انڈیا کورونا وائرس: کووڈ 19 سے یتیم ہو جانے والے بچوں کا پرسان حال کون ہوتا ہے؟

دویہ آریہ - بی بی سی ورلڈ سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سونی کماری

BBC
سونی کماری اپنے بہن اور بھائی کے ساتھ

‘کوئی بھی ہمارے والدین کے مرنے کے بعد ان کو چھونا نہیں چاہتا تھا۔ اس لیے میں نے اپنی والدہ کی قبر کھود کر انھیں دفن کر دیا۔ میں نے یہ سب تن تنہا ہی کیا۔’

سونی کماری نے اپنی والدہ کی تدفین کے لیے پی پی ای کٹ پہن رکھی تھی۔ انھوں نے بی بی سی کی دیویہ آریہ کو ایک ویڈیو کال پر بتایا کہ کیسے ایک فوٹو گرافر نے ان کی جدوجہد کو ریکارڈ کر کے پوری دنیا تک پہنچا دیا۔

انھیں وہ آخری دن تفصیل سے یاد ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کووڈ کی وجہ سے ان کے والد کی موت ہو چکی تھی اور وہ اپنے دو چھوٹے بھائی بہنوں کو گھر پر چھوڑ کر ایمبولینس کے ذریعہ اپنی والدہ کو ہسپتال لے کر بھاگی تھیں۔

لیکن ان کی ماں کو بچایا نہیں جا سکا اور جب سونی اپنی والدہ کی لاش لے کر مشرقی انڈین ریاست بہار کے دور دراز گاؤں واپس آئیں تو انھیں پتا چلا کہ کوئی بھی ان تینوں بچوں کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا کے دور کے نیم حکیم

سانس لینے کی جدوجہد: ’آکسیجن کی فراہمی رکی تو زیادہ تر مریض مر جائیں گے‘

کووڈ 19 کے مردوں اور عورتوں پر اثرات مختلف کیوں؟

کورونا متاثرین کا علاج کرتے ڈاکٹرز کا کرب

سونی نے یاد کرتے ہوئے کہا: ‘ہماری دنیا اجڑ گئی تھی اور ہم بے یار و مدگار ہو گئے تھے۔۔۔ میرے والدین تو تمام افراد کی مدد کرتے تھے لیکن ہماری ضرورت کے وقت کو بھی سامنے نہیں آیا۔’

انڈیا میں کووڈ سے مرنے والوں کی تعداد دنیا کے سب سے زیادہ اموات والے ممالک میں سے ایک ہے اور سونی جیسے حالات بہت سے لوگوں کو درپیش ہیں۔ لیکن وبائی مرض کی وجہ سے جو بچے یتیم ہو رہے ہیں ان کا کیا ہے؟

سونی کماری

Chandan Chowdhary
سونی پی پی ای کٹ میں اپنی والدہ کو دفن کرتے ہوئے نظر آ رہی ہیں

اٹھارہ سالہ سونی نے ماسک پہن رکھا ہے اور جب وہ اپنی کہانی سناتی ہیں تو وہ پرسکون نظر آتی ہیں اور ضبط و صبر کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ وہ اپنے درد کو چھپانے کی پوری کوشش کرتی ہیں۔

مجھے ان کے 12 سالہ بھائی اور 14 سالہ بہن سکرین پر نظر آ جاتی ہیں جو کہ پیچھے سے جھانک رہی ہیں۔

سونی نے بتایا: ‘تنہا رہ جانے کا احساس سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ گھر میں اس کھانے کے سوا کچھ نہیں تھا جو میری ماں نے ہمارے لیے آخری بار پکایا تھا۔ کسی نے بھی ہمیں اس وقت تک کچھ نہیں دیا جب تک کہ ہماری کورونا کی جانچ منفی نہیں آ گئی۔’

جو لوگ اپنے دونوں والدین کووڈ 19 کے باعث کھو دیتے ہیں ان کے لیے لوگوں کی دوری ایک اضافی چیلنج ہوتا ہے جس سے انھیں نمٹنا ہوتا ہے۔

انڈیا میں خواتین و بچوں کے امور کی وزیر اسمرتی ایرانی کا کہنا ہے کہ ایسے بچوں کے لیے امداد موجود ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے سنیچر کے روز اس کورونا وبا میں اپنے والدین کو کھونے والے بچوں کے لیے کئی فلاحی فیصلوں کا اعلان کیا۔

سونی کے گھر کے باہر باڑا

BBC
سونی کے گھر کے باہر عارضی باڑا جس سے انھیں علیحدہ رکھا جا سکے

ایک ٹویٹ میں انھوں نے تصدیق کی کہ دو مہینے کے اندر پورے ملک سے انھیں اس قسم کے 577 واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں۔ یہ تعداد بہت کم بتائی جانے والی تعداد ہو سکتی ہے کیونکہ اس طرح کے بہت سے واقعات ممکنہ طور پر حکومت کو کبھی بھی رپورٹ نہیں کیے جائیں گے۔

اس کے بجائے مدد کی اپیلیں پہلی بار آن لائن کی جا رہی ہیں اور ایسے بچوں کو گود لینے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

واٹس ایپ اور ٹوئٹر کے ذریعہ گردش کرنے والی ان اپیلوں میں عام طور پر بچوں کے نام عمر اور رابطے کے لیے فون نمبر بھی دیا جا رہا ہے۔

ٹوئٹر پر ایک اسی طرح کے پیغام میں لکھا گیا ہے کہ ‘دو سال کی بچی، 2 ماہ کا بچہ، ماں اور باپ دونوں کووڈ کی وجہ سے فوت ہو گئے۔ زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ بچوں کو اچھے والدین مل سکیں۔’ ہم نے اس ٹویٹ کو یہاں پیش نہیں کیا ہے کیونکہ حکومت کی اپیل ہے کہ اس قسم کے پیغامات کو شیئر نہ کیا جائے۔

ایسا ہی ایک پیغام میدھا مینل اور ان کے دوست ہری شنکر کو بھی موصول ہوا۔

ہری شنکر اور میدھا

Medha Meenal
ہری شنکر اور میدھا نے اس طرح کے پیغامات سوشل میڈیا پر دیکھے

میدھا نے کہا کہ ‘جس چیز نے مجھے بالکل ہلا کر رکھ دیا تھا وہ یہ تھا کہ ایک بچہ ہے جس نے اپنے دونوں والدین کو وبائی مرض میں کھو دیا ہے اور وہ خود کووڈ پازیٹو ہے اور گھر میں تن تنہا ہے۔ کسی کو بھی نہیں معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے۔ چونکہ کورونا پھیل رہا تھا اس لیے کوئی بھی بچوں کے بارے میں بات نہیں کر رہا تھا۔’

ان کے فطری جذبے نے بچے کو گود لینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ لیکن ان کے دوست ہری نے بتایا کہ انڈیا کے قانون اس کی اجازت نہیں دیتے۔

قانون کے مطابق اگر کوئی بچہ یتیم ہوجاتا ہے تو اس کی اطلاع قومی ہیلپ لائن ‘چائلڈ لائن’ کو دینی چاہیے۔

چائلڈ لائن کے عہدیدار ریاستی سماجی کارکنوں کو اطلاع دیتے ہیں جو معلومات کی تصدیق کرتے ہیں اور بچے کی ضروریات کا جائزہ لیتے ہیں۔ چلڈرن ویلفیئر کمیٹی فیصلہ کرتی ہے کہ آگے کیا ہونا ہے۔

لیکن عام حالات میں بھی یتیم ہوجانے والے بچے کو گود لینے کا عمل بہت آسان نہیں ہے۔

حکومت کے سنہ 2018 کے اپنے آڈٹ سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے تمام اداروں میں سے پانچویں حصے سے بھی کم ایک یتیم بچے کے خاندان کو گود لینے سے قبل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آن لائن پر شیئر کی جانے والی گود لینے کی اپیلوں سے بیدار ہوتے ہوئے حکومت نے ملک کے سرکردہ اخباروں میں اشتہار جاری کرتے ہوئے اس کے خلاف متنبہ کیا۔

ایک اخبار میں اشتہار

BBC
حکومت کا اشتہار

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی ان اپیلوں میں مضمر ممکنہ خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کاہا کہ اس سے بچوں کو گود لینے کے پردے میں بچوں کی اسمگلنگ کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

دھننجئے ٹنگل ‘بچپن بچاؤ آندولن’ (بچاؤ بچاؤ مہم) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں اور یہ ادارہ ضرورت مند بچوں کی نگہداشت کا گھر چلاتا ہے۔

مسٹر ٹنگل کہتے ہیں کہ ‘سوشل میڈیا پر ڈالی جانے والی یہ پوسٹس غیر قانونی ہیں اور اسمگلنگ کے تحت آتی ہیں۔ کوئی بھی اس طرح سے کسی بچے کو گود لینے کے لیے پیش نہیں کر سکتا ہے۔ اس سے ممکنہ طور پر کسی بچے کی فروخت اور خریداری ہوسکتی ہے۔’

انڈیا میں عام حالات میں بھی مزدوری، جنسی استحصال، کم عمری کی شادی وغیرہ کے لیے بچوں کی اسمگلنگ کا ایک پیچیدہ چیلنج ہے۔

ملک کے قومی کرائم ریکارڈز بیورو کے سنہ 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق ،ایک سال میں 70 ہزار سے زیادہ بچوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی ہے یعنی ہر آٹھ منٹ پر ایک بچہ لاپتا ہو جاتا ہے۔

حکومت نے اسمگلنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن میں مزید سخت قانون کی منظوری اور سماجی بہبود کے محکموں، پولیس اور این جی اوز کے ساتھ ہم آہنگی شامل ہے۔

اس کی وجہ سے کچھ اسمگلروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں آئی ہے لیکن طاقت، پیسے اور ضرورت کے گٹھ جوڑ کو توڑنا مشکل ہے۔ زیادہ تر اسمگلر جرمانے کی ادائیگی کرکے چھوٹ جاتے ہیں۔

سکول

Getty Images
انڈیا میں ہر آٹھ منٹ میں ایک بچے کی گمشدگی کا معاملہ سامنے آیا ہے

میدھا اور ہری نے فیصلہ کیا کہ ان بچوں کی مدد کرنے کا بہترین طریقہ مسٹر ٹنگل جیسے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے ذریعہ ان کی تعلیم کو فنڈز فراہم کرنا ہو سکتا ہے۔

ان کی آن لائن فنڈ اکٹھا کرنے والی مہم ‘پروجیکٹ چھایا’ کے ذریعے اب تک 20 لاکھ یعنی 27 ہزار امریکی ڈالر اکٹھا کیا جا چکا ہے۔

میدھا نے مجھے بتایا: ‘ہمیں مکمل طور پر اجنبیوں کی جانب سے اس قسم کی رحمدلی ملی ہے جیسا کہ اس ماں کی طرف سے ملی جن کا بچہ گھر پر تنہا تھا جب دونوں میاں بیوی ہسپتال میں کووڈ سے لڑ رہے تھے۔’

جو بچے اپنے والدین کو کھو چکے ہیں ان کے لیے ادارہ جاتی نگہداشت پہلا آپشن نہیں ہے۔

دہلی چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے چیئرپرسن ورون پاٹھک نے مجھے بتایا کہ ان کی پہلی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ بچہ اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ پلے بڑھے۔

مسٹر پاٹھک کہتے ہیں: ‘صرف ان صورتوں میں جب خاندانی ڈھانچہ مکمل طور پر منہدم ہوچکا ہے تو ہم کسی بچے کو کسی ادارے میں رکھنے کے بارے میں غور کرتے ہیں یا بہت چھوٹے بچے کی صورت میں سینٹرل ایڈوپشن ریسورس اتھارٹی کے ذریعہ ان کے گود لیے جانے پر غور کرتے ہیں۔’

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملات میں جب بچے کو کسی رشتے دار کے حوالے کیا جاتا ہے تو ان کی ٹیم ان کی نگرانی کرتی ہے، مشاورت اور مالی مدد فراہم کرتی ہے۔

متعدد ریاستی حکومتوں نے اب کووڈ 19 کے سبب یتیم ہونے والے بچوں کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے ہیں۔

سونی کماری

BBC
سونی کماری کا کہنا ہے کہ والدین کی وفات کے بعد ان پر ہی اپنے بھائی اور بہن کی ذمہ داری ہے

سونی کماری اور ان کی بہن اور بھائی کو اب ریاستی حکومت کی طرف سے کھانا اور مالی امداد اور سماجی کارکنوں کے ذریعہ اکٹھا کی جانے والی کچھ رقم ملی ہے۔

ان کے آگے لمبی عمر پڑی ہے اور فی الحال ان کے پاس آمدنی کا کوئی مستحکم ذریعہ نہیں ہے۔

سونی اپنے والدین کے بارے میں کہتی ہیں: ‘ہم انھیں ہر دن یاد کرتے ہیں۔ جب وہ زندہ تھے تو ہماری زندگی یکسر مختلف تھی۔ انھوں نے ہمارے لیے خواب دیکھے تھے اور گھر میں محدود وسائل کے باوجود بھی وہ ہماری ضروریات ہمیشہ مقدم رکھتے تھے۔’

ان کی نانی تھوڑے دنوں کے لیے ان کے ساتھ رہنے آئی ہیں لیکن سونی کا کہنا ہے کہ وہ جانتی ہیں کہ ان کے بہن بھائی بنیادی طور پر ان کی ذمہ داری ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ‘آخر کار ہمیں ایک دن اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا۔ ہمیں ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرنی ہوگی۔’

وہ ان تمام امداد کے منصفانہ استعمال کرنے کے بارے میں پرامید ہے جو ان کے مستقبل کے لیے بہتر ہوں گی۔ ان کے والد گاؤں کے دیسی ڈاکٹر تھے۔ سونی کو امید ہے کہ ایک دن کم سے کم ان کی ایک بہن یا بھائی اپنے والد کے نقش قدم پر چلیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19501 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp