عمران خان اور ریاست مدینہ


۔

کیمروں کا رخ ایک میز کی طرف تھا اور کسی کا انتظار ہو رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ شخصیت نمودار ہوئی۔ اس کے چہرے کے تاثرات اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ وہ خوش تھا بہت ہی خوش۔ خوش کیوں نہ ہوتا اس کا بہت بڑا خواب پورا ہونے جا رہا تھا۔ وہ کرسی میں براجمان ہوا اور پورے اعتماد کے ساتھ کیمروں کے سامنے قوم سے مخاطب ہوا

”میرے پاکستانیوں میں پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرح ایک فلاحی ریاست بناؤں گا“

یہ پچیس جولائی 2018 کی شام تھی جب تحریک انصاف کے چیئرمین جیت کا اعلان کر رہے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف 149 سیٹیں لے کر پہلے نمبر تھی لیکن اسے حکومت بنانے کے لیے 23 سیٹیں مزید چاہیے تھیں۔

تحریک انصاف حکومت بنا سکتی تھیں لیکن مخلوط جہاں اسے اپنے بہت سے اصولوں کی قربانی دینا پڑتی اور عمران خان نے وہی راستہ اختیار کیا اور اپنی سیاسی موت پہ دستخط کر دیے۔

پاکستان کی اکثریتی آبادی مذہبی ہے۔ وہ مذہب کو ہر چیز پہ ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی وجہ چاہے جو بھی ہو لیکن مذہب کی خاطر کسی بھی دنگل میں کودنے سے دریغ نہیں کرتے۔ اور اسی محبت کو پاکستان کے لیڈروں نے بارہا استعمال کیا چاہے مذہبی ہوں یا پھر سیاسی۔ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد میں مذہب کا ایسا چورن بیچا کہ لوگ جوق در جوق شامل ہوتے گئے چاہے وہ لبرل ہوں یا پھر مذہبی۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عمران خان نے ایک ایسی پڑھی لکھی جاہل قوم کی تربیت کی ہے وہ منہ پھٹ، بدتمیز اور شرم و حیا سے عاری ہیں۔ ایسا ایک طبقہ وجود میں آیا ہے جو عمران خان کی بات کو حرف آخر سمجھتا ہے اور اس کے دفاع کے لیے ہر اس بندے کے ساتھ لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے جس کے ساتھ اس کا خونی رشتہ ہوتا ہے اور ہر اس بندے کی تذلیل کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے جو عمران خان کے ساتھ اختلاف رکھتا ہو۔ المختصر یہ ریاست مدینہ کے نام پہ ایک گھناؤنا کھیل کھیلا گیا جو آہستہ آہستہ منظرعام پہ آ رہا ہے۔

اس کے اقتدار میں آتے ہی پاکستان میں ایسے مسئلے دوبارہ زندہ ہونا شروع ہو گئے جن کا تصور ایک پاکستانی خصوصاً مسلمان پاکستانی کرنے سے رہا۔ اسرائیل جس کا نام لیتے ہوئے ایک پاکستانی کا منہ کڑوا ہو جاتا تھا اس کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی باتیں ہونے لگیں اور یہ باتیں کچھ حکومتی نمائندے قومی اسمبلی کے فلور پہ کرتے ہوئے نظر آئے اور عمران خان کا یہ منظور نظر طبقہ اس کے فائدوں میں زمین آسمان کو ایک کرنے لگا۔

قادیانیت کا مسئلہ جو، 1974 کے بعد تقریباً بند ہو چکا تھا وہ دوبارہ ظاہر ہونے لگا۔ اخبارات میں اشتہارات دیے جانے لگے اور تین چار دن پہلے پاکستان کے قومی چینل میں قادیانیوں کا چینل دکھایا گیا۔ ختم نبوت کے موضوع کو چھیڑا گیا اور اس پہ احتجاج کرنے والوں کو تشدد کیا گیا۔ یہ وہی لوگ تھے جن کو فیض آباد دھرنے کے دوران اسی تحریک انصاف کی ہمدردیاں حاصل تھیں۔

حاصل کلام یہ کہ موجودہ حکومت نے ایک طرف ایک بہت بڑے طبقے کو جو اپنے آپ کو پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا سمجھتا ہے بے وقوف بنایا تو دوسری طرف مذہبی طبقے کو ریاست مدینہ کا لولی پاپ تھما کے پیٹھ پیچھے ناقابل یقین اقدامات کیے۔ ان تین سالوں میں پاکستان کو معاشی، معاشرتی اور مذہبی معاملات میں اتنا پیچھے دھکیل دیا ہے جس کا ازالہ شاید ہی اگلے پندرہ بیس سالوں میں ہو سکے۔

Facebook Comments HS