اسرائیل کی مذمت، ماہرہ خان کا دوپٹہ اور ائر بلیو میں کمبل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جن دو موضوعات کو آج میں زیر بحث لانے والی ہوں مجھے پتہ ہے اس پہ قارئین کی رائے منقسم بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ان دونوں موضوعات کو لے کر عشروں ہمارے جذبات کی آبیاری شدت پسندی سے کی جاتی رہی ہے۔ پہلا تو حالیہ فلسطین اسرائیل تنازعہ ہے۔

اس تحریر میں یہ تنازعہ کیا ہے؟ زیر موضوع لائے بغیر ہم احتجاج کے ان طریقوں پہ بات کرتے ہیں جو ہمارے ملک میں اپنائے گئے۔ جس طرح بیرون ملک کسی بھی دہشتگردی کے واقعہ کے بعد ، جس میں بعد ازاں کوئی مسلمان ملوث پایا جائے تو ہم کہتے ہیں کوئی بھی دین دہشتگردی کا درس نہیں دیتا۔ یہ ایک فرد کا کام ہے۔ اسی طرح جب اسرائیل کی باری آئے تو ہم صیہونی تو چھوڑیں ہاتھ دھو کر یہودیوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ یہاں ہماری منافقت بلکہ کم علمی آشکارا ہو جاتی ہے۔

اس کے علاوہ ہمارے جذبات سے بھرپور احتجاج کے طریقے دیکھیے۔ دو ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ ایک وہ جن میں گھوڑوں کو دوڑاتے ہوئے نوجوان پاکستان کی ہی سڑکوں پر فلسطینی علم اٹھائے ارطغرل بنے جا رہے ہیں۔ بیچ میں غور کریں تو کوئی حلیمہ خاتون بھی گھوڑا سر پٹ دوڑاتی جا رہی ہیں۔ دوسرا ایک مذہبی (اور غالباً سیاسی بھی) رہنما تلوار لہراتے کسی یہودی کے پتلے کا کٹاکٹ بنا رہے ہیں اور بچوں کی طرح خوش ہو رہے ہیں۔

عقل و دلیل کی باتیں کرنے والا برا اور سمجھنے والا عنقا ہے۔ پھر بھی لکھ دیتی ہوں کہ اول تو جنگ و جدل کے میدان، ہتھیار اور انداز سب بدل چکے ہیں۔ نہ جنگیں اب گھوڑوں اود تلواروں سے ہوتی ہیں، نہ کچھ دنوں، مہینوں پر محیط۔ ٹیکنالوجی نے وقت سمیٹ دیا ہے اور امریکی صدر بھی ہزاروں میل دور بیٹھ کر ایبٹ آباد جیسے آپریشن کو براہ راست دیکھ رہا تھا۔ حماس کے برسائے راکٹ کچھ خاطر خواں مقاصد حاصل نہ کر پائے اور سوشل میڈیا پر مسلسل رپورٹنگ سے دنیا کو اسرائیل کے ہاتھوں معصوم بچوں اور شہریوں پر ڈھائے مظالم کی خبر ملتی رہی تو اسرائیل پر بھی دنیا کا پریشر بنا۔

یاد رہے، ”دنیا“ کا پریشر بنا۔ اسلامی ممالک کا کوئی خاص دباؤ نہ ڈالا گیا نہ ہی کوئی سخت اقدامات کیے گئے۔ ہمارے ملک میں بالخصوص تمام امت کے تمام فرقوں کا درد پایا جاتا ہے تو ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اسرائیلی مظالم کی مذمت کی اور احتجاج کیے مگر وائے قسمت، احتجاج سارا ماہرہ خان کے دوپٹے میں سمٹ آیا۔ ایک کسی خاتون اینکر نے تو خواتین کے لباس پر ہی احتجاج بٹھا کر اپنی بھڑاس نکال ڈالی۔

سب نے حدید سسٹرز کی تو حوصلہ افزائی کی کہ واہ کیا خوب آواز اٹھائی ہے مگر ہماری اپنی ماہرہ خان، عائشہ عمر، نادیہ خان وغیرہ وغیرہ لباس اور ماضی کے جھروکوں سے ہی جج کی گئیں۔ گھر کی مرغی دال برابر۔ اس کے علاوہ کچھ آن لائن دکانداروں نے اسرائیل کے جھنڈے والے پائیدان بھی بیچنے کا آغاز کیا مطلب احتجاج بھی ہو گیا اور کاروبار بھی۔ یہ اچھی کاوش لگی۔

دوسرا گرم آلو جیسا موضوع ہے ائر بلو میں ہوئے واقعہ کا۔ پتہ ہے ہاتھ میرے بھی جلیں گے مگر چلیں تھوڑا اظہار خیال فرما لیتے ہیں۔ ہم شریک حیات کے ساتھ کسی فرد کی جانب سے ہونے والی توہین، تذلیل اور ناروا سلوک سے کیوں لطف اندوز ہوتے ہیں؟ جب پی ڈی اے (پبلک ڈسپلے آف افیکشن) یعنی ”عوامی اظہار التفات“ کی بات آتی ہے تو ہم ثقافت، اخلاقیات اور اقدار کو کیوں ہتھیار بناتے ہیں؟

معاشرے میں تشدد کو معمول بنانے کے آسان طریقے ہیں کہ ٹیلیویژن پر تشدد عام دکھایا جائے۔ ہاتھ اٹھانا، چیخ و پکار اور مسلسل تذلیل کا رویہ جسے عام طور پر مردانگی اور ”بدتمیز عورت کو قابو کرنے کا طریقہ“ دکھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کو عوامی مقامات پر چیخنے کی اجازت ہے، ہاتھ تھامنے کی اجازت نہیں ہے۔ آپ کو اپنی اہلیہ کے خلاف گالی گلوچ / گندے الفاظ استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ آپ کو اپنے ہاتھ سے اسے ایک نوالہ دینے کی اجازت نہیں ہے۔

آپ کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ سب کی موجودگی میں آپ کے کنبے کی خدمت پر مامور ہو۔ آپ کو کبھی کبھی اپنے گھر والوں سے اس کی خدمت کرنے کی درخواست کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جب آپ اسے تھپڑ مارتے ہیں تو آپ معاشرے کے لیے قابل قبول رہتے ہیں۔ اگر آپ اسے عوامی طور پر چومتے یا گلے لگاتے ہیں تو آپ پر تنقید کی جاتی ہے۔

پی ڈی اے کسی شخص کے بارے میں اپنے جذبات اور احساس کا اظہار کر رہا ہے۔ اپنی محبت، پیار اور دیکھ بھال کا مظاہرہ کرنا غیر اخلاقی اور فحش کام نہیں ہے۔ ہاں! آپ اطراف کی حدود و قیود، شائستگی اور احترام پر مباحثہ کر سکتے ہیں لیکن اپنے ساتھی سے بدتمیزی، ہاتھا پائی اور چلاتے ہوئے بھی ان ہی چیزوں کا معاشرتی ڈر ہونا چاہیے۔

ہمارے جیسے معاشرے میں، آپ کھل کر بدتمیزی کر سکتے ہیں لیکن جب آپ کسی کے ساتھ نرمی برتاؤ کرتے ہیں تو آپ شرم محسوس کرتے ہیں۔ آپ جتنا وحشیانہ سلوک کریں گے، آپ کو اتنا ہی بہادر کہا جائے گا۔ آپ جتنا ہمدردی کا مظاہرہ کریں گے، آپ کو اتنا ہی کمزور سمجھا جائے گا۔

وہ بچے جو اپنے والدین میں تشدد (جسمانی، جذباتی یا زبانی) کا رویہ دیکھتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں، ان کی شخصیت میں عدم تحفظ اور بے اعتباری ہوتی ہے۔ جب والدین بچوں کی موجودگی میں ایک دوسرے کے لئے تشکر، ہمدردی اور محبت کا اظہار کرتے ہیں تو اولاد کو احساس ہوتا ہے کہ گھر میں کس کی کیا تکریم، کیا مقام ہے۔ ڈر اور سخت رویے دلوں میں فاصلے لے آتے ہیں۔

روتی پیٹتی، تشدد اور تضحیک کا شکار مائیں مستقبل کے لئے ایک خوفزدہ، چڑچڑا اور بدلہ لینے کو تیار انسان تیار کرتی ہیں جبکہ پر اعتماد، مطمئن اور تحفظ کا احساس لیے مائیں ایسے بچوں کو پروان چڑھاتی ہیں جو نہ صرف پر اعتماد ہوں بلکہ جذباتی اعتبار سے بھی مضبوط ہوں۔

جس دن، ہم عورتوں کے لباس، مرد اور عورت کے تجسس اور کمبل کی اندرونی کہانی سے کہیں زیادہ سوچنا شروع کردیں گے، ہم دوسروں کی فکر سے آزاد راہ پر گامزن ہوں گے۔ اگر آپ خود اس چیز کو پسند نہ بھی کریں تو دوسروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں کیونکہ ہر انسان کو اس کی ذاتی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہو سکتا ہے اس جوڑے کو بھی کچھ تربیت یا میچورٹی سیکھنے کی ضرورت ہو مگر جاتے جاتے وہ ایک بہت خوبصورت جملہ کہتا ہوا گیا کہ ”جناب! آپ کو کوئی حق نہیں کہ کسی کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کریں“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *