EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کیا نون لیگ کی اسٹیبلشمنٹ سے صلح ہو چکی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مسلم لیگ نواز کی سیاست شروع سے ایسی رہی ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کے پیش نظر تمام تر بیانیے بدلتے رہتے ہیں۔ پر جب سے نواز شریف کو ان کی وزارت اعظمی کی کرسی سے پاناما لیکس کی وجہ سے سبکدوش ہونا پڑا تب سے انہوں نے مزاحمتی رویہ اپنایا ہوا ہے۔ ماضی میں نوی کی دہائی میں بھی جب دو دفعہ مسلم لیگ کی حکومت اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے ختم کی گئی تھی تو، نواز شریف نے مزاحمتی رویہ اختیار کیا تھا، پر وہ ناراضگی عارضی تھی، جس طرح بچے اپنے ماں باپ سے تھوڑی دیر روٹھ کر پھر مان جاتے ہیں۔

اپنی ناراضگی کے اظہار کے لیے نہ صرف انہوں نے اپنی بیٹی مریم نواز کو سیاسی کٹہرے میں لانچ کیا، بلکہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ اور پاک افواج کے سربراہ کے خلاف بھی بولنا شروع کر دیا، جو کبھی ان کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتا تھا۔ ووٹ کو عزت دو کے نعرے نے خاصی شہرت تو پائی، پر یہ تو طے تھا کے یہ نعرہ جلد ہی اپنی کھودے گئے کنویں میں خود ہی ڈوب جائے گا، جب تک کہ مسلم لیگ نون والے کوئی نیا راستہ نہ نکال لیں۔ نواز شریف کے بھائی اور موجودہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تو شروع سے ہی رائے تھی کہ صلح کر لی جائے، اور لڑائے جھگڑے کو یوں میڈیا پہ گھسیٹا نہ جائے، پر میاں صاحب تو بڑے میاں ٹھہرے، ان کو بھی غصہ تھا، تو کیسے کسی کی سن لیتا۔

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا بھی آخر کچھ نہ بنا، اور دو بڑی پارٹیوں نے آپس میں لڑ جھگڑ کر ساری جدوجہد پہ پانی پھیر لیا، اور آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔ پر ان دونوں جماعتوں کا عوامی سطح پہ سیدھی طرح سامنا ہوتے ہی راز تب فاش ہوا، جب قومی اسمبلی کی نشست پر کراچی کے حلقہ این اے 249 میں ضمنی انتخاب ہوئے، تو سارا معاملہ صاف ہو گیا۔ مسلم لیگ نون کے امیدوار مفتاح اسماعیل کے مقابلے میں جوں ہی، پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر مندوخیل کی کامیابی کا اعلان ہوا، تو مسلم لیگ نون والے اپنا بیانیہ کہیں پیچھے چھوڑ کر خود آگے نکل گئے۔

ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں نے خود ہی مطالبہ کر ڈالا کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے، وہ بھی فوج کی نگرانی میں۔ حالانکہ یہ بات حیران کن تھی، کہ جو سیاسی جماعت انتخابات میں فوج کی مداخلت کو کوستی آئی ہے، اب اسی کا مطالبہ ہے کہ فوج کو انتخابی عمل کا حصہ بنایا جائے۔ سیلیکٹڈ، سلیکٹرز، خلائی مخلوق، محکمہ زراعت اور نہ جانے کون کون سے الفاظ سے نوازنے والی مسلم لیگ نون نے پردے پیچھے کب کوئی مک مکا کر ڈالا پتا ہی نہیں چلا۔

اور اب بات یہاں تک آں پہنچی ہے کے جہاں بھی ان کی شکست ہو، وہ اسے دھاندلی زدہ قرار دیتے ہیں۔ پر بھلا ہو پیپلز پارٹی کا، جنہوں نے خوشاب میں ضمنی انتخابات میں بڑی برے طریقے سے شکست کھائی ہے پر نتیجہ پھر بھی قبول کر کے بڑکپن کا مظاہرہ کیا ہے، اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ سیاست میں ایسا دل ہمیشہ رکھنا چاہیے جو شکست کو قبول کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ پیپلز پارٹی پہ مک مکا کا الزام لگانے والی مسلم لیگ نون کی اب مقتدر حلقوں سے مک مکا ہو چلی ہے، جس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو صحت کی بنیاد پہ بیرون ملک جانے کا پروانہ مل چکا ہے، جس نے نون لیگ سربراہ نواز شریف کی برطانیہ جا کر لوٹنے کی ضمانت دی تھی، پر وہ تو نہیں لوٹا۔

پر ابھی عمران خان بیچ کباب میں ہڈی بنا ہوا ہے، اور وہ مسلم لیگ نون سے صلح کرنے پر رضامند نہیں ہے، اسی لیے تو اس کی ہدایات پر عین وقت میں شہباز کو پرواز کرنے سے روک دیا گیا اور نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا کیس جا کے عدالتوں میں پہنچا۔ مزاحمتی سیاست کو چھوڑ کر مک مکا کا سب سے پہلے ثبوت عدالتوں سے رلیف کی صورت میں ملتا ہے، جو مسلم لیگ نون کو مل رہا ہے۔ ساتھ ہی لیگی رہنما جیسا کہ محمد زبیر اور دوسروں نے بھی اب سیاسی ٹاک شوز میں یہ کہہ دیا ہے کہ، ان کی اسٹیبلشمنٹ سے اب کوئی لڑائی نہیں ہے، جس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ جو لڑائی تھی وہ اب ختم ہو چکی ہے، اور دونوں طرف سے گرین سگنل دے دیا گیا ہے۔

مسلم لیگ نون والوں کا کچھ سالوں سے جو بیانیہ تبدیل ہوا تھا، وہ پھر سے اپنی وہی جگہ لینے کو ہے جو برسوں پہلے تھی۔ اپنے کارکنوں اور عوام کو سڑکوں پہ لاکر، پولیس کے ڈنڈے مروا کر، یہ سیاسی لیڈران اپنا فائدہ دیکھتے ہی بازی پلٹ دیتے ہیں، اور یہ جوڑ توڑ کے ماہر ہیں۔ پر ان کارکنوں اور ورکروں کے حصے میں کچھ نہیں آتا، جو ان کے بینر اٹھا اٹھا کر نعرے لگاتے رہتے ہیں۔ شہباز شریف کے بات بھی آخر مان لی گئی، جو اپنے بھائی سمیت تمام پارٹی رہنماؤں سے اس بات پہ خفا تھا کہ، یوں لڑائی جھگڑے سے کچھ نہیں ملے گا، آپس میں آؤ مل بیٹھیں، اور کچھ تمہارا کچھ ہمارا والی سیاست کھیلیں۔

اس صلح سے بڑا خطرہ موجودہ وزیراعظم عمران خان کو ہے، جوں ہی پرانے دوست آپس میں مل بیٹھیں گے تو، عمران خان کو باہر کا راستہ دکھا کر دفع کر دیا جائے گا، اور اسی خوف کی وجہ سے عمران خان کا سارا دھیان مسلم لیگ نون پہ عدالتوں ور نیب کے ذریعے دباؤ ڈالنا ہے، جیسے ان کے بیچ کا تناؤ برقرار رہے۔ کچھ صحافی تو اس حد تک دعویٰ کر رہے ہیں کہ، اب اگلی وزیراعظم مریم نواز ہوگی۔ اگر یہ باتیں سچی نکلیں تو تو واقعی میں صلح ہو چکی ہے، باقی جو نہ ہو سکا، وہ تھا مزاحمتی بیانیہ، جو بس ضرورت کے تحت استعمال کر کے سب کو بے وقوف بنایا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے