”چائنا اسپیڈ“ اور ویکسی نیشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین میں قیام کے دوران ”چائنا اسپیڈ“ کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ ایک زبردست تجربہ ہے۔ آپ زندگی کا کوئی بھی شعبہ اٹھا لیں، چین کی تیز رفتار ترقی دنگ کر دے گی۔ چاہے تعمیراتی منصوبے ہوں، انفراسٹرکچر کی بہتری ہو یا پھر سائنس و ٹیکنالوجی کا میدان، دنیا ”چائنا اسپیڈ“ کی معترف نظر آئے گی۔ اس کی ایک حالیہ مثال کووڈ۔ 19 ویکسی نیشن کی بھی ہے۔ حیرت انگیز طور پر چین بھر میں اب تک ویکسین کی 50 کروڑ سے زائد خوراکیں دی جا چکی ہیں جبکہ مارچ میں یہ تعداد صرف 10 کروڑ تک پہنچی تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چین میں چیزیں کس تیز رفتاری سے آگے بڑھتی ہیں۔ اس قدر وسیع پیمانے پر کامیاب ویکسی نیشن سے ایک بار پھر چین کی مضبوط متحرک صلاحیتوں کا اظہار ہوتا ہے اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ چینی حکومت اپنے عوام کی زندگی اور جانی تحفظ کو کس قدر اہمیت دیتی ہے۔

وبا کی شروعات ہی سے چینی حکومت نے بناء کسی ہچکچاہٹ کے انتہائی مضبوط فیصلے کیے ہیں اور اس سارے عرصے کے دوران کبھی بھی عوام کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ اقتصادی سماجی سرگرمیوں کی بندش سے چین کو ایک بھاری معاشی قیمت چکانا پڑی ہے مگر طویل المدتی تناظر میں چینی قیادت کے دوراندیش فیصلے انتہائی بروقت اور موثر ثابت ہوئے ہیں۔

وبا سے نمٹنے کے ایک مضبوط ردعمل کے بعد اس وقت چین بھر میں حکومت رضاکارانہ طور پر ویکسی نیشن کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ویکسی نیشن کے اہل ہر فرد کو اس کی مکمل رسائی حاصل ہو۔ دوسری جانب چینی لوگ بھی اپنی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں اور بے بنیاد مفروضوں یا ویکسین کی افادیت کے حوالے سے غلط افواہوں پر کان نہیں دھر رہے ہیں۔ یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ حالیہ دنوں پاکستانی اخبارات اور سوشل میڈیا پر ایک انتہائی مضحکہ خیز فرضی خبر نظر سے گزری جس میں کہا گیا ہے کہ ویکسین لگوانے والے تمام افراد دو سال تک ہی جی پائیں گے۔

افسوس کی بات یہ ہے ایسی گمراہ کن خبریں جلدی سے پھیل بھی جاتی ہیں اور کم تعلیم یافتہ یا پھر معاشرے کے ایسے طبقے جہاں شعور کی کمی ہے، ان باتوں پر بنا سوچے سمجھے یقین کر لیتے ہیں اور نتیجہ خطرناک برآمد ہوتا ہے۔ خیر پاکستان کے تناظر میں ویکسی نیشن کے حوالے سے اچھی بات یہ بھی ہے کہ انیس سال اور زائد عمر کے افراد کی ویکسی نیشن کے لیے رجسٹریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے جس سے افواہیں خودبخود دم توڑ جائیں گی۔

چین میں ویکسی نیشن کے عمل کو گزرتے وقت کے ساتھ مزید توسیع حاصل ہو رہی ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ ویکسی نیشن کی صلاحیت کو مزید بڑھایا جائے۔ حکومتی اقدامات کے باعث عوام میں بھی تحفظ کا ایک مضبوط احساس پیدا ہوا ہے اور بہترین سہولیات اور منظم طریقہ کار کی وجہ سے لوگ ویکسی نیشن مراکز کا رخ کر رہے ہیں۔ یہاں چین کو اس لیے بھی داد دینا پڑے گی کہ ایک ارب چالیس کروڑ آبادی کے حامل ملک میں ہر اہل فرد کی ویکسی نیشن تک رسائی کو یقینی بنانا یقیناً آسان ہدف نہیں ہے۔

کووڈ۔ 19 کی موجودہ صورتحال میں ویسے بھی ویکسی نیشن ہی واحد درست انتخاب ہے کیونکہ چند ممالک میں انفیکشن کی نئی لہریں بدستور سامنے آ رہی ہیں اور وائرس میں پایا جانے والا تغیر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ایسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ آہستہ آہستہ ویکسی نیشن کی اہمیت کو مانتے ہوئے تسلیم کرتے ہیں کہ جب تک ہر شخص محفوظ نہیں ہے کوئی بھی خود کو محفوظ نہیں قرار دے سکتا ہے۔

چین نے اپنے عوام کے ساتھ ساتھ بیرونی ممالک کی بھی ویکسین کی فراہمی میں نمایاں مدد کی ہے اور ایک بڑے ذمہ دار ملک کا کردار بخوبی نبھایا ہے۔ چین نے کبھی بھی ویکسین قوم پرستی یا ویکسین کی ذخیرہ اندوزی نہیں کی ہے بلکہ ترقی پذیر اور غریب ممالک کو فوری ویکسین کی امداد فراہم کی ہے۔ چین نے 80 سے زائد ممالک اور تین بین الاقوامی تنظیموں کو ویکسین کی امداد فراہم کی ہے اور 50 سے زائد ممالک کو ویکسین برآمد کی ہے۔

حال ہی میں عالمی ادارہ صحت نے چینی ساختہ ویکسین کے ہنگامی استعمال کی توثیق کرتے ہوئے اسے مستند ویکسین کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ چین نے اقوام متحدہ کے امن دستوں اور بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کو بھی ویکسین دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح چین نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ وسائل سے مالا مال بڑے ممالک کو خودغرضی سے گریز کرتے ہوئے اجتماعی مفاد اور عالمی صحت عامہ کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *