لاوارث کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی پاکستان کا معاشی حب، عروس البلاد، میٹرو پولیٹن سٹی اور بہت سے ناموں سے جانا والا شہر! آج کس حال میں ہے؟

میں 2010 میں کراچی گیا تھا مجھے اس وقت سب سے زیادہ تعجب یہ دیکھ کر ہوا کہ گراؤنڈز یا گلیوں میں نوجوان کرکٹ وغیرہ کھیلتے نہیں دکھائی دیے اور شہر کی تباہی کی یہ سب سے بڑی نشانی تھی مجھے اس وقت بہت دکھ ہوا تھا کیونکہ ہم اس ہی شہر کی گلیوں، میدانوں میں کھیل کر بڑے ہوئے تھے اور اس وقت شہر کی سرگرمیاں عروج پر ہوا کرتی تھیں! یہ شہر کرکٹ اور ہاکی کی نرسری تھا یہاں کی گلیوں اور میدانوں نے دنیا کے نامور کھلاڑی پیدا کیے ہیں، فیڈرل بی ایریا، ناظم آباد، نیو کراچی، ملیر اور لیاقت آباد میں درجنوں بڑے بڑے گراؤنڈز ہوا کرتے تھے جہاں دن بھر اور شام کو بالخصوص نوجوان کرکٹ اور ہاکی کھیلتے نظر آتے تھے شہر میں سکون ہوا کرتا تھا، شامیں ٹھنڈی اور راتیں انتہائی خوبصورت ہوا کرتی تھیں!

کراچی نے صرف کھیل میں ہی بڑے نام پیدا نہیں کیے بلکہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں بین الاقوامی سطح کے نام دیے ہیں، کھیل کا خاص ذکر اس لئے کیا ہے کہ کسی بھی ملک اور شہر کے نوجوان بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور ان نوجوانوں میں سے اگر کھیل ہی ختم ہو جائے تو سمجھیں سب کچھ ختم!

کراچی ہمیشہ سے غریب پرور شہر رہا ہے اور یہاں روزگار کی تلاش میں آنے والوں کے لئے اس شہر نے اپنی بانہیں پھیلائی ہیں! ہنستا بستا راتوں کو جاگنے والا یہ شہر کیوں بہت تیزی سے زبوں حالی کی طرف گیا؟

اس خوبصورت شہر کو یتیم و یسیر کس نے کیا؟ کیوں کیا؟ اور کیسے اس کی حالت لاوارثوں والی ہو گئی؟

اس شہر کی اس حالت کو دیکھنے کے لئے ہمیں اس کا پوسٹ مارٹم کرنا پڑے گا کیونکہ اس کے زخم بہت پرانے اور بہت گہرے ہیں،

ایوب خان کے دور میں الیکشن ہوئے تھے اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ایوب خان کے مقابلے پر کراچی سے الیکشن لڑ رہی تھیں، انہیں اس دور میں راء کا ایجنٹ قرار دیا گیا، ان کے نام کی تختی کتوں کے گلے میں ڈالی گئی، اور الیکشن کے بعد کراچی والوں سے اس بات کا بدلہ لیا گیا کہ انہوں نے فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا، ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب نے دن دیہاڑے اپنے حواریوں کے ہم راہ کراچی کی کئی کچی بستیاں نظر آتش کردی تھیں،

اس سے پہلے اپنے دور اقتدار میں ایوب خان نے جو سب سے بڑا ظلم کراچی کے ساتھ جو کیا تھا وہ یہ تھا کہ کراچی کو ملک کے دارالحکومت سے ہٹا کر اسلام آباد منتقل کر دیا تھا۔ یہ کراچی کا ساتھ پہلا سب سے بڑا ظلم تھا، کراچی چونکہ ساحلی شہر ہے اور یہاں بندر گاہ بھی موجود ہے تو تجارتی سرگرمیاں یہاں ہمیشہ سے بہت زیادہ رہی ہیں، یہاں ہمیشہ سے دوسرے صوبوں سے روزگار کی تلاش میں آنے والوں کا اژدہام ہے

، بھٹو نے اقتدار میں آتے ہی صنعتوں اور نجی اسکولوں کو قومیا لیا تھا تو اس وقت پورے ملک اور بالخصوص کراچی پر بہت برا اثر پڑا، ترقی کا پہیہ یک دم رک سا گیا تھا۔

تعلیم پر بہت منفی اثر پڑا اور تعلیم کا معیار بہت گر گیا تھا اور اس کا اثر آج تک موجود ہے اس کے بعد بھٹو نے دس سال کے لئے سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کر دیا کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں پسماندگی زیادہ ہے اور انہیں آگے آنے کے مواقع فراہم نہیں کیے جاتے اس لیے یہاں جز وقتی طور پر شہری اور دیہی کوٹہ سسٹم لاگو کر دیا گیا جسے دس سال بعد مزید دس سال آگے بڑھا دیا گیا اور اب تک نافذ ہے تو وہ جزوقتی سے ہٹ کر کل وقتی ہو چکا ہے، یہ سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ ظلم تو تھا ہی مگر اس کوٹہ سسٹم نے کراچی کے پڑھے لکھے نوجوانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی، دوسری طرف کراچی کی آبادی دوسرے علاقوں سے ہجرت کرنے والوں کی وجہ سے مسلسل بڑھ رہی تھی مگر انتظامیہ کی طرف سے اس طرف کبھی توجہ نہیں دی گئی، اگر شروع سے ہی پلاننگ کی جاتی تو آج یہ وقت نہ آتا۔

کراچی میں لوکل ریلوے کا مربوط نظام ہوا کرتا تھا، سرکلر ریلوے چلا کرتی تھی، مال گاڑیاں چلا کرتی تھیں نہ کہ یہ نظام ترقی کرتا، انجانی قوتوں نے اسے تباہ و برباد کر ڈالا! کے ٹی سی کی بسیں، یونیورسٹی اور میڈیکل کالجز کے پوائنٹس چلا کرتے تھے وہ ختم کر دیے گئے، سوا دو کروڑ کی آبادی والا شہر ریلوے سے ہی محروم ہو گیا،

اس شہر میں آبادی کے لحاظ سے کم از کم ستر سے ایک سو یونیورسٹیز ہونی چاہئیں وہاں گنتی کی چند یونیورسٹیز ہیں، اس شہر میں سو سے زائد فائر ڈیپارٹمنٹس ہونے چاہیں وہ بھی چند ایک ہی ہیں وہ بھی جدید سہولیات سے محروم، آبادی کے لحاظ سے صفائی اور صحت کا مربوط نظام ہونا چاہیے وہ بھی ندارد، اسپتالوں کا بھی یہی حال ہے، پولیس اسٹیشنز

کا حال سب سے ابتر و بدتر ہے لوگ وہاں جانے سے ہی ڈرتے ہیں!

محلوں میں محلے داری بہت زیادہ تھی ایک دوسرے کا انتہائی خیال رکھا جاتا تھا، خوشی اور غم میں برابر کے شریک ہوتے ہے، چھوٹے بچے بڑوں سے ڈرتے تھے نوجوان محلے کے بزرگوں کی عزت و تکریم کرتے تھے، پھر یہ سب کچھ اچانک کیسے ہو گیا کہ سب آناً فاناً ختم ہو گیا؟ سب محبتیں کہاں چلی گئیں؟

جب 1977 کے الیکشن ہوئے تو ایک مذہبی سیاسی جماعت نے وہاں سے کئی سیٹیں جیتیں اور ایسے ہی اس وقت کے بلدیاتی انتخابات میں بھی ہوا مگر یہ سب جیتنے والے جیتنے کے بعد ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ! اس کے بعد ضیا الحق نے لسانیت کو ہوا دی اور ایک لسانی سیاسی پارٹی کی تشکیل دی یہیں سے کراچی کی اصل تباہی شروع ہوئی

اس سے پہلے سر سید کالج کی ایک طالبہ بشریٰ زیدی بس کے ایک حادثے میں ہلاک ہو گئی تھی اور لسانیت کی ہوا وہیں سے چلنی شروع ہو گئی تھی، ایک طرف تو منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی دوبارہ اپنے حلقے میں واپس نہیں آتے تھے دوسری طرف آہستہ آہستہ لسانیت اور قومیتوں کو ہوا دی جا رہی تھی دراصل فوجی حکومت سندھ کے شہری علاقوں سے پیپلز پارٹی کی قوت ختم کرنا چاہتی تھی چونکہ کراچی کثیرالقومی شہر تھا تو یہاں چنگاری نے فوراً آگ پکڑ لی اور اس کے ساتھ ہی قرب و جوار کے چھوٹے شہروں نے بھی!

کراچی میں تو جیسے لوگوں کو انتظار تھا اس بات کا کہ کوئی لسانیت کا نعرہ لگائے اور وہ سڑکوں پر نکل جائیں، اور 1986 میں ایک لسانی جماعت نے جنم لیا اور بہت تیزی سے عوام میں مقبولیت کی سند لینے میں کامیاب ہو گئی مگر اس پارٹی کے ساتھ ہوا یہ کہا سے بہت جلد بہت زیادہ کامیابیاں نصیب ہو گئیں!

شہر ایک شخص کے سحر میں جکڑ چکا تھا گلی محلے، اسکول کالجز، یونیورسٹیز اور تمام ادارے اس کی جکڑ میں آ گئے تھے، بلدیاتی الیکشن اور اس کے بعد قومی و صوبائی الیکشنز میں اس جماعت نے بھاری اکثریت سے کامیابیاں حاصل کیں، محلے اور علاقے یونٹس میں تبدیل ہو گئے آہستہ آہستہ تشدد کا عنصر بھی اس جماعت میں آنے لگا، کراچی میں چونکہ پاکستان کی تمام قومیتوں اور زبان بولنے والے رہائش پذیر ہیں تو ان سے بھی جھگڑے شروع ہو گئے، انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہتی تھے اب لوگوں میں خوف پایا جانے لگا تھا اس جماعت کی دیکھا دیکھی دوسری قومیتوں نے بھی سر اٹھانا شروع کر دیا اور ان کے پیچھے بھی وہی قوتیں تھیں جو اول الذکر جماعت کے پیچھے تھیں، آئے دن شہر میں دنگے فساد ہونا شروع ہو گئے کرفیو لگنا روز کا معمول بن گیا، سڑکوں پر خون بہایا جانے لگا!

منتخب شدہ نمائندے اپنے منشور سے ہٹ گئے تھے اور انہیں اپنی طاقت بڑھانے کا جنون چڑھ چکا تھا اگلی تین دہائیوں میں دو پارٹیز کی حکومتیں آتی اور جاتی رہیں اور وہ بھی اپنی حکومت بنانے کی لئے اس ہی جماعت کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکتے رہے اور گیارہ سالا فوجی دور بھی آیا مگر اس سے پہلے کراچی میں لیاری گینگز سر اٹھا چکے تھے جن کے پیچھے سندھ کی سب سے بڑی جماعت تھی اب کراچی میں دو متوازی قوتیں آمنے سامنے آ چکی تھیں، اس سے بہت پہلے ایجنسیوں نے کراچی کی بڑی سیاسی جماعت کو توڑ کر دو دھڑوں میں بانٹ دیا تھا ان میں بھی بہت زیادہ خون خرابی ہوا، بھتہ خور اور ڈکیت سرگرم ہو گئے 1994 سے کراچی میں ڈکیتیوں کی وارداتوں میں اچانک اضافہ شروع ہو گیا اور لگتا تھا کہ ہر شخص ڈاکو ہے اور ہر شخص لٹ بھی رہا ہے!

ہماری پولیس، ایجنسیاں اور سیاسی قوتیں اس دفعہ بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی نظر آئیں۔

کبھی کبھی تو ایسا لگتا تھا جیسے ہر شخص کے اندر ایک بدمعاش چھپا ہوا تھا بس اسے باہر آنے کا موقع نہیں مل رہا تھا جو اب مل گیا ہے، چوہے بلی کا کھیل زور و شور کے ساتھ جاری تھا اس کھیل میں گینگ وار، ڈاکو، بھتہ خور، قاتل، ٹارگٹ کلرز اور نہ جانے کون کون شامل ہو گیا،

کراچی شہر جو سب کا وارث تھا آہستہ آہستہ سسکتا سسکتا لاوارثیت کی جانب بڑھ رہا تھا، اس شہر پر دو آپریشن بھی ہوئے اور ایک ہنوز جاری ہے مگر کیا کہیے کہ وارداتوں میں کمی نہیں آئی، شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ آپریشن کرنے والے اپنی توجہ صرف ایک جانب رکھے ہوئے تھے۔ نائن الیون کے بعد دنیا کا نقشہ بدلا تو کراچی کا بھی حلیہ بدلا یہاں پر بھی دہشت گردی کی لاتعداد وارداتیں ہوئیں مگر کراچی کو لاوارث اپنوں ہی نے بنایا، مشرف کے بعد کی حکومتوں نے کراچی سے توجہ ہٹانی شروع کردی اور سندھ حکومت جسے پتہ تھا کہ وہ فی الوقت سندھ کی حد تک رہ گئی ہے اس نے کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک شروع کر دیا، ایک جانب لسانی جماعت خود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی اور کئی دھڑوں میں بٹ گئی تو دوسری جانب کراچی پر اپنا دعویٰ کرنے والے دسیوں پیدا تو ہو گئے مگر اس کو اپنانے سے کتراتے رہے، پچھلے سات آٹھ سال سے اس شہر پر شاید قہر سا ٹوٹا ہوا ہے اختیارات کی سیاسی جنگ نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے، شہر کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے ٹکڑوں میں بٹنے کے بعد سندھ کی حکمران پارٹی نے اختیارات کے حصول کے لئے تمام اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ دیا، کچھ اس میں نفرت اور بغض کا عنصر بھی شامل ہے کچھ مال و زر کی ہوس اور کچھ دوسروں کو نیچا دکھانا اور اپنی ناجائز طاقت کا مظاہرہ کرنا، مگر اس کھینچا تانی اور بندر بانٹ میں کراچی کی عوام رل گئی اور کراچی دھواں دھواں ہو گیا، جو سڑکیں کبھی دھلا کرتی تھیں وہ ٹوٹی پڑی ہیں، کبھی کراچی میں نالے اور پرنالے ہوا کرتے تھے وہ بند پڑے ہیں، وہ کراچی جہاں روز صبح گلیوں میں بلدیہ کے ملازمین جھاڑو لگایا کرتے تھے آج کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے، وہ کراچی جس کے بازاروں کی رونقیں شام چڑھتے ہی اپنے عروج پر ہوتی تھیں آج وہ بازار گرائے جا رہے ہیں، وہ کراچی جس کے کھیلوں کے میدانوں میں رونقیں لگی رہتی تھیں وہ چائنہ کٹنگ کی نظر ہو گئے، وہ کراچی جہاں سکون بھی آ کر پر سکون ہو جاتا تھا آج ڈاکوؤں اور لٹیروں سے ڈرا سہما رہتا ہے! وہ کراچی جو پورے پاکستان کو پچھتر فیصد کما کر دیتا ہے خود ننگ دھڑنگ اور بھوکا سا لگنے لگا ہے۔

پانی کا حال برا ہے، دہائیوں سے یہ بات سنتے آرہے ہیں کہ تیسری عالمی جنگ جب بھی ہوگی وہ پانی کے لئے ہوگی مگر تیسری عالمی جنگ کا تو پتہ نہیں البتہ کراچی کے لوگ پانی کو ترس رہے ہیں اور لگتا ہے کہ یہاں لانی کو لے کر خانہ جنگی ہی شروع نہ ہو جائے، پچھلے تیس پینتیس سال سے سب کو پتہ ہے کہ پانی کی چوری کون کر رہا ہے؟ ٹینکر مافیا کون ہے اور کس کی پشت پناہی ہے انہیں، عوام اپنے حق کا پانی خود خریدنے پر مجبور ہے، کہیں پانی آ بھی رہا ہو تو اس میں گٹر کا پانی بھی شامل ہوجاتا ہے۔

کراچی کی آبادی تو روز ہزاروں کی تعداد میں بڑھ رہی ہے مگر اس کا وارث کوئی نہیں ہے اس کو گلے لگانے والا اور اس کو اپنانے والا کوئی نہیں ہے! وہ کراچی جو سب کا وارث تو بنتا رہا ہے اور بنتا رہے گا خود لاوارث ہو گیا ہے۔

پتہ سب کو ہے کہ ہو کیا رہا ہے، کیوں ہو رہا ہے؟ کون کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے مگر نہ جانے کیوں بے حسی طاری ہو گئی ہے لوگوں پر! افسوس تو تب ہوتا ہے کہ کوئی صحافی سچ لکھنا نہیں چاہتا بولنا نہیں چاہتا! آخر کیوں؟ کیا یہ زرد صحافت نہیں ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید رضوان علی (شکاگو) کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *