عید


عید واقعی عید ہوا کرتی تھی۔ رمضان کے دوسرے عشرے سے درزیوں کی دکانوں پر ”پندرہ رمضان کے بعد بکنگ بند ہے“ کے اشتہارات آویزاں ہو جاتے تھے۔ بچوں اور نوجوانوں میں زرق برق لباس، جوتے اور عید کے دیگر لوازمات کا شوق اس حد تک ہوتا تھا کہ کوئی اپنے قمیض کے بٹن الگ سے درزی کو دے کر آ رہا ہے۔ لڑکیاں مہندی، چوڑیوں اور نئے سے نئے فیشن ڈیزائن کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

عید کارڈ لئے اور دیے جا رہے ہیں۔
ان پر لکھے مزاحیہ اور لایعنی اشعار بھی لوگوں کے لئے بہت ”معنی“ رکھتے تھے۔

ہم ایسے پینڈو لڑکوں کی خواہش ہوتی تھی کہ عید سے عین ایک دن پہلے نائی کے پاس حجامت کا نمبر مل جائے۔ پر کہاں؟ نائی تو پھر نائی ہوتے ہیں۔ آخری تین روزوں میں ان سے بڑا نیتن یاہو کوئی نہیں ہوتا تھا۔ وہ آنے والے ہر گاہک کی پہلے خوب اچھی طرح ”حجامت“ بناتے اور پھر بھی حجامت نہ بناتے بلکہ اسے یہ کہہ کر ٹال دیتے کہ کل آنا۔ آج بکنگ فل ہے۔ لاچار ہو کر جب چاند رات کو بھی باری نہ آتی تو ہم بروز عید نماز فجر کے بعد منہ اندھیرے جا کر کٹنگ مع شیو کرواتے۔ کریز ہی اتنا ہوتا تھا بھائی۔ کیا کرتے۔ ؟

اس سے ذرا پہلے چھٹپن کے زمانے کی چاند رات کی تو بات ہی نہ پوچھیو۔ انتیسویں روزے کو سرشام ہی کپڑے دھلوا کر مایہ لگا دیا جاتا۔ چاند رات کو ہم کپڑے اٹھائے اس دھوبی سے اس دھوبی پھر رہے ہیں کوئی مگر کپڑے نہیں پکڑتا۔ ایک بار تو کیا ہوا ہم نے بہت چاؤ سے ایک نمبر اصلی اللہ وسایا کرنڈی کا جوڑا سلوایا تھا۔ لوگ عموماً اس کے نیچے کاٹن کی سفید شلوار پہنتے تھے مگر ہم کہ ٹھہرے دماغ کے امیر اور جیب کے فقیر، لہذا توڑ جوڑ کر کے ہم نے سالم جوڑا کرنڈی کا بنوایا۔

اب گھر اسے استری کر نہیں سکتے کہ ہماری وضعدار طبیعت کو وہ استری بھاتی نہیں تھی جس میں کریزیں ابروئے محبوب کی نوک کی طرح چبھتی ہوئی، اس کے غمزے کی طرح کاٹ دار اور امیر کی کوٹھی کے پلستر کی طرح ہموار نہ ہوں۔ تنگ آ کر ایک دھوبڑے کو بولا کہ بھائی تجھے منہ مانگی رقم دیویں گے یہ جوڑا استری کردے فی الفور۔ اس نے چونک کر اپنے میلے صافے سے منہ پونچھا اور بولا سو روپیہ لوں گا۔ ہم نے حساب لگایا تو پورے دو مہینے کی خرچی جوڑ جوڑ کر ڈیڑھ سو روپیہ فراہم ہوا تھا جو ہمارے گللک میں پڑا تھا۔ جھٹ سے ہاں کر دی اور استری کروا کر لے آئے۔ ابا حضور نے حیرانی سے پوچھا کہ اتنی جلدی کیسے؟ کتنے پیسے دیے؟

جب بتایا تو خفا ہوئے۔ خفا ہونا بنتا بھی تھا کہ یہ آج سے کم و بیش چھبیس سال قبل کی بات ہے جب ہمارے گاؤں میں ایک جوڑے کی استری کا معاوضہ دس روپے ہوا کرتا تھا۔

پھر نئے نکور لشکارے مارتے سروس کمپنی کے کالزا کے مشہور زمانہ سلیپرز خریدے جاتے تھے کہ یہ اس وقت کا سٹیٹس سمبل ہوا کرتے تھے۔ مارے خوشی کے ہمیں ساری رات نیند ہی نہ آتی تھی۔ بار بار جا کر جوتوں کا ڈبہ کھول کر پاؤں میں پہن پہن کر اور چل پھر کر دیکھتے۔ اس دوران اس پر لگی ہلکی سی گرد مٹی کو پندرہ پندرہ منٹ صاف کرتے رہتے۔ ایک بار تو فرط جذبات میں اسے ڈبے سے نکال کر سونگھ بھی لیا تھا۔

لڑکیاں مہندی لگا رہی ہیں۔ چاند رات پر رشتے دار ایک دوسرے کے ہاں ملنے جا رہے ہیں۔ اگر کوئی ہلکی پھلکی نوک جھونک ہے بھی سہی تو وہ چاند رات کے قہقہوں اور میٹھی سویوں کی حلاوت میں شیرو شکر ہوئی جاتی ہے۔

عید کا دن صبح سویرے سے ہی بہت مصروف ہوتا تھا۔

ہمسایوں کے گھروں سے فجر کے بعد ہی شیر خورمہ، پھینیاں، فیرنی اور زردے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ گھر میں مائیں بہنیں بیویاں اور دیگر خواتین خانہ میٹھے میں کچھ بنا رہی ہیں اور مرد حضرات غسل خانے کے باہر اپنی اپنی باریوں کا انتظار فرما رہے ہیں۔

اب سب رشتے دار، چاچے، تائے، مامے، پھوپھے اور ان کے بچے اکٹھے عید گاہ کی جانب روانہ ہوئے۔
کوئی یہ نہیں کہتا تھا کہ وہ ہمارے گھر نہیں آئے تو ہم ان کے ساتھ عیدگاہ کیوں جائیں؟
یہ وہ وقت تھا جب رشتے دار واقعتاً ”اپنے“ ہوتے تھے غیر یا جانی دشمن نہیں بنے تھے۔

عید نماز کے بعد سب کو عید ملتے ملاتے خوش باش گھر آتے تو بچوں کو عیدی دینے دلانے کا سلسلہ شروع ہوتا۔ پرتکلف برنچ کھایا جاتا پھر ایک دوسرے کے گھر آنے جانے کا سلسلہ شروع ہوجاتا جو رات گئے تک جاری رہتا۔

دوست احباب ایک دوسرے کو عید ملنے ان کے گھر جاتے۔

بچوں کو ملنے والی عیدیوں کا نصف سے زائد حصہ ان کی امیاں یہ کہہ کر واپس لے لیتیں کہ جنہوں نے یہ عیدی دی ہے ان کے بچوں کو بھی تو عیدی دینی ہے کہ نہیں؟

لاؤ دو ادھر پیسے۔
اللہ اللہ کیا شریف النفس بچے تھے جو بلا چون و چرا پیسے لوٹا بھی دیتے تھے۔

بچے اپنے ہم جولیوں کی ٹولیوں میں باہر بچھڑاکنے (آوارہ گردی کرنا) نکل کھڑے ہوتے اور جی بھر کر الا بلا پھانکتے۔

قلفیاں، گولے، فالودہ، چاٹ، سموسے، کچوریاں، لچھے، ملائی کی برف (جو پیپل کے پتے پر رکھ کر پیش کی جاتی تھی) ، سموسے پکوڑے اور میٹھے پان کی ”عیاشی“ کی جاتی جو عید کی رات کو ہیضہ کی شکل میں اختتام پذیر ہوتی۔

کہاں تو وہ عید تھی اور ایک عید اب ہے کہ نہ کوئی اس ذوق و شوق سے کپڑے سلواتا ہے اور نہ جوتے خریدتا ہے۔

جو مل گیا وہی پہن لیا۔ لوگوں کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا، ملنا ملانا عنقا ہے۔ اب تو انتہائی قریبی رشتے داروں سے بھی بس ”خونی“ رشتے ہیں۔

عید کا دن ہر مرد وزن، پیر و جواں، طفل و بزرگ سو سو کر گزارتا ہے۔
جیسے ہی عید کے دن کی سہ پہر ہوتی ہے ہر ایک کو ایک غیر محسوس سے ڈپریشن کا اٹیک ہوتا ہے۔

بچیاں اپنے طور پر گھروں میں آئس کریم اور کوکا کولا منگوا کر اس کیفیت کو کم کرنے کی سعی ضرور کرتی ہیں۔ کچھ خاندان اس کیفیت کا توڑ مری نتھیا گلی اور پارکوں کا رخ کر کے کرتے ہیں۔ اب کرونا نے وہ آپشن بھی مسدود کر دیا ہے۔

قصہ مختصر اب وہ بات نہیں رہی۔ وہ خوشی اور فیلنگ نہیں رہی۔
اب وہ عید نہیں رہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words