غزہ پر جارحیت، قصور ہمارا اپنا


رمضان المبارک کے آخری عشرے سے غزہ پر جاری اسرائیلی فائرنگ و بمباری سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 200 سے زائد ہو چکی ہے۔ یہ جھگڑا بیت المقدس کے ایک محلے سے متعدد فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی سے شروع ہوا۔ اسرائیلی پولیس نے ان خاندانوں کو نکال کر ان کے گھر آباد کار یہودیوں کو دے دیے۔ اس واقعہ کی وجہ سے فلسطینی مسلمانوں میں اشتعال پھیل گیا اور انہوں نے احتجاج شروع کر دیا۔ اسرائیلی پولیس نے احتجاج کرنے والے بچوں، عورتوں اور مردوں پر تشدد کیا۔

بیت المقدس میں رہنے والے فلسطینی روزہ افطار کے بعد مسجد اقصیٰ میں عبادت میں مصروف تھے کہ اسرائیلی پولیس نے دھاوا بول دیا اور نہتے شہریوں پر ربڑ کی گولیاں برسائیں جس کے سبب ڈھائی سو کے قریب لوگ زخمی ہو گئے۔ فلسطینیوں پر حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطینی عسکریت پسندوں نے اسرائیل کے متعدد علاقوں پر راکٹ حملے کیے جن کے جواب میں کارروائی کی گئی۔ مسلم ممالک میں انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے کے نام پر تنقید کرنے والے مغربی ممالک اس بربریت پر خاموش ہیں جبکہ عالمی امن کے خود ساختہ ٹھیکیدار امریکا نے یہ کہہ کر اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اس کی مزید پیٹھ ٹھونک دی۔ حالانکہ لڑائی فلسطینیوں نے نہیں بلکہ اسرائیل پولیس نے شروع کی تھی اور فلسطینی مسلمان ہتھیار اٹھا کر میدان جنگ میں نہیں نکلے بلکہ وہ پرامن انداز میں مسجد اقصیٰ میں عبادت کر رہے تھے کہ اسرائیلی پولیس نے ان پر حملہ کر دیا۔

اصل افسوس کی بات یہ ہے کسی مسلم ملک کی طرف اسرائیلی بربریت کے خلاف ٹھوس ردعمل سامنے نہیں آیا۔ 200 سے زائد فلسطینی مسلمانوں کی شہادت اور غزہ کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کرانے کے بعد اتوار 16 مئی 2021 کو اسلامی تعاون تنظیم یعنی او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا آن لائن اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے شرکاء نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی زبانی کلامی خوب مذمت کی۔ اس اجلاس سے اس سے زیادہ کی توقع تھی بھی نہیں کیونکہ او آئی سی جن دولتمند مسلم ممالک کے ہاتھوں یرغمال ہے ابھی کل کی بات ہے کہ وہ ممالک اسرائیل کے ساتھ نہ صرف خود کھلے عام تعلقات استوار کر رہے تھے بلکہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے ان کی طرف سے دیگر مسلمان ممالک پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔

کون نہیں جانتا ہے او آئی سی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اور ایک پھسپھسی مذمتی قرارداد محض اپنے عوام کو دھوکا دینے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں اور اسرائیل پر اس کا کچھ اثر نہیں ہونا۔ فلسطین کے حالات اس وقت عملی اقدامات کے متقاضی ہیں ان خالی خولی قراردادوں اور مذمتی بیانوں کا کوئی نتیجہ نکلنا ہوتا تو غاصب اسرائیل کو ستاون اسلامی ممالک کی موجودگی میں کبھی اس قدر دیدہ دلیری سے جارحیت کی جرات نہ ہوتی۔ مسلم ممالک کی یہ کمزوری اسرائیل بھی جانتا ہے اسی لیے عین اس وقت جب یہ اجلاس جاری تھا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ مقاصد کے حصول تک غزہ پر بمباری جاری رہے گی۔

شرم کی بات ہے کہ اقوام متحدہ کے بعد سب سے بڑے عالمی فورم اور ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم او آئی سی نے ”عالمی برادری“ سے اسرائیل کے خلاف کارروائی کی اپیل کی ہے۔ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ 57 مسلم ریاستوں کی یہ تنظیم خود کچھ کرنے کی بجائے اس عالمی برادری سے اسرائیل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے جو اسرائیل کی حامی و سرپرست ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ او آئی سی کے سرکردہ ممالک یو اے ای اور بحرین نے حال ہی میں اسرائیل سے معاہدے کیے ہیں اور اس کے علاوہ بھی بہت سے عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے لیے اتاؤلے ہو رہے ہیں، یہی نہیں بلکہ پچھلے دنوں اس مقصد کی خاطر بعض ”دوست ممالک“ کی طرف سے پاکستان پر بھی دباؤ ڈالا گیا۔

جن بڑے مسلم ممالک نے نہتے اور بے آسرا فلسطینیوں کی مدد کرنی تھی، ان کے ساتھ کھڑے ہونا تھا اور انہیں انصاف دلانا جب وہی اسرائیل کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے لگ گئے تو اس کے بعد یہی کچھ ہونا تھا۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے شکوہ بنتا ہی نہیں، ہماری اپنی کمزوریاں اور اپنے مفادات ہیں جن کی وجہ سے بالشت برابر اسرائیل نے درجنوں عرب ممالک کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور ان کی سرزمین اور مقدس مقامات پر قبضہ مستحکم کرنے کے بعد اب انہیں دھڑلے سے وہاں سے بیدخل بھی کر رہا ہے۔

سچ یہی ہے امت مسلمہ کے متضاد نظریات اور متصادم مفادات ہی اس زوال اور واردات کی وجہ ہیں۔ ایک طرف سعودیہ ایران کے خلاف اسرائیل تک سے مدد کا طالب ہے دوسری جانب ایران بیک وقت چار ممالک میں سعودی مفادات کے خلاف مصروف عمل ہے جبکہ اسی توسیع پسند ایران نے آج تک ”یوم القدس“ منانے اور ”مرگ بر اسرائیل“ کے نعرے لگانے کے علاوہ اسرائیل کا ہاتھ روکنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ مذکورہ دونوں بڑے اسلامی ممالک کی تمام توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور آپسی لڑائیوں میں صرف ہوتی ہیں۔

نہایت افسوس کی بات ہے کہ ان کے اختلافات آپسی معاملات تک محدود نہیں ہیں بلکہ ”مسئلہ فلسطین“ پر بھی ”الفتح اور حماس“ کی صورت ان کے مفادات کا ٹکراؤ نظر آتا ہے۔ اسی طرح ایک اور بڑے اسلامی ملک ترکی کے اسرائیل کے ساتھ کاروباری اور سفارتی تعلقات ہیں اور اس نے بھی آج تک بڑھک بازی کے سوا کبھی کچھ نہیں کیا۔ یہ بھی سب کے علم میں ہے کہ پاکستان کبھی اپنی سوچ اور عمل میں آزاد نہیں رہا ہے اور ایٹمی طاقت کا حامل ہونے کے باوجود اسے کبھی مسلمانوں کی حمایت میں دو بول ادا کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔

پھر بھی اگر ہماری حکومت پر کچھ لفظ منہ سے نکالنے لازم ہوجائیں تو بھی سعودیہ سے تحریر آنے تک زبان کو حرکت نہیں دی جاتی۔ انہی اختلافات اور متصادم مفادات کی بدولت مسلمان تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں۔ شرمناک بات یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف اپنے مشترکہ دشمن سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ تلخ سچ یہ ہے کہ اس وقت فلسطینیوں پر ظلم اور ”بیت المقدس“ پر صیہونی قبضے کے مسلمان بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ حالیہ شور شرابا اور احتجاج بعد از مرگ واویلا اور اپنی نا اہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے اور جب تک مسلم دنیا کی آپسی تقسیم ختم نہ ہوگی اسی طرح مسلمان دنیا میں پٹتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS