مالاکنڈ میں جولگرام کا بازار کوٹہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے ماں کے عالمی دن کے حوالے سے ایک پوسٹ اپنے دوستوں سے شریک کیا تھا۔ دوستوں نے میری ماں کے لیے جو دعائیں مانگی تھیں، ان کا میں تہہ دل سے سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس سلسلے میں میرے چھوٹے بھائیوں کی طرح دوست ایاز محمد آف جولگرام نے دوبئی سے فون کیا اور میری ماں کے ساتھ جس احترام اور عقیدت کا اظہار کیا، وہ میرے لئے ناقابل فراموش ہے۔ اس دوران ایاز محمد نے میرے گاؤں کے بازار کوٹہ کے تاریخی پس منظر کے متعلق پوچھا۔

میں نے ایاز کے ساتھ گاؤں جولگرام کے اس معاشی اور ثقافتی اعتبار سے اہمیت رکھنے والے بازار ”کوٹہ“ پر تبصرہ کرنے کا وعدہ کیا۔ آج اپنے اس وعدہ کو نبھاتے ہوئے بازار کوٹہ کے متعلق معلومات پیش کر رہا ہوں۔ چوں کہ اس بازار کوٹہ کے گھر میں نے اپنا بچپن گزارا ہے، اس لئے میں یہاں پر اس سے متعلق بعض سرگرمیوں کا خوب ادراک رکھتا ہوں اور اس کے متعلق مزید جاننے کے لیے میں نے تحقیق بھی کی ہے اور اس تحقیق کے لیے جولگرام سے تعلق رکھنے والے جناب وہاب خان کی معلومات سے استفادہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں میرا یہ دعویٰ بالکل بے جا نہیں ہوگا کہ محترم وہاب خان جولگرام کے انسائیکلو پیڈیا ہیں کیوں کہ وہ جولگرام کے ماضی کے تمام تاریخی اور ثقافتی مقامات اور واقعات کے بارے میں معتبر معلومات رکھتے ہیں۔

بازار کوٹہ صرف ایک گھر کے کمرے کی چھت نہیں بلکہ اس کے ساتھ اس گاؤں کی ایک صدی پر محیط معاشی اور ثقافتی سرگرمیوں کی لمبی داستان جڑی ہوئی ہے۔ آج سے ستر سال پہلے بازار ہر گاؤں کے اندر ہوتے تھے۔ گاؤں کے اندر بازاروں کی نشانیاں آپ کو ہر گاؤں میں ملیں گی۔ مثلاً گاؤں ڈھیری، مٹکنی، طوطہ کان، خار اور پیرخیل سب میں گاؤں کے اندر بازاروں کے نشانات موجود ہیں۔

اسی طرح کا ایک بازار جولگرام کے وسط میں واقع تھا۔ یہ بازار اس جگہ موجود تھا جہاں پر آج کل حاجی فضل اکبر صاحب اور ممتاز خان کا گھر اور سالار محمد مرحوم کی دکان واقع ہے۔ یہاں پر ہندوؤں کی تین چار دکانیں تھیں۔ اس زمانے میں پشتون دکان کھولنے اور تجارت کرنے سے پرہیز کیا کرتے تھے کیوں کہ پشتون دکانداری کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور دکان دار کو ”بنڑیا“ سمجھتے تھے۔

بدقسمتی سے یہ پشتونوں کا ایک وتیرہ رہا ہے کہ ہر مفید اور کارآمد کام اور پیشے کو حقیر سمجھتے ہیں اور یہ بھی ایک مسلم حقیقت ہے کہ جب معاشی مشکلات، ثقافتی ارتقاء اور دنیا کے نئے تقاضوں سے مجبور ہو کر وہ مختلف پیشے اختیار کرنا شروع کردیتے ہیں تو وقت ان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہوتا ہے اور جو وقت انہوں نے ضائع کیا ہوتا ہے، وہ واپس نہیں پلٹتا، یوں وہ دوسری قوموں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اب تو شکر ہے حالات نے مثبت کروٹ لیا ہے جس کا بس چلتا ہے کاروبار شروع کر دیتا ہے اور جس کے پاس وسائل نہیں ہوتے، وہ کاروبار بنانے کے لئے اپنی جائیداد تک فروخت کر دیتے ہیں یا بینک سے قرض لینے کی سوچتے ہیں اور ”الحمدللہ“ اب ہر دوسرا پختون کاروبار شروع کرنے کی چکر میں ہے۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ایک فیشن سا پروان چڑھ رہا ہے۔ اس وقت جس طالب علم سے مستقبل کے پلاننگ کے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو وہ فخریہ انداز میں جواب دیتا ہے کہ بزنس کا اردہ ہے۔

اپنے موضوع کی طرف واپس رجوع کرتے ہیں۔ ان تین چاردکانوں کی وجہ سے لوگ اس مقام کو بازار کے نام سے پکارتے تھے۔ ان دکانوں کی مشرقی جانب ایک کھلا راستہ تھا جو اب بھی موجود ہے۔ ان تینوں دکانوں میں ایک دکان بہت مشہور تھی جہاں اب سالار مرحوم کے بچوں کی دکان ہے۔ اس دکان کے سامنے جو گھر ہے اس کی چھت (کوٹہ) ”بازار کوٹہ“ کے نام سے مشہور تھی۔ چوں کہ یہ گھر گہرائی میں بنایا گیا تھا، اس لیے اس کی چھت اس راستے سے ایک آدھ فٹ کی اونچائی پر تھی اور اس سے متصل راستہ ایسا تھا جس کے ذریعے لوگ چھت کے اوپر آسانی سے چڑھ سکتے تھے۔

عام طور پر بازار میں لوگ جب خریداری کے لیے آتے ہیں تو خریداری کے بعد یا خریداری سے پہلے ایک دوسرے کے ساتھ گپ شپ بھی لگاتے ہیں۔ جولگرام کے بازار میں جب لوگ اتے تھے تو اس گھرکی چھت (کوٹہ) پر بیٹھ کر تھوڑی دیر کے لیے گاؤں کے معاملات پر تبادلہ خیال کرتے۔ چوں کہ یہ بازار کوٹہ گاؤں کے وسط میں اونچائی پر واقع تھا، اس لئے سردیوں میں سورج کی شاعوں کی حرارت زیادہ اور گرمیوں میں شام ڈھلنے سے پہلے تیز ہوا لگتی تھی۔

اس وجہ سے ان دونوں اوقات میں یہاں پر لوگوں کے مل بیٹھنے سے ان کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے تھے۔ یہ بازار موجودہ بازاروں کے برخلاف صحت افزا مقام تصور کیا جاتا تھا۔ اس بازار کی خاص بات یہ بھی تھی کہ یہ گاؤں کے وسط میں واقع تھا اور زرعی معاشرہ کی بدولت نارینہ لوگ کھیتوں میں مصروف رہتے تھے۔ تو گاؤں کی خواتین اپنی پختون روایات کی پاسداری کرتے ہوئے یہاں سے اشیائے خورد و نوش آسانی سے خرید سکتی تھیں۔

یہاں پر چھوٹے بچے اور بچیاں جلیبیاں اور دوسری میٹھی چیزیں وغیرہ خریدتے اور اس چھت پر اپنے ثقافتی کھیل ”میرگاٹی“ اور ”چیندرو“ وغیرہ کے کھیل کھیلتے تھے۔ اس وجہ یہ چھت بازار کوٹہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ میں نے اپنا بچپن اس چھت کے نیچے گھر میں گزارا ہے لیکن ہمارا بچپن بازار کوٹہ پر ”شالی“ سے چاول نکالنے والے کاروبار کی مزدوری میں گزری تھی۔ بہ قول رحمت شاہ سائل:

خیال بہ دی ذرے ذرے راٹول کڑمہ دمہ بہ شم
خپلہ زوانی مرگہ مزدوری راتہ رایادہ شی

ترجمہ: آپ کی تمام یادوں کو اکٹھا کرنے اور یاد کرنے سے قرار مل جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مجھے اپنا سخت مزدوری میں گزرا ہوا وقت بھی یاد آ جاتا ہے۔

اس وقت تو وہاں دکانیں موجود نہیں تھیں کیوں کہ پھر ہندؤں کے چلے جانے کے بعد بازار سڑکوں پر بننا شروع ہو گئے تھے لیکن لڑکوں اور لڑکیوں کا وہاں مختلف کھیل کھیلنا قریباً اسی کی دہائی تک جاری رہا۔ دوسرے الفاظ میں بازار کوٹہ گاؤں کے بچوں کا سپورٹس کمپلیکس تھا۔

اس چھت کی دیواریں اب اونچی کردی گئی ہیں، اس لئے ان پر اوپر چڑھنا مشکل ہو چکا ہے۔

بازار کوٹہ گاؤں جولگرام کا فوکل پوائنٹ تھا۔ اگر کسی مسئلے پرلوگوں کو صلاح و مشورہ کرنا ہوتا تو گاؤں کے ہنرمند اور کسب گر (ناظر، حجام وغیرہ) یہاں سے رات کو اعلان کر کے گاؤں کے لوگوں کو میٹنگ کا وقت اور جگہ کی اطلاع دیتے تھے۔

ہر گاؤں میں بہت سے ایسے مقامات اور واقعات ہوتے تھے جن کے نام ونشان اب موجود نہیں ہیں لیکن گاؤں کے بعض لوگ ان مقامات اور واقعات کے بارے میں خصوصی جانکاری رکھتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کی یادداشتوں کی بنیاد پر ان مقامات اور واقعات کے تاریخی اور ثقافتی پس منظر کو جان سکتے ہیں جس سے نہ صرف ہماری تاریخ اور ثقافت زندہ رہ سکتی ہے بلکہ اس سے ہم آگے جانے کی صحیح سمت بھی متعین کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *