جاگو ہوا سویرا اور مشرقی پاکستان کی وہ یادرگار اردو فلمیں جنہیں نہ پاکستان اور نہ بنگلہ دیش میں یاد رکھا گیا

عقیل عباس جعفری - محقق و مورخ، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فلم جاگو ہوا سویرا کا پوسٹر

مشرقی پاکستان میں اُردو فلموں کا نقطہ آغاز ’جاگو ہوا سویرا‘ کو سمجھا جاتا ہے۔ یہ فلم 25 مئی 1959 کو نمائش پزیر ہوئی تھی۔ جاگو ہوا سویرا، انڈیا میں ’ستیہ جیت رے‘ اور خواجہ احمد عباس کی ’سماجی حقیقتوں‘ کو فلم کے قالب میں ڈھالنے کے تجربات سے شدید متاثر تھی، جن کی فلمیں ’پاتھر پنچالی‘ اور ’دو بیگھہ زمین‘ کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچ چکے تھے۔

اس فلم کی کہانی معروف بنگالی ناول نگار مانک بندو پادھیائے کے ناول ’دی بوٹ مین آف پدما‘ سے لی گئی تھی جسے بنگالی سے انگریزی کے قالب میں ظہیر ریحان نے ڈھالا اور پھر انگریزی ترجمے کی مدد سے اسے فیض احمد فیض نے اُردو میں منتقل کیا۔

اس فلم کے فلمساز نعمان تاثیر اور ہدایت کار اے جے کاردار تھے، موسیقی تیمر برن نے ترتیب دی تھی جبکہ اس کی کہانی، مکالمے اور گیت فیض احمد فیض نے لکھے تھے اور انھی کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے یہ فلم بننا ممکن ہوئی۔

جاگو ہوا سویرا کی عکس بندی مشرقی پاکستان میں ہوئی تھی۔ اس میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے فن کاروں کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا جن میں ترپتی مترا، انیس، زورین اور رخشی کے نام سرفہرست تھے۔

یہ دریائے میگھنا کے کنارے آباد ایک گاؤں شیتول کے ماہی گیروں کی جسم و جان کے رشتے کو برقرار رکھنے کی جدوجہد کی کہانی تھی۔ جاگو ہوا سویرا پاکستان میں بننے والی پہلی آرٹ فلم تسلیم کی جاتی ہے، شاید یہی سبب تھا کہ یہ فلم پاکستان میں تو کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کرسکی مگر جب یہ فلم عالمی سطح پر ‘دی ڈے شیل ڈان’ کے نام سے نمائش پزیر ہوئی تو اسے بڑی پزیرائی ملی۔

سنہ 1960 میں اس فلم کو آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔ اسے یہ اعزاز تو نہ مل سکا لیکن یہ بھی کچھ کم نہ تھا کہ یہ دنیا کے معروف ترین فلمی ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی۔

جاگو ہوا سویرا کو کئی دیگر عالمی فلمی میلوں میں دکھایا گیا جہاں اسے کئی اعزازات ملے۔ ان اعزازات میں ماسکو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کا دوسرا انعام اور امریکا کی رابرٹ فلے ہارٹلی فلم فاؤنڈیشن کا کسی غیر ملکی زبان کی بہترین فلم کا اعزاز سرفہرست ہے۔ اس فلم کی امریکا، سوویت یونین، فرانس، بلجیم، مشرقی افریقہ اور چین میں بھی نمائش ہوئی جس کے لیے اسے انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں سب ٹائٹلز کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔

نواب سراج الدولہ
فلم نواب سراج الدولہ کا پوسٹر

پاکستان کی فلمی صنعت کا آغاز

مشرقی پاکستان کی فلمی صنعت کا آغاز تین اگست 1956 کونمائش پذیر ہونے والی بنگالی فلم مکھو مکھش سے ہوا تھا۔

اس فلم کے فلم ساز اور ہدایت کار عبدالجبار خان تھے جو خود ایک سٹیج اداکار تھے اور فلم سازی کے متعلق بہت کم جانتے تھے لیکن شوق میں انھوں نے اقبال فلمز کے نام سے ایک پروڈکشن کمپنی کا آغاز کیا اور ایک ناول کی کہانی ‘چہرہ اور نقاب’ کو پردہ سیمیں پر مکھو مکھش کے نام سے پیش کیا۔

یہ فلم ڈھاکا، چٹاگانگ، نرائن گنج اور کھلنا میں ریلیز ہوئی۔ فنی مہارت کی کمی کے باعث یہ تجربہ زیادہ کامیاب نہیں رہا، مگر اس کی ریلیز سے مشرقی پاکستان میں فلم سازی کے دروازے وا ہوگئے۔

سنہ 1957 میں مشرقی پاکستان کی وزیر صنعت شیخ مجیب الرحمن نے (جو بعد میں بنگلہ دیش کے پہلے وزیراعظم بنے) صوبائی اسمبلی میں ایک فلم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے قیام کا بل پیش کیا۔ یہ بل منظور ہوا اور یوں ڈھاکا میں فلمی صنعت کی ترقی کے لیے ایک ادارہ ایسٹ پاکستان فلم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے نام سے قائم ہوا۔

سنہ 1960 میں اسی ادارے کے تحت ڈھاکا میں ایک جدید فلمی سٹوڈیو تعمیر کیا گیا جس کے معیار کا کوئی سٹوڈیو مغربی پاکستان میں بھی موجود نہیں تھا۔ جاگو ہوا سویرا باکس آفس پر تو کامیاب نہ ہو سکی مگر اس نے مشرقی پاکستان میں اردو فلموں کے دروازے کھول دیئے۔

Pakistan chronicle

سنہ 1962 میں فلم چندا کی نمائش سے مشرقی پاکستان میں اردو فلموں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہواجس نے نہ صرف یہ کہ مغربی پاکستان کی اردو فلمی صنعت پر گہرے اثرات مرتب کیے بلکہ چند بہترین اداکار، موسیقار، گلوکار اور ہدایت کار بھی عطا کیے۔

1962 سے 1971 کے دورانیے میں مشرقی پاکستان میں 64 اردو فلمیں تیار ہوئیں جن میں سے صرف چھ فلمیں ایسی تھیں جو مغربی پاکستان میں نمائش پزیر نہ ہوسکیں۔ مشرقی پاکستان میں بننے والی جن فلموں نے مغربی پاکستان میں کامیابی کے ریکارڈ قائم کیے ان میں چندا، تلاش، سنگم، ملن، بندھن، کاجل، بہانہ، آخری سٹیشن، نواب سراج الدولہ، چکوری، درشن، چھوٹے صاحب، سوئے ندیا جاگے پانی، تم میرے ہو، چاند اور چاندنی، قلی، داغ، کنگن، اناڑی اور شہید تیتو میر کے نام شامل ہیں۔

ڈھاکا کی اردو فلمی صنعت نے پاکستان کی فلمی صنعت کو شبنم، شبانہ، نسیمہ خان، سلطانہ زمان، ریشماں اور کابوری جیسی اداکارائیں اور رحمان ، انور حسین اور ندیم جیسے اداکار جبکہ احتشام، مستفیض، رحمٰن، ظہیر ریحان، نذر الاسلام اور عطا الرحمن جیسے ہدایت کار، سرور بارہ بنکوی، اختر یوسف اور شاعر صدیقی جیسے شاعر اور روبن گھوش، مصلح الدین اور بشیر احمد جیسے موسیقار عطا کیے۔

شبنم نے بعدازاں چوتھائی صدی تک مغربی پاکستان کی اردو فلمی صنعت پر بھی راج کیا۔ رحمٰن مشرقی پاکستان کی فلمی صنعت تک محدود رہے۔ ان کی دیگر فلموں میں ملن، ایندھن، درشن، جہاں باجے شہنائی، کنگن، چلو مان گئے، چاہت، بہانہ، دو ساتھی اور گوری کے نام شامل تھے۔

ندیم فلم چکوری میں
فلم چکوری میں ندیم کے مقابل مرکزی کردار اداکارہ شبانہ نے ادا کیا تھا

مشرقی پاکستان کی فلمی صنعت اور ندیم جیسا اداکار

مشرقی پاکستان کی فلمی صنعت نے مغربی پاکستان کی فلمی صنعت کو ندیم جیسا اداکار بھی عطا کیا۔ ندیم کی پہلی فلم چکوری تھی۔ اس فلم کے فلم ساز ایف دوسانی اور ہدایت کار احتشام تھے جبکہ موسیقی روبن گھوش نے ترتیب دی تھی اور نغمات اختر یوسف نے لکھے تھے۔

ندیم گلوکار بننے کے لیے فلمی صنعت میں آئے تھے مگر قسمت نے انھیں چکوری کا مرکزی کردار بنا دیا۔ چکوری 22 مارچ 1967ء کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر ڈھاکا میں نمائش پزیر ہوئی۔ ابتدا میں اسے مغربی پاکستان کے فلمی سرکٹ میں کوئی اہمیت نہ دی کیونکہ ہیرو کے ساتھ ساتھ اس فلم کی ہیروئن شبانہ بھی ایک نوآموز اداکارہ تھیں۔ مگر جب اس فلم کی کامیابی کی خبریں مغربی پاکستان تک پہنچی تو 19 مئی 1967ء کو یہ فلم کراچی کے پیراڈائز سینما میں نمائش کے لیے پیش کردی گئی۔

ندیم کا تعلق کراچی سے تھا، وہ اسلامیہ کالج کے طالب علم تھے، بتایا جاتا ہے کہ چکوری کے تقسیم کار نے اسلامیہ کالج کے طلبہ میں اس فلم کے مفت پاس تقسیم کیے تھے۔ جب یہ طلبا فلم دیکھ کر سینما گھروں سے باہر نکلے تو انھوں نے اداکار ندیم کی اداکاری سے متاثر ہوکر اس کے حق میں نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ طلبا کی اس نعرے بازی سے فلم ہٹ ہوگئی اور اس نے کراچی میں ہی نہیں بلکہ پورے مغربی پاکستان میں دھوم مچادی۔

ارمان کے بعد یہ دوسری فلم تھی جس نے مغربی پاکستان میں پلاٹینم جوبلی منانے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ چکوری کی ریلیز کے بعد اداکار ندیم نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ فلمی صنعت سے ان کی وابستگی کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

چکوری میں ندیم کے مقابل مرکزی کردار اداکارہ شبانہ نے ادا کیا تھا۔ چکوری ندیم کی طر ح ان کی بھی بطور ہیروئن پہلی فلم تھی۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد اس جوڑی نے کئی اور فلموں میں بھی کام کیا جن میں چھوٹے صاحب، تم میرے ہو، قلی، داغ، چاند اور چاندنی، چاند سورج اور اناڑی کے نام شامل ہیں۔

ڈھاکا کی اردو فلمی صنعت اپنی کئی اولیات کی وجہ سے بھی یادگار قرار پائی۔

فلم سنگم کا پوسٹر

پاکستان کی پہلی مکمل رنگین فلم

پاکستان کی پہلی مکمل رنگین فلم بھی ڈھاکا ہی میں بنی تھی۔ اس فلم کا نام تھا سنگم۔ 23اپریل 1964ء کو عید الاضحٰی کے موقع پر ریلیز ہونے والی اس فلم کے ہدایت کار اور کہانی نگار ظہیر ریحان تھے۔ سنگم کی موسیقی خان عطا الرحمٰن نے ترتیب دی تھی جبکہ اس کے نغمات شاعر صدیقی نے تحریر کیے تھے۔

اس فلم کے مرکزی کردار ہارون اور روزی نے ادا کیے تھے۔ اس فلم کا ایک نغمہ ہزار سال کا جو بڈھا مرگیا تو دھوم دھام سے اسے دفن کرو، فلم کے پرانے شائقین کی یادوں میں شاید آج بھی محفوظ ہوگا۔

جاگو ہوا سویرا کے برعکس سنگم باکس آفس پرخاصی کامیاب رہی اور اپنے اس اعزاز کے باعث کہ یہ پاکستان کی پہلی مکمل رنگین فلم تھی، پاکستان کی فلمی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئی۔

اسی برس دسمبر کی چار تاریخ کو بھی ایک ایسی فلم ریلیز ہوئی جو اپنے اس اختصاص کی بنا پر کہ وہ پاکستان کی پہلی فلم تھی جس کی تمام تر عکس بندی بیرون ملک ہوئی تھی، فلمی تاریخ میں اپنا نام محفوظ کرواگئی۔

یہ فلم کاروان تھی جس کے فلم ساز ایم صادق اور ہدایت کار ایس ایم پرویز تھے۔ اس فلم کو نیپال کے مسحور کن مقامات پر عکس بند کیا گیا تھا۔ فلم کے مرکزی اداکاروں میں شبنم اور ہارون شامل تھے جبکہ اس کی موسیقی روبن گھوش نے ترتیب دی تھی۔

پاکستان کی پہلی سینما سکوپ فلم بھی ڈھاکا ہی میں تیار ہوئی تھی۔ یہ فلم بہانہ تھی، جسے سنگم کے ہدایت کار ظہیر ریحان نے ڈائریکٹ کیا تھاجبکہ موسیقی خان عطا الرحمن نے ترتیب دی تھی۔

بہانہ کی کچھ عکس بندی کراچی میں بھی ہوئی تھی اور اس فلم میں احمد رشدی، مسعود رانا اور ساتھیوں کی آواز میں کراچی کے حوالے سے لکھے گئے دو گیت بھی شامل کیے گئے تھے جن کے بول تھے ‘شہر کا نام ہے کراچی، کھو نہ جانا یہاں اور ڈھاکا دیکھا، پنڈی دیکھی اور دیکھا لاہور، لیکن قسمت میں تھی کراچی، جس کا اور نہ چھور، ایسی کراچی سے تو ہم باز آئے۔’

اس آخر الذکر گیت میں آئرن پروین کی آواز بھی شامل تھی جو کابوری پر عکس بند ہوئی تھی۔ سنگم کی طرح یہ فلم بھی 13اپریل 1965 کو عید الاضحٰی کے موقع پر ریلیز ہوئی تھی۔

چکوری کے علاوہ بھی ڈھاکا میں ایسی کئی فلمیں بنیں جن میں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے فن کاروں نے مرکزی کردار ادا کئے۔ تنہا میں شمیم آرا، ملن میں دیبا، بھیا میں وحید مراد، کنگن میں سنگیتا ، لو ان جنگل میں عالیہ اور جلتے سورج کے نیچے میں روزینہ کی اداکاری کو بھلا کون بھلا سکتا ہے۔

ڈھاکا میں بعض تاریخی موضوعات پر بھی فلمیں بنائی گئیں۔ ان فلموں میں فلم ساز محبوب الرحمن اور ہدایت کار خان عطا الرحمن کی فلم نواب سراج الدولہ اور ہدایت کار ابن میزان کی فلم شہید تیتو میر کے نام سر فہرست ہیں ان دونوں فلموں میں مرکزی کردار انور حسین نے ادا کیے تھے۔

فلم درشن کا پوسٹر

ڈھاکا کی اردو فلمی صنعت کا یہ مختصر احوال فلم درشن کے تذکرے کے بغیر ادھورا رہے گا۔

آٹھ ستمبر 1968 کو ریلیز ہونے والی اس فلم کی فلم ساز کم کم اور اور ہدایت کار رحمن تھے جنھوں نے اس فلم میں شبنم کے ہمراہ مرکزی کردار بھی ادا کیا تھا۔ درشن کی کامیابی کا سب سے بڑا سبب اس کے خوبصورت نغمات تھے جنھیں لکھا بھی بشیر احمد نے تھا، گایا بھی بشیر احمد نے تھا اور ان کی موسیقی بھی بشیر احمد نے ہی ترتیب دی تھی۔

ان نغمات نے پاکستان بھر میں دھوم مچادی۔ ان نغمات میں ‘یہ موسم یہ مست نظارے،’ ‘دن رات خیالوں میں تجھے یاد کروں گا،’ ‘گلشن میں بہاروں میں تو ہے،’ ‘ہم چلے چھوڑ کر،’ ‘ تمہارے لیے اس دل میں،’ ‘چل دیے تم جو دل توڑ کر’ شامل تھے۔ جبکہ اس فلم میں شامل مالا بیگم کا گایا ہوا نغمہ ‘یہ سماں پیارا پیارا’ بھی اپنی شاعری اور موسیقی کی وجہ سے بیحد مقبول ہوا تھا۔

ڈھاکا میں جاگو ہو سویرا کے علاوہ کئی اور تجرباتی فلمیں بھی بنیں جنھیں ہم آج کل کی آرٹ فلموں کی پیش رو بھی کہہ سکتے ہیں۔ ان فلموں میں سوئے ندیا جاگے پانی، ساگر اور ایندھن کے نام سر فہرست ہیں۔

ڈھاکا کی فلمی صنعت سے لاہور اور کراچی کی فلمی صنعت کو بھی بڑا سہارا ملا کرتا تھا۔ یہاں بننے والی فلمیں نہ صرف ڈھاکا میں اچھا خاصہ بزنس کرتی تھی بلکہ کئی ایسی بھی تھیں جو مغربی پاکستان میں فلاپ ہوئیں مگر مشرقی پاکستان میں سپر ہٹ ثابت ہوئیں۔ ایسی فلموں میں فلم اک نگینہ کا نام سر فہرست ہے۔

بعض فلمی ہدایتکاروں ، فلمی تاریخوں اور ویب سائٹس میں ڈھاکا میں بننے والی آخری اردو فلم جلتے سورج کے نیچے بتائی جاتی ہے۔ یہ بات اس لحاظ سے تو درست ہے کہ 10 ستمبر 1971 کو نمائش پزیر ہونے والی اس فلم کے بعد ڈھاکا میں بننے والی کوئی اور فلم نمائش پزیر نہیں ہوئی لیکن یہ فلم ڈھاکا میں بننے والی آخری اردو فلم نہیں تھی۔

فلم تلاش کا پوسٹر

اس فلم کے بعد ڈھاکا میں جو اردو فلمیں بنیں ان میں بالا ،مرزا محل اور راہی شامل تھیں۔ بالا میں مرکزی کردار انور حسین اور انورا نے ادا کیے تھے، مرزا محل میں حنیف اور شبانہ مرکزی اداکار تھے جبکہ راہی کی ہیروئن نسیمہ خان تھیں۔ یہ تینوں فلمیں سقوط ڈھاکا سے پہلے مکمل ہوگئیں تھیں مگر پھر ان کی نمائش کی نوبت نہ آسکی۔ ان تمام فلموں کے بعد 1974 میں ڈھاکا میں ایک اور اردو فلم جانے انجانے بھی بنی جس میں اداکار محمد علی نے کام کیا تھا مگر یہ فلم صرف بنگلہ دیش میں ریلیز ہوئی۔ پاکستانی ناظرین اس فلم کے دیدار سے محروم رہے۔

ممتاز فلمی مؤرخین زخمی کانپوری اور آصف نورانی نے ڈھاکا میں تیار ہونے والی ایک اور فلم کا ذکر بھی کیا ہے جس کا نام ہم سفر تھا۔ آٹھ اپریل 1960ء کونمائش پزیر ہونے والی یہ فلم مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہدایت کار شوکت ہاشمی نے تیار کی تھی اور اس فلم میں اسلم پرویز اور یاسمین نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ جبکہ فلم کے بقیہ فن کاروں میں اسد جعفری، نگہت سلطانہ اور نذر شامل تھے۔ ان سب کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔

فلم کی موسیقی مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اداکار مصلح الدین نے ترتیب دی تھی جنھوں نے تنویر نقوی اور شاعر صدیقی کے تحریر کردہ نغمات کی بڑی دل آویز اور مسحور کن دھنیں تیار کی تھیں۔ مصلح الدین نے بنگلہ لوک گیتوں کی دھنیں اس فلم میں استعمال کی تھیں۔ اس فلم کا سب سے مقبول گیت ‘اس جہاں میں کاش کوئی دل لگائے نا’ گلوکارہ ناہید نیازی اور گلوکار سلیم رضا کی خوبصورت آوازوں میں الگ الگ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اس فلم میں مصلح الدین نے انڈیا کے مشہور گلوکار اور موسیقار ہیمنت کمار کی آواز میں ‘رات سہانی ہے بھیگا کھویا کھویا چاند ہے’ اور’تم کو قسم ہے میری اک بار مسکرادو’ کلکتہ جا کر ریکارڈ کیا تھا۔

اگر اس فلم کو بھی مشرقی پاکستان میں بننے والی اردو فلموں میں شمار کیا جائے تومشرقی پاکستان میں بننے والی فلموں کی مجموعی تعداد 64 ہوجاتی ہے۔

اور اب کچھ ذکرمشرقی پاکستان کی اردو فلمی صنعت سے تعلق رکھنے والے کچھ دیگر اہم شخصیات کا۔

اے جی کاردار
اے جی کاردار

اے جے کاردار

اے جے کاردار کا پورا نام اختر جنگ کاردار تھا۔ وہ 1926 میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے پاکستانی فلمی صنعت کے لیے دو فلمیں بنائیں جن میں سے پہلی فلم جاگو ہوا سویرا اس لحاظ سے ایک یادگار فلم قرار پائی کہ اس فلم کی کہانی اور نغمے فیض احمد فیض کے زور قلم کا نتیجہ تھے۔

اس فلم نے متعدد بین الاقوامی اعزازات بھی حاصل کیے جن میں ماسکو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کا دوسرا انعام اور امریکا کی رابرٹ فلے ہارٹی فلم فاؤنڈیشن کا کسی غیر ملکی زبان کی بہترین فلم کا اعزاز سرفہرست تھے۔

اس کے بعد 1969ء میں ان کی دوسری فلم قسم اس وقت کی نمائش پزیر ہوئی۔ اس فلم کی وجہ شہرت یہ تھی کہ اس کے نغمات جوش ملیح آبادی نے تحریر کیے تھے۔

اے جے کاردار نے 57 دستاویزی فلمیں بنائیں جنھیں بین الاقوامی طور پر بڑی پذیرائی حاصل ہوئی اور ان دستاویزی فلموں کو متعدد عالمی اعزازات بھی حاصل ہوئے۔

اے جے کاردار کا انتقال 14 فروری 2002 کو لندن میں ہوا اور وہ لندن ہی میں آسودہ خاک ہوئے۔

ظہیر ریحان
1964ء میں ان کی کہانیوں کے مجموعے پر انھیں آدم جی ادبی ایوارڈ دیا گیا جبکہ گمشدگی کے بعد 1972ء میں انھیں بنگلہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا

ظہیر ریحان

ظہیر ریحان کا اصل نام ظہیر اللہ تھا۔ وہ 19 اگست 1935ء کو ماجوپور گاؤں نواکھلی میں پیدا ہوئے تھے۔ ظہیر ریحان نے بنگالی زبان میں بی اے (آنرز) کیا تھا۔ اپنے بھائی شہید اللہ قیصر کی طرح انھیں بھی لکھنے لکھانے سے شغف تھا اور وہ مارکس کے افکار سے شدید متاثر تھے۔

1951ء میں جب پاکستان بھر میں کمیونسٹ پارٹی کی سرگرمیوں پر پابندی لگی تو اس پارٹی کے تمام رہنما روپوش ہوگئے ایسے میں ظہیر اللہ نے ‘ریحان’ کے نام سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور وہ تمام روپوش رہنماؤں کے درمیان پیغام رسانی کے فرائض انجام دینے لگے۔

بعد میں انھوں نے اپنا نام ہی ظہیر ریحان رکھ لیا۔ 1952ء کی لسانی تحریک کے دوران اپنے بھائی کی طرح انھیں بھی اسیری کا مزا چکھنا پڑا۔ ظہیر ریحان نے اپنی عملی زندگی کا آغاز لکھنے لکھانے سے کیا اور اس میدان میں بڑا نام کمایا۔

1964ء میں ان کی کہانیوں کے مجموعے پر انھیں آدم جی ادبی ایوارڈ دیا گیا جبکہ گمشدگی کے بعد 1972ء میں انھیں بنگلہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اسی دوران 1961ء میں انھوں نے اپنی پہلی بنگالی فلم کی ہدایات دیں اس کے بعد یکے بعد دیگرے ان کی فلمیں ریلیز ہوتی رہیں۔ انھوں نے اردو میں بھی کئی یادگار فلمیں تخلیق کیں جن میں سنگم اور بہانہ کے نام شامل ہیں۔ سنگم کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی رنگین فلم تھی۔

مارچ 1971ء میں جب مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی شروع ہوئی تو ظہیر ریحان پاکستان سے فرار ہوکر کلکتہ چلے گئے جہاں انھوں نے پاکستانی فوج کے مبینہ مظالم کے خلاف ‘سٹاپ جینوسائڈ’ کے نام سے ایک دستاویزی فلم بنائی۔

انڈین حکومت کے تعاون سے یہ فلم دنیا بھر میں دکھائی گئی اور اس نے پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔سقوط ڈھاکا سے قبل ظہیر ریحان ڈھاکا واپس آگئے تھے۔ 14 دسمبر 1971ء کو ان کے بھائی شہید اللہ قیصر غائب ہوئے اور 30 دسمبر 1971ء کو مشرقی پاکستان کے مشہور ادیب’ فلم ساز’ ہدایت کار اور اداکار ظہیر ریحان بھی اپنے بھائی شہید اللہ قیصر کی طرح ہمیشہ کے لیے لاپتا ہوگئے۔

بتایا جاتا ہے کہ ظہیر ریحان کو اطلاع ملی تھی کہ ان کے بھائی شہید اللہ قیصر ڈھاکا میں میر پور کے علاقے میں ایک مکان میں موجود ہیں۔ ظہیر ریحان اس اطلاع کے ملنے پر فوراً میر پور پہنچے مگر اس کے بعد خود ان کے بارے میں بھی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

احتشام
احتشام کا پورا نام ابو نور محمد احتشام الحق تھا اور وہ 1927ء میں ڈھاکا میں پیدا ہوئے تھے

احتشام

احتشام کا پورا نام ابو نور محمد احتشام الحق تھا اور وہ 1927ء میں ڈھاکا میں پیدا ہوئے تھے۔ 1950ء میں انھوں نے فلمی دنیا میں بطور تقسیم کار قدم رکھا۔ 1956ء میں انھوں نے اے دیش تمار امار کی ہدایات دیں اور یوں پاکستانی فلمی صنعت کو ایک اچھا ہدایت کار میسر آگیا۔

1962 میں انھوں نے اپنی پہلی اردو فلم چندا بنائی جو پاکستان بھر میں بے حد مقبول ہوئی۔ 1967 میں انھوں نے پاکستان کے نامور اداکار ندیم کو اپنی فلم چکوری میں بطور ہیرو پیش کیا اس فلم نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ 1968 میں احتشام کی تیسری فلم چاند اور چاندنی اور 1969 میں چوتھی فلم داغ ریلیز ہوئی۔

1974 میں اداکار ندیم نے انھیں اپنی ذاتی فلم مٹی کے پتلے کی ہدایات دینے کے لیے کہا مگر یہ فلم ناکام رہی۔ اس کے بعد احتشام بنگلہ دیش چلے گئے اور وہیں 18فروری 2002ء کو وفات پاگئے۔

مستفیض
احتشام کے بھائی مستفیض کی پہلی فلم تلاش تھی جو 1963ء میں نمائش پزیر ہوئی

مستفیض

احتشام کے بھائی مستفیض بھی فلم سازی اور ہدایت کاری کے شعبے سے وابستہ تھے۔ ان کی پہلی فلم تلاش تھی جو 1963ء میں نمائش پزیر ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے کئی اردو اور بنگلہ فلموں کی ہدایات دیں جن میں مالا، ساگر، چھوٹے صاحب، قلی، اناڑی اور پائل کے نام سرفہرست ہیں۔

ان کی وفات 4 جولائی 1992ء کو ڈھاکا میں ہوئی۔

نذرالاسلام

نذرالاسلام 19 اگست 1939ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ نیوتھیٹرز کلکتہ کے دبستان کے نمائندہ ہدایت کار تھے اور ان کی فلموں میں ستیہ جت رے، بروا، باسوچڑجی، بمل رائے اور نتن بوس کے اسلوب کی جھلک ملتی تھی۔

انھوں نے اپنی فنی زندگی کا آغاز ڈھاکا سے بطور تدوین کار کیا پھر وہ ہدایت کار ظہیر ریحان کے معاون بن گئے۔ چند بنگالی فلموں کے بعد انھوں نے ایک اردو فلم کاجل بنائی جو بے حد مقبول ہوئی۔ پھر انھوں نے ایک بنگالی فلم کاربو اور ایک اور اردو فلم پیاسا کی ہدایات دیں۔

نذرالاسلام
انھوں نے اپنی فنی زندگی کا آغاز ڈھاکا سے بطور تدوین کار کیا پھر وہ ہدایت کار ظہیر ریحان کے معاون بن گئے

1971ء میں سقوط ڈھاکا کے زمانے میں وہ پاکستان آگئے جہاں انھوں نے فلم ساز الیاس رشیدی کی فلم احساس سے اپنے نئے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ احساس کے بعد ان کی کئی اور فلمیں نمائش پزیر ہوئیں جن میں حقیقت، شرافت، آئینہ، امبر، زندگی، بندش، نہیں ابھی نہیں، آنگن، دیوانے دو، لو سٹوری، پلکوں کی چھاؤں میں، میڈم باوری، بارود کی چھاؤں میں، آندھی اور کالے چور کے نام سرفہرست ہیں۔

یہ تمام فلمیں باکس آفس پر بے حد کامیاب رہیں۔ بطور ہدایات کار نذرالاسلام کی آخری فلم لیلیٰ تھی، جو ان کی وفات کے بعد نمائش پزیر ہوئی۔ نذرالاسلام فلمی صنعت میں ‘دادا’ کے لقب سے معروف تھے۔

11 جنوری 1994ء کو نذرالاسلام لاہور میں وفات پاگئے۔وہ لاہور میں گارڈن ٹاؤن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

رحمٰن
ان کی آخری فلم ہنڈرڈ رائفلز 1981ء میں ریلیز ہوئی تھی۔20جولائی 2005ء کو رحمٰن ڈھاکا میں وفات پاگئے

رحمٰن

رحمن کا اصل نام عبدالرحمن تھا۔ انھوں نے مجموعی طور پر 25 فلموں میں کام کیا تھا۔ ان کی پہلی فلم چندا تھی جو 1962ء میں ریلیز ہوئی تھی ۔ان کی دیگر فلموں میں ملن، ایندھن، درشن، جہاں باجے شہنائی، کنگن، چلو مان گئے، چاہت، بہانہ، دو ساتھی اور گوری کے نام سرفہرست تھے۔

ان کی آخری فلم ہنڈرڈ رائفلز 1981ء میں ریلیز ہوئی تھی۔20جولائی 2005ء کو رحمٰن ڈھاکا میں وفات پاگئے۔

رزاق

رزاق نے پانچ دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کیریئر میں 300 اردو اور بنگالی فلموں میں کام کیا۔ بنگلہ دیشی فلمی صنعت میں ان کا وہی مقام تھا جو انڈیا میں دلیپ کمار اور پاکستان میں محمد علی کا تھا۔

رزاق 23 جنوری 1942ء کو کلکتہ کے علاقے ناکتالا میں پیدا ہوئے تھے۔ ساتویں جماعت میں انھیں سٹیج پر ایک کردار ادا کرنے کا موقع ملا اور یہاں سے ان کی فنی زندگی کی ابتدا ہوئی۔

کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران انھوں نے اپنی پہلی فلم رتن لال بنگالی میں کام کیا۔ 1961ء میں انھوں نے بمبئی میں اداکاری کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔

رزاق
رزاق نے پانچ دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کیریئر میں 300 اردو اور بنگالی فلموں میں کام کیا

سنہ 1964 میں کلکتہ میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ مشرقی پاکستان چلے گئے۔ جہاں انھوں نے ڈھاکا میں بننے والی متعدد بنگالی فلموں اور چند اردو فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ رزاق کی پہلی اردو فلم آخری اسٹیشن تھی جس میں انھوں نے ڈاک بابو کا ایک مختصر سا کردارادا کیا تھا اس کے بعد انھوں نے مینا، مہربان اور پائل میں مرکزی کردار ادا کیے۔

سقوط مشرقی پاکستان سے پہلے ان کی آخری اردو فلم ہدایت کار رنگیلا کی دل اور دنیا تھی جس میں انھوں نے مہمان کردار ادا کیا تھا۔ سقوط ڈھاکا کے بعد انھوں نے دو مزید اردو فلموں سات سہیلیاں اور رنجش میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔

رزاق اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کے سفیر برائے خیر سگالی تھے۔ وہ بنگلہ دیش فلم آرٹسٹس ایسوسی ایشن کے بانی اور صدر بھی تھے۔ رزاق نے اداکاری کے میدان میں خدمات پر پانچ مرتبہ بنگلہ دیش کا قومی فلم ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ 2015ء میں بنگلہ دیش حکومت نے انھیں انڈیپنڈنس ڈے ایوارڈ عطا کیا تھا۔

اکیس اگست 2017ء کی شام رزاق کو دل کی تکلیف کے باعث ڈھاکا کے یونائیٹڈ ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ ڈھاکا کے بانانی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

انور حسین
انور حسین نے پاکستان کی پہلی بنگالی فلم مکھو مکیش میں ایک چھوٹے سے کردار سے فلمی کیریئر کا آغاز کیا

انور حسین

مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کے نامور اداکار انور حسین چھ دسمبر 1931 کو پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے پاکستان کی پہلی بنگالی فلم مکھو مکیش میں ایک چھوٹے سے کردار سے فلمی کیریئر کا آغاز کیا تاہم ان کی پہچان مشرقی پاکستان میں بننے والی اردو فلمیں بنیں جن میں نواب سراج الدولہ کا نام سرفہرست تھا۔

ان کی دیگر فلموں میں ناچ گھر، بندھن، کاجل، اجالا، بھیا، جہاں باجے شہنائی، شہید تیتومیر، کنگن، تم میرے ہو اور بہانہ کے نام شامل ہیں۔ انھوں نے کئی بنگالی فلموں میں بھی کام کیا۔ ان کی آخری فلم زمین آسمان تھی۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے اشتراک سے بننے والی اس فلم کے فلم ساز قدیر خان اور ہدایت کار نذر الاسلام تھے۔ 13 ستمبر 2013 کو انور حسین ڈھاکا میں وفات پاگئے۔

بشیر احمد
بشیر احمد نے استاد ولایت حسین خان اور استاد بڑے غلام علی خان سے موسیقی کی تربیت حاصل کی

بشیر احمد

بشیر احمد 19 نومبر 1939 میں کلکتہ میں دہلی سوداگران برادری کے ایک اردو زبان بولنے والے خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔انھیں بچپن ہی سے موسیقی سے لگاؤ تھا۔ انھوں نے استاد ولایت حسین خان اور استاد بڑے غلام علی خان سے موسیقی کی تربیت حاصل کی۔

سنہ 1960 میں جب ڈھاکا میں اردو فلمیں بننا شروع ہوئیں توانھیں ہدایت کار مستفیض نے اپنی فلم ‘تلاش’ میں گلوکاری کا موقع دیا۔ اس فلم کی موسیقی روبن گھوش مرتب کر رہے تھے جبکہ اس فلم کے گیت بشیر احمد کے بہنوئی عشرت کلکتوی (روشن علی عشرت)نے تحریر کیے تھے۔

فلم تلاش کے بعد بشیر احمد نے ڈھاکا میں بننے والی کئی اور اردو فلموں میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایا ان فلموں میں ساگر،کارواں اور ملن شامل تھیں۔ سنہ 1967 میں اداکار رحمٰن نے اپنی فلم درشن میں بشیر احمد کو نہ صرف موسیقار بلکہ شاعر بھی موقع دیا۔ اس فلم کے تمام گیت بے حد مقبول ہوئے۔

درشن نے پورے پاکستان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے، اس فلم کی کامیابی میں بشیر احمد کے کبھی نہ بھولنے والے گیتوں کا بھی کمال تھاجن میں ‘یہ موسم یہ مست نظارے پیار کرو تو ان سے کرو،’ ‘تمہارے لیے اس دل میں کتنی محبت ہے،’ ‘دن رات خیالوں میں تجھے یاد کروں گا،’ ‘ہم چلے چھوڑ کر تیری محفل صنم،’ ‘گلشن میں بہاروں میں تو ہے’ شامل ہیں۔

فلم درشن کے بعد بشیر احمد نے مشرقی پاکستان میں بننے والی مزید پانچ فلموں کی موسیقی ترتیب دی، جن میں جہاں باجے شہنائی،کنگن ،چلو مان گئے، مینااور مہربان شامل ہیں۔ مگر ان فلموں کا کوئی گیت بھی مقبول نہ ہوا۔

سنہ 1971 میں سقوط ڈھاکا کے بعد بشیر احمد نے لاہور میں قیام کرنا چاہا مگر نامساعد حالات کی وجہ سے وہ 1975 میں بنگلہ دیش چلے گئے۔ بشیر احمد کا انتقال 19 اپریل 2014ء کو ڈھاکا میں ہوا اور وہ وہیں محمد پورہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

روبن گھوش
روبن گھوش نے ریکارڈ چھ مرتبہ، 1963 میں نگار ایوارڈ فلم تلاش کی موسیقی پر، 1967ء میں چکوری، 1974ء میں چاہت، 1977ء میں آئینہ، 1978ء میں امبر اور 1984ء میں فلم دوریاں کی موسیقی مرتب کرنے پر حاصل کیے

روبن گھوش

روبن گھوش 13 ستمبر 1939ء کو عراق کے دارلحکومت بغداد میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد انٹرنیشنل ریڈ کراس میں ملازم تھے اور جنگ عظیم کے دوران بغداد میں تعینات تھے۔ ان کے والد بنگالی عیسائی اور والدہ عرب عیسائی تھیں چنانچہ روبن کی ابتدائی تعلیم بغداد کے کونونٹ سکول میں ہوئی۔

جنگ عظیم کے خاتمے پر روبن اپنی فیملی کے ہمراہ ڈھاکا آگئے۔ انھیں کم عمری ہی میں موسیقی سے لگاؤ تھا، وہ گراموفون ریکارڈز جمع کرتے اور ہارمونیم بجایا کرتے تھے۔ انھوں نے کامرس کے مظامین کے ساتھ انٹر کا امتحان پاس کیا اور اس کے بعد کلکتہ جا کر موسیقار سلیل چوہدری کے گروپ میں شمولیت اختیار کر لی اور وہاں گائیکی اور موسیقی کے اسرار و رموز سیکھے۔

تعلیم سے فراغت کے بعد انھیں اپنے ایک دوست کے توسط سے ڈھاکا ریڈیو سٹیشن میں ملازمت مل گئی جہاں ان کی ملاقات اسی دوست کی بہن بنگالی فلموں کی اداکارہ جھرنا باسک سے ہوئی جسے آج ہم شبنم کے نام سے جانتے ہیں۔ کچھ عرصے بعد 1964ء میں ان دونوں نے شادی کر لی۔

سنہ 1960 میں موسیقار مصلح الدین فلم ‘ہم سفر’ پر کام کر رہے تھے جو مشرقی پاکستان میں بننے والی ابتدائی دور کی اردو فلم تھی۔ روبن گھوش کو اس فلم کے لیے مصلح الدین کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔ انھی دنوں فلم ڈائریکٹر احتشام نے ڈھاکا ریڈیو سٹیشن میں روبن گھوش سے ملاقات کی اور انھیں اپنی بنگالی فلم ‘راج دھانیر بوکے’ کی موسیقی مرتب کرنے کی درخواست کی۔ یہ فلم 1961ء میں ریلیز ہوئی۔ اس کے بعد روبن صاحب کی موسیقی میں کئی بنگالی اور اردو فلمیں مثلاً چندا، تلاش، پیسہ، چکوری، بھیا اور تم میرے ہو ریلیز ہوئیں۔

روبن گھوش کی موسیقی اور شبنم کی اداکاری دونوں کو ہی پسند کیا جا رہا تھا۔ ‘تم میرے ہو’ کی ریلیز کے بعد روبن اور شبنم پہلے کراچی اور پھر لاہور آگئے اور یہاں بہت سی کامیاب فلموں میں کام کیا جن میں احساس، امنگ، چاہت، شرافت، دو ساتھی، جیو اور جینے دو، امبر، دوریاں اور بندش کے نام سر فہرست ہیں لیکن ڈائمنڈ جوبلی کرنے والی فلم ‘آئینہ’ نے انھیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

روبن گھوش نے پاکستان میں آخری فلم ‘جو ڈر گیا وہ مر گیا’ کی موسیقی ترتیب دی تھی جس کے بعد وہ شبنم اور اپنے بیٹے کے ہمراہ بنگلہ دیش چلے گئے تھے۔ وہاں کا فلمی ماحول پاکستان سے مختلف تھا، اس لیے روبن گھوش فلمی دنیا سے کنارہ کش ہو گئے اور کبھی کبھار سٹیج پر پرفارمنس دینے تک محدود رہے۔

اپنی کامیاب موسیقی پر روبن گھوش نے چھ مرتبہ نگار ایوارڈ حاصل کیا جو ایک ریکارڈ ہے۔ انھوں نے 1963 میں نگار ایوارڈ فلم تلاش کی موسیقی پر، 1967ء میں چکوری، 1974ء میں چاہت، 1977ء میں آئینہ، 1978ء میں امبر اور 1984ء میں فلم دوریاں کی موسیقی مرتب کرنے پر حاصل کیے۔

روبن گھوش مختلف عوارض کے باعث کافی عرصے سے علیل تھے۔ 13 فروری 2016ء کو وہ ڈھاکا کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے اورڈھاکا ہی میں آسودہ خاک ہوئے۔

مصلح الدین
مصلح الدین کو فلم ہم سفر کی عمدہ اور مسحور کن موسیقی ترتیب دینے پر نگار ایوارڈ بھی عطا کیا گیا تھا۔

مصلح الدین

مصلح الدین 1938ء میں کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ڈھاکا یونیورسٹی سے ایم اے کیا تھا، انھیں موسیقی سے بے حد دلچسپی تھی چنانچہ وہ قسمت آزمائی کے لیے پاکستان کے فلمی مرکز لاہور آگئے۔

یہاں ان کی ملاقات ہدایت کار لقمان سے ہوئی جنھوں نے مصلح الدین کی بنائی ہوئیں طرزیں سنی تو انھیں اپنی فلم آدمی کی موسیقی ترتیب دینے کے لیے منتخب کر لیا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد مصلح الدین نے یکے بعد دیگرے متعدد فلموں کی موسیقی ترتیب دی جن میں راہ گزر، ہم سفر، زمانہ کیا کہےگا، دال میں کالا، دل نے تجھے مان لیا، دیوانہ، نہلے پہ دہلا، شکاری، جوکر، جوش، جان پہچان، آوارہ اور مٹی کے پتلے کے نام شامل ہیں۔

انھیں فلم ہم سفر کی عمدہ اور مسحور کن موسیقی ترتیب دینے پر نگار ایوارڈ بھی عطا کیا گیا تھا۔ مصلح الدین مغربی اور عربی موسیقی سے خوب استفادہ کرتے تھے لیکن وہ ان میں بنگالی موسیقی کی چاشنی اس طرح شامل کردیا کرتے تھے کہ وہ اپنی لگنے لگتی تھی۔مصلح الدین کی شادی مشہور گلوکارہ ناہید نیازی سے ہوئی تھی۔ان کا انتقال سات اگست 2003ء کو برمنگھم (انگلینڈ) میں ہوا۔

انھوں نے فلم تنہا کے مکالمے لکھ کر اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا اور پھر چندا، تلاش، ناچ گھر، کاجل، بہانہ، ملن، نواب سراج الدولہ، تم میرے ہو، آخری سٹیشن، چاند اور چاندنی، احساس، سوئے ندیا جاگے پانی اور کئی دیگر فلموں کے نغمات لکھے جو بہت مقبول ہوئے

سرور بارہ بنکوی

سرور بارہ بنکوی کااصل نام سعید الرحمن تھا۔ وہ 30 جنوری 1919ء کو بارہ بنکی (یو پی،انڈیا) میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے کراچی اور پھر ڈھاکا میں سکونت اختیار کی۔ جہاں انھوں نے فلم تنہا کے مکالمے لکھ کر اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا اور پھر چندا، تلاش، ناچ گھر، کاجل، بہانہ، ملن، نواب سراج الدولہ، تم میرے ہو، آخری سٹیشن، چاند اور چاندنی، احساس، سوئے ندیا جاگے پانی اور کئی دیگر فلموں کے نغمات لکھے جو بہت مقبول ہوئے اسی دوران انھوں نے تین فلمیں آخری سٹیشن، تم میرے ہو اور آشنا پروڈیوس اور ڈائریکٹ بھی کیں۔

آخری دنوں میں وہ بنگلہ دیش کے اشتراک سے ایک فلم ‘کیمپ 333’ بنانا چاہتے تھے۔ وہ اسی سلسلے میں ڈھاکا گئے ہوئے تھے کہ تین اپریل 1980ء کودل کا دورہ پڑنے کے باعث وہیں ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کا جسد خاکی کراچی لایا گیا جہاں وہ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

رونا لیلیٰ

رونا لیلیٰ

Getty Images
رونا لیلیٰ بنگالی، اردو، پنجابی، سندھی اور عربی سمیت 17 زبانوں میں گلوکاری کا منفرد اعزاز رکھتی ہیں

رونا لیلیٰ 17 نومبر 1952ء کو مشرقی پاکستان کے شہر سلہٹ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کی والدہ اور بڑی بہن دینا لیلیٰ دونوں کو گلوکاری سے شغف تھا اس لیے رونا لیلیٰ نے بھی نہایت کم عمری میں اس شعبے میں کمال حاصل کرلیا۔

سنہ 1966 میں جب ان کی عمر فقط 13 برس تھی انھوں نے فلم ہم دونوں میں موسیقار شوکت علی ناشاد کی موسیقی میں ایک نغمہ ریکارڈ کروایا جس کے بول تھے ‘ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا۔’ یہ نغمہ ایک سپرہٹ نغمہ ثابت ہوا اور اس کے بعد فلمی صنعت اور ٹیلی ویژن کے دروازے رونا لیلیٰ پر کھلتے چلے گئے۔

انھوں نے کئی موسیقاروں کے ساتھ نغمات ریکارڈ کروائے تاہم انھیں سب سے زیادہ شہرت نثار بزمی کی موسیقی میں گائے ہوئے نغمات سے ملی۔

سقوط مشرقی پاکستان کے بعد رونا لیلیٰ نے بنگلہ دیش منتقل ہونے کا فیصلہ کیا اور آٹھ جنوری 1974 کو وہ بنگلہ دیش روانہ ہوگئیں۔

رونا لیلیٰ نے پاکستان کے قیام کے دوران دو مرتبہ نگار ایوارڈ، دو مرتبہ گریجویٹ ایوارڈ اور ایک مرتبہ کریٹکس ایوارڈ حاصل کیا۔ بنگلہ دیش میں انھیں 11 مرتبہ نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا جب کہ انڈیا نے انھیں سہگل ایوارڈ عطا کیا۔

رونا لیلیٰ بنگالی، اردو، پنجابی، سندھی اور عربی سمیت 17 زبانوں میں گلوکاری کا منفرد اعزاز رکھتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19395 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp