مسلمان برطانیہ کب آئے؟
صلیبی جنگوں ( 1095۔ 1271 ) کے دوران برطانیہ میں کوئی مسلمان آباد نہیں تھے۔ بلکہ یورپ سے جو سپاہی فلسطین لڑنے گئے ان میں سے چند ایک مسلمان ہو گئے۔ جیسے Robert of St۔ Albans (d 1187 ) جس نے سلطان صلاح الدین کی صلیبیوں کے خلاف اسلامی فوج کی ہتین کی جنگ، نیز یروشلم کی فتح میں قیادت کی تھی۔ رابرٹ کی شادی سلطان صلاح الدین کی بھتیجی سے ہوئی تھی مگر کچھ عرصہ بعد یروشلم میں اس کی وفات ہو گئی۔
نارتھ افریقہ، مڈل ایسٹ اور سینٹرل ایشیا سے مسلمان سولہویں صدی میں لندن بطور ڈپلومیٹ، مرچنٹس، ترجمان، موسیقار، ملازم حتی کہ طوائفوں کے پیشوں سے جڑے آئے تھے۔ اس کی وجہ ملکہ ایلزبیتھ ( 1533۔ 1603 ) کی کیتھولک یورپ سے علیحدگی تھی۔ پوپ پیئس پنجمPope Pius V نے 1570 میں ملکہ کا کیتھولک مذہب سے جب اخراج کا حکم جاری کر دیا تو اس نے پوپ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جس میں یہ کہا گیا تھا کہ کرسچن مسلمانوں سے تجارتی تعلقات قائم نہیں کریں، مراکش کی حکومت، سلطنت عثمانیہ اور ایرانی ایمپائر سے تجارتی اور سیاسی تعلقات قائم کر لئے۔
ملکہ نے اپنے ڈپلومیٹ، تاجر اسلامی دنیا کو روانہ کیے تو اس کے نتیجہ میں مسلمانوں نے لندن آنا شروع کیا جو اس وقت مورزMoors، انڈین، نیگروز اور ٹرکس Turksکہلاتے تھے۔ ملکہ ایلزبیتھ کے دور حکومت سے قبل عیسائی ممالک کے عوام کے ذہنوں میں اسلام کی مسخ شدہ تصویر خونی صلیبی جنگوں کی وجہ سے پیدا ہو چکی تھی۔ کسی عیسائی کو اسلام اور مسلم کا علم نہیں تھا۔ یہ الفاظ انگلش ڈکشنری میں سترہویں صدی میں داخل ہوئے تھے۔ اس وقت مسلمانوں کو Saracens کہا جاتا تھا۔ خاص طور پر صلیبی جنگوں کے وقت ساراسن سے مراد کوئی عرب یا مسلمان ہوتا تھا۔ اس دور کی کتابوں میں بھی مسلمانوں کے لئے ساراسن کا لفظ لکھا ہوتا تھا۔
نصرانیوں نے اسلام کو ایک ضابطہ حیات اور دین کامل کے طور پر قبول نہیں کیا تھا بلکہ وہ اس کو عیسائیت کی بگڑی ہوئی شکل یا pagan polytheism کہتے تھے۔ پھر اسلامی ممالک کی کتابوں کے مطابق عیسائی ممالک کا سفر برا سمجھا جاتا تھا کیونکہ وہ ان ممالک کو دارالحرب کہتے تھے جو دار الاسلام کا مد مقابل تھا۔ مگر جب ملکہ ایلزبیتھ کے ہاتھوں میں زمام اقتدار آئی تو حالات بدلنے لگے۔ ملکہ ایلزبیتھ کے تاجر 1562 میں ایرانی بادشاہ تہماسپ Tahmasp ( 1514۔ 1576 ) کے دربار میں پہنچے جہاں ان کو سنی اور شیعہ مسلمانوں کے عقائد میں فرق معلوم ہوا۔ واپسی پر یہ تاجر اپنے ساتھ ایک تاتار مسلم غلام لڑکی کو لیتے آئے جس کا نام عورہ سلطانہAura Soltana تھا۔ یہ لڑکی ملکہ کی آنکھوں کا تارا بن گئی جو غرناتا کے ریشم کے لباس زیب تن کرتی اور اسی نے ملکہ کو اسپینش چمڑے کے جوتے پہننے کا فیشن سکھا یا تھا۔
دیگر ممالک سے بھی صدیوں مسلمان لندن آن وارد ہوئے لیکن ان میں سے کسی ایک کی بھی سوانح یا پھر یادداشتیں محفوظ نہیں رہیں۔ تا ہم ملکہ ایلزبیتھ کے دور کے لوگوں کی زندگیوں کی جھلک چرچ میں محفوظ ر جسٹروں میں پڑھی جا سکتی ہیں۔ 1586 میں ایکس پلورر فرانسس ڈریکDrake (d 1596 ) کولمبیا سے جب واپس انگلستان آیا تو وہ اپنے ساتھ 100 تر کش مسلمان لایا جن کو ہسپانوی فوج نے بحیرہ روم میں حراست میں لیا تھا۔ یہ لوگ امریکہ غلام بنا کر لے جائے گئے تھے۔
ان میں سے ایک کا نام چی نانوChinano تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پہلا مسلمان تھا جو مذہب تبدیل کر کے پروٹیسٹنٹ فرقہ کا پیرو کار بن گیا۔ اس کو ٹاور آف لندن کے قریب واقع St۔ Katherine ’s Church میں بپتسمہ دیا گیا جہاں اس نے اپنا نام ولیم ہا کنز William Hawkins رکھ لیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر انگلینڈ میں خدا نہیں ہے تو پھر خدا کہیں بھی نہیں ہے۔ اب اس کی شناخت انگلی کن Anglican بن چکی تھی یا پھر اس کو خوب معلوم تھا کہ اس نے انگلش ماسٹرز کو کیسے خوش رکھنا ہے۔ دیگر ترکش افراد کی طرح وہ جلد ہی لندن کے ریل پیل کی زندگی میں گم ہو گیا اور یوں اس کے عقائد بھی اس کے ساتھ گم ہو گئے۔
کیا چی نانو Chinanoواقعی حلقہ بگوش عیسائیت دل سے ہو گیا تھا؟ یہ جا ننا مشکل ہے۔ ؟ کیونکہ اس کے جیسے مزدور پیشہ اور بھی ایسے اشخاص تھے جو درزی، لوہار، شراب کشید کرنے والے اور جولاہے تھے۔ چرچ کے ریکارڈوں میں ایک عورت میری فلس Mary Fillisکا ذکر ملتا ہے جس کو بپتسمہ دیا گیا، وہ مراکش کی باسکٹ میکر کی دختر تھی جو لندن میں درزن کے طور پر 13 سال تک کام کرنے کے بعد عیسائیت قبول کرنے کی خواہش مند تھی۔ اس کو Whitechapel میں 1597 میں بپتسمہ دیا گیا جہاں اس نے باقی ماندہ زندگی گزار دی۔ ایک اور شخص کا ذکر بھی ملتا ہے جو مراکش سے آیا تھا مگر اس کے کوئی رشتہ دار نہیں تھے اس لئے پادریوں کو معلوم نہ ہو سکا آیا وہ عیسائی تھا یا نہیں؟
انگلینڈ میں آنے والے افراد کا مذہب تبدیل کرنا یک طرفہ نہیں تھا بلکہ دو طرفہ تھا۔ انگریز مرد اور عورتیں صدیوں کی تعداد میں اسلامی ممالک میں ملازمت، تجارت یا دیگر پیشوں سے متعلق ہجرت کر کے گئے تھے۔ ان میں سے کئی ایک حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ بعض نے دل سے ایسا کیا اور بعض کو مجبور کیا گیا۔ مثلاً نورفولک کا ایک تاجر Samson Rowlie جس کو ترکش فوجیوں نے الجیریا کے ساحل پر 1577 میں قید کیا تھا، اس کو حراست میں رکھا گیا اور پھر وہ مسلمان ہو گیا۔ اب اس نے اپنا نام حسن آغا رکھ لیا۔ ترقی کرتے کرتے وہ الجیریا کا خازن اعلیٰ Chief Treasurer & Chief Eunuch اور خواجہ سرا بننے کے علاوہ عثمانی گورنر کا مشیر خاص بن گیا۔ زندگی بھر نہ وہ برطانیہ واپس آیا اور نہ ہی اس نے اسلام کو ترک کیا۔
ملکہ ایلز بیتھ کے سلطنت عثمانیہ، پرشیا اور مراکش کی سلطنتوں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اور بھی ممتاز مسلمان لندن آئے۔ تاریخی دستاویزات کے مطابق عثمانی سلطنت کے سفیر 1580 کی دہائی میں لندن آئے تھے مگر وہ کہاں گئے اس کا سراغ نہیں مل سکا۔ اس عرصہ میں مراکش کے سفیر بھی لندن آئے۔ مثلاً 1589 میں مراکش کا سفیر احمد بلقاسم لندن آیا جس کے ہمراہ باربری کمپنی کے تاجر تھے۔ انہوں نے برطانیہ مراکش کے اتحاد سے سپین کے بادشاہ کے خلاف ملٹری مہم کی تجویز پیش کی۔ سپین کے خلاف مہم کی یہ تجویز کا خاطر
خوانہ نتیجہ نہ نکلا۔ تا ہم 1589 کے آخر میں مراکش کا سفیر اس برطانوی بحری فلیٹ میں شامل تھا جس نے مراکش کے عالم فاضل سلطان ابو العباس مولے احمد المنصور ( 1549۔ 1603 ) کی حمایت سے لزبن (پرتگال) پر حملہ کیا تھا۔
اس کے دس سال بعد مراکش کا ایک اور سفیر محمد النوری لندن پہنچا جس کے ہمراہ کثیر تعداد میں تاجر، ترجمہ نگار، دین کے عالم اور غلام تھے۔ ان کا قیام لندن میں چھ ما ہ
تک ایک مکان On the Strand میں رہا جہاں برطانوی عوام ان کو نمازیں ادا کرتے ہوئے دیکھا کرتے تھے۔ ایک انگریز شہری کے مطابق۔ ”وہ اپنے گھروں میں جانور بھیڑ بکری مرغی ذبح کرتے اور ذبح کرتے وقت اپنا منہ مشرق کی طرف رکھتے۔ وہ تسبیح کو استعمال کرتے اور اولیاء کے حضور دعائیں کرتے تھے۔“
مراکشی سفیر محمدالنوری نے لندن میں اپنی پورٹریٹ بنوائی، ملکہ ایلزبیتھ کے درشن کیے، اس کے مشیروں سے دو دفعہ ملاقات کی۔ اس نے اسلامی اور پروٹیسٹنٹ افواج کا مل کر سپین پر حملے کی تجویز سامنے رکھی، نیز امریکن کالونیز پر بحری حملہ بھی تجویز کیا۔ ملکہ ایلزبیتھ نے اس تجویز پر حیل و حجت سے کام لیا کیونکہ وہ عثمانی حکومت کو ناراض نہیں کر نا چاہتی تھی جو اس وقت مراکش کے حکمران المنصور کے خلاف تھی۔
ملکہ ایلزبیتھ کی اچانک وفات پر یہ سیاسی اتحاد ختم ہو گیا۔ نیز اس کے بعد اگلے بادشاہ جیمز اول James Iنے کیتھولک سپین کے ساتھ صلح کر لی۔ لیکن برطانیہ کی تاریخ چی نانو، میری فلس، النوری، احمد بالقاسم کے نام ابھی تک روشن ہیں جو اول اول یہاں اسلام کے رہبر بن کر آئے تھے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی کہ برطانیہ میں مسلمانوں کی تاریخ کاعرصہ لمبا ہے جو سولہویں صدی میں یہاں وارد ہوئے تھے۔
اردو میں پہلا سفر نامہ لکھنو کے شہری یوسف خاں کمبل پوش نے لکھا اور 1847 میں دہلی سے شائع ہوا تھا۔ اس کا نام عجائبات فرنگ تھا۔ یوسف خاں نے انگلستان کے سفر کا آغاز 1837 میں کیا اور آدھی دنیا کا سفر کرتے ہوئے، پیرس کی سیر سے لطف اندوز ہوتے، مصر اور وسطی ہندوستان کے راستے لکھنو واپس 1838 میں پہنچا۔ اس سفر کے دوران پیش آنے والے واقعات، سیاحتی مقامات کی تفصیل، جغرافیائی حالات، معاشروں کی تہذیب، طرز زندگی، رسوم و عقائد، تاریخی عمارات، پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہیں ضبط تحریر میں لاتا گیا۔
یوسف خاں کے مشاہدات انوکھے اور دل چسپ ہیں۔ لندن کی سیر کے دوران سینٹ پال کا گرجا گھر، برٹش میوزیم، رائل جیولاجیکل گارڈن، مادام تساد کا ویکس میوزیم، نا جائز بچوں کا گھر، شاہی محل، واکس ہال گارڈن، گرنیچ کا توپ خانہ، دریائے ٹیمز اور پاگل خانے کا تفصیل سے ذکر کرتا ہے۔ وہ انگلینڈ کی تہذیب کا پرستار اور مداح تھا۔ سر سید احمد خاں نے لندن کا سفر نامہ ”مسافران لندن“ کے نام سے قلم بند کیا تھا۔ سر سید بنارس سے انگلینڈ کے لئے اپریل 1869 کو روانہ ہوئے تھے۔ اس سفر نامے میں انہوں نے لندن کے عجائبات، کیمبرج یونیورسٹی، انڈیا آفس لائبریری، مدارس نسواں، ارباب کمال سے ملاقات، برٹش میوزیم، ونچسٹر کالج، توپوں کا داغنا، لندن کا لبرل ماحول، کا تفصیل سے ذکر کیا تھا۔
برطانیہ آنے والے چند لوگوں نے اگر عیسائیت قبول کر لی تو یہاں رہنے والوں میں سے کئی ایک ایسے تھے جو مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ملکہ وکٹوریہ کے عہد حکومت ولیم قوئے لام William Quillam نے ٹین جیر میں اکتیس سال کی عمر میں 1887 میں قبول اسلام کیا تھا۔ اس کا اسلامی نام عبدا اللہ تھا۔ انگلینڈ واپس آنے پر وہ داعی اسلام بن گیا۔ اس کے ہاتھ پر چھ سو افراد مسلمان ہوئے تھے۔ لیور پول میں اس نے پہلی مسجد قائم کی۔ ملکہ وکٹوریہ کے حکم پراس کے پمفلٹ Faith of Islam کا تیرہ زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔
ملکہ کی رضامندی سے عثمانی سلطان نے اس کو برطانوی جزائر کا شیخ الاسلام مقرر کیا تھا۔ اس نے 1932 میں وفات پائی اور سرے Surreyمیں تدفین ہوئی۔ پھر دیگر جلیل القدر افراد میں سے ایک برطانوی سکالر مارما ڈیوک پکتھال تھا۔ ( 1875۔ 1936 ) اس نے 1930 میں قرآن پاک کا انگلش میں ترجمہ کیا جو پوری دنیا میں مستند اور اعلیٰ ترین تسلیم کیا جاتا ہے۔
مگر زیادہ تعداد میں مسلمان آج سے تین سو سال قبل لندن آئے تھے۔ یہ لوگ بحری ملاح تھے جن کو ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان سے لائی تھی۔ اس کے بعد جب سویز کنال کھل گئی تو 1869 میں مسلمان کثیر تعداد میں یہاں آئے جو یمن کے باشندے تھے۔
برطانیہ کے محکمہ شماریات کے مطابق 2018 میں ملک میں 3,372,966 مسلمان آباد تھے یعنی کل آبادی کا 5.2 %۔ ان میں سے انگلینڈ میں 2,660,116، سکاٹ لینڈ میں 76,737، اور ویلز میں 45,950 آباد ہیں۔ سب سے زیادہ مسلمان لندن میں ہیں جن کا تعلق سنی اسلام سے ہے۔ پندرہ اسلامی ممالک سے آئے برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں میں سے پاکستان سے ہجرت کر کے آنے والے امیگرینٹ سب سے زیادہ ہیں۔






