سر ظفراللہ کی مسئلہِ فلسطین پر جنرل اسمبلی میں تقریر اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا چیلنج

ثقلین امام - بی بی سی اردو سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فلسطین کی تقسیم اور اسرائیلی ریاست کے قیام سے قبل، اُس وقت کے پاکستانی وفد کے سربراہ، سر محمد ظفر اللہ خان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک پلینیری کمیٹی میں خطے کی تقسیم کی تجویز کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے یہودیوں اور فلسطینیوں کی ایک وفاقی ریاست بنانے کی تجویز دی تھی۔

مسئلہِ فلسطین کے بارے میں 28 نومبر، سنہ 1947 کو سر ظفراللہ خان کا جنرل اسمبلی سے خطاب اس موضوع پر تاریخ کی بہترین تقاریر میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ اس موقع پر انھوں نے سوا گھنٹے تقریر کی تھی جسے ایک عرب نمائندے نے عالمِ عرب کے مقدمے کی بہترین ترجمانی کہا تھا۔

سر ظفراللہ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اقوام متحدہ خطہِ فلسطین اور فلسطینی عوام کے ساتھ وہ کام کرنے جا رہا ہے جس کا اُسے اختیار ہی نہیں ہے۔ یہ انھیں اک ایسی سمت کی جانب دھکیل رہا ہے ‘جس کے بعد دشمنیوں کا ایک لا متناہی سلسلہ ہر حل کا راستہ روکے گا۔’

‘ہمیں بتایا جائے کہ اقوام متحدہ فلسطینیوں کی زمین پر ان کا اپنا ملک قائم کیے بغیر یہودیوں کا ملک کیسے قائم کرے گا؟ اقوام متحدہ کے پاس ایسا کرنے کا کیا اختیار ہے؟ آزاد ریاست کو ہمیشہ کے لیے اقوام متحدہ کی انتظامیہ کے تابع بنانے کے لیے قانونی اتھارٹی کیا ہے، کونسا قانونی اختیار ہے؟’

‘ہم پہلے فلسطین کی لاش کو یہودی ریاست کے تین حصوں اور ایک عرب ریاست کے تین حصوں میں کاٹ دیں گے۔ اس کے بعد ہمارے پاس جافا انکلیو ہو گا۔ اور فلسطین کا دل، یروشلم، ہمیشہ کے لئے ایک بین الاقوامی شہر رہے گا۔ یہ مسئلہِ فلسطین کی ابتدائی شکل ہے۔’

اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ‘اس طرح فلسطین کو کاٹ ڈالنے کے بعد ہم اس کے جسم کو بہتے ہوئے خون کے ساتھ ہمیشہ کے لیے ایک صلیب پر لٹکا دیں گے۔ یہ عارضی کام نہیں ہو گا۔ یہ مستقلاً ہو گا۔ فلسطین کبھی بھی اپنے عوام کا نہیں ہو سکے گا۔ اسے ہمیشہ صلیب پر کھینچا جائے گا۔’

مزید پڑھیے:

عاصمہ شیرازی کا کالم: فلسطین۔۔۔ اوہ، آئی سی!

اسرائیل کو مان لیجیے مگر۔۔۔

اقلیتوں کا پاکستان: ’مذہب ذات یا نسل سے ریاست کا کوئی لینا دینا نہیں‘

اسرائیل کے پاکستان سے تاریخی خطرات

ایک اسرائیلی ریسرچر موشے یگر، اسرائیل کی خفیہ دستاویزات کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ سنہ 1947 سے لے کر سنہ 1949 کے دوران اسرائیل کے قیام کے لیے جاری خانہ جنگی کے دوران واشنگٹن میں اسرائیلی سفارتی مشن کو یہ اطلاع ملی تھی کہ پاکستان عربوں کو فوجی مدد بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

‘یہاں تک کہ یہ بھی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ پاکستان عربوں کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے ایک بٹالین فوج بھی بھیج رہا ہے۔ پاکستان نے چیکوسلاواکیہ میں عربوں کو سپلائی کرنے کے لیے ڈھائی لاکھ رائفلیں بھی خریدی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان نے مصر کی فضائیہ کے لیے تین طیارے بھی خریدے ہیں۔’

جناح کی فلسطین پالیسی

فلسطین کے لئے زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنا جناح کے سیاسی منشور کے مطابق فلسطینی مسلمانوں کے فطری حق آزادی کے لیے ہندوستانی مسلمانوں کے جذبے کی عکاس تھی اور یہ اس وقت کی ایک آواز تھی۔

اپنی جماعت کے محدود وسائل اور بین الاقوامی سیاست میں مخالف حالات باوجود جناح نے ممکنہ طور پر فلسطین کی حمایت کے لئے بھرپور کوشش کی۔ مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے اسے ایک اہم ایشو کے طور پر لیگ کے ہر سالانہ اجلاس کے تقریباً ہر ایجنڈے پر موجود رکھا۔

نومولود ریاست کے گورنر جنرل جناح نے فلسطین کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ اقوام متحدہ اسرائیل کے قیام کے لئے ووٹ نہ دے۔ اس کوشش میں ایک مضبوط سفارتی لابی بنانے کی بھی کوشش کی گئی تھی۔ سر ظفراللہ کی تقریر بھی انہی کی پالیسی کا مظہر تھی۔

وہ ناکام ہوئے مگر فلسطین کے لئے جناح کی کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے پہلی مرتبہ یوم فلسطین منانے کا اعلان کیا تھا جب سرزمینِ فلسطین پر اسرائیلی ریاست قائم نہیں ہوئی تھی۔ نکولس مینسرگ کی تدوین شدہ جلدیں ’ٹراسنفر آف پاور‘ کا حوالہ دیتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے ریسرچر شہزاد قیصر لکھتے ہیں کہ جناح نے فلسطین کی حمایت لندن فلسطینی مسئلے کے لیے بلائی گئی ایک گول میز کانفرنس میں چوہدری خلیق الزمان کی قیادت میں ایک وفد بھی بھیجا تھا۔

محمد افضل کی تدوین کردہ جناح کی تقاریر پر ایک کتاب کے مطابق، فلسطین کی تقسیم پر جناح نے کہا تھا کہ اس کا نتیجہ بدترین تباہی کی صورت میں نکلے گا اور اتھارٹی کی عربوں سے ایسی جنگ شروع ہو گی جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا ۔۔۔۔ تمام مسلمان اس منصوبے کے خلاف بغاوت کردیں گے، اور پاکستان کے پاس عربوں کی حمایت کے علاوہ اور کوئی چارہ ہی نہیں ہوگا۔

پاکستان سنہ 2021 میں

اب پاکستان کے 26ویں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی ترکی اور دیگر مسلم ممالک کے نمائندوں کے ہمراہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہِ فلسطین اور خاص طور پر اس وقت اسرائیل اور غزہ کے فلسطینیوں کے درمیان لڑائی پر تقریر کریں گے۔

مسئلہِ فلسطین کی اہمیت پاکستان کی مختلف حکومتوں میں مختلف درجوں پر رہی ہے۔ تاہم ہر حکومت نے فلسطینیوں کے حمایتی موقف میں تبدیلی نہیں کی۔ لیکن سب سے زیادہ اہم پالیسی ساز کردار تین ادوار میں دیکھا گیا ہے: جناح، ایوب اور بھٹو۔

محمد علی جناح کی زندگی میں ان کے پہلے وزیرِ حارجہ سر ظفراللہ کے زمانےمیں، پھر صدر ایوب کے زمانے میں جب ان کے وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو تھے اور تیسری مرتبہ اس وقت جب خود ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے صدر بنے اور وزیرِاعظم منتخب ہوئے تھے۔

سر محمد ظفراللہ خان کا اقوامِ متحدہ کی پلینیری کمیٹی سے خطاب دراصل جناح کی فلسطین پالیسی کا تسلسل تھا جو بعد میں بھی حسین شہید سہروردی کے زمانے تک جاری رہا۔ سہروردی نے فلسطین کے بارے میں موقف تو بدلا نہیں تھا، تاہم انھوں نے نہر سوئز پر عرب-اسرائیل جنگ کے دوران عرب ممالک کو ’صفروں کا مجموعہ صفر‘ کہہ کر ناراض کیا تھا۔

عرب-اسرائیل جنگ 1967

جنرل ایوب خان کے دور میں پاکستان عمومی طور پر فلسطین کے بارے میں زیادہ فعال نظر نہیں آیا تھا، البتہ اس دور تک جب بھی اسرائیلی نمائندوں یا اسرائیلی لابی کے لوگوں نے پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کا کہا تو پاکستان ہمیشہ پہلے مسئلہِ فلسطین کو حل کرنے پر اصرار کرتا تھا۔

لیکن جب سنہ 1967 میں اسرائیل اور عربوں کے درمیان جنگ ہوئی جس میں اسرائیل نے عرب ممالک کے مختلف حصوں پر قبضہ کیا اور القدس (یروشلم) اور غزہ سمیت غرب اردن پر بھی قبضہ کیا تھا تو پاکستانیوں نے شام اور مصر کی فوجی امداد کی تھی۔

عملی اور سرکاری طور پر پاکستان کے اُس وقت کے وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے عالمی سیاسی بساط پر عالمِ عرب کا کھل کر ساتھ دیا تھا۔ 17 جولائی سنہ 1967 میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب آغا شاہی نے افغانستان، ایران، ترکی، گنی، مالی اور صومالیہ کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف ایک قراردار منظور کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

لیکن سنہ 1970-71 میں پاکستان کے فوجی افسر بریگیڈیر ضیاالحق نے، (جنرل ضیا) جو اس دور میں اردن کی فوج کو تربیت دینے عمان میں مقیم تھے، اردن کے بادشاہ شاہ حسین کے کہنے پر اس وقت کے فلسطینی مہاجرین اور اردنی فوج کے درمیان لڑائی میں اردن کی فوج کی جانب سے ایک بڑی فوجی کارروائی کی تھی۔

سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار بروس ریڈل اپنی ایک کتاب ‘واٹ وی ون’ میں حوالے دے کر لکھا ہے کہ ہے کہ بریگیڈیر ضیاالحق نے اس فوجی آپریشن کی خود قیادت کی تھی۔ اس کارروائی میں ہزاروں فلسطینی ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے قبل سنہ 1969 میں اسرائیلی یہودیوں نے مسجدِ اقصیٰ پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی جسے عرب ممالک نے مسجد کو شہید کرنے کی جسارت قرار دیا اور پھر آرگنائیزیشن آف اسلامک کانفرنس کی پہلی سربراہی کانفرنس رباط میں ہوئی تھی۔ صدر جنرل آغا یحیٰ خان نے خود اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو

Getty Images
سنہ 1972 میں بھٹو پاکستان کے صدر بنے تو انھوں نے فلسطینی کاز کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم اور فعال حصہ بنایا تھا۔

پاکستان بنا فلسطینی کاز کا چیمپیئن

سنہ 1972 میں بھٹو پاکستان کے صدر بنے تو انھوں نے فلسطینی کاز کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم اور فعال حصہ بنایا تھا۔ سنہ 1973 میں عرب-اسرائیل جنگ کے دوران پاکستان نے عربوں کا کھل کے ساتھ دیا تھا اور غیر اعلانیہ فوجی امداد بھی دی تھی۔ اسی جنگ میں عربوں نے تیل کو ہتھیار کے طور پر پہلی مرتبہ استعمال کیا تھا۔

سنہ 1974 میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی تھی جس میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات اور اُن کی ‘تنظیم آزادئِ فلسطین’ کو فلسطینیوں کی نمائندہ تنظیم تسلیم کیا گیا۔ یاسر عرفات اور ان کی تحریک کو پہلی مرتبہ یہ سفارتی کامیابی حاصل ہوئی بعد میں انھیں اقوامِ متحدہ میں بھی مبصر کی نشست دی گئی۔

پاکستان کا فلسطین پر ایک ہی موقف رہا ہے

سینیٹر مشاہد حسین کہتے ہیں کہ فلسطینیوں کی حمایت کرنا پاکستان کے ڈی این اے کا حصہ ہے کیونکہ فلسطینیوں کے حق آزادی کی حمایت پاکستان کے بانی قائدِ اعظم محمد علی جناح نے سنہ چالیس کی دہائی کے دور سے ہی زوردار طریقے سے کی تھی، اور پھر بعد میں گورنر جنرل کی حیثت میں انھوں نے امریکی صدر ٹرومین اور برطانوی وزیر اعظم ایٹلی کو اسی بارے خطوط بھی لکھے تھے۔

اس بات پر کے بعد میں آنے والی پاکستان کی کوئی حکومت اس پالیسی کو تبدیل نہیں کرسکی، وہ کہتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانے کے خیال سے چھیڑ خانی کی تھی، لیکن ملک کے اندرونی نظام اور عوامی رائے عامہ میں ماحمت کی وجہ سے پالیس میں تبدیلی نہیں آئی۔

سینیٹر مشاہد حسین کے مطابق جنرل مشرف کے زمانے میں سنہ 2006 میں حماس کے وزیر خارجہ محمود زہر کو پاکستان میں مہمان کے طور پر بلایا گیا تھا، اور حکومت نے غزہ میں قائم ہونے والی حماس کی نئی حکومت کو تیس لاکھ ڈالر کی امداد بھی دی تھی۔ جنرل مشرف ہی کہ دور میں اسلام آباد میں فلسطینی سفارت خانے کی تعمیر میں پاسکتان نے مالی امداد بھی دی تھی۔

اس سوال پر کہ کیا بیگم عابدہ حسین نے نواز شریف کے دور میں امریکہ میں پاکستان کے سفحر کی حیثیت سے اسرائیل سے معمول پر تعلقات لانے کی جو بات کہی تھی، سینیٹر مشاہد نے کہا کہ بیگم عابدہ نے اس بارے میں ایک بیان میں کہا تھا کہ انڈین صحافی نے ان کے بیان کو مسخ کرکے پیش کیا تھا۔

مشاہد حشین کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کے بعد جو تین حکومتیں بنیں، یعنی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومتیں، انھوں نے فلسطینیوں کی سیاسی، سفارتی سطح پر ایک ہی انداز میں ماضی کی حکومتوں کی روایات کے مطابق تسلسل کے ساتھ مدد کی کیونکہ فلسطینی معاملہ ایسا ہے جس پر حکومت اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں میں اتفاقِ رائے ہے۔ موجودہ حکومت نے بھی غزہ کے محصور عوام کے لیے امداد کا اعلان کیا ہے جو کہ فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے مناسب اقدام ہیں۔

سر محمد ظفراللہ خان کی تقریر کے اقتباسات

پاکستان جو کبھی عالمِ عرب میں بھی ایک قائدانہ کردار ادا کرنے پوزیشن میں تھا، ایک ایٹمی طاقت بننے کے بعد اب زیادہ موثر کردار ادا کرتا ہوا نظر نہیں آتا ہے۔ ایران اور ترکی اس کاز کے زیادہ فعال کردار نظر آتے ہیں۔ آج اگر سر ظفراللہ کی تقریر کو دیکھا جائے تو بہت کچھ بدل چکا ہے۔

لیکن جن معاملات اور سوالات کو سر ظفراللہ نے اُٹھایا تھا وہ آج بھی عالمی سیاسی بساط پر جوابات تلاش کر رہے ہیں۔ فلسطینی اور یہودی آج بھی اُس خطے میں بقائے باہمی کے کسی قابلِ عمل کلیے کی تلاش میں ابھی تک ناکام ہیں۔ اور غزہ اور اسرائیل کی مو جودہ جنگ نے حالات مزید نازک بنا دیے ہیں۔

سر ظفراللہ خان کی پیشن گوئیوں اور ان کی سیاسی زیرک کا اندازہ ان کی تقریر پڑھ کر ہوتا ہے۔ یہاں ان کی تقریر کے چند اقتباسات جو فلسطینی اور یہودی آبادی، صنعتی اور زراعتی، سیاسی اور انتظامی، معاشی اور ترقیاتی معاملات پر بحث کر کے فلسطین کی تقسیم کے حل کی سکیم کو مسترد کرنے کے بعد کے کچھ حصے ہیں:

‘اب ہم اس سوال پر پہنچتے ہیں کہ آیا عمومی طور پر یہ منصوبہ قابل عمل ہے یا نہیں؟ جیسا کہ میں نے کہا ہے، امریکہ کے نمائندے نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ آس پاس کی عرب ریاستوں اور فلسطین کے عوام کی حمایت ہو تو اس سکیم پر عملدرآمد کیا جاسکتا ہے۔’

‘آس پاس کے عرب ممالک یقینی طور پر اس تجربے کی حمایت نہیں کریں گے۔ ان سے جو بھی توقع کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ بحیثیت ریاستیں، وہ ایسا کچھ نہیں کریں گے جو چارٹر کے تحت ان کی ذمہ داریوں کے منافی ہو۔ لیکن فلسطین کے عربوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ تعاون نہیں کریں گے۔’

‘اور ممبران اسمبلی کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ منصوبہ کوئی تجربہ نہیں ہے۔ یہ عبوری کمیٹی کے حوالے سے تجربے کی طرح نہیں ہے جو ایک سال کے لئے تشکیل دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ ناکام ہوتا ہے تو کیا اس کو ختم کیا جاسکتا ہے اور جنرل اسمبلی پھر سے کوئی اور سکیم اپنا سکتی ہے؟’

اس کے برعکس یہ منصوبہ مستقل حل کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔ اگر یہ ناکام ہوتا ہے تو یہ اقوام متحدہ کی ناکامی ہوگی۔ یہ ایک مستقل نظام ہے اس سے اقوام متحدہ کی ساکھ، اُس کا اعزاز متاثر ہوگا۔ لہذا ہم اس مرحلے پر بہتر طور پر توجہ دیں جس کہ اس کی وجہ سے ہم اپنے آپ کو رہن رکھوا رہے ہیں۔ کیا جنرل اسمبلی ایسا جوا کھیلنے کے لیے تیار ہے؟’

‘آئیے ہم اقوام متحدہ کو کسی ایسے راستے پر گامزن کریں اور اُس سکیم پر عملدرآمد کا وعدہ کریں جس میں اخلاقی جواز کا فقدان ہے، جو اقوام متحدہ کے قانونی اور عدالتی اختیار سے بالاتر ہے، اور اس کا حصول ناممکن ہے۔’

‘اس فضول کام کو ناکام بنانے میں آپ نے فلسطین کے چھیاسٹھ فیصد عوام کی خواہشات کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ آپ آس پاس کے اور پڑوسی ریاستوں کے اعتماد کو ختم کر رہے ہیں اور اقوام متحدہ کو منصفانہ نفاست اور غیرجانبداری سے محروم کر رہے ہیں ۔۔۔’

‘شمالی افریقہ کے بحر اوقیانوس کے ساحل سے لے کر وسطی ایشیاء تک کے تمام ممالک کی آبادی کے دلوں میں آپ مغربی طاقتوں کے عزائم اور مقاصد پر شکوک و شبہات کا بیج ڈال رہے ہیں۔ آپ مشرق اور مغرب کے مابین حقیقی تعاون کے کسی بھی امکان کو ختم کرکے، خرابی کا سنگین خطرہ مول لے رہے ہیں۔’

‘کیا اقوام متحدہ نے اب تک عربوں اور یہودیوں کو ایک جگہ بٹھا کر کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوئی کوشش کی ہے جس پر دونوں قومیں مل کر کام کر کے اسے کامیاب بنانے کی کوشش کریں — جو ایسا واحد حل ہو جس میں کامیابی کے ساتھ کام کرنے کا کوئی امکان موجود ہو؟’

تقسیم کا حل ٹھونسا جا رہا تھا

‘اب ہمیں بتایا گیا ہے آپ کو تقسیم کی سکیم قبول نہیں کرنی ہوگی ورنہ کوئی حل نہیں ہوگا۔ لیکن کیا ایسا ہے؟ کیا یہ واحد انتخاب ہے؟ کیا تقسیم کی اسکیم کو اتنی حقیقی حمایت ملی ہے؟ ایڈہاک کمیٹی میں اسے پچیس وفود کی حمایت حاصل تھی۔’

‘ان پچیس وفود میں سے کچھ نے کہا کہ انہوں نے بھاری دل سے تقسیم کے منصوبے کی حمایت کی۔ دوسروں نے کہا کہ انہوں نے ہچکچاہٹ کے ساتھ اس کی حمایت کی۔ کیوں؟ کیونکہ وہاں اور کوئی تجویز نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر جنرل اسمبلی کم از کم اس نام نہاد حل سے خوش نہیں ہے۔’

‘کہا جاتا ہے کہ اگر تقسیم قبول نہیں کی گئی تو حل کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ اس کے برعکس اگر تقسیم قبول کی گئی تو یہ حظے کے لیے ایک مہلک اقدام ہوگا۔ عرب اور یہودی دونوں اس حل سے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لیں گے اور پھر انہیں کبھی اکٹھا کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔’

‘اس کے بعد دشمنیوں کا ایک لا متناہی سلسلہ ہر حل کا راستہ روکے گا۔’

‘اگر آپ تاخیر کرتے ہیں اور کوئی مہلک اقدام کرنے سے گریز کرتے ہی تو پھر بھی آپ عربوں اور یہودیوں کے لئے صلح کے حل کا موقع رہنے دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ شاید آئندہ آپس میں مل کر کام کرسکیں۔’

‘اس کے مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر آپ آج کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیتے ہیں تو کسی بھی شے کا فیصلہ کرنے کے آپ مجاز نہیں رہیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں حلوں میں سے کوئی بھی قابل قبول نہیں ہے اور یہ کہ کچھ اور تلاش کرنا ضروری ہے جو ذمہ داری آپ کے پاس باقی رہتی ہے۔’

‘اس موقع کو ضائع مت کریں۔ ایسا دروازہ بند نہ کریں جو دوبارہ نہ کھولا جا سکے۔ اقوام متحدہ کو ایک ایسا حل تلاش کرنا ہوگا جو نہ صرف عادلانہ اور منصفانہ ہو، بلکہ فلسطین میں یہودیوں اور عربوں کی سب سے بڑی تعداد کے لیے اس میں کامیابی کے بہترین مواقع موجود ہوں۔’

‘آج ہمارا ووٹ اگر تقسیم کی حمایت نہیں کرتا ہے تو یہ دوسرے حل کو مسترد بھی نہیں کرتا ہے۔ اگر ہمارا ووٹ تقسیم کی حمایت کرتا ہے تو تمام پرامن حل کے راستے مفقود ہو جائیں گے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کون اس ذمہ داری کو نبھائے گا۔’

‘میری آپ سے اپیل ہے کہ اس امکان کو بند نہ کریں۔ اقوام متحدہ کو تقسیم کرنے اور لوگوں کو الگ کرنے کے بجائے انھیں متحد ہونے اور اکٹھا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔’


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 22446 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp