اخلصی تتخلص

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حضرت انسان کے لئے مالک دو جہاں نے ضابطہ حیات بھی متعین فرمایا ہے اور اس پہ عمل پیرا رہنے کا حکم بھی دیا ہے۔ ظہور اسلام سے قبل ہی سرکار دو جہاں ﷺ کی ذات با برکات نہ صرف اس معاشرے کے لئے ’صادق‘ اور ’امین‘ تھی بلکہ آپ ﷺ کا اسوہ حسنہ آنے والے تمام زمانوں کے لئے مثال اور کامیابی کا معیار بنا۔ آپ ﷺ کی اطاعت ’تعلیمات‘ تربیت اور محبت میں اصحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین نے اپنی ذات کی نفی ’نفس کی اصلاح اور احکام خداوندی کی پیروی کی جو مثالیں قائم کیں وہ رہتی دنیا تک اخلاص کی راہ پہ چلنے والے عاملین و کاملین کے لئے مشعل راہ رہیں گی۔

مولا علی کرم اللہ وجہ الکریم کا میدان جنگ میں تھوک پھینکنے والے کافر کو چھوڑ دینے والا واقعہ ان کے اخلاص اور پامالی نفس کی بہترین مثال ہے۔ اٹھی ہوئی تلوار کو ایک ثانئے سے بھی کم وقت میں نہ صرف روک لینا بلکہ تھوک پھینکنے والے کو چھوڑ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ خدائے بزرگ و برتر کی وحدانیت ’احکام شریعہ اور نبی کریم ﷺ کی تربیت سے نفس جیسے دشمن کے خلاف محاذ کا انہیں بخوبی ادراک تھا۔ اس بہترین عمل کا فوری نتیجہ تو یہ نکلا کہ وہ شخص اسلام لے آیا۔ جس پہ مولانا رومی نے یوں بند باندھا کہ:

بس خجستہ معصیت کاں مرد کرد
نے خارے بردمد اوراق ورد
( وہ تھوکنا اس کے حق میں کیا مبارک ہو گیا کہ اسے اسلام نصیب ہو گیا )

عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہا فرماتے ہیں کہ عیینہ بن حصن مدینہ آئے اور حضرت عمر فاروق ملے اور کہا کہ: اے خطاب کے بیٹے خدا کی قسم تم نہ ہم کو کچھ دیتے ہو ’نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہو۔ حضرت عمر فاروق یہ سن کرغصہ میں آ گئے اور قریب تھا کہ اس کو مارتے۔ وہاں موجود حضرت حر بن قیس نے کہا: ”اے امیر المومنین اللہ کا ارشاد ہے کہ معاف کرو اور جاہلوں سے درگزر کرو“ ۔ یہ ایک جاہل آدمی ہے۔

ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا فرماتے کہ: خدا کی قسم قرآن کی آیت سننے کے بعد حضرت عمر نے مطلق تجاوز نہیں کیا۔ وہ خدا کی کتاب پر بہت زیادہ رکنے والے آدمی تھے۔

یہ دو واقعات بات کے معانی و مفہوم اور اصل روح بتانے کو کافی ہیں کہ مومن کی یہ شان نہیں کہ وہ فرائض حتیٰ کہ اپنے معاملات میں بھی نفس کی پیروی کرے۔ اس کے سامنے صرف اللہ کریم کا حکم ’اس کی اطاعت و پیروی اور تقلید کے لئے نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ ہے۔

نفس کو قابو میں رکھتے ہوئے اخلاص کی راہ پہ چلتے رہنا اور اللہ کریم کی بیان کردہ حدود سے تجاوز نہ کرنے ہی میں کامیابی ہے۔ دانائے راز بتاتے ہیں کہ ”اخلصی تتخلص“ اے نفس! اخلاص کر! تاکہ تو خلاصی پائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *