نامور ہاری رہنما حسن عسکری بھی چلے گئے
سندھ دھرتی کے نامور انقلابی سپوت، سانگھڑ سے تعلق رکھنے والے ایک انتہائی کمٹڈ اور بے لوث ہاری راہنما کامریڈ حسن عسکری بدھ 5 مئی کو کینسر سے لڑتے لڑتے جان کی بازی ہار گئے۔ ان کے آخری تقریبات میں شرکت لے لیے کراچی آنے والے ترقی پسند کارکنوں اور عقیدت مندوں نے اشکبار آنکھوں سے ان کی تدفین کر دی۔ ان کے جسد خاکی کو عوامی ورکرز پارٹی کے سرخ پرچم میں رکھا گیا، جسے تھامے وہ 55 برس تک ایک نئے سویرے کے سہانے خواب بنتے ملک بھر کے شہروں اور دیہاتوں میں گھومتے رہے، اور ظلم، جبر و استحصال سے پاک معاشرے کی نوید سناتے رہے۔
یقین نہیں آتا کہ دوسرے انسانوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے آدھی صدی سے زیادہ عرصہ تک جدوجہد کرنے والے اس لال مجاہد کو اچانک زمین کھا گئی یا آسمان۔ ابھی دو ماہ قبل ہی تو وہ سیاسی عمل میں سرگرم تھے کہ اچانک سانس کی تکلیف محسوس ہوئی اور تحقیقات کروانے پر لنگز کینسر دریافت ہو گیا۔ ہم سب نے انہیں مجبور کر کے ایک ہفتے کے اندر ہی علاج شروع کروا دیا۔ 20 اپریل کو انہیں ہسپتال سے ہی عوامی ورکرز پارٹی کراچی کے دفتر لایا گیا، جہاں پارٹی کارکنوں نے ان کی 71 ویں سالگرہ کی تقریب رکھی ہوئی تھی۔ ابھی کراچی میں ریڈیو تھراپی کے 5 سیشن ہوئے تھے کہ ان کی ہمت جواب دے گئی۔ بعد ازاں کیمو تھراپی شروع ہوئی تو چند روز میں ہی وہ ہم سب کو چھوڑ کے چلے گئے۔
کامریڈ حسن عسکری کے انتقال کی خبر ملتے ہی سوشل میڈیا پر تعزیتی قلمات، ان کے ساتھ گزرے وقتوں کی یادوں اور تصاویر شیئر کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پاکستان بھر سے ترقی پسند سیاسی کارکنوں نے انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور ملکی عوام پر مسلط سماجی جبر اور استحصال سے پاک معاشرے کے قیام تک اپنے انقلابی سفر کو جاری رکھنے کا عزم کیا۔
حسن عسکری پاکستان کسان کمیٹی کے جنرل سیکرٹری رہ چکے تھے اور ان کا شمار چودھری فتح محمد اور ملک محمد علی بھارہ کے سب سے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ وہ سندھ ہاری تنظیم کے صدر اور عوامی ورکرز پارٹی پاکستان کے سیکرٹری زرعی امور تھے۔ انہوں نے 55 برس تک ملک پر مسلط جاگیرداری، سرداری، سرمایہ داری نظام اور ملکی اشرفیہ کی لوٹ کھسوٹ اور استحصال کے خلاف انتھک جدوجہد کی۔ وہ ایک ٹمٹماتے ستارے کی طرح اپنا کردار ادا کرتے رہے، وہ بھی کچھ اس شان سے کے تحریک کے ہر مشکل اور خطرناک موڑ پر وہ سب سے آگے نظر آئے۔
حسن عسکری کے والدین نے برصغیر کے بٹوارے کے وقت 1947 ء میں ہندوستان سے نقل مکانی کی اور پنجاب کے شہر وہاڑی پیں آباد ہو گئے۔ حسن عسکری 1950 ء میں وہاڑی میں پیدا ہوئے۔ جب وہ کالج جانے لگے تو ملک پر ڈکٹیٹر ایوب خان کا راج تھا اور ہر طرف مہنگائی کے خاتمے اور جمہوریت کے بحالی کے لیے نعرے لگ رہے تھے۔ یوں ان کا شعوری لیول بڑھ، وہ ان مظاہروں میں بھی جانے لگے اور معاشرے میں پائی جانے والی اونچ نیچ، امیری غریبی، بھوک ننگ اور بڑھتی ہوئے مہنگائی کے بارے میں سوال اٹھانے لگے۔
اسی دوران 1967 ء ملک میں آٹے کا بحران پیدا ہو گیا اور ملک ہنگاموں کی زد میں آ گیا، یا یوں کہیے کہ اس وقت عوام کا شعوری لیول آج کی نسبت زیادہ تھا اور وہ سڑکوں پر نکل آئی۔ ان دنوں گندم 90 روپے من اور آٹا مارکیٹ سے غائب ہو گیا تھا۔ نوجوان حسن عسکری اپنے سوالوں کے جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک روز نیشنل عوامی پارٹی کے دفتر پہنچ گئے، جو اس وقت ملک میں بائیں بازو کی ایک منظم اور متحرک جماعت تھی۔ انہی دنوں وہاڑی میں پاکستان کسان کمیٹی اور نیشنل عوامی پارٹی نے شہر میں آٹے کی قلت اور مہنگائی کے خلاف جلوس نکالا تو وہ اسے آرگنائز کروانے میں متحرک ہو گئے۔
جلوس نکلا تو لوگوں کا ولولہ دیکھنے والا تھا جس کی قیادت نیپ کے مقامی راہنما مرزا اعجاز بیگ، خالد لطیف صدوزئی اور ملک محمد علی بھارہ کر رہے تھے۔ یونہی جلوس گندم کے سرکاری گوداموں کے پاس سے گزرا تو کسی نے آواز لگا دی کے لوٹ لو یہ گودام۔ یہ آواز آنے کی دیر تھی کہ لوگوں نے گندم کے گوداموں پر دھاوا بول دیا۔ جس کے ہاتھ جتنی گندم آئی وہ لے اڑا۔ نیپ وہاڑی کی ساری لیڈرشپ کے خلاف مقدمات قائم ہو گئے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
اس دوران حسن عسکری آگے بڑھا اور اس نے نیپ کے ایک نوجوان لیڈر کے طور پر پارٹی دفتر کا نظام سنبھال لیا۔ وہاڑی چونکہ دیہاتی ماحول کا چھوٹا شہر تھا، حسن عسکری نے دیہاتوں میں جا کر کسانوں کو منظم کرنا شروع کر دیا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب ملک بھر میں کسان کانفرنسوں کا زور تھا۔ خانیوال، لودھراں، چنی گوٹھ اور پھر 23 مارچ 1970 ء کی تاریخی کسان کانفرنسوں نے حسن عسکری کو ایک نوجوان، تجربہ کار کسان راہنما کے طور پر متعارف کرا دیا۔
اسی عرصہ میں 1967 ء میں حسن عسکری کے والد کو سندھ کے شہر سانگھڑ کے قریب 35 ایکڑ زمین الاٹ ہو گئی، جس کی دیکھ بھال کے لیے ان کا سانگھڑ آنا جانا شروع ہو گیا۔ ان کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی وہیں زمین الاٹ ہو گئی تو 1971 ء میں کامریڈ حسن عسکری سندھ کے شہر سانگڑھ منتقل ہو گئے اور وہاں زمینوں پر کاشتکاری شروع کر دی۔ سانگھڑ منتقل ہوتے ہی انہوں نے علاقے کے ترقی پسند سیاسی کارکنوں سے رابطے کیے اور کسانوں میں کام شروع کر دیا۔
جب انہیں سندھ کے جابر جاگیرداروں سے واسطہ پڑا اور ان کی ذاتی جیلوں اور غریب ہاریوں پر ظلم دیکھا تو انہیں ان کا کردار وہاڑی کے جاگیرداروں، المعروف دولتانوں سے زیادہ جابرانہ محسوس ہوا اور انہوں نے سندھ کے کسانوں میں کام کرنے میں آسانی کے لیے ”سندھ ہاری تنظیم“ کی بنیاد رکھ دی تا کہ انہیں مقامی طور پر سندھ کے کسانوں کو منظم کرنے اور ان کی سیاسی تربیت کرنے میں دقت پیش نہ آئے۔ ان کے خلاف بار بار سیاسی مقدمات بنے، جیلوں میں ڈالا گیا، تشدد ہوا، حتی کہ وہ مسنگ پرسن بھی بنے، لیکن انہوں نے اپنے نظریات اور محنت کشوں کی سیاست سے وابستگی پر کبھی سمجھوتا نہ کیا۔
حسن عسکری سے میری پہلی ملاقات 1976 ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب ہمارے گاؤں میں ہوئی، جب وہ پارٹی کام کے سلسلے میں میرے والد چودھری فتح محمد سے ملنے آئے۔ میں اس وقت 15 برس کا تھا اور حسن عسکری 26 کے، البتہ بعد میں پتا چلا کہ ہم دونوں کی تاریخ پیدائش بھی 6 اپریل ہے۔ حسن عسکری سے میری دوسری ملاقات 1979 میں کراچی میں نامور مزدور راہنما محترمہ کنیز فاطمہ کے گھر پر ہوئی جب میں اپنی بہن یاسمین کو سی آف کرنے کراچی گیا تھا، جن کا وینیسا میڈیکل انسٹیٹیوٹ؛ یوکرین میں داخلہ ہوا تھا۔
ان دنوں حسن عسکری کچھ عرصہ کے لیے کراچی منتقل ہو گئے تھے اور تحریک آزادی کے نامور کردار محترم انیس ہاشمی، شوکت حیات، سلیم رضا، روشن علی کلہوڑو اور محترمہ کنیز فاطمہ کے ساتھ مل کر پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن اور پاکستان سوشلسٹ پارٹی کو منظم کرنے میں مصروف تھے۔ مجھے آج بھی وہ موٹر سائیکل یاد ہے جس پر شوکت حیات اور حسن عسکری دن رات کراچی میں جلسے، جلوس اور پارٹی اجلاس منظم کرنے کے لیے متحرک تھے۔
بعد ازاں 1983 ء میں مجھے انجنیئرنگ یونیورسٹی لاہور میں داخلہ ملا تو میں بھی انقلابیوں کے سیاسی کام میں زیادہ سرگرم ہو گیا۔ سوشلسٹ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں تو میں نے 1978 ء میں ہی شمولیت اختیار کر لی تھی، البتہ سیاسی میچورٹی آتے وقت لگا۔ بالآخر میں بھی انقلابی کارکنوں کے قافلے کا ایک سرگرم رکن بن گیا۔ بعد ازاں میں سوشلسٹ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا جنرل سیکرٹری منتخب ہو گیا، کراچی آنا جانا لگا رہا اور 35 سی، رضویہ سوسائٹی پر پڑاؤ بھی پڑتا رہا جہاں حسن عسکری کا راج تھا۔
ایک بار مجھے حسن عسکری اور ناصر منصور کے ساتھ سانگھڑ جانے کا اتفاق بھی ہوا، جہاں ہاری راہنما اسحاق مانگریو سے میری پہلی ملاقات ہوئی۔ اس زمانے بزرگ سوشلسٹ راہنما انیس ہاشمی پاکستان سوشلسٹ پارٹی سندھ کے صدر اور حسن عسکری جنرل سیکرٹری تھے۔ ضیاء ڈکٹیٹر کے سیاہ دور میں ملکی سطح پر سیاست دانوں کی گرفتاریاں ہوئیں تو سندھ سے انیس ہاشمی اور حسن عسکری، جبکہ پنجاب سے ملک محمد علی بھارہ گھر نہ ہونے کی وجہ سے گرفتاری سے بچ گئے۔
انہیں لاہور بلوا لیا گیا تا کہ پارٹی کے ہفت روزہ اخبار ”عوامی جمہوریت“ کی اشاعت میں رکاوٹ نہ آئے۔ لاہور میں پارٹی دفتر تو سیل ہو گیا تھا البتہ علامہ اقبال ٹاؤن میں ہمارا فلیٹ ان ساتھیوں کے رہنے کا ٹھکانہ اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ ڈاکٹر افتخار محمود بھی ان دنوں سوشلسٹ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے راہنما تھے۔ ان کا ہاسٹل بھی قریب تھا اور روزانہ ہی آ جاتے تھے۔ بعد ازاں حسن عسکری جب بھی لاہور آتے تو ہمارے گھر کے دروازے کھلے ملے اور وہ گھر کے فرد کے طور پر ہی رہے۔
کامریڈ حسن عسکری انتہائی باشعور، باعمل، تجربہ کار اور بے لوث مارکس وادی تھے۔ وہ ملک میں طبقاتی ظلم، جبر اور استحصال سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے ملکی اقتصادی ڈھانچے کی تشکیل نو کر کے سماجی برابری اور انصاف پر مبنی ایک غیر طبقاتی معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ اس نئے سماج کی تشکیل کے لیے انہوں نے اپنی ساری زندگی مظلوم کسانوں، ہاریوں اور مزارعوں کو منظم کرنے اور انہیں حقوق دلوانے کے لیے وقف کر دی۔ وہ سندھ کے وڈیروں کی ذاتی جیلوں سے غریب مزارعوں کو چھڑانے کی بھرپور جدوجہد کرتے رہے۔
ان کی سیاست کا محور پاکستان میں سرداری اور جاگیردارانہ نظام کو توڑنے کے لیے وسیع پیمانے پر زرعی اصلاحات نافذ کرنے اور حاصل کردہ زمین کو بے مالک کسانوں، ہاریوں، مزارعوں اور کھیت مزدوروں میں گزارہ یونٹ کے لحاظ سے مفت تقسیم کرنے کے لیے تھی۔ بلا شعبہ اس کے بغیر نہ تو ملک کی 60 فیصد سے زائد دیہی آبادی جاگیرداروں کی غلامی سے آزاد ہو سکتی ہے، نہ ان میں خوشحالی آ سکتی ہے، نہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی ملک زرعی اجناس و خوراک میں خودکفیل ہو سکتا ہے۔
حسن عسکری کے خلاف ہر حکومت کے دور میں سیاسی مقدمات بنائے گئے، لیکن انہوں نے بہت بہادری اور مستقل مزاجی کے ساتھ ان مشکلات کا سامنا کیا۔ ان کی خوبی تھی کی ان پر سندھ میں مقدمات بنتے تو پنجاب آ کر کسانوں کو منظم کرنے کا کام جاری رکھتے۔ انہوں نے پاکستان میں بکھرے ہوئے بائیں بازو کو اکٹھا کرنے اور ایک متحدہ اور باعمل پارٹی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا، البتہ وہ ایک ڈھیلی ڈھالی اور ڈسپلن کے بغیر پارٹی بنانے کے ہمیشہ خلاف رہے۔
وہ سمجھتے تھے کہ ایسی پارٹی مشکل وقت آنے پر بکھر جاتی ہے اور سماجی تبدیلی کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی۔ ان کے ہم عصر سیاسی راہنماؤں میں عابد حسن منٹو، انیس ہاشمی، سی آر اسلم، چودھری فتح محمد، کنیز فاطمہ، ملک محمد علی بھارہ، اختر حسین، یوسف مستی خان، لال بخش رند، شوکت حیات، چودھری نعیم شاکر اور دیگر شامل تھے۔
حسن عسکری پاکستان کے سوشلسٹ دانشور، اور انقلابی تحریکوں کے ہراول دستے میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی جدوجہد اور سیاسی خدمات ملک کے محنت کشوں، کسانوں، مزدوروں اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی تحریک آدھی صدی سے زیادہ عرصہ پر محیط ہے۔ ملک بھر کے ترقی پسند سیاسی کارکنوں، دانشوروں، ٹریڈ یونین، ہاری اور کسان تحریک سے وابستہ کارکنوں اور راہنماؤں، ادیبوں، صحافیوں نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے اور ملک کی مظلوم اقوام، مزدور طبقہ، خواتین، کسانوں، نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے لیے ان کی طویل جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
کامریڈ حسن عسکری جیسے نڈر، مخلص اور پرعزم ساتھی کے انتقال سے پاکستان میں مظلوم قوموں، کمزور اور استحصال کا شکار لوگوں اور ترقی پسند تحریک کو زبردست دھچکا لگا ہے۔



