چین، ایران، سعودی عرب اور بھارت میں کیا ہو رہا ہے؟


چین اور پاکستان کی دوستی بہت گہری ہے اور دونوں ممالک اس گہری دوستی کے سبب سے ان تمام معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرتے چلے آرہے ہیں کہ جن معاملات سے ایک دوسرے کے گہرے مفادات وابستہ ہے پاکستان ایک چین پالیسی پر گامزن ہے اور چین بھی بین الاقوامی معاملات میں پاکستان کے لئے ایک آزمودہ دوست ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ چین میں معاملات پر نظر رکھنے والے ہانگ کانگ کے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کو بھی یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ کشمیر پر بھی اسی نوعیت کی سفارتکاری اختیار کی جائے کہ جیسے اختلافات کے باوجود چین نے تعلقات کو نارمل کر لیا اور طویل عرصے تک انتظار کیا اسی کی مانند پاکستان بھی تعلقات کو نارمل کر لے اور کشمیر پر طویل انتظار کی سفارت کاری پر تکیہ اختیار کر لیں۔ جب حال ہی میں یہ گفتگو سنی تو مجھے آج سے چند سال قبل چین میں منعقد کی گئی ایک کانفرنس یاد آ گئی۔ راقم الحروف کے ساتھ وہاں پر ایک موجودہ دور کے وفاقی وزیر اور ان کے ساتھ اس وقت کے فیڈرل چیمبر کے صدر بھی پاکستان کی نمائندگی کر رہیں تھے

جبکہ چین کے نائب وزیر خارجہ صوبائی کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل اور صوبائی گورنر بھی موجود تھے۔ جب وہاں پر بھی کچھ چینی دوستوں نے یہ گفتگو کی کہ پاکستان کو ہانگ کانگ کی مثال سامنے رکھنی چاہیے تو اس وقت وہاں پر میں نے گزارش کی تھی کہ ہانگ کانگ اور کشمیر کا تنازعہ بالکل مختلف جہتیں رکھتا ہے یہ ایک جیسی سفارتکاری سے حل نہیں کیے جا سکتے ہیں۔ کشمیر برطانوی ہند کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے یہ تقسیم مذہب کی بنیاد پر کی گئی تھی کہ جس میں مذہبی جڑوں کو بنیاد بنایا گیا تھا جبکہ اسی مذہبی شناخت کی بنیاد پر ثقافتی فرق اور معاشی فرق تک وجود پا چکا تھا۔

چین کا معاملہ اس سے یکسر مختلف ہے وہاں نہ تو کوئی قانونی تقسیم ہوئی تھی اور نہ ہی مذہبی یا ثقافتی نوعیت کی کوئی تقسیم موجود تھی۔ واقعات کو ایک چشمے سے دیکھنا درست نہیں ہوگا کانفرنس کے اختتام پر چین کے نائب وزیر خارجہ خصوصی طور پر ملے جن سے آج بھی محبت کا رشتہ ہے اور کہنے لگے کہ جن معاملات کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے

یقینی طور پر معاملات کو اس زاویے سے ہی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اس گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ کشمیر کے حوالے سے دوبارہ پاکستان میں مختلف حلقے بھارت سے بیک چینل سفارتکاری کا بتا رہے ہیں۔ یہ تو سرے سے ممکن ہی نہیں ہے کہ اتنے اہم ترین موضوع پر آنکھیں میچ لی جائے۔ راقم الحروف جولائی 2019 سے مستقل طور پر تحریر کر رہا ہے کہ پاکستان میں کشمیر کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے اور خطے میں اس حوالے سے بڑی اہم تبدیلیاں رونما ہونے کی توقع ہے۔

اس کے بعد بھارت نے کشمیر میں وہ کر دیا جسے گزشتہ کوئی بھارتی حکومت نہ کر سکی تھی اور اس سے یہ واضح ہو گیا کہ میری اطلاع درست تھی۔ سفارتی دنیا میں بھارت کے معاشی جثہ کے باوجود اس حوالے سے بہت گنجائش موجود ہے کہ ہم دنیا کو اپنی بات سمجھا سکے مگر اصل بات یہ ہے کہ گنجائش سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت اور خواہش موجود ہونی چاہیے اور اگر کیفیت بدست ور یہ ہی قائم رہی تو ایسی صورت میں نہ صرف کے ہم کشمیر کے حوالے سے اپنی پوزیشن مزید کمزور کر لیں گے بلکہ دیگر معاملات میں بھی ہم خسارے کا سودا کرتے چلے جائیں گے جیسے کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں حالیہ بات چیت کہ جس کے ادوار عراق میں منعقد ہوچکے ہیں ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس سے اپنے دو طرفہ تعلقات اور مسلمان برادری کے ایک رکن ہونے کی حیثیت سے ہم لاتعلق نہیں رہ سکتے ہیں۔

یہ بات بالکل واضح ہے کہ دونوں ممالک جہاں پر گفتگو تک اس سبب سے آ گئے ہیں کہ ان پر بین الاقوامی بدلتے حالات کا دباؤ ہے وہیں پر ان ممالک کے داخلی حالات بھی خلفشار کا شکار ہے اور اس خلفشار سے نجات پانے کے لیے سعودی عرب اپنا چہرہ معتدل دکھانا چاہتا ہے اور اس کے چہرے کو صرف مغرب کے لیے قابل قبول نہیں بنانا چاہیے بلکہ عالم اسلام کے لئے بھی معتدل اور سب کا سعودی عرب کا پیغام جانا چاہیے کہ جس کے لئے سب سے مناسب ہوگا کہ وہاں پر مقامات مقدسہ کی دوبارہ تعمیر کی اجازت دی جائے۔

جبکہ ایران کا داخلی خلفشار ایران کے آئندہ صدارتی انتخابات کی وجہ سے انتخابی بخار بھی رکھتا ہے کہ وہاں پر اعتدال پسند کامیاب ہوں گے یا سخت گیر دوبارہ ایوان صدر میں براجمان ہوں گے جواد ظریف کی آڈیو لیک واقعے سے کہ جس کے بعد ان کو صدارتی امیدوار کے طور پر بھی دستبردار ہونا پڑا یہ واضح ہے کہ وہاں پر سخت گیر بھی بہت ساری سیاسی چالوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور یہ تو بالکل واضح ہے کہ ایران سعودی عرب گفتگو پر بھی کوئی بڑا بریک تھرو ایرانی انتخابات کے نتائج کے بعد ہی ہوگا اور یہ تو اظہر من الشمس ہے کہ اس پر مثبت پیش رفت ہی دونوں کے مفاد میں ہیں۔ اب وہ اس نوشتہ دیوار کو پڑھنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔