مسافر سقراط کے دیس میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر سفرنامے کی صدیوں پرانی شمع کو اٹھائے آگے قدم بڑھاتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کا مستقل قاری ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے ایک نیا سفرنامہ پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ پروفیسر زاہد تدریسی مصروفیات میں سے وقت نکال کر جب بھی مسافر کا روپ دھارتے ہیں تو پہلے سے ہی طے کرلیتے ہیں کہ وہ اس سفر میں اپنی تحریروں کے ذریعے بے شمار قارئین کو اپنے ساتھ رکھیں گے۔ مسافر زاہد منیر عامر کے سفرنامے پڑھتے ہوئے قاری ہپناٹائز سا ہوجاتا ہے۔

ان کا سفرنامہ ہاتھ میں آتے ہی قاری عاشق کی طرح تنہائی ڈھونڈتا ہے اور بستر پر پیر پسار کر یا کرسی پر جم کر پاؤں سامنے کی کرسی پر رکھتے ہوئے ندیدوں کی طرح جلدی جلدی مطالعہ شروع کر دیتا ہے۔ اس دوران بعض اوقات اسے مقامات آہ و فغاں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ وہ ایسے کہ پڑھنے والا سفرنامے میں کھو کر وقت اور اردگرد سے بے خبر ہو جاتا ہے۔ گھر والے اسے بار بار کھانے پینے کے لیے بلاتے ہیں یا ملازم اسے مختلف ضروری کام یاد دلاتا ہے یا دن کی روشنی ختم ہو کر رات بھی گزرنے والی ہو جاتی ہے لیکن قاری سفرنامے کے صفحات پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔

پروفیسر زاہد کے قاری کے پرجوش شوق مطالعہ کے باعث آس پاس سے اس قدر بے خبری کے نتیجے میں گھر والوں کی طرف سے کھانے پینے اور نیند سے کنارہ کشی کے الزامات یا ضروری کام بروقت نہ ہونے سے جو بگاڑ پیدا ہوتے ہیں اس کے ذمہ دار مسافر زاہد منیر عامر ہی ہیں۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا کیونکہ پروفیسر زاہد کا تازہ سفرنامہ ”سقراط کا دیس“ ہاتھ لگ گیا۔ ایک تحقیق کے مطابق سفرنامے کی ابتداء دوسری صدی عیسوی میں یونانی سیاح پوزینیس کے سفرناموں سے ہوئی۔

اس سیاح نے یونان سے نکل کر دنیا کی سیر کی اور سفرنامے لکھے لیکن پروفیسر زاہد یونانی سیاح کے ملک یونان ہی جا پہنچے۔ یونان کے سفر پر مشتمل پروفیسر زاہد کا یہ سفرنامہ سقراط کا دیس جیسا صرف عنوان ہی نہیں لیے ہوئے ہے بلکہ قاری مسافر زاہد منیر عامر کے ساتھ ساتھ ڈھائی ہزار برس پہلے کے یونان میں جا پہنچتا ہے جہاں جدید فلسفے کا باپ سقراط موجود ہے اور اس کے سوال کرنے کی عادت سے شہر ایتھنز کے روایتی سیانے بہت پریشان ہیں۔

علم و دانش کے حوالے سے سقراط کا جو جناتی تصور بیرونی دنیا میں موجود ہے اس کی اہمیت موجودہ یونان میں کم ہوتی جا رہی ہے کیونکہ آج کے دور کے یونانی سقراط کو کسی پرانی لائبریری کی پرانی کتاب کا پرانا صفحہ سمجھ کر بھلا رہے ہیں۔ اس کا احساس پروفیسر زاہد کو بھی ہوا جب وہ ایتھنز یونی ورسٹی سے تقریباً آٹھ کلومیٹر دور اس مقام پر پہنچے جہاں صدیوں پہلے سقراط کھڑے ہو کر شہر ایتھنز کے لوگوں سے مخاطب ہوتا تھا۔ اس احاطے کی معمولی سی بھی دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث پروفیسر زاہد رنجیدہ ہوئے اور اس وقت ان کی حالت دیدنی تھی جب اسی ویرانے میں بیٹھے ایک یونانی سکول ٹیچر نے پروفیسر زاہد کے استفسار پر حیران ہو کر جواب دیا کہ اسے یہ معلوم نہیں کہ اس جگہ کا سقراط سے بھی کوئی تعلق ہے اور یہ کہ وہ سقراط سے بھی زیادہ آگاہی نہیں رکھتا۔

ایسی ہی کیفیت پروفیسر زاہد پر اس وقت طاری ہوئی جب وہ افلاطون کی اکیڈمی کے آثار قدیمہ کے درمیان کھڑے تھے۔ مسافر زاہد منیر عامر کو ایتھنز کی سیر کے دوران مختلف جگہوں پر کتے بھی ملے جن کو انہوں نے ”جید کتے“ لکھا۔ نہ جانے جید سے مسافر کا مطلب کتے کو عزت دینا تھا یا کتے کو بڑا لکھنا تھا۔ پروفیسر زاہد اردو، فارسی، عربی اور انگریزی سمیت کئی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ وہ اپنی تحریر کی روانی میں بعض اوقات فارسی یا کسی دوسری زبان کے الفاظ و اقوال اسی زبان میں درج کر دیتے ہیں۔

پروفیسر زاہد کی اس حسین ادا کی جھلک اس سفرنامے میں بھی موجود ہے۔ اس ضمن میں یہ خیال ضرور آتا ہے کہ پروفیسر زاہد تو لسانیات کے ماہر ہیں لیکن ضروری نہیں کہ سفرنامہ پڑھنے والا ہر قاری اردو کے علاوہ کسی دوسری زبان کے الفاظ کو سمجھنے کی پوری اہلیت بھی رکھتا ہو۔ لہٰذا اگر فارسی وغیرہ کے الفاظ، اقوال یا اشعار کے ساتھ ان کے اردو متن کو بھی لکھ دیا جائے تو اساتذہ کے ساتھ ساتھ عام قاری بھی مسافر زاہد منیر عامر کے ساتھ جھٹکا کھائے بغیر محو سفر رہ سکتا ہے۔

سقراط کا دیس جیسے سفرنامے میں مصنف کا جوش تحریر جوش خطابت جیسا بھی ہے۔ مطلب یہ کہ بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پروفیسر زاہد ایتھنز میں گھوم رہے ہیں اور چلتے چلتے یا جگہ جگہ کھڑے ہو کر اپنے ساتھ لاتعداد ہم سفر قارئین کو انگلی کے اشاروں سے بتا رہے ہیں کہ اس جگہ پر سقراط کوزہ گر سے ملا تھا، اس جگہ پر افلاطون اور دیگر شاگرد سقراط سے مکالمے کرتے تھے۔ یہ اس تحریر کی بہت خوبی ہے کہ پروفیسر زاہد کے اس سفرنامے کو سقراط کے دور کے ایتھنز کی لائیو ٹرانسمیشن کہا جاسکتا ہے۔

پروفیسر زاہد کے وہاں میزبان پاکستان کے یونان میں سفیر عزت مآب جناب خالد عثمان قیصر تھے جن کی علم دوستی اور میزبانی کا ذکر مصنف نے پوری طرح کیا ہے۔ اس کتاب کا دیباچہ بھی سفیر پاکستان نے ہی لکھا جبکہ اس علمی کام کے اعتراف اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سفرنامے کا پیش لفظ پاکستان میں یونان کے سفیر عزت مآب جناب ایندریاس پاپاس تاورو نے تحریر کیا۔ پروفیسر زاہد نے سقراط کے دیس جاکر جو کتابی فلم بندی کی ہے اسے مختصر جگہ پر سارا بیان کرنا ممکن نہیں۔

البتہ مسافر زاہد منیر عامر کے قارئین کے شوق جستجو کو مزید بڑھاوا دینے کے لیے کتاب کے کچھ ابواب کے نام یہاں بتا دیتے ہیں جن میں خزاں رسیدہ درختوں کے خالی ہاتھ، ایتھنز کے دل میں زہرہ کا بت، ہائے سقراط تو یہاں بھی نہیں، ایکروپولس خواتین اور بار حیات، کیا سقراط کا فلسفہ ایک خاتون سے متاثر ہو کر تخلیق ہوا؟ اور سمندر سے گفتگو وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سفر یونان کا تصویری البم بھی شامل کتاب ہے جس کا سہرا پروفیسر زاہد کے ساتھ یونان جانے والے نوجوان محمد حذیفہ کے سر ہے۔

اب مسافر زاہد منیر عامر کی ایک چغلی کھانے کو بہت دل کر رہا ہے۔ وہ یہ کہ ان کے سفرناموں کی دلربا تحریروں میں اس ملک کی سیلز گرلز، ریسپشنسٹ گرلز یا مقامی خواتین کا ذکر قلم کو گہرا کر کے کیا جاتا ہے اور ان کی صنف نازک کے بارے میں مہذب نزاکتی حس کو بے باک داد دینے کو دل کرتا ہے۔ سقراط کا دیس میں بھی یہ سب ملے گا۔ آخر میں بس یہی کہ سقراط کا ایتھنز راقم الحروف کا رومانس ہے لیکن موجودہ یونان کی سقراط کے علم سے لاعلمی کو دیکھ کر شاید کہنا پڑے کہ اب یونان سقراط سے ہے نہ کہ سقراط یونان سے ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *