EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

تحریک انصاف اور ترین گروپ کی آنکھ مچولی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک شخص جوتوں کی دکان پر گیا۔ جوتا پسند کیا اور فرمائش کی کہ دونوں پاؤں میں پہن کر تسلی کرنا چاہتا ہے۔ دکاندار نے پہنا دیے۔ جوتے پہنتے ہی سرپٹ دوڑ لگا دی اور اس کے پیچھے دکاندار نے بھی، تاثر یہ دیا کہ جوتے بغیر پیسے دیے لے کر بھاگ گیا۔ مگر چند لمحے بعد واپس آ گیا اور کہا کہ وہ دوڑ کر جوتوں کے معیار کی تسلی کر رہا تھا۔ کچھ اسی طرح کا معاملہ تحریک انصاف اور جہانگیر ترین گروپ کے درمیان بھی ہوا۔ 18 مئی کو جہانگیر ترین نے ہم خیال گروپ کی بنیاد رکھی، سعید اکبر نوانی کو پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مقرر کر دیا گیا جب کہ قومی اسمبلی کے لیے پارلیمانی لیڈر کا اعلان مؤخر کیا گیا ہے۔

حکومت نے بظاہر تو ڈٹ کر اعلان کیا کہ بلیک میل نہیں ہوگی اور وہی جملہ سننے کو ملا کہ ”کسی کو این آر او نہیں دیں گے“ ۔ ادھر جہانگیر ترین نے بھی کہہ دیا کہ یہ فارورڈ بلاک نہیں بلکہ پنجاب حکومت کی انتقامی کارروائیوں کے خلاف ایک گروپ تشکیل دیا گیا ہے۔ لیکن دو دن بھی نہ گزرے اور ہم خیال گروپ کی ملاقات وزیر اعلیٰ پنجاب سے ہوئی جس کے بعد وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملاقات سود مند رہی اور ہم خیال گروپ کے ”تحفظات“ جلد دور کر دیے جائیں گے۔

ہم خیال گروپ جو دو روز پہلے سنبھالے نہیں سنبھلتا تھا اس نے بھی ملاقات کے بعد اعلان کر دیا کہ انھیں تحریک انصاف اور وزیر اعلیٰ پنجاب پر مکمل اعتماد ہے اور ہماری تحریک انصاف سے غیر مشروط وابستگی برقرار رہے گی۔ وہی بات کہ جوتے لے کر بھاگا نہیں تھا صرف دوڑ کر ان کے معیار کی تسلی کر رہا تھا۔ اس ملاقات کے بعد یقیناً ان لوگوں کی خوشی بھی رفو ہو گئی ہوگی جو چینی مافیا کے خلاف کارروائیوں پر خوش تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے قیام کی کونپل 1995 ء میں ضیاء دور کے سابق سیکرٹری اطلاعات جنرل مجیب الرحمٰن اور ان جیسے دیگر ریٹائرڈ جرنیلوں کے دماغ میں اس وقت پھوٹی جب قومی سیاست میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کا غلبہ تھا اور ان کے مابین محاذ آرائی عروج پر تھی۔ یہ حضرات پاکستان کی سیاست میں عمران خان کا تابناک مستقبل دیکھتے ہوئے ملک میں ایک تیسری سیاسی قوت کھڑی کرنا چاہتے تھے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے اثرات کو کم کیا جاسکے۔ جنرل مجیب الرحمٰن اس کے پہلے سیکرٹری جنرل بنے۔ اسے اتفاق ہی کہا جاسکتا ہے کہ مغربی پاکستان کی ہر مقبول سیاسی شخصیت نے فوجی جرنیلوں (خواہ وہ حاضر سروس ہوں یا ریٹائرڈ) کی انگلی پکڑ کر سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔

بنیادی طور پر تحریک انصاف کے قیام کا مقصد ایک ایسی عوامی جمہوری انقلابی جماعت قائم کرنا تھا جو ملک کے ہر شعبے سے استحصال اور لوٹ مار کا خاتمہ کر کے منصفانہ معیشت پر قائم معاشرہ قائم کر سکے۔ مگر پاکستان تحریک انصاف ایک حقیقی، جمہوری، انقلابی اور عوامی جماعت بننے میں ناکام رہی ہے۔ پارٹی کے سنجیدہ اہل دانش نے متعدد بار نظریاتی کارکن تیار کرنے لیے پارٹی کے ترجمان اخبار کے اجرا اور کارکنوں کی سیاسی تربیت کو لازمی قرار دیا۔ لیکن عمران خان نے ان تجاویز پر توجہ نہیں دی۔ یہ کارکنوں کی سیاسی تربیت نہ ہونے کا ہی نتیجہ ہے کہ پارٹی کے قیام کے بائیس سال کے بعد بھی آج وزیر اطلاعات وہ شخص ہے وہ جو رواں دہائی ہی میں چار سیاسی جماعتیں تبدیل کرچکا ہے۔ جب کہ دیگر رفقاء میں شیخ رشید، فواد چوہدری، فردوس عاشق اعوان، شہزاد اکبر، شہباز گل اور بابر اعوان جیسی دیگر شخصیات ان کا حسن انتخاب ہیں۔

2011 ء سے پاکستان تحریک انصاف کا ایک نیا دور شروع ہوا جس کی تشکیل کے پس منظر میں بھی بعض لوگ جنرل شجاع پاشا کی کاوشوں کا دخل سمجھتے ہیں۔ یہاں عمران خان نے محسوس کر لیا تھا کہ وہ اقتدار کے لیے جس دروازے کی تلاش میں تھے اس کا راستہ ملک کے ان با اثر افراد کے پاس ہے جنھیں سیاسی اصطلاح میں الیکٹ ایبلز اور عرف عام میں اور بہت کچھ کہا جاتا ہے۔ عمران خان جو ابتدا میں کبھی اقبال کی روحانی جمہوریت کی بات کرتے تھے، جو اسلام کے منصفانہ نظام کی بات کرتے تھے، امریکہ اور اس کے حواریوں کو پاکستان کے مسائل کی جڑ قرار دیتے تھے، طبقاتی نظام تعلیم ان کے نشانے ہوا کرتا تھا اور جو جاگیر داروں اور وڈیروں کو اپنے ساتھ ملانے پر تیار نہیں ہوتے تھے۔ انہوں نے چن چن کر ایسے افراد جمع کیے جن کی وفاداریاں اس استحصالی نظام کے ساتھ وابستہ ہیں اور آج ان میں سے چند ایک ابھی ہم خیال گروپ کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔

اقتدار کے حصول کی شدید خواہش میں عمران خان یہ بھول گئے تھے کہ جب تک پاکستان کا سیاسی نظام جاگیرداری، ذات برادری اور روپے پیسے کے مطابق چلتا رہے گا سرمایہ دار طبقے کا تسلط اسی طرح قائم رہے گا اور اس تسلط کی بقاء کے لیے وہ ہر حربہ اختیار کریں گے۔ عوام، عوام کے مسائل، قوم کی تربیت اور ملک کا وقار ان کے نزدیک بے معنی ہیں۔ اگر یہاں فلاحی جمہوری معاشرہ قائم کرنا ہے تو سیاسی اختیارات کو جاگیرداری، وڈیرہ شاہی، ذات، برادری اور فرقے سے آزاد کرانا ہوگا اور عام آدمی کو منتقل کرنا ہوگا۔ پاکستان کے مسائل وہی لوگ حل کریں گے جن کے مسائل ہیں۔ جب تک ہماری معیشت اور سیاست سماجی خدمت کے جدید تصورات سے نہیں جڑیں گی اس وقت تک ملک و قوم کی حالت نہیں بدلے گی۔

پارٹی کے قیام سے لے کر آج تک مختلف مواقع ایسے آئے کہ عمران خان تحریک انصاف کو ایک منظم عوامی سیاسی جماعت بنا کر بنا کر ملک میں حقیقی قیادت کا خلاء پر کر سکتے تھے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ عمران خان نے جیسے تیسے اقتدار حال کر لیا اور اس کے ”ثمرات“ بھی چکھ لیے اب ان کے پاس بہتر موقع ہے کہ بلیک میلنگ سے بچنا چاہتے ہیں اور اسٹیٹس کو پر کاری ضرب لگانا چاہتے ہیں تو اپنی جماعت کے دیرینہ کارکنوں کے ساتھ اپنے روابط استوار کریں اور پارٹی کی تنظیم نو کرتے ہوئے ان کارکنوں اپنے ساتھ شریک کریں جو ذاتی مفادات کی بجائے ملک میں حقیقی اور مثبت سیاسی اور سماجی تبدیلی کے لیے ان کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ وہ اپنی جماعت کو اتنا مضبوط کردیں کہ ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی اپنے اپنے شہر کی مقامی تنظیم کے اجلاسوں میں بطور کارکن شرکت کریں اور مقامی تنظیم کو جوابدہ ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے