آہ صفیہ باجی


میری صفیہ باجی سے پہلی ملاقات لندن کے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں ہوئی جب ایک انٹرویو کے سلسلے میں میرا وہاں جانا ہوا، تو ایک منحنی سی بزرگ خاتون پچھلی کرسیوں میں سے ایک پر خامشی سے براجمان تھیں، میرا ان سے پہلے کبھی تعارف نہیں تھا، اس لئے ان سے کوئی گفتگو نہیں ہو پائی، لیکن مجھے اس وقت بے حد خوشگوار حیرت ہوئی جب انہوں نے مجھے انیس بھائی کہہ کر مخاطب کیا اور انتہائی مشفقانہ انداز میں خیریت دریافت کی جیسے ہماری برسوں کی شناسائی ہو۔

صفیہ باجی کی اس اپنایت اور محبت بھرے انداز کو دیکھ کر مجھے بے حد شرمندگی ہوئی لیکن انہوں نے اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں ہونے دیا ور اپنی گفتگو جاری رکھی، اس دوران انہوں نے راقم کے کالمز اور پروگرامز کا بھی ذکر کیا اور سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں بھی دیں۔ صفیہ باجی عام طور پر زیادہ گفتگو نہیں کرتی تھیں اور زیادہ تر وہ خاموشی سے بیٹھی خلاؤں میں گھورتی ہوئی کسی گہری سوچ میں گم رہتی تھیں، یا پھر وہ کچن کے معاملات میں وہاں موجود دیگر خواتین اور کارکنان کے ساتھ مصروف کار رہتی تھیں۔

اس دورے کے دوران اور پھر اس کے بعد متعدد دیگر مواقع پر ان سے ملاقات رہی، اور میں نے ہمیشہ ان کی آنکھوں میں ایک گہری فکر کی موجودگی کا احساس پایا، مجھے صفیہ باجی کی ماضی کی سیاسی فعالیت اور سفر کا اتنا علم نہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ وہ پاکستان کی ایک ایسی بزرگ خاتون کا درجہ رکھتی ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں سے وطن بنتے ہوئے نہ صرف دیکھا بلکہ اس کی بنیادوں میں اپنی قربانیوں کی یادوں کو سمویا اور اسے تعمیر ہوتے ہوئے دیکھا۔

صفیہ باجی نے چند ایک اہم مواقع پر گفتگو بھی فرمائی جو کہ سوشل میڈیا پر موجود ہے، ان کی باتوں میں جہاں وفا پرستی کا پہلو انتہائی نمایاں دکھائی دیا وہیں اس امر کی اہمیت کا بھی احساس ملا کہ پاکستان کی سبھی بزرگ خواتین، دکھی مائیں اور گھریلو خواتین میں آج بھی ایک سیاسی و جمہوری شعور زندہ ہے جو انہوں نے ہجرت کے سفر میں حضرت قائد اعظم اور ان کے ساتھیوں کے عمل سے سیکھا۔

صفیہ باجی بلا خوف و خطر اپنی بات کا اظہار کرنا جانتی تھیں، اور ان کی باتیں سن کر ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ کسی ایک سیاسی نظریے یا کسی دائیں، بائیں بازو کی بات کر رہی ہیں، صفیہ باجی کے لہجے میں ایک عام سی معصوم بزرگ خاتون بول رہی ہوتی تھیں جو کہ اصل پاکستان کی درد مند دل رکھنے والے کسی بھی شہری کے لب و لہجہ میں محسوس ہوتا ہے۔

اپنے پرکھوں کی گنگا جمنی تہذیب کی جیتی جاگتی مثال، تاریخ ہند و پاک کی چلتی پھلتی لائیبریری، عید میلاد النبی کی محبت میں کھوئی اور مہکتی اردو سے رچی بسی صفیہ باجی اب ہم میں نہیں رہیں، لیکن ایک پیغام ضرور چھوڑ گئی ہیں، کہ حب الوطنی اور حب الدین کو کسی سند کی ضرورت نہیں ہوتی، کسی بھی نظریے، تنظیم یا فلسفے سے منسلک ہونا یا اس کا مخالف ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ کون سچا اور مخلص پاکستانی ہے اور کون نہیں، اور دردمند دل رکھنا، اپنے زخموں کو الفاظ کی شکل دینا، گلے شکووں کا اظہار کرنا کوئی غداری نہیں، اور ارباب اختیار کو اپنے ہی شہریوں کے ان الفاظ سے زیادہ ان میں چھپے درد اور تکلیف کو محسوس کر کے ان پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔

آج جب سوشل میڈیا پر صفیہ باجی کی پہلی برسی کے موقع پر ان کی تصاویر اور پیغامات دیکھنے کو ملے تو کرونا کی وبا سے پہلے کے وہ دن یاد آ گئے جب ٹورونٹو سے لندن کا ٹکٹ کٹواتے وقت جہاں دوسرے احباب سے ملاقات کی خوشی ہوتی تھی، وہیں یہ احساس بھی کہ ماں جیسی صفیہ باجی ایک بار پھر سر دست شفقت پھیر کر دعائیں دیں گی، لیکن افسوس وہ اب ہم میں نہیں رہیں، کاش پاکستان کی اس ماں کے دل میں چھپے درد کو ہم سب سمجھ پائیں اور ان جیسی ہزاروں ماؤں اور بہنوں کی تکلیف کو سمجھ کر پاکستان کی سبھی اکائیوں کو اپنائیں اور اجنبیت کے احساس کو ختم کر کے سب کو گلے لگائیں، تو دوسرے جہاں سے صفیہ باجی ہم سب کو پھر سے دعائیں دیں، پرانا والا صفیہ باجی کا پاکستان پھر سے شاد آباد رہے، اور تکلیف و اذیت کا احساس کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو، زبان سے ہمیشہ زندہ باد ہی نکلے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

انیس فاروقی، کینیڈا

انیس فاروقی ایک منجھے ہوئے جرنلسٹ، ٹی وی ہوسٹ، شاعر اور کالم نگار ہیں، اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔

anis-farooqui has 9 posts and counting.See all posts by anis-farooqui

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments