وزیر خارجہ کا غیر محتاط لب و لہجہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سقراط، بقراط، افلاطون اور ارسطو قدیم یونان کے عظیم فلسفیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انسانوں کو پرکھنے کے ان کے اپنے ہی انداز ہوتے تھے۔ اک مثل اس حوالے سے زبان زد عام ہے کہ ایک بار استاد محترم ارسطو کی محفل میں ایک باوقار دیدہ زیب شخص کی آمد ہوئی۔ محفل میں موجود ہر شخص نو وارد کی شخصیت سے مرعوب ہوا چاہتا تھا کہ استاد محترم نے آنے والے سے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ ”حضور کچھ کہیے تاکہ آپ کی گفتگو سے آپ کے علمی قد کاٹھ کا اندازہ لگایا جاسکے“ ۔

اس سے آگے راوی خاموش ہے۔ ظاہر ہے اگر ان جناب کی کہی گئی بات ان کے دکھاوے سے ذرا برابر بھی میل کھاتی تو آج تاریخ کا حصہ ہوتی۔ موجودہ حالات کے تناظر میں ہم ایسے کم عقل تو راوی کی خاموشی کے صرف دو ہی نتائج نکال سکتا ہیں۔ اب اس شخص کا تعلق یا تو اس نامعلوم طبقہ سے تھا کہ راوی کو جواب تاریخ کی کتابوں میں درج کرتے ہوئے جان کی فکر لاحق ہوئی ہوگی یا پھر اس شخص کا تعلق اس پارٹی سے ہوگا جس کا ذکر کرنے کی صورت عزت اور نیک نامی خطرے میں پڑ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

ویسے تو ہمارے معاشرے میں امریکی سازش، یہودی سازش اور دشمن کے بم بارود کو انہی پر الٹانے والے کراماتی بابوں کی کہانیاں زبان زد عام ہمیشہ سے رہیں ہیں۔ ہاں سرکاری سطح پر ان کہانیوں کی سرپرستی کرنے کا عندیہ جس طرح موجودہ حکومت نے انٹرنیشنل میڈیا پر وزیر خارجہ کی زبانی دیا ہے، وہ واقعی ملکی سیاست میں اپنی مثال آپ ہے۔ قارئین کو بتاتا چلوں کہ آج سی این این کو دیے گئے انٹرویو کے دوران ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسرائیل کی ’ڈیپ پاکٹس‘ (لفافہ صحافت) کا طعنہ دیتے ہوئے انٹرنیشنل میڈیا کو یہودیوں کی زیر اثر قرار دیا۔

ظاہر ہے جس بات کو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے اس کے ثبوت دینا تو ظاہر ہے بائیس کروڑ عوام کی توہین ہوتی جس پر سی این این کی اینکر بیانا گولوڈریگا نے ان کے بیان کو ’یہود مخالف‘ قرار دیا۔ گو کہ اس کے بعد وزیر موصوف نے بہتیری مثالیں دے کر سمجھانے کی کوششیں کی کہ وہ ’یہود مخالف‘ نہیں لیکن حسینہ فرہنگ اپنے موقف سے ٹس سے مس نہ ہوئیں۔

ویسے یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی موصوف انڈیا کی طرف سے کشمیر کو لے کر آرٹیکل 370 کی معطلی کے بعد سعودیہ کو ببانگ دہل للکار چکے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں پاکستان کو صحیح معنوں میں لینے کے دینے پڑ گئے تھے۔ بلکہ جہاں جہاں سے بن پڑا وہاں وہاں سے لے کے دینے پڑ گئے تھے۔ وہ تو بھلا ہو ہمارے وزیراعظم صاحب کا جنہوں نے کبھی بیچ راستہ لوٹ آنے کو برا نہیں گردانا۔ اس بار بھی معیشت کو بیچ منجھدار دیکھ کر کثیر ملکی اسٹریٹجک اتحاد (ایران، پاکستان، ترکی اور ملائشیا) سے کنارہ کش ہوئے، اور مقتدرہ حلقوں کو بنفس نفیس جاکر اعلان برائت کر کے یقین دلانا پڑا، تب جاکر عربوں کے دل ہماری طرف سے رام ہوئے۔

جس وقت میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں اس وقت ایک طرف وزارت خارجہ پریس ریلیز نکال چکی ہے کہ وزیر محترم کے بیانیہ کو سیاق وہ سباق سے ہٹ کر لیا جا رہا ہے ان کا بیانہ کسی طرح بھی ’یہود مخالف‘ نہیں۔ جبکہ دوسری طرف عوامی نبض شناس حکومتی حامی، وکٹ کی دوسری طرف کھیلتے ہوئے سوشل میڈیا پر وزیر خارجہ کے بیانیہ کو بڑھا چڑھا کے بیان کر رہے ہیں۔ اب آپ حکومت کے بیانیہ پر یقین کرتے ہیں یا حکومت کے حامیوں کے یہ تو آپ ہی جانیئے۔ میں صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ پہلے تولیے پھر بولیے کہ بہرحال پرہیز علاج سے بہتر ہے، ہماری معیشت ویسے ہی ادھار کی سانسوں پر چل رہی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments