جنگ بندی کا دائرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غزہ میں جنگ بندی ہو چکی ہے، اسرائیل اور حماس‘ دونوں کی طرف سے اسے اپنی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ حماس نے تو جمعے کا دن ”یوم فتح‘‘ کے طور پر منایا کہ اسرائیل کے دانت کھٹے کر دیئے گئے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ کس کے دعووں میں کتنی صداقت ہے، یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ آگ اور خون کا جو کھیل وہاں کھیلا جا رہا تھا، اسے روک دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے اسرائیل کی مذمت میں کوئی قرارداد منظور نہیں ہو سکی، امریکی ویٹو نے اس کا راستہ روک لیا کہ اسرائیل کو مسلسل امریکی چھتری کا سایہ میسر ہے۔ پچاس سے زیادہ مرتبہ سکیورٹی کونسل میں امریکی ویٹو اسرائیل کے حق میں استعمال کیا جا چکا ہے، اور یوں اس کے جارحانہ عزائم کی حوصلہ افزائی جاری رہی ہے۔ امریکہ اسرائیل کے بعد دوسرا بڑا ”یہودی ملک‘‘ ہے کہ اول الذکر میں67 لاکھ یہودی آباد ہیں تو ثانی الذکر میں ان کی تعداد 57 لاکھ ہے۔ باقی دُنیا میں ان کی آبادی چند لاکھ سے زیادہ نہیں۔ اسرائیل کی حفاظت کو امریکی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں اولیت حاصل ہے۔ اسرائیل اور عربوں کے درمیان کئی جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ ہر جنگ میں اسرائیل نے اپنے مقبوضہ علاقے میں اضافہ کیا، اور 1948ء میں اقوام متحدہ کی طرف سے طے کردہ حدود کو وسعت دیتا چلا گیا۔ آج وہ فلسطین کے بڑے حصے پر قابض ہے، اور وہاں موجود عربوں کو دھکیل باہر کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اُس کے شہری مقبوضہ علاقوں میں اپنی بستیاں بساتے اور بین الاقوامی قانون کا مذاق اڑاتے چلے جا رہے ہیں۔ گزشتہ رمضان میں بھی شیخ جراح کے علاقے سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی ہی اس جنگ کا سبب بنی جو مسلسل گیارہ روز جاری رہی، اور سینکڑوں شہریوں کی جان لے گئی‘ غزہ کا انفراسٹرکچر جس میں تباہ کر دیا گیا، جس کی تعمیر نو کے لیے کروڑوں ڈالر درکار ہوں گے۔

1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کو ناکوں چنے چبوائے جا چکے تھے کہ امریکہ نے پوری طاقت اس کے حق میں لگا دی، اور یوں اسے فیصلہ کن شکست نہ دی جا سکی۔ اس کے بعد ہی صدر انورالسادات نے اسرائیل سے معاملہ کیا، اور دوسرے عرب ممالک سے الگ ہو کر اپنے علاقے بازیاب کرا کر اُسے تسلیم کر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل سے تو لڑ سکتے ہیں، امریکہ سے نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہد میں امریکہ نے ساری حدود پار کرتے ہوئے اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کر لیا، اور اسرائیلی جارحیت میں باقاعدہ حصہ دار بن گیا۔ مختلف عرب ممالک سے بھی اسرائیل کے تعلقات استوار ہونے لگے، اور اندازہ یہ لگایا جانے لگا کہ اسرائیل فلسطینیوں کو تنہا کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ وہ اپنی شرائط پر ان سے معاملہ کرے گا اور فلسطینی بے چارگی اور تنہائی کے کنوئیں سے باہر نہیں نکل پائیں گے۔

رمضان میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف حماس کی مزاحمت نے منظر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ امریکی حکومت تو اسرائیل کے ساتھ کھڑی نظر آئی، لیکن پورے یورپ اور امریکہ میں اسرائیل کے خلاف لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ سوشل میڈیا نے اس کا چہرہ بے نقاب کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، اور پہلی بار عالمی رائے عامہ کے سامنے اسرائیل اور اس کے پشتیبان پریشان نظر آئے۔ صدر جوبائیڈن کو پسِ پردہ ڈپلومیسی کے ذریعے جنگ بندی کے پلڑے میں وزن ڈالنا پڑا، اور اب وہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے فلسطینی حکام کی معاونت کا اعلان بھی کر رہے ہیں۔ عالمِ اسلام نے بھی اس موقع پر اتحاد کا مظاہرہ کیا، سعودی عرب اور ایران کے بڑھتے فاصلے کم ہوتے نظر آئے، پاکستان نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا، ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ترکی، انڈونیشیا اور تیونس کے وزرائے خارجہ کے ساتھ نیو یارک پہنچے۔ سعودی عرب اور ایران سے بھی مسلسل رابطہ رہا، مصر کی سفارتی سرگرمی کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسلم اُمہ کے جذبات کو زبان ملی، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی لگی لپٹی رکھے بغیر اظہارِ خیال کیا، اور نوبت جنگ بندی تک پہنچ گئی۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کرکے اپنے فلسطینی بھائیوں کو سیاسی اور نفسیاتی طاقت فراہم کی، ملک بھر میں ریلیاں نکالی گئیں، جلسے ہوئے اور اسرائیلی جارحیت کا راستہ روکنے کا عہد دوہرایا گیا۔ یہ بات واضح ہو چکی کہ فلسطین کا مقدمہ امریکہ کی سرزمین سے لڑا جانا ہے، امریکی رائے عامہ کو ہموار کیے اور اس کے فیصلہ سازوں کو جھنجھوڑے بغیر فیصلہ کن پیش رفت ممکن نہیں ہو گی۔ اِس حوالے سے اطمینان کی خبر یہ ہے کہ امریکہ کے منتخب اداروں میں پہلی بار اسرائیل کے خلاف آوازیں بلند ہوئی ہیں، ان چند آوازوں نے ایک نیا منظر دکھا دیا ہے۔ امریکی رائے عامہ اپنے منتخب نمائندوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت کا اظہار کر گزری ہے۔

وقت اسرائیل کے حق میں نہیں ہے، فلسطینیوں کی آزاد ریاست کو تسلیم کرنا پڑے گا، مقبوضہ علاقے خالی کرنا پڑیں گے، غزہ کی جنگ نے واضح کر دیا ہے کہ اب لڑائی باضابطہ فوجوں کے درمیان نہیں، فلسطینی عوام نے اپنا مقدر اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے، اس میں ایران کے کردار کا اعتراف بھی لازم ہے، وہ راکٹ برسا سکتے، اسلحہ جمع کر سکتے اور اسرائیل کی نیندیں اڑا سکتے ہیں، پورے عالمِ اسلام کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا۔ اسرائیل کے ساتھ بعض عرب ممالک کے بڑھتے ہوئے روابط نے اس کی جو حوصلہ افزائی کی تھی، اسے قصہ ماضی سمجھنا چاہیے۔ اسرائیل کے اپنے حق میں ہے کہ وہ فلسطینیوں کا زندہ رہنے کا حق تسلیم کر لے، ان کی آزاد ریاست کو کھلے دِل سے مان لے، ان کے مقبوضہ علاقے خالی کر دے، ہر آنے والا دِن اس کی مشکلات میں اضافہ کرے گا، کمی نہیں… اور یہی بات بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی سمجھ لینی چاہیے، مقبوضہ کشمیر میں بھی کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوئی کوشش (یا سازش) کامیاب نہیں ہو گی۔ اس حقیقت کو تسلیم کرکے ہی پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ سکتے اور حقِ ہمسائیگی ادا کر سکتے ہیں۔ خارجہ پالیسی تو کیا داخلہ پالیسی کو بھی اسی حوالے سے ترتیب دینے اور جنگ بندی کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی محاذ پر اگر پاکستانی قیادت سرگرمی دکھا سکتی، اور سرکشوں کو جنگ بندی پر مجبور کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے تو داخلی سیاست میں گولہ باری ختم کیوں نہیں کی جا سکتی۔ اپنوں کے ساتھ اپنا پن کیوں نہیں اپنایا جا سکتا۔ الزام و دشنام کے تیر روکے کیوں نہیں جا سکتے۔ مدینے کے والی تو غیروں کو اپنا بنا لیتے تھے، اپنوں کو غیر بنانے اور غیر سمجھنے والے مدینہ کی ریاست سے نسبت کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں؟

بشکریہ: روزنامہ ”پاکستان‘‘

Latest posts by مجیب الرحمن شامی (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

مجیب الرحمن شامی

یہ کالم روز نامہ پاکستان کے شکریے کے ساتھ شائع کیا جاتا ہے

mujeeb-ur-rehman-shami has 127 posts and counting.See all posts by mujeeb-ur-rehman-shami

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments