EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

افغانستان میں دائمی قیام امن کے لئے طالبان سے چند گزارشات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے چالیس سالوں سے افغانستان اور بیس سالوں سے شمالی اور جنوبی پختون خوا پراکسی اور تزویراتی جنگوں کی آگ میں جلتا رہا۔ 1979 ء سے 1989 ء تک کی سوویت افغان جنگ میں دو ملین لوگ مارے گئے اور ساٹھ لاکھ کے قریب لوگ ملک بدر ہو کر مہاجر بن گئے۔ 1989 ء میں روس کے افغانستان سے نکلنے کے بعد ”افغان مجاہدین“ نے مل کر ڈاکٹر نجیب اللہ کو معزول ہونے پر مجبور کیا۔ ڈاکٹر نجیب کے جانے کے بعد مجاہدین کے مختلف گروہوں کے درمیان تخت کابل کے حصول کے لئے بد ترین خانہ جنگی شروع ہو گئی جس میں افغانستان کو ناقابل تلافی مالی اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی خانہ جنگی کے دوران 1994 ء میں طالبان ایک بڑی عسکری قوت کے طور پر نمودار ہوئے۔ طالبان نے تمام دوسرے متحارب گروہوں کو زیر کر کے 1996 ء میں ملا محمد عمر کی سربراہی میں ”امارت اسلامی افغانستان“ قائم کی گئی۔

سولہ سال کی جنگ و جدل اور خانہ جنگی کے بعد افغانستان کو چند سالوں کے لئے امن تو نصیب ہوا لیکن یہ خوف اور جبر سے قائم طالبانی امن تھا جس کے دوران طالبان نے افغانستان کو مہذب دنیا سے الگ کر دیا اور اسے عالمی برادری میں شودر کا درجہ دے دیا۔ طالبان نے تہذیب و تمدن اور فنون لطیفہ کے ہر نقش کو مٹانے کی پالیسی اپنائی۔ ان کے پانچ سالہ دور مطلق العنانیت میں نہ کوئی اسکول بنا، نہ کوئی اسپتال، نہ کوئی سڑک تعمیر ہوئی اور نہ ہی کوئی وسیلۂ روزگار سامنے آیا۔ بس شریعت کے نام پر سزاؤں کی بھرمار تھی۔ غلط سم کارڈ کے استعمال پر سزا، داڑھی کی کم مقدار پر سزا، سرعام مرد و زن کو کوڑے اور مارپیٹ ایک معمول بن گیا تھا۔ مختصر یہ کہ یہ تمام افغانوں کے انسانی وقار کے لئے بالعموم اور خواتین کے بنیادی انسانی حقوق کے لئے بالخصوص افغانستان کی تاریخ کا ایک بدترین اور تاریک دور تھا۔

نائن الیون کے بعد جب افغان طالبان کی ”اسلامی آمریت“ ختم ہوئی تو ایک طرح سے ایک نئے سیاسی، جمہوری اور کثیر القومی ملی دور کا آغاز ہوا اور پچھلے بیس سالوں میں طالبان کے مسلسل حملوں کے باوجود افغانستان نے بہت ترقی کی ہے۔ آج نوے لاکھ بچے اسکولوں میں پڑھتے ہیں جس میں پینتیس لاکھ لڑکیاں ہیں۔ دو لاکھ کے قریب لڑکے اور ایک لاکھ سے زیادہ لڑکیاں یونی ورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں۔ سیکڑوں اسپتال بنے ہیں۔ شاہ راہیں بنی ہیں۔ زرعی پیداوار بڑھانے اور بجلی پیدا کرنے کے لئے ڈیم بنے ہیں اور آج کا افغانستان افغانوں کے کسی قاتل جنگ جو کے نام سے نہیں بلکہ افغانستان قومی کرکٹ ٹیم کے ستاروں، راشد خان، محمد نبی اور مجیب الرحمان کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ آج وہاں جنگ و جہاد کے شہیدوں سے زیادہ امن اور ترقی پر مر مٹنے والے ناکامورا، نعمت روان، فرشتہ کوہستانی اور صحافی ملالہ میوند جیسے شہیدوں کا احترام کیا جاتا ہے۔

پچھلے بیس سالوں میں تو افغانستان یک سر تبدیل ہوا ہے مگر طالبان میں صرف اتنی تبدیلی آئی ہے کہ وہ دنیا کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ وہ تبدیل ہو گئے ہیں۔ وہ محتاط زبان میں یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ لڑکیوں کی محدود اور مشروط تعلیم کے حق میں ہیں اور اپنی شرائط پر این جی اوز کو بھی کام کرنے کی اجازت دینے پر آمادہ ہیں۔ وہ امریکی افواج سمیت دنیا بھر کے لئے شیر و شکر ہو گئے ہیں، اگر تلخ اور تند و ترش ہیں تو صرف اپنے ہم وطن افغانوں کے لئے۔ وہ اپنے مقابلے میں بہت بڑی قوت امریکہ کے ساتھ تو اس بات پر متفق ہیں کہ وہ اپنے دیرینہ سپانسر القاعدہ سے لاتعلق رہیں گے لیکن اپنی عسکری قوت کے زعم میں اپنے وطن کے آئین، قانون اور ریاست کے جمہوری نظام کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔

امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد طالبان کے سخت موقف اور مشکوک رویے کی وجہ سے آج ایک بار پھر افغانستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ خدا ناخواستہ اور صد بار خدا ناخواستہ اگر طالبان اور ان کے سہولت کار ایک بار پھر اپنی تاریخ دہرا کر دہشت اور طاقت کے بل بوتے پر افغانستان پر قابض ہو گئے تو اس صورت میں میرے اخوند زادہ ہیبت اللہ اور طالبان شوریٰ سے چند سوالات ہیں۔ امید ہے میرے ان سادہ مگر امن و آشتی پر مشتمل سوالات پر برانگیختہ ہونے کی بجائے وہ ان پر غور و فکر کو ترجیح دیں گے۔

1۔ معصوم افغان شہریوں کی بے تحاشا خوں ریزی کے بعد اگر آپ اپنی سنی، پشتون طالبانی فسطائیت قائم کر بھی لیں گے تو ایسی اسلامی امارت کب تک چلے گی؟ آپ کتنے سالوں تک کثیر النسل اور کثیر المذاہب افغانستان کے تاجک، ازبک اور ہزارہ کو غلام بنا کر رکھ سکیں گے؟

2۔ آپ کی ”نئی امارت اسلامی“ آپ کی ”پرانی امارت اسلامی“ سے کتنی مختلف ہوگی۔ آپ موجودہ نظام کو لپیٹ کر اپنی طرف سے ایسا کون سا اسلام متعارف کرائیں گے جو اب وہاں نہیں ہے۔ میری نظر میں تو ”اسلامک ری پبلک آف افغانستان“ ہی معتدل اسلام کا نمائندہ ایک اسلامی ملک ہے۔

3۔ تو پھر کیا ایک بار پھر آپ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگا کر، عورتوں کی نقل حرکت کو محرم مرد سے مشروط کر کے، موسیقی اور دوسرے فنون لطیفہ کو ممنوع قرار دے کر اور بامیان کے بدھا کے رہے سہے مجسموں پر چڑھائی کر کے امارت اسلامی کے جھنڈے گاڑ دیں گے؟

4۔ کیا عورتوں کو من حیث الجنس افغانستان کی سیاسی، سماجی اور معاشی زندگی سے منفی کر کے آپ افغانستان کو امن، ترقی اور خوش حالی سے ہم کنار کر سکتے ہیں؟ کیا آپ کے مردوں والا آدھا افغانستان باقی آدھے افغانستان یعنی عورتوں کو قابل قبول ہو گا؟ کیا ایک ایسا افغانستان عالمی برادری یا اقوام متحدہ کا باوقار ممبر بن سکے گا؟

اگر مندرجہ بالا سوالات کا جواب نہیں میں ہے تو پھر کابل پر قابض ہو کر آپ افغانستان کو نیا کیا دے سکتے ہیں؟ فی الوقت تو آپ دنیا کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ آپ کو حامد کرزئی، اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ والا افغانستان قبول ہے اور آپ اسی افغانستان میں بلاشرکت غیرے ذاتی اقتدار چاہتے ہیں۔ مگر آپ کی یہ خواہش زمینی حقائق اور عالمی سیاسی صورت حال سے مطابقت نہیں رکھتی۔ تو پھر کیوں نہ آپ افغانستان کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے اپنی افغانیت اور اسلامیت کی خاطر اپنے افغان اور مسلمان بہن بھائیوں سے صلح کر کے دائمی امن اور خوش حالی کی طرف قدم بڑھائیں۔ کیوں نہ آپ ہمیشہ کے لئے ہتھیار رکھ کر خود بھی قلم اٹھائیں اور افغان بچوں اور بچیوں کے ہاتھوں میں بھی قلم تھمائیں۔

کیوں کہ غیرملکی افواج کے اخراج کے اعلان کے بعد آپ کی مسلح جدوجہد یا جہاد کی کسی بھی صورت میں جواز باقی نہیں رہتا بلکہ میں تو پاکستان کے تمام اسلامی مسالک، مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین، اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان، وزارت عدلیہ افغانستان، علماء شوریٰ افغانستان اور ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے اپیل کروں گا کہ وہ سب متفقہ طور پر علی الاعلان یہ فتویٰ دیں کہ امریکہ کے نکلنے کے بعد اب افغانستان میں جہاد کے نام پر قتل و قتال قطعاً حرام ہیں اور اقتدار کے حصول کے لئے کوئی بھی مسلح جد و جہد عین فساد ہے۔ امید ہے کہ طالبان بھی ایسے فتویٰ کی حمایت کریں گے کیوں کہ وہ امریکہ سے امن معاہدے کے بعد افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

طالبان کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ گولی چلانے اور حکومت چلانے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ آج کے افغانستان کا سب سے بڑا وسیلہ اور اثاثہ اس کے تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوان ہیں۔ خدا ناخواستہ اگر طالبان دائمی امن اور صلح کی طرف جانے کی بجائے دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ کریں گے تو ایسی صورت حال میں ہزاروں تعلیم یافتہ مرد اور خواتین ہجرت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے اور یوں ایک بار پھر افغانستان اپنے معماروں سے محروم ہو جائے گا۔

اپنے ملک پاکستان کے مقتدر حلقوں سے بھی یہی عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ کے پاس ایک نادر موقع ہے کہ آپ افغان امن عمل میں شفافیت کے ساتھ کلیدی کردار ادا کریں اور ایک پرامن، آزاد اور خوش حال افغانستان کا ساتھ دیں۔ اگر آپ کی غلط تزویراتی پالیسی کی وجہ سے افغانستان پر ایک بار پھر طالبانی آمریت مسلط ہو جائے تو یہ تمام پڑوسی ممالک اور خصوصاً پاکستان کے امن اور ترقی کے لئے بہت نقصان دہ اور خطرناک ہو گا۔

میں نے بیسویں صدی کے آخری عشرے کے آخری سالوں میں سوات کی دیواروں پر یہ نعرہ لکھا ہوا دیکھا تھا کہ ”دو ملک، دو حکمران، ملا عمر، فضل الرحمان۔“ اگرچہ مرحوم ملا عمر کی طرز خلافت اور مولانا فضل الرحمان کی طرز سیاست میں بنیادی فرق ہے۔ اول الذکر طاقت کے بل بوتے پر حکمران رہے جب کہ مولانا صاحب تین نسلوں سے پاکستان کے جمہوری نظام میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہاں کہنا یہ مقصود ہے کہ پڑوس کے سیاسی اثرات سے تا دیر محفوظ رہنا ممکن نہیں کیوں کہ رجعت پسندی اور انتہاپسندی کی سرحدیں نہیں ہوتیں۔

ہمیں اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ شیعہ ایران کے متوازی سنی طالبانی افغانستان کا قیام اس خطے کے امن کو مستقل طور پر فرقہ واریت کی سولی چڑھا دے گا۔ آج موقع ہے کہ افغانستان کے تمام افغان اور خصوصاً طالبان رنگ، نسل، مذہب اور مخصوص عقیدے کی امتیاز کو بالائے طاق رکھ کر سب سے پہلے افغانستان کا سوچیں۔ تاریخ دہرانے کی بجائے ایک نئی تاریخ رقم کریں۔ جس خلوص نیت سے افغان صدر اشرف غنی نے ذاتی اقتدار سے بالاتر ہو کر افغانستان کے دائمی امن اور جمہوریت کے لئے طالبان سمیت تمام پڑوسیوں کو غیرمشروط دعوت دی ہے، طالبان اور پڑوسی ممالک اسے جذبۂ خلوص اور شفافیت کے ساتھ قبول کر کے آگے بڑھیں۔

آخر میں طالبان سے دست بستہ گزارش ہے کہ اپنی آنے والی نسلوں پر رحم کریں۔ افغانستان کے سب سے بڑے خیرخواہ افغان عوام ہی ہیں۔ خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب، فرقے اور نسل سے ہو، ان کے ساتھ مل بیٹھیں۔ ایک چھوٹے، محدود، منقسم، سخت گیر اور طفیلی افغانستان کی بجائے ایک بڑے، آزاد، خود مختار، متحد اور خوش حال افغانستان کے لئے ملی وحدت پیدا کریں۔ ایک ایسا افغانستان جو ہر رنگ، نسل، مذہب، زبان اور جنسی امتیاز کے بغیر سب کے لئے قابل فخر ہو۔

یہ تاریخی موقع صدر اشرف غنی اور ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کو ملا ہے کہ وہ افغانستان میں دو صدیوں پر محیط پچھلے چالیس سالوں سے جاری جنگ اور خانہ جنگی کا خاتمہ کریں اور افغانستان کو مستقل امن اور خوش حالی کا تحفہ دیں۔ ایسا ہوجانا اکیسویں صدی کا سب بڑا واقعہ ہو گا۔ جس کے لئے اشرف غنی اور ملا ہیبت اللہ نوبل پرائز برائے امن کے حق دار ہوں گے اور اس حوالے سے زلمے خلیل زاد اور جنرل باجوہ کی مثبت سہولت کاری کو سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ دعا ہے کہ اللہ کرے افغانستان امن کا گہوارہ بن جائے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ضیاالدین یوسف زئی

ضیا الدین سف زئی ماہرِتعلیم، سوشل ورکر اور دانش ور ہیں۔ اعلیٰ پائے کے مقرر ہیں۔ ان کی تحریر میں سادگی اور سلاست ہے یہی وجہ ہے کہ گہری بات نہایت عام فہم انداز میں لکھتے ہیں۔ان کا تعلق وادئ سوات سے ہے۔ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کے والد ہیں۔ ضیا الدین یوسف زئی اقوام متحدہ سے مشیر برائے گلوبل ایجوکیشن کی حیثیت سے بھی وابستہ ہیں۔

ziauddin-yousafzai has 15 posts and counting.See all posts by ziauddin-yousafzai

One thought on “افغانستان میں دائمی قیام امن کے لئے طالبان سے چند گزارشات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے