فیض، فلسطین، لوٹس اور بیروت


انقلابی شاعر فیض احمد فیض سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، لاہور میں تعلیم حاصل کی، امرتسر میں تدریس سے وابستہ رہے، سری نگر میں اپنی اہلیہ ایلس سے شادی کی، راولپنڈی سازش کیس کا حصہ رہے، حیدرآباد (سندھ) میں قید کاٹی، ماسکو میں داد و تحسین کے پھول سمیٹے۔ زندگی کے آخری ایام کا بیشتر حصہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں جلا وطن رہے۔ جب جنرل ضیاالحق کی فوجی آمریت نے معاشرے کے سیاسی طور پر فعال طبقات پر استبداد کا باب وا کیا تو فیض نے بیروت میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس انتخاب میں انہیں افرو ایشائی مصنفین کے جریدے لوٹس کی ادارت کی پیش کش سے بھی مدد ملی۔ اس جریدے کو سوویت یونین (تب)، فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او)، مشرقی جرمنی اور مصر سے مالی اعانت حاصل تھی۔ اس زمانے میں لوٹس قاہرہ میں اپنے دیرینہ ٹھکانہ ترک کر کے حال ہی میں بیروت منتقل ہوا تھا۔ فیض کی ادارت میں لوٹس نے اپنا دانشورانہ افق وسیع کیا اور جمال ناصر کے سیاسی خیالات کی چھاپ سے فاصلہ پیدا کیا جو اس زمانے میں اس جریدے پر حاوی ہو گئے تھے جب یہ رسالہ قاہرہ سے شائع ہوتا تھا۔ سمایا کسمالی نے فیض کے بیروت میں قیام کے حوالے سے ایک مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا ’آپ کا کوئی پتہ نہیں تھا‘۔ یہ مضمون رسالہ کارواں میں شائع ہوا تھا۔ اس تحریر کے مطابق فیض نے لوٹس میں جنوب ایشیائی طرز احساس کو متعارف کروایا۔

فیض 1979 میں بیروت پہنچے جب لبنانی خانہ جنگی کا پہلا پُرتشدد مرحلہ ختم ہو چکا تھا۔ تاہم 1992 تک وقفے وقفے سے تصادم کی مختلف صورتیں رونما ہوتی رہیں۔ چنانچہ بیروت کے دیگر مقہور باشندوں کی طرح فیض کو بھی خانہ جنگی کی آزمائشوں اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ جیسے جیسے فیض صاحب کی فلسطینی شاعروں اور فنکاروں سمیت پی ایل او کی قیادت بشمول یاسرعرفات سے قربت بڑھتی گئی، بیروت میں ان کا قیام پی ایل او کے سیاسی اور عسکری اتار چڑھاؤ سے جڑتا چلا گیا۔ پی ایل او نے 1971 میں اردن سے بے دخل ہونے کے بعد لبنان کے دارالحکومت بیروت کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا تھا۔ پی ایل او کے اس فیصلے کا ایک محرک تو یہ حقیقت تھی کہ بیروت میں پہلے سے فلسطینی مہاجرین کی معتدبہ تعداد موجود تھی اور دوسرے یہ کہ لبنان جغرافیائی طور پر فلسطین کی سرزمین سے متصل تھا۔ یہاں بیروت میں فیض کی ملاقات محمود درویش اور معین بسیسو جیسے فلسطینی مصنفین ، فنکاروں اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ ہوئی۔

جلاوطنی کے ان برسوں کے دوران، فیض نے ایک مشترکہ دوست اقبال احمد (جو ایک عالمی شہرت یافتہ اسکالر، فعال سیاسی مفکر اور عالمی انقلابی تحریکوں کے تجزیہ کار تھے) کے ذریعے فلسطینی دانشور ایڈورڈ سعید سے بھی ملاقات کی۔ ایڈورڈ سعید نے فیض سے اپنی ملاقات کی تفصیل میں جلاوطنی کے دوران فیض کی تنہائی کی جو تصویر کھینچی ہے وہ اس قابل ہے کہ اس کا اقتباس پیش کیا جائے۔

“کئی سال پہلے میں نے عصر حاضر کے عظیم ترین اردو شاعر فیض احمد فیض کے ساتھ کچھ وقت گزارا۔ انہوں نے ضیاء کی فوجی آمریت کے باعث اپنے آبائی وطن پاکستان سے جلاوطنی اختیار کر رکھی تھی اور جنگ سے تباہ حال بیروت میں ایک طرح سے پناہ لے رکھی تھی… صرف ایک بار، جب اقبال احمد، ایک پاکستانی دوست اور ساتھی جلاوطنی، بیروت آئے تو ہم نے مشاہدہ کیا کہ فیض نے اپنی تنہائی اور اجنبیت کا لبادہ اتار پھینکا۔ ہم تینوں ایک رات دیر گئے تک بیروت کے ایک خستہ حال ریستوران میں بیٹھے رہے۔ فیض اپنی نظمیں سنا رہے تھے۔ اس ملاقات میں ایک ایسا مرحلہ بھی آیا جہاں فیض اور اقبال نے میری سہلوت کے لئے فیض کے اشعار کا ترجمہ کرنا بھی بند کر دیا۔ رات ڈھل رہی تھی اور اب شاید ترجمے کی ضرورت نہیں تھی۔ میں جو کچھ مشاہدہ کر رہا تھا اسے سمجھنے کے لئے ترجمے کی ضرورت نہیں تھی۔ شاعر زبان حال سے اپنے الم اور عزم کو وطن سے وابستگی کے ایسے روپ میں بیان کر رہا تھا گویا آمر ضیالحق کو للکار رہا ہو۔

1982  میں لبنان پر اسرائیلی حملے اور محاصرے کے بعد فیض بیروت سے چلے گئے۔ امریکی یونیورسٹی بیروت (اے یو بی) میں انگریزی کے اسسٹنٹ پروفیسر طارق محمود کے مطابق، فیض کو فلسطینی شاعر معین بسیسو نے لبنان سے نکال کر شام منتقل کر دیا۔ فیض کی بیروت سے اڑان بھی لبنان سے پی ایل او کے اخراج سے منسلک تھی۔ اس کے بعد تیونس PLO  پی ایل او کا اگلا ہیڈ کوارٹر قرار پایا۔ پی ایل او کا ستقر تبدیل ہوا تو لوٹس کا دفتر بھی تیونس منتقل ہو گیا۔

فیض نے اس زمانے کے تجربات اور اپنے ردعمل کو ایک بولتی ہوئی تحریر میں قلم بند کیا۔ انہوں نے اپنی نظم ’’ ایک نغمہ کربلائے بیروت کے لیئے‘‘ میں اس شہر کی خوبصورتی اور تباہی اس طرح بیان کیا گویا آئینے کے مقابل آئینہ رکھ دیا۔

بیروت نگار بزم جہاں

بیروت بدیل باغ جناں

بچوں کی ہنستی آنکھوں کے

جو آئنے چکنا چور ہوئے

اب ان کے ستاروں کی لو سے

اس شہر کی راتیں روشن ہیں

اور رخشاں ہے ارض لبناں

بیروت نگار بزم جہاں

جو چہرے لہو کے غازے کی

زینت سے سوا پر نور ہوئے

اب ان کے رنگیں پرتو سے

اس شہر کی گلیاں روشن ہیں

اور تاباں ہے ارض لبناں

بیروت نگار بزم جہاں

ہر ویراں گھر، ہر ایک کھنڈر

ہم پایۂ قصر دارا ہے

ہر غازی رشک اسکندر

ہر دختر ہمسر لیلیٰ ہے

یہ شہر ازل سے قائم ہے

یہ شہر ابد تک دائم ہے

بیروت نگار بزم جہاں

بیروت بدیل باغ جناں

فیض ایک سیاسی طور پر فعال اور وابستہ شاعر ہونے کے ناتے فلسطینی عوام کے المیے اور ملک بدری پر تبصرہ کرنے سے گریز نہیں کر سکتے تھے۔ اس کی ایک جھلک ان کی نظم ’’ مت رو بچے‘‘ میں ملتی ہے ، جو ایک فلسطینی بچے کے لئے لوری ہے جو محرومی اور نقل مکانی کے اجتماعی تجربے کو بیان کرتی ہے۔ فیض کی کچھ دوسری نظمیں مثلاً  "فلسطینی انقلابیوں کے لئے ایک ترانہ” اور اور ” فلسطینی شہدا جو پردیس میں کام آئے’ مقبوضہ فلسطین کی سیاست پر روشنی ڈالتی ہیں۔

ان کی اہلیہ ایلس فیض کے خطوط بھی بیروت میں جلاوطن جوڑے کی کیفیت بیان کرتے ہیں۔ سیاسی اور ثقافتی سطح پر بھرپور زندگی کے باوجود میں فیض تنہا اور اجنبی محسوس کرتے تھے۔ جلاوطنی کی غریب الوطنی کا دکھ مسلسل ان پر حاوی رہا۔ ان کی نظم ‘میرے دل میرے مسافر’ ٹھیک ٹھیک بیان کرتی ہے کہ شاعر کی جلاوطنی کی مدت کیسے دن رات کے ایک نہ ختم ہونے والے دائرے میں گزر رہی ہے جب کہ اس کا دل و دماغ مستقل طور پر پاکستان سے بندھے تھے۔ یہ کیفیت تو فیض نے اپنی ایک پرانی نظم میں بھی بیان کی تھی:

یہ آئے سب میرے ملنے والے

کہ جن سے دن رات واسطہ ہے

پہ کون کب آیا، کب گیا ہے

نگاہ و دل کو خبر کہاں ہے

خیال سوئے وطن رواں ہے

سمندروں کی ایال تھامے

ہزار وہم و گماں سنبھالے

کئی طرح کے سوال تھامے

فیض بیروت کے علاقے حمرا میں واقع معروف کیفے یونس بھی اکثر جاتے تھے۔ خیابان 31 پر حمرا سٹریٹ پر متعدد ریستوراں اور تھیٹر تھے۔ یہ علاقہ 1960 اور 70 کی دہائی میں بیروت کی فکری سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ یہ علاقہ لوٹس کے دفتر سے زیادہ دور نہیں تھا۔ ایک مرتبہ میرے فاضل دوست اور علم دوست شخصیت عثمان قاضی مجھے وہاں لے گئے اور اس کیفے کی تاریخ اور اس کے ساتھ فیض کی وابستگی سے روشناس کرایا۔

بیروت میں جلاوطنی کے دوران فیض کے روز و شب کے بارے میں بہت سے علمی مقالے موجود ہیں لیکن ابھی تک لوٹس میں ان کے تخلیقی کام اور بیروت کی بھرپور ثقافتی اور سیاسی زندگی میں ان کی شرکت کے بارے میں کوئی سنجیدہ کتاب نہیں لکھی گئی۔ امریکی یونیورسٹی بیروت کے پروفیسر طارق محمود نے اس کمی کا ازالہ کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ فی الحال وہ فیض اور لوٹس کے باہم تعلق پر ایک بڑے تحقیقی منصوبے کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ اس منصوبے سے بلا شبہ بیروت میں فیض کی جلاوطنی کے بہت سے نئے پہلوؤں، ایفرو ایشیائی ادب، لوٹس اور مزاحمتی ادب کی صنف میں فیض کے دوررس کردار کی کماحقہ وضاحت ہو سکے گی۔

Facebook Comments HS