او SE EXISTENCE COMES BEFORE ITS ESSENCE، A BEING WHICH EXISTS BEFORE IT CAN BE DEFINED BY ANY CONCEPTION OF IT۔ THAT BEING IS MAN

سارتر کے وجودی فلسفے کا اہم پہلو انسانی آزادی ہے۔ انسان زندگی کے ہر قدم اور ہر موڑ پر فیصلہ کرتا ہے جو اس کی خوش بختی بھی ہے اور بدبختی بھی۔ فیصلہ نہ کرنا بھی ایک فیصلہ ہے۔ اسی لیے سارتر کا یہ جملہ بہت مشہور ہوا WE ARE CONDEMNED TO BE FREE

سارتر اپنے وجودیت کے فلسفے میں انسانی آزادی کے ساتھ ساتھ انسانی

ذمہ داری پر بھی اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ مذہبی لوگوں کی طرح نہیں ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ سب خدا کی مرضی ہے یا یہ سب لوح محفوظ میں پہلے سے لکھا ہوا ہے یا یہ سب ہماری قسمت میں ہے۔ ایسے نظریات سے وہ اپنے اعمال کی پوری ذمہ داری لینے سے کتراتے ہیں ’ہچکچاتے ہیں اور گھبراتے ہیں۔

انسان جب اپنی آزادی کو قبول کرتا ہے تو وہ اپنی سوچ ’اپنی فکر اور اپنے اعمال کی ذمہ داری بھی قبول کرتا ہے۔

ژاں پال سارتر کا وجودیت کا فلسفہ انسان کو اپنے اعمال اور ان کے نتائج قبول کرنے کی دعوت اور ایک بہتر انسان بننے کی تحریک دیتا ہے۔

ژاں پال سارتر اور کارل مارکس

سارتر کے وجودیت کے فلسفے کا مرکز انسان کی انفرادی زندگی ہے اور وہ ہر انسان کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی کو بامعنی بنائے ’اپنے فیصلوں کی ذمہ داری لے اور اپنے اعمال کے نتائج کو خوش دلی سے قبول کرے۔

سارتر کے وجودیت کے فلسفے کے مقابلے میں مارکس کے فلسفے کا مرکز سماج اور خاص طور پر معاشرے میں طبقاتی کشمکش ہے۔

سارتر کا کہنا ہے کہ انسانی شعور اس کے ماحول کو بدلتا ہے اور مارکس کا کہنا ہے کہ معاشی ماحول اور طبقاتی کشمکش انسانی شعور تخلیق کرتے ہیں۔ مارکس کا کہنا ہے

IT IS NOT THE CONSCIOUSNESS OF MEN THAT DETERMINES THEIR SOCIAL BEING, BUT, ON THE CONTRARY, THEIR SOCIAL BEING THAT DETERMINES THEIR CONSCIOUSNESS

سارتر کا کہنا تھا کہ انسان بنیادی طور پر آزاد ہے جبکہ مارکس کا کہنا تھا کہ انسان سماجی اور معاشی حالات کا پابند ہے۔

سارتر اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں مارکس کے نظریات کے مخالف تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سارتر نے حالات اور واقعات کا سنجیدگی سے تجزیہ کیا اور اپنے نظریات کو تبدیل کیا۔

سارتر نے جب مارکس کے فلسفے کا دوبارہ مطالعہ کیا تو انہیں مارکس کے فلسفے میں ایک ایسا پہلو نظر آیا جس کے ساتھ انہیں ایک جڑت محسوس ہوئی۔ مارکس نے کہا تھا

HISTORY IS NOTHING BUT A CONTINUOUS TRANSFORMATION OF HUMAN NATURE

یہ پڑھنے کے بعد سارتر کو احساس ہوا کہ وجودیت کا فلسفہ انسان کی انفرادی آزادی اور مارکسزم کا فلسفہ انسان کی اجتماعی آزادی کو اہمیت دیتا ہے۔ یہ جاننے کے بعد سارتر نے مارکس کے فلسفے سے اپنے اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پہلو پر توجہ مرکوز کی جس پہلو پر ان کا اشتراک تھا۔

سارتر کو یہ بھی احساس ہوا کہ مارکس بھی ان کی طرح مذہب اور خدا کو خدا حافظ کہہ چکے تھے اور ایک بہتر انسان اور زندگی کا خواب دیکھتے تھے۔

اس آگہی کے بعد سارتر نے کہا کہ انسان بنیادی طور پر آزاد ہے لیکن اس کی آزادی اس کے ماحول اور حالات کی وجہ سے محدود ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ سارتر کا فرانس کے سوشلسسٹ ’کمیونسٹ اور مارکسسٹ ادیبوں اور تحریکوں سے رابطہ بڑھتا گیا۔

سارتر نے مارکس کے فلسفے کا تجزیہ کرنے کے بعد اپنی کتاب
CRITIQUE OF DIALECTICAL REASON
اور اپنا مقالہ MARXISM AND EXISTENTIALISM

لکھے۔ ان تحریروں میں سارتر نظریاتی طور پر مارکس کے قریب آئے اور انہوں نے سماجی اور معاشی پابندیوں کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا

LIFE TAUGHT ME THE POWER OF CIRCUMSTANCES

سارتر نے زندگی کے آخری دور میں وجودیت کے فلسفے اور ماکسزم کے فلسفے کے درمیان پل تعمر کیے۔ اس طرح انہوں نے اپنے ان مارکسسٹ دوستوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جو جوانی میں ان سے ناراض ہو گئے تھے۔

اب ہم اکیسویں صدی میں سارتر اور مارکس کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ سارتر کا فلسفہ انسانیت کو انفرادی آزادی اور مارکس کا فلسفہ اجتماعی آزادی کی دعوت دیتا ہے۔ ان دونوں دانشوروں نے پچھلی چند صدیوں کے انسانی شعور کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 434 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *