انسداد دہشتگردی، فلسطین کو امن کب ملے گا؟ 


دہشتگردی کا ناسور اس وقت امن عالم کی راہ میں حائل ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر دہشتگردی کی تعریف کے مطابق کسی شخص کی ذات اور ملکیت کے خلاف غیر قانونی طاقت کا استعمال دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں جاری مسلح جدوجہد یا ریاستی تشدد کو عموماً بین الاقوامی طور پر دہشتگردی میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہر سال 21 مئی کو عالمی سطح پر یوم انسداد دہشتگردی کے طور پر منایا جاتا ہے۔

نائن الیون واقع کے بعد پڑوسی ملک افغانستان میں امریکہ اور نیٹو اتحاد پر مشتمل افواج گزشتہ بیس برس سے اسی عنوان کے تحت موجود رہی ہیں۔ مشرق وسطی میں عراق و شام میں بھی اسی جواز کے تحت کارروائی کی گئی، جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ مشرق وسطی میں موجود عرب ریاستوں میں کشیدگی یا سیاسی حالات کی کڑیاں جنگ عظیم اول سے جا ملتی ہیں۔ خاص کر فلسطین کا علاقہ جو کہ گزشتہ تقریباً پون صدی سے سلگ رہا ہے۔

فلسطین میں موجود بیت المقدس دنیا کے تین بڑے اور آسمانی مذاہب یعنی اسلام، نصرانیت اور یہودیت تینوں کے لیے مقدس اور عقیدت کا حامل رہا ہے۔ اس جگہ کی حق ملکیت پر صدیوں جنگیں لڑی گئیں، مگر ہم جائزہ لیتے ہیں ماضی قریب میں جنگ عظیم اول کا، جب فلسطین کا علاقہ صدیوں سے مسلسل مسلمانوں کے زیر اثر تھا۔ وہاں مسلمانوں کی اکثریت کے علاوہ مسیحی اور یہودی بھی محدود تعداد میں آباد تھے۔

تنازعہ کی شروعات جنگ عظیم اول کے بعد تب ہوئی جب اس کا انتظام برطانیہ کے کنٹرول میں آیا۔ پھر نازی جرمنی سے کثیر تعداد میں یہودیوں کو یہاں لاکر نا صرف آباد کیا گیا، بلکہ ایک پہلے سے آباد ریجن میں پوری دنیا سے یہودی آ کر آباد ہوئے اور اپنی ریاست قائم کی۔

اسرائیل ریاست کے قیام سے لے کر اب تک مسلسل غزہ کی پٹی کی طرف اپنی سرحدات کی توسیع کر رہا ہے۔ اور گزشتہ تقریباً ستر سال سے وہاں کشیدگی کا باعث بن رہا ہے۔

ہماری دانست میں عالمی قوتوں کی یہ شاید سب سے بڑی غلطی تھی کہ ایک آباد اور حساس علاقے میں نہ صرف مذہب کے نام پر ریاست بنانے کی اجازت دی گئی، بلکہ اس کی توسیع پسندانہ پالیسی میں کوئی خاطر خواہ رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔

تاریخ کا طالب علم جب سویت یونین کے دور میں مشرق وسطی میں اور دیگر علاقوں میں عالمی طاقتوں کی انسداد دہشتگردی کے نام پر پیش قدمی کا مطالعہ کرتا ہے، تو اس کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ دس سالوں میں مختلف ممالک کو جنگوں کی زد میں لانے والوں کو پون صدی سے ارض فلسطین میں جاری مظالم نظر کیوں نہیں آتے؟ اس وقت جب عالمی معاہدات و قوانین کی رو سے کوئی ملک اپنی حدود سے ایک انچ بھی تجاوز نہیں کر سکتا، تو فلسطینی قصبہ جات کو مسمار کر کہ اسرائیل کی جانب سے نئی بستیاں قائم کرنا کیا یہ غیر قانونی اور بزور قوت قبضہ نہیں؟

فلسطین میں جاری بربریت اور کشیدگی اس وقت انسانی بحران کا سبب بن رہی ہے۔ سینکڑوں بچوں، بزرگ اور عورتوں کے بمباری میں چیتھڑے اڑ چکے ہیں۔ ہزاروں افراد زخمی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں سمیت ہزاروں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ وہ اپنے وطن کے باسی ہوتے ہوئے دیار غیر کی طرح کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ بلکہ وہاں بھی بمباری سے محفوظ نہیں۔

میڈیا ہاؤسز، ہسپتالوں سمیت سینکڑوں عمارتوں کو مسمار کیا جا چکا ہے۔ عالمی سطح پر بار بار کئی ممالک آواز اٹھا رہے ہیں، مگر ستم در ستم یہ ہے کہ سلامتی کونسل میں ان قراردادوں کو ویٹو کیا جاتا ہے۔ انسداد دہشتگردی مہم کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں فلسطین میں جاری انسانی حقوق کی سرے عام خلاف ورزی پر اپنا کردار ادا کریں۔ مشرق وسطی میں جاری انسانی المیے کے خاتمے کے لیے آواز بلند کریں۔ تب ہی پوری دنیا کی انسانی آبادی انسانی حقوق اور انسداد دہشتگردی کے نعروں پر یقین کرے گی۔

Facebook Comments HS